ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Don’t copy without my permission
Episode 9 part (1)
ہاں چلو اچھا تائی امی چاچی ہم چلتے ہیں۔۔۔ انشا اللہ گیارہ بجے تک واپس آ جائے گے ، دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا جی بیٹا جاؤ ، اللّٰہ حافظ ،،، انجمن بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو دریاب قندیل کا ہاتھ تھامے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھ ۔۔۔۔ چھوڑیں میرا ہاتھ قندیل نے باہر آتے ہی دریاب کی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔ ویسے یہ پنک کلر تم پر کافی سوٹ کرتا ہے ، ایسے ہی تیار رہا کرو اچھی لگتی ہو دریاب نے قندیل کے کان پر جھک کر سرگوشی کی تو قندیل کا تو جیسے سارا خون چہرے پر سمٹ آیا ہو ، کچھ پل کے لئے قندیل کی پلکیں شرم سے اٹھ ہی نہیں سکی کہ مقابل کو کوئی جواب دے سکے ۔۔۔۔۔ پہلے ہی اسکے ہاتھوں کا لمس اوپر سے اسکی باتیں ، م ۔۔۔۔۔۔ میں نے نہیں ہونا ت۔۔۔۔۔ تیار ویار ، یہ تو صبا نے کیا ، اور کیوں ہو تیار آپ کے لئے تاکہ آپ مجھے ناگن بول سکے
قندیل نے جھکے سر سے ہی اپنی بات مکمل کی اسکی آواز اتنی ہی کہ دریاب ہی سن سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا پاگل میں نے کب کہا ناگن ، تم نے خود سمجھا ، میں نے کہا تھا ، بہت پیاری لگ رہی ہو دریاب نے دوسرے ہاتھ سے قندیل کی ٹھوڈی پکڑ اسکا تھوڑا چہرہ اوپر کیا ایسا نا ہو کہ تمھاری شامت آ جائے ، میک اپ ریموو کرو تاکہ میں ڈرو ![]()
دریاب نے مذاق اڑایا ، دریاب کی ساری بات کا مطلب سمجھتے ہی قندیل کو سمجھ نہیں آرہی تھی شرمانا ہے یا رونا ۔۔۔۔۔۔
دریاب اسکی ٹھوڈی پر سے ہاتھ ہٹا چکا تھا ، میرا ہاتھ چھوڑیں دریاب ،،،، اب میں میک اپ کرونگی ہی نہیں ، آپ ساری زندگی ڈرے گے اور میرے پاس بھی نہیں آئے گے بہت اچھا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے رونی صورت بناتے ہوئے سب کچھ روانگی میں بول گئی ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا مطلب تم مان گئی ہو تم بنا میک اپ کے چڑیل لگتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے میری قسمت میں چڑیل ہی تھی کیا ، دریاب نے ہنستے ہوئے مذاق اڑایا ، قندیل کی انکھوں سے اب واقعی آنسو نکلنے کو بیتاب تھے جو دریاب نے بھی نوٹ کیا ، اچھا اچھا سوری مذاق کر رہا تھا میک اپ خراب مت کرو جانا ابھی ہم نے ۔۔۔۔ وہ لوگ کیا سوچے گے پہلے ہی لیٹ آئے اوپر سے میک اپ بھی خرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے آخری بات بہت معنی خیز انداز سے کہی تو اسکا مطلب سمجھتے ہی قندیل نے اپنا تھوک نگلا ۔۔۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔۔ بہ ۔۔۔۔۔۔ توبہ آپکی طرح گندی سوچ نہیں ہوتی سب کی قندیل نے ٹشو کو باری باری اپنی دونوں آنکھوں کے کنارے پر رکھا تاکہ وہ سارا آنکھ کا نمکین پانی جذب کرلے اور انسو نیچے آکر مسکارے کو خراب نا کرے ۔۔۔۔۔۔۔ ایسی بات تو چلو ایسے ہی تھوڑا اسکو بھی خراب کرلو دریاب نے قندیل کا ہاتھ چھوڑتے اپنا ہاتھ کا رخ اسکی لپ اسٹک پر کیا ۔۔۔۔۔۔ بدتمیز ۔۔۔ قندیل ہنستے ہوئے فوراً دور ہوئی ، دریاب بھی ساتھ ہی ہنسے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
قندیل شرمائے ہوئے روپ میں ہنستی ہوئی بہت پیاری لگنے کے ساتھ وہ دریاب کے دل میں اتر رہی تھی ، اب بتاؤ کہاں چلنا دعوت پر یا اوپر اپنے کمرے میں دریاب نے دو قدم قندیل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ، اتنا میں تیار گھر میں رہنے کے لئے نہیں اور میں آپ کو بہت برا ماروں گی دریاب اور دادا جان کو بھی بولو گی ۔۔۔۔۔ اس لئے چپ چاپ گاڑی کی طرف چلے ، دریاب کی باتیں سن کر قندیل کی ہنسی کو بریک لگ چکا تھا ، قندیل نے منہ بناتے ہوئے دھمکی دی ۔۔۔۔۔۔ تو دریاب مسکراتے ہوا گاڑی کی طرف بڑھ گیا قندیل بھی اسکے پیچھے چادر کو صحیح کرتی ہوئی گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب لوگ کہاں ہیں شاہ ویر نے کچن میں آ کر در ثمین سے پوچھا۔۔۔۔۔۔ جی وہ دادا جان بی جان ۔۔۔ تایا ابو تائی امی اور چاچو ، چاچی اپنے کسی دوست کے گھر گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ان کی فیملی حج کر کے آئی ہے ان کو مبارک باد دینے ، بابر اوپر ہے اور دریاب ، قندیل ارحم بھائی کے گھر گئے ہیں ، در ثمین نے شاہ ویر کو نظر انداز کرتے ہوئے برتن اسٹینڈ میں رکھتے ہوئے کہا ، کھانے میں کیا ہے شاہ ویر نے سنک کے پاس آ کر ہاتھ دھوتے ہوئے کہا ، جی آلو میتھی ہے اور قیمہ ہے در ثمین نے شاہ ویر سے دو قدم دور ہوئی۔۔۔۔۔
اور اپنی بات مکمل کر کے کچن سے کھسکنے لگی ، رکو ۔۔۔۔۔۔ کھانا کون دے گا شاہ ویر نے پیچھے سے ٹوکا میں سارا کھانا فریج میں رکھ چکی ہوں ، اپ پہلے نہیں آ سکتے تھے اب آپ کھانا خود گرم کر کے کھا لیں ۔۔۔۔۔ در ثمین کے لہجے میں بیزاری تھی ساتھ ہی وہ کچن سے نکلنے لگی تھی کہ شاویر نے آگے بڑھ کر در ثمین کا ہاتھ پکڑ کے کھینچا تو در ثمین کی پشت شاہ ویر کے سینے سے لگی ، بہت زیادہ ہی اکڑا گئی ہے تم میں شاہ ویر نے در ثمین کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔۔ ہا۔۔۔۔۔ ہاتھ چھوڑیں میرا ۔۔۔۔ شاہ ویر کی قربت سے گھبرا کر در ثمین نے پلٹ کر دور ہوتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ ہاتھ چھوڑ دوں گا پہلے کھانا دو ، شاہ ویر نے در ثمین کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ، اچھا کر رہی ہوں ، آپ ہاتھ چھوڑیں ۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے نظر اٹھا کر شاہ ویر کو دیکھا جو دبی سی مسکراہٹ کو ہونٹوں پر سجائے ہوئے تھا ایک پل کو دونوں کی نگاہیں ملی تو دوسرے ہی پل در ثمین نے فوراً نگاہیں چرا لی ۔۔۔۔۔۔ اوکے کھانے کے بعد چائے بھی بنا کر دینا شاویر نے ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا ، کھانا گرم کر رہی ہوں وہ کافی نہیں ، در ثمین نے فریج میں سے کھانا نکالتے ہوئے سوچا اور فوراً کھانا گرم کر کے جلدی جلدی شاویر کے اگے رکھ دیا ، نوکرانی نہیں ہوں چاہے خود بنا لیں در ثمین نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ نوکرانی نہیں ہو پر بیوی تو ہو چلو شاباش چائے بناؤ ورنہ بی جان کو تمہاری شکایت لگا دوں گا شاہ ویر نے کرسی پر بیٹھ کر در ثمین کو دھمکی دی اور بیٹھ کر کھانا کھانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ در ثمین نے شاہ ویر کا سارا غصہ چائے میں زیادہ چینی ڈال کر نکالا ، در ثمین نے چائے کپ میں ڈال کر
در ثمین نے شاہ ویر کا سارا غصہ چائے میں زیادہ چینی ڈال کر نکالا ، در ثمین نے چائے کپ میں ڈال کر شاہ ویر کو دی اور شاہ ویر کے کھانے کے برتن اٹھا کر دھونے لگی ، شاہ ویر چائے پینے لگا۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین سوچ میں تھی میٹھی چائے پی کر شاہ ویر غصہ کرے گا لیکن وہ تو بڑے مزے سے چائے پی رہا تھا ، اور اسی کو دیکھ رہا تھا در ثمین سٹپٹا کر رہ گئی اور واپس کچن کے کام میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔ اگر ایسی چائے پلاؤ گی تو ہر روز تمہارے ہاتھ کی چائے پیوں گا ، چاہے پھر شوگر ہی کیوں نہ ہو جائے شاویر نے در ثمین کا راستہ روک کر کہا اور چائے کا خالی کپ رکھ کر کچن سے چلا گیا ، شاہ ویر ایک انجانی قوت کے تحت در ثمین کے قریب ہوتا ہے چلا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اسے فرق ہی نہیں پڑتا تھا کہ در ثمین اس کے لیے کیا سوچتی ہے لیکن اب اسے در ثمین کی خاموشی چبھ رہی تھی اور اس لیے وہ باتوں باتوں میں اس پر اپنا حق استعمال کر رہا تھا اور اس کا یہ رویہ در ثمین پر ناگوار گزر رہا تھا اور وہ اس کشمکش میں تھی کہ شاہ ویر اخر چاہتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔