Episode 10 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 10 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 10  part (1)

لیکن اپنا آپ یاد ہے اپکو بچپن میں قندیل نے بھی برابر دریاب کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں یاد ہے بہت اچھے طریقے سے قندیل کی بچپن والی بات سے دریاب کو غصہ آ گیا سب کچھ اس بچپن میں ہی تو ہوا تھا اسکے ساتھ ۔۔۔۔ ویسے کیا ملتا تھا ، آپ کو ایسی فلمیں دیکھ کر قندیل نے بے خبری میں دریاب کی چوٹ پر لال مرچیں ڈال دی قندیل مجھے غصہ مت دلاؤ ۔۔۔۔ اس بات کو یہیں ختم کرو دریاب نے ضبط کر کے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا ، ویسے کیا عمر تھی اس وقت آپکی شاید تیرہ چودہ سال ہے نا۔۔۔۔۔ پہلی بار قندیل کو لگا اسکے سامنے دریاب ہار رہا ہے ، وہ تو اس موقع کو ہاتھ سے کیسے جانے دے سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اب ایک اور الفاظ منہ سے نکلا تو انجام اچھا نہیں ہوگا ، دریاب نے قندیل کو غصے میں دھمکی دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میسنا کہیں کا اب پتہ چلا خود پر بات اتی ہے تو کیا ہوتا ہے ، قندیل چپ چاپ دل میں سوچتے ہوئے اپنا بستر نیچے لگانے لگی ۔۔۔۔۔ کیا کروں پوچھع یا نہیں پکنگ کا ، ایسا کرتی ہوں خود ہی کر دیتی ہوں پیکنگ ، کھڑوس کی قندیل نے سوچتے ہی اٹھ کر وارڈوب کھولا ہی تھا کہ پیچھے سے دریاب نے آ کر دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔

 

ضرورت نہیں ہے مجھے تمہاری مدد اور کام کی ، دریاب اب بھی تھوڑا غصے میں تھا ۔۔۔۔۔۔ تو پھر امی کے سامنے ڈرامے کرنے کی کیا ضرورت تھی اور اب تو میں پیکنگ کر کے ہی رہوں گی ہاتھ ہٹائیں اپنا قندیل نے کہا اگر نہیں ہٹاؤں ہاتھ تو دریاب نے طنز کیا ۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں امی کے پاس جا رہی ہوں اور کہوں گی آپ مجھے پیکنگ کرنے نہیں دے رہے قندیل نے منہ بنا کر کہا اور کمرے سے نکل گئی ، چلو اندر۔۔۔۔۔۔۔ دریاب تقریباً بھاگتا ہوا قندیل کے سامنے آ کر اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا مجھے امی کے پاس جانا ہے قندیل نے منہ ہنوز بنا رکھا تھا میں کہہ رہا ہوں نا اندر چلو۔۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کی کلائی پکڑی ، چھوڑو مجھے ، مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ ۔۔۔۔ پہلے میں امی کو بتاؤ گی پھر آؤنگی قندیل نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا ، ٹھیک ہے پھر ایسے ہی صحیح دریاب نے اگلے ہی لمحے قندیل کو گود میں اٹھالیا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ ، اتارے مجھے میں گر جاؤنگی ، قندیل نے حیران کے ساتھ پریشان ہو کر کہا ۔ شور تو مت کرو کوئی آ گیا نا مذاق بن جائے گا نہیں گر رہی تم ۔۔۔۔۔ دریاب نے دانت پیس کر کہا اور قندیل کو گود میں لئے کمرے میں اگیا ۔۔۔۔۔ قندیل نے بھی موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چپ رہنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی ، دریاب قندیل کو بیڈ پر بٹھا کر خود دروازہ بند کرنے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔

 

اس کے دور ہوتے ہی قندیل بیڈ سے اتر کر نیچے کمبل میں گھس گئی ، دریاب پلیز غصہ مت کریں بس آپ کی پیکنگ کردو قندیل نے کمبل میں سے چہرہ باہر نکال کر آرام سے کہا ۔۔۔۔۔ تم باز نہیں آؤ گی لگتا ہے تمھارا علاج کرنا پڑیگا ۔۔۔۔۔ دریاب نے دانت پیستے ہوئے کہا س۔۔۔۔۔ سوری ۔۔۔۔۔۔۔سوری میں سو گئی اب کوئی آواز نہیں آئے گی لیکن آپ نے میری شکایت امی کو لگائی تو اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔ قندیل اپنی بات مکمل کر کے ، اور اوپر سے نیچے تک خود کو لئے کمبل میں گھس گئی دریاب کی دھمکی سے بچنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب گھر والے انکو ائیرپورٹ تک چھوڑنے آئے تھے ۔۔۔۔۔۔ سب کی دعاؤں میں وہ رخصت ہو کر ہوائی جہاز میں آکر اپنی سیٹیں سنبھال چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے جہاز کو بادلوں کو چیرتے ہوئے آسمان کی طرف اڑان بھرتے ہوئے کہ دریاب کی نظر اپنے برابر میں بیٹھی قندیل کی طرف پڑی ۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا دریاب نے قندیل کے بدحواس چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ ک۔۔۔۔۔ کچھ نہیں قندیل نے خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ، اچھا وہ دیکھو قندیل باہر کا منظر کتنا خوبصورت لگ رہا ہے ، دریاب نے مسکرا کر جہاز کی ونڈو سے باہر کا منظر دکھایا ۔۔۔۔۔ می۔۔۔۔۔ میرا دل گھبرا رہا ہے عجیب سی بے چینی ہو رہی ہے پیٹ میں ، الٹی بھی آ رہی ہے دریاب ، قندیل نے دریاب کا ہاتھ پکڑ کر رونی صورت بناتے ہوئے کہا ، تمھیں ایروپلین فوبیا ہے تو تم مجھے پہلے بتا دیتی ہم کار میں چلے جاتے ۔۔۔۔ اب میں کیا کر سکتا ہوں ، دریاب نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ میں کونسا ایروپلین میں آتی جاتی رہی ہوں مجھے بھی ابھی پتہ چلا قندیل نے فوراً کہا ، اچھا دیکھو الٹی مت کرنا ایسا کرو تم ٹیک لگاؤ لو اور سونے کی کوشش کرو ۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو ائیڈیا دیا ہاں ٹھیک ہے قندیل نے آنکھیں بند کر کے سیٹ کی بیک پر ٹیک لگاتے ہوئے کہا اچھا میرا ہاتھ تو چھوڑ دو قندیل ، دریاب نے اپنا ہاتھ دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی بھی قندیل کی گرفت میں تھا ۔۔۔۔۔ پلیز کچھ دیر پکڑے رہنے دیں ورنہ میں الٹی کر دوں گی۔۔۔۔۔

 

قندیل نے بند آنکھوں میں کہا تو دریاب مسکرا کر رہ گیا ، وہ اسے کیسے بتا دیتی ہے اس حالت میں اس کا ہاتھ ہی اس کے لیے سب کچھ تھا وہ تو ڈر رہی تھی آسمان میں اڑنے سے اس کا دل بند ہونے کو ہو رہا تھا ، عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی جیسے کچھ ہونے والا ہے ، اگر وہ اس کا ہاتھ نہ پکڑتی تو وہ خوفزدہ ہی رہتی ، یہ بات شاید وہ کبھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر نہ بول پاتی ، دریاب کا ایک ہاتھ یا کندھا کہہ لو قندیل کی گرفت میں تھا وہ دریاب کے کندھے پر سر رکھے سورہی تھی اور اسکے ہاتھ کو اپنی گود میں اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ سے دریاب کوئی کتاب پکڑے مطالعہ میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔۔ تائی امی دیکھیں نا بادل کتنے پیارے لگ رہے ہیں دل تو کر رہا ہے ان کو پکڑ لوں کتنے سفید نرم روئی جیسے لگ رہے ہیں صبا نے پرجوش ہو کر کہا صبا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہوائی جہاز کی جگہ خود اڑنا شروع کردے اور بادلوں سے کھیلے ۔۔۔۔۔۔ ہاں واقعی انجمن بیگم نے مسکرا کر کہا جبکہ ب

 

ہاں واقعی انجمن بیگم نے مسکرا کر کہا جبکہ بابر کانوں میں ہیڈ فون لگائے کوئی فلم دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اج تو تھک گئے اتنا لمبا سفر ۔۔۔۔ قندیل بیچاری کا تو منہ ہی نکل آیا ہے ، انجمن بیگم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے قندیل کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر کہا بھئی مجھے تو بہت مزہ آرہا ہے صبا نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔۔دریاب بھائی یہ یہ لو آپ کے روم کی چابی اور امی آپ اور صبا اسی روم میں رہ لینا ، میرا روم دائیں طرف ہے اور بھائی کا روم بائیں طرف ہے بابر نے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ اس وقت یہ سب مری کی شاندار ہوٹل میں تھے ، میں بھی بہت تھک گیا ہوں تائی امی ایک کندھا بھی درد کر رہا ہے دریاب نے ایک نظر قندیل کی طرف ڈالی تو وہ نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔۔ آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو کال کر لینا میں آ جاؤں گا ۔۔۔۔۔ چلو قندیل ، دریاب نے کہا مگر قندیل دریاب کی بات کو نظر انداز کر کے وہیں بیٹھی رہی ۔۔۔۔۔ امی باہر برف باری شروع ہو چکی ہے ہیٹر آن ہے یہاں روم میں اس لیے ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ باہر کتنی سردی ہے بابر نے کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھتے ہوئے کہا ہاں یہ تو ہے بیٹا باہر بہت سردی ہے یہاں سکون ہے ۔۔۔۔۔ جاؤ قندیل بیٹا آرام کر لو انجمن بیگم نے قندیل کو کہا تو قندیل اٹھ کر دریاب کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی گڈ نائٹ میں بھی جا رہا ہوں پھر صبح آؤنگا۔۔۔۔۔۔ صبا دروازہ لاک کر لو بابر نے کہا اور کمرے سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تائی امی میں کھڑکی سے برف باری دیکھ لوں صبا تو جیسے پاگل ہوگئی ہو باہر آ کر ، ہاں بیٹا دیکھ لو پھر آکر میرے پاؤں دبا دینا بہت درد کر رہے ہیں ، ٹھیک ہے تائی امی صبا نے چہکتے ہوئے کہا اور کھڑکی کے پاس پڑے کاؤچ پر بیٹھ کر باہر کا منظر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔

قندیل کیا ہوا ، طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری دریاب روم کا دروازہ لاک کر کے قندیل کے پاس بیڈ پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے تم گھومنے نہیں بیمار ہونے آئی ہو کچھ تو بولو ۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بس وہ سفر کی وجہ سے تھک گئی ہوں اور کچھ سر بھی بھاری سا ہورہا ہے قندیل نے دریاب کی طرف ایک نظر دیکھتے ہوئے کہا میڈیسن لو میرے بیگ سے اور ایسا کرو آج تم اوپر ہی لیٹ جاؤ میں دوسرے کمبل کا انتظام کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے موبائل فون پر ہوٹل سروس کا نمبر ڈائل کر کے کان پر لگایا ، جی ایک بلینکٹ چاہیے تھا ۔۔۔۔۔ دریاب کچھ دیر رکا تھا ، اوکے نو پرابلم دریاب نے بات کرنے کے بعد موبائل بیڈ کے سائیڈر پر رکھ دیا ، کیا ہوا کمبل کا قندیل نے پوچھا۔۔۔۔۔ وہ کمبل تو ختم ہو چکے ہیں دریاب نے کہا ، تو کوئی بات نہیں ایک رات کی تو بات ہے قندیل نے کمبل کو دیکھتے ہوئے کہا ، تم کمفرٹیبل ہو دریاب نے قندیل سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کے بیگ سے میڈیسن لے کھا چکی تھی ، ہاں جی آپ سو جائیں ، گڈ نائٹ قندیل نے اپنا دوپٹہ ایک سائیڈ پر رکھ کر کہا اور کمبل لئے لیٹ گئی ۔۔۔۔۔۔ دریاب باتھ روم میں فریش ہونے چلا گیا ، فریش ہونے کے بعد دریاب بیڈ کی دوسری سائیڈ آ کر لیٹ گیا ، قندیل سوچکی تھی ، لیٹنے کی دیر تھی دریاب پر بھی نیند کی دیوی مہربان ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *