Episode 22 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 22 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

 

Episode 22 part (1)

 

قندیل کو اپنا سر درد سے پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ، وہ اپنے چکراتے سر کو تھام گئی ۔۔۔۔۔قندیل ، یار سوری ۔۔۔۔۔۔کیا ہورہا ہے ، چکر آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ تم لیٹو دریاب نے قندیل کو احتیاط سے لٹاتے ہوئے کہا ، قندیل کا جسم پھر سے گرم ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔دریاب قندیل کے دوسری طرف آکر بیٹھ گیا ، اور ہلکے ہاتھ سے سر کو دبانے لگا قندیل کی بار بار بگڑتی حالت دریاب کی جان نکالنے کے لیے کافی تھی قندیل یار سوری میں نے غصہ کیا پلیز تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر عقیدت سے چوما تھا ، قندیل کے آنسو اب بھی نکل نکل کر تکیے میں جذب ہورہے تھے وہ ایک نظر دریاب کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔ یار قسم لے لو میں نے کوئی بدلہ نہیں لیا تم سے اور نا لے سکا ، میری نیت تھی نکاح سے پہلے تک یہی مگر تمھیں دیکھ کر میں سب بھول گیا ۔۔۔۔۔۔ بس جو کیا تمھیں چھیڑنے کے لیے تنگ کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔ سچ بتاؤ ۔۔۔۔۔ مجھ سے نہیں دیکھا جارہا تمھیں اس حالت میں اسلئے بس غصہ کرگیا ، سوری دریاب قندیل پر جھکا ہوا آہستہ آہستہ اپنی اس محبت کا اعتراف کررہا تھا جسکا اسے خود علم نہ تھا ۔۔۔۔۔ دریاب نے جھک کر اپنے لبوں سے قندیل کے آنسو چنے تھے ، اس عمل کے درمیان قندیل اپنا سانس روک چکی تھی ، میرے سامنے روؤ گی تو اب میں یہی کرونگا آئی سمجھ مسسز دریاب۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کے ماتھے پر عقیدت بھرا لمس چھوڑ کر مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔۔اب تم آرام کرو میں باہر جارہا ہوں باقی باتیں صبح کرینگے دریاب اپنی بات کہہ کر قندیل سے دور ہوا تھا کہ قندیل نے دریاب کی شرٹ پکڑ لی ۔۔۔۔۔۔ ہممم کیا ہوا نہیں جاؤ باہر ، قندیل بھیگی آنکھوں سے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے یہی لیٹ جاتا ہوں دریاب نے قندیل سے تھوڑی دوری بنا کر لیٹتے ہوئے کہا

 

Author Image

مصنف کے بارے میں

رائٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *