Episode 9 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 9 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 9 part (2)

دریاب آپ جیسا ڈرامے باز انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا کیسے کر لیتے ہیں آپ اتنا ڈرامہ پہلے میری امی کو پتہ نہیں میرے خلاف کیا کہا اور پھر وہاں اپنے دوست کے گھر میں اتنا اوور ریکٹ آپ کر رہے تھے کہ توبہ ہے۔۔۔۔۔۔ قندیل نے نیچے کمبل اور تکیہ رکھتے ہوئے دریاب پر طنز کیا ، او تھینکس یہ تو میری خوبی ہے جو خاص تمہاری بدولت مجھ میں ائی ہے اور ہاں یہ پہلی بار تھا اس لیے معاف کیا ائندہ مجھ سے مخاطب ہو تو ذرا تمیز سے مخاطب ہونا۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو گھورتے ہوئے کہا اگر یہی بات میں آپ سے کہوں تو قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ تو تمہارے لیے بہتر ہوگا ، میرے وہاں پہنچنے سے پہلے منہ ڈھک کر سو جاؤ ، دریاب نے دھمکی دیتے ہوئے کہا اور بیڈ سے اترنے ہی لگا تھا کہ قندیل واقعی ہی منہ ڈھک کر لیٹ گئی کہیں دریاب سچ میں نا آ جائے ۔۔۔۔۔ قندیل کی حرکت پر دریاب مسکرا کر رہ گیا۔۔۔۔   قندیل جاؤ دریاب کو بلا لاؤ ۔۔۔۔۔۔ بی جان نے سب کو ہال میں بلا لیا ہے انجمن بیگم نے کچن میں کام کرتی قندیل کو کہا ، جی تائی امی ابھی بلا کر لاتی ہوں ۔۔۔۔۔ قندیل نے مسکرا کر کہا اور اوپر روم میں آگئی باتھ روم میں پانی گرنے کی اواز آرہی تھی لگتا ہے دریاب نہانے گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے بیڈ پر پڑی بلو کلر کی شرٹ کو دیکھتے ہوئے سوچا ، ائیڈیا اچانک ہی قندیل کی انکھوں میں شرارت چمکی تو اس نے سائیڈر میں سے قینچی نکال کر دریاب کی شرٹ کے بٹن کا دھاگہ کاٹ دیا ۔۔۔۔۔۔ سوچا تو تھا سارے کاٹنے کا لیکن پانی بند ہونے کی اواز سے قندیل کو چوکنا ہونا پڑا اور پھر وہ جلد بازی میں قینچی کو بھی وہیں بیڈ پر بھول گئی اور کمرے سے نکل کر دروازے کے پاس کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا اور دریاب باہر آیا ، دریاب نے شرٹ اٹھا کے پہنی ، وہ اپ کو نیچے بی جان بلا رہی ہے ، قندیل نے ایک نظر دریاب پر ڈال کر اپنی ہنسی کو ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ ہاں چلو میں آ رہا ہوں دریاب اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔

 

قندیل ہنستی ہوئی نکل رہی تھی کہ دریاب کی آواز سن کر اسے اپنے قدموں کو روکنا پڑا ، کہاں چلا گیا یہ بٹن نہانے سے پہلے تو تھا شرٹ کا بٹن کیا کوئی آیا تھا کمرے میں دریاب نے حیران ہوتے ہوئے قندیل سے پوچھا۔۔۔۔۔۔ مجھے کیا معلوم قندیل نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے معصوم بن کر کہا ، دریاب نے قندیل کی معصومیت کو دیکھتے ہوئے۔ پورے کمرے میں نظریں دوڑائی تو بیڈ پر قینچی پڑی نظر آگئی اور اس سے تھوڑا سا دور پڑا ہوا شرٹ کا بٹن ۔۔۔۔۔ ہاں بلکل تمھیں کیسے معلوم ہوگا قینچی سے تم نے تھوڑی بٹن کاٹا ہوگا ، ہے نا چلو کوئی بات نہیں لیکن اب بٹن تم ہی ٹانکو گی۔۔۔۔۔ چلو فورا دیر ہو رہی ہے ، دریاب نے قندیل کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ، ت۔۔۔۔۔ تو کیا ضروری ہے یہ شرٹ پہننا اور کوئی دوسری پہن لے قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔ تو تمہیں یہ حرکت کرنی ضروری تھی ، دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا تو وہ اسکے چوڑے سینے سے آ لگی ، کیا۔۔۔۔۔۔ کیا ثبوت ہے یہ میں نے کیا قندیل نے اپنے ہاتھوں سے دوری بناتے ہوئے کہا ، ٹھیک ہے میں بھی اسی شرٹ میں نیچے جاؤں گا پھر چاچی سے تم خود نمٹ لینا ، دریاب اپنے بال بنانے لگ گیا ، شرٹ اتارے میں بٹن ٹانک دوں گی…….. قندیل نے کچھ سوچتے ہوئے فوراً سوئی میں دھاگہ ڈالتے ہوئے دریاب سے کہا ۔۔ مجھے نہیں اتارنی شرٹ دریاب نے جواب دیا ، مسئلہ کیا ہے اپ کے ساتھ شرٹ نہیں اتاریں گے تو میں بٹن کیسے لگاؤں گی قندیل نے مصنوعی غصے سے کہا ، ایسے ہی لگا دو لگانا ہے تو ۔۔۔۔۔

 

دریاب نے اتراتے ہوئے کہا ، اچھا سیدھے کھڑے ہو جائیں قندیل نے بیزار سی صورت بنائی اور دریاب کی شرٹ میں سوئی ڈال کر بٹن لگانے لگی ۔۔۔۔ دریاب تو ریلیکس کھڑا تھا مگر اتنے قریب آکر قندیل کو شرم کے ساتھ گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی , ائندہ ایسا کام کرنا مت جس کا ازالہ نہ ہو سکے تم سے دریاب نے قندیل کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ کر تو رہی ہوں ، قندیل کو دریاب کا بولنا مزید تپا گیا ، آ ۔۔۔۔۔۔ آ سوئی کیوں چبھا رہی ہو دریاب نے کہا اور دانت نکالو قندیل نے دل میں سوچا۔ سوری۔۔۔۔۔ قندیل نے بظاہر معصوم سی صورت بنا کر کہا ، ابھی دھیان سے کرو دریاب نے احتیاط برتنے کو کہا کندیل نے اثبات میں سر ہلایا ، آ آ ۔۔۔۔۔ دریاب اب دو قدم پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔ وہ میں نے کہا تھا نا شرٹ اتار دو قندیل نے مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے کہا ، اچھا دھاگہ تو کاٹنے دیں۔۔۔ قندیل نے قینچی دکھاتے ہوئے کہا اب یہ میرے پیٹ میں مت گھونپ دینا ۔۔۔۔۔ دریاب کو قندیل کی شرارت سمجھ اگئی تھی ، اہہہم ۔۔۔۔ او ہو نیچے سب تم دونوں کا انتظار کر رہے ہیں اور تم دونوں رومینس میں لگے ہوئے ہو ، در ثمین نے کھلے دروازے کے باہر ہی کھڑے ہو کر گلا کنک

 

در ثمین نے کھلے دروازے کے باہر ہی کھڑے ہو کر گلا کنکھارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ جہاں قندیل دریاب کی شرٹ کا دھاگہ کاٹ رہی تھی یہ رومینس آپ کی کی بھابھی جان کو سوجھ رہا ہے۔۔۔۔ دریاب نے شرٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے قندیل کو چھیڑنے کے لیے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ دریاب کی بات پر قندیل کا سر شرم سے مزید جھک گیا ۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔۔ اچھا مجھے پتہ ہے اب نیچے چلو در ثمین نے ہنستے ہوئے کہا تو دریاب فوراً ہنستا ہوا نیچے چلا گیا۔۔۔۔۔۔  ہال میں سب گھر والے جمع تھے۔۔۔۔۔ ابھی چھٹی ختم ہونے میں دن ہے ، لے جاؤ بیٹا قندیل کو گھما کر لے کر آؤ ، منور صاحب نے دریاب سے کہا ۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں اکیلے جا کر کیا کریں گے آپ سب چلیں ، کیوں قندیل دریاب نے مسکرا کر قندیل کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا ، ہاں ٹھیک تو کہہ رہے ہیں دریاب درے ، بی جان ، دادا جان ، تائی امی ، امی ابو ، ویر بھائی سب سب چلتے ہیں اور اگر اپ لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم دونوں کہیں بھی اکیلے جائیں گے تو بس پھر رہنے دیں ٹرپ کینسل ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے اخری جملے پر افسردہ سا منہ بناتے ہوئے کہا ، بھئی میں اور تمہارے دادا جان تو نہیں جا سکتے اتنا دور کا سفر بہت مشکل ہے ۔۔۔۔۔ اور پھر وہاں کشمیر کی سردی ، بی جان نے فوراً کہا ، ہاں واقعی ٹھیک کہہ رہی ہیں تمہاری بی جان ہم دونوں کو تو رہنے دو ، دادا جان نے کہا میری تو چار دن کی بات کی فلائٹ ہے یو نو دریاب u know duryaab شاہ ویر نے مسکراتے کر دریاب کو کہا میں چلوں گی آپ کے ساتھ دریاب بھائی صبا نے چہکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں یہ ٹھیک ہے کم از کم تھوڑے دن تو گھر میں سکون رہے گا بابر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔

 

ایسی بات تو تمہیں جانا چاہیے نہ کہ میری بیٹی کو ، منور صاحب نے صبا کی طرف داری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ ابو میں تو مذاق کر رہا تھا بابر نے شرمندہ ہو کر کہا۔۔۔۔۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں تایا ابو بابر تم بھی چلو ہمارے ساتھ ، تم تو ویسے بھی ابھی چھ سات ماہ پہلے ہو کر ائے ہو کشمیر اپنے دوستوں کے ساتھ۔۔۔۔۔ ہیلپ ہو جائے گی اگر تم ہمارے ساتھ چلو گے دریاب نے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں چلو بابر اپ ضد مت کرنا اور نا ہی منع مت کرنا قندیل نے خفگی سے کہا ، اوکے اوکے ائی ایم ریڈی بابر نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔۔ میں بھی نہیں جا سکوں گی بی جان کے بغیر میرا دل نہیں لگے گا اور ابھی ویسے بھی وہ ٹھیک نہیں ہے پلیز دریاب مان جاؤ در ثمین نے اپنی پریشانی بیان کی۔۔۔۔ ہمیں بھی افس میں بہت کام ہے اس لیے معذرت چاہتے ہیں مظفر صاحب نے بھی کہا میں بھی نہیں جا سکتی سردی کا تو سنتے ہی میری روح کانپ جاتی ہے۔۔۔۔ بھابھی آپ چلی جائیں بچوں کے ساتھ شبانہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا ، چلو پھر ٹھیک ہے امی بابر بھائی اور صبا آپ دونوں کے ساتھ جائیں گے ۔۔۔ میرے تو پریکٹیکل چل رہا ہے ورنہ میں ضرور چلتا آپ لوگوں کے ساتھ فائز نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔۔ تو تم سب اپنی تیاریاں کر لو گرم کپڑے بھی رکھ لینا ویسے بھی نومبر کا مہینہ شروع ہونے والا ہے ، دادا جان نے کھڑے ہو کر ہدایت دی ۔۔۔۔۔ اور لان میں ٹہلنے چلے گئے ، ہاں تو پھر ٹھیک ہے کل پہلی فلائٹ سے اسلام اباد جائیں گے پھر وہاں سے مری میں ایک دو دن رہتے ہیں۔۔۔۔ کیا خیال ہے دریاب بھائی بابر نے فورا پلان بنایا ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے اس کے بعد ماموں کے پاس مظفرآباد اور پھر کشمیر میرا ایک دوست ہے اس کی ڈیوٹی لگی ہے بارڈر پر چلو اس بہانے اس سے بھی ملاقات ہو جائے گی دریاب نے کہا ۔۔۔۔۔

 

چلو قندیل صبا تیاری کر لو پھر صبح نکلنا ہے جلدی جلدی انجمن بیگم نے کہا۔۔۔۔۔۔۔   تھینکس قندیل۔۔۔۔۔۔ دریاب نے روم میں آکر پیکنگ کرتی ہوئی قندیل کو مسکرا کر کہا ، دریاب کو لگا تھا قندیل نے اسکی پیکنگ کی ہے ۔۔۔۔۔۔ کس خوشی میں قندیل نے حیران ہو کر کہا تم نے میری پیکنگ کی ہے نا اس لیے دریاب نے لگیج کی طرف اشارہ کیا تو قندیل زور زور سے ہنسنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ غلط فہمی کب ہوئی آپ کو قندیل نے ہنسی روکتے ہوئے کہا کیا مطلب۔۔۔۔۔ اب کی بار دریاب نے حیرانی سے کہا ، مطلب یہ کہ اس میں میرے کپڑے ہیں لیڈیز کپڑے بھلے آپ شئیر کر لو مجھے برا نہیں لگے گا پر دنیا والوں کو لگے گا بہت بہت زیادہ برا ۔۔۔۔۔ دریاب کا چہرہ ایک لمحے کے لیے سرخ ہوا ، قندیل نے اپنے ذہن میں کچھ سوچتے ہوئے کہا اور پھر ہنسنے لگی۔۔۔۔۔ دیکھیں چاچی قندیل نے میری پیکنگ نہیں کی دریاب نے شبانہ بیگم کو دیکھتے ہی قندیل سے بدلہ لیا ، قندیل نے ہنسی روک کر فورا مڑ کر دیکھا ن۔۔۔۔نہیں امی میں تو ان کا انتظار کر رہی تھی یہ اپنی ضرورت کا سامان اور کپڑے نکال دے پہلے میں پھر رکھ دوں گی قندیل نے معاملہ فورا سنبھالا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ جانے سے پہلے وہ شبانہ بیگم کو ناراض کرے۔۔۔۔ ۔ اندر آئیے چاچی کوئی کام تھا ، دریاب نے قندیل کی معاملہ سنبھالنے والی بات پر ہنسی روکتے ہوئے کہا ۔۔۔ ہاں بس ویسے ہی اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا اور یہ شال رکھ لینا قندیل بہت گرم ہے ، شبانہ بیگم نے گرین کلر کی شال قندیل کو دیتے ہوئے کہا تھینکس امی جان کتنا خیال ہے اپ کو میرا قندیل نے شبانہ بیگم کو گلے لگاتے ہوئے پیار کیا۔۔۔۔

 

۔ وہ تو ہے پر اگر تمہاری کوئی شکایت ملی تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی سمجھی خیال رکھنا دریاب کا اور اپنا بھی۔۔۔۔۔۔ ہنسی خوشی گزارنا وقت ، شبانہ بیگم نے پیار سے قندیل کو سمجھایا ، فکر نہیں کرے چاچی ہم دونوں اپنا اور سب کا خیال رکھے گے دریاب نے مسکرا کر شبانہ بیگم کو تسلی دی اچھا تم دونوں اپنی پیکنگ کر لو میں چلتی ہوں شبانہ بیگم کہہ کر کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔۔  اب سکتے میں کیوں کھڑے ہیں آپ ، جلدی کپڑے نکالے مجھے نیند آ رہی ہے قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ کیا مطلب دریاب نے دو قدم پیچھے ہو کر کہا دراصل وہ قندیل کو تنگ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ چھی ۔۔۔۔۔ چھی ہر وقت کیا چلتا رہتا ہے آپ کے دماغ میں ، میں نے کہا کپڑے نکالو پیکنگ کےمیں نے کہا کپڑے نکالو پیکنگ کے لیے پیکنگ کے لیے قندیل نے اپنی بات دو بار دہرائی اسکا شبانہ بیگم کی ناراض ہونے والی دھمکی سے موڈ خراب ہو چکا تھا اس لئے دریاب کے مذاق پر وہ سنجیدہ ہوگئی ۔۔۔۔ بولنے سے پہلے اپنے جملوں پر غور کر لیا کرو پوری بات کیا کرو جیسے ابھی کی ، اگر یہی سوال میں تم سے کروں تو دریاب نے قندیل کی طرف چار قدم اگے آ کر قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں تو اگر میرے منہ سے غلط الفاظ نکل بھی گئے تو آپ کو بات بنانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *