ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 8part (2)
فائز یہ وائی فا اور سمز کے سگنل اتنے کم کیوں آ رہے ہیں ، مجھے ایک امپورٹنٹ کام کرنا ہے شاویر لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے سلو نیٹ سے اکتاتے ہوئے فائز سے پوچھنے لگا، ہاں بھائی اکثر ہو جاتے کم سنگلز پاکستان میں تو یہ ہوتا رہتا ، آپ بعد میں کام کر لینا جب فل ائیں سگنل ابھی لائٹ بھی نہیں ہے شاید سوسائٹی میں ، فائز نے گھڑی میں ٹائم دیکھ کر لیپ ٹاپ کے ساتھ ایک فائل کو اٹھائے ہوئے شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ نہیں یار ارجنٹ ہے ڈیلے نہیں ہو سکتا ،۔ شاہ ویر پریشان سا ہوا ، ایسا کریں بھائی ٹیرس پر چلے جائیں وہاں ہو جائے گا اپ کا کام فائز نے شاہ ویر کو ائیڈیا دیا۔۔۔۔ اوکے گڈ ہوگیا ٹرائے کرتا ہوں شاہ ویر نے کہا اور چڑھتا ہوا ٹیرس پر آ گیا ۔۔۔۔۔۔ جہاں چاند اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی ، ٹیرس پر ایک بڑا بیٹھنے والا جھولا تھا اور اس سے کچھ دور چار کرسی اور میز رکھی ہوئی تھی ، ٹیرس پر ایک خوبصورت روم بھی تھا جو ٹینکی کے نیچے بنا ہوا تھا روم کا دروازہ کھلا تھا اور لائٹ سے کمرہ روشن بھی تھا ، شاہ ویر کو اس وقت سب سے ضروری اپنا کام لگا، وہ لیپ ٹاپ ان کر کے اپنا کام کرنے لگا تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ اپنا کام کر کے فارغ ہوا تو اسے تجسس ہوا اس روم کی لائٹس کس نے آن کی وہ اٹھ کر روم کی سمت اگیا ، روم کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے اسے باہر ہی سے سب دکھائی دے رہا تھا، اندر در ثمین تھی ، وہ دعا مانگ رہی تھی نماز پڑھنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔ دعا مانگتے ہوئے اس کی بند آنکھوں کی گہری پلکوں سے آنسو مسلسل نکل کر اس کا چہرہ بھگو رہے تھے شاہ ویر کو نہ جانے کیوں در ثمین کی آنسوؤں کی وجہ وہ خود لگا یہ احساس ہوتے ہی وہ لب بھینچ کر لیپ ٹاپ اٹھائے نیچے کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔۔ بی جان رات بہت ہو گئی ہے آپ بھی آرام کریں میں چلتا ہوں دریاب نے بی جان کی ٹانگیں دبانے کے بعد انھیں اچھے سے کمبل اوڑھاتے ہوئے کہا یہ قندیل کہاں ہے جہانگیر شاہ نے تسبیح کو سا
جہانگیر شاہ نے تسبیح کو سائیڈر میں رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ یہیں کہیں ہوگی دادا جان۔۔۔۔ دریاب نے بلوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا بر خوددار وہ تمہاری بیوی ہے اور تم اس سے لاپتہ ہو ، ابھی دن ہی کتنے ہوئے تمہاری شادی کو اتر گیا بھوت پسند کی شادی کا ۔۔۔۔۔۔ دادا جان نے دریاب کو حیرت سے دیکھ کر ڈانٹا ، مذاق کر رہا تھا دادا جان وہ روم میں ہی ہوگی کوئی کام ہے اپ کو میں بلا کر لے آتا ہوں ۔۔۔۔۔ دریاب نے سنبھلتے ہوئے کہا ، کام تو کوئی نہیں پتہ نہیں کیوں وہ مجھے پہلے جیسی نہیں لگ رہی ایسا لگ رہا ہے وہ کوئی بات چھپا رہی ہے یا کسی بات کو لے کے پریشان ہے خیر ان باتوں کو چھوڑو تم تم بس اس کا دھیان رکھو ، دادا جان نے بات ادھوری چھوڑ کر دریاب کو حکم دیا جی بہتر دادا جان اور کوئی حکم ۔۔۔۔۔۔ شب بخیر دادا نے مسکرا کر کہا ، دادا جان ابھی تو شروعات ہوئی ہے چلو کوئی بات نہیں تھوڑا دکھاوا بھی کر لیتے ہیں ، اپنی پوزیشن سنبھالنے کے لیے دریاب نے دل میں سوچا تو لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آ کر ٹھہر گئی شب بخیر دادا جان بی جان دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے میں آگیا تو قندیل آج بنا کچھ کہے اور لڑے کمبل لئے نیچے سو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل کو سوتا پا کر دریاب باتھ روم فریش ہونے چلا گیا ، کچھ دیر فریش ہونے کے بعد دریاب بیڈ پر لیٹ گیا اور قندیل کو تکلیف دینے کے آئیڈیا idea سوچنے لگا ، آئیڈیئے سوچتے سوچتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی ، ابھی سوئے ہوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ کمرے میں چیخ کی اواز سے دریاب کی انکھ کھل گئی ، دریاب باقاعدہ اٹھ بیٹھا تھا ، کہ ہوا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ قندیل بھاگتے ہوئے آ کر بیڈ پر اس کے سامنے سمٹ کر بیٹھ گئی کیا ہوا ہے قندیل دریاب نے پوچھا وہاں میرے بستر پر چوہا آگیا ہے پلیز آپ جا کر چوہے کو بھگا دو ، آپ کو تو پتہ ہے مجھے کتنا ڈر لگتا ہے چوہوں سے قندیل نے رونی صورت بنا کر کہا ہاں معلوم ہے ایسی کون سی چیز ہے جس سے تمہیں ڈر نہیں لگتا لیکن اس وقت مجھے بہت نیند آ رہی ہے لیٹنا ہے تو یہاں لیٹ جاؤ آرام سے ، نہیں تو وہاں جا کر چوہے کے ساتھ کھیل لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو تنگ کرنے کے لیے کہا اور لیٹنے لگا ، بدتمیز کہیں کا ہر وقت بدلہ لینے کا بھوت سوار رہتا ہے اب کیا کروں بہت نیند آ رہی ہے قندیل نے دل میں سوچتے ہوئے کہا ، اچھا میرا دوپٹہ ہی لادیں وہ جلد بازی میں وہیں رہ گیا ۔۔۔۔۔۔
اور تکیہ اور کمبل بھی چاہئے مجھے لادے جا کر ، قندیل نے تھوڑا سا جھجکتے ہوئے کہا ، میں نہیں لا رہا کچھ بھی خود لے آؤ، پلیز مجھے سونے دو دریاب نے اسکے دوپٹے سے ندارد وجود کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ، وہ جانتا تھا وہ بنا دوپٹے کے تنگ رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دریاب تو چاہتا ہی اسے تنگ کرنا ، اسلئے اسکی بات ان سنی کرتا ہوا کروٹ بدل گیا ، میسنا کہیں کا اب میں کیسے سوؤں بنا ان سب کے ، دریاب کا تکیہ نظر آتے ہیں قندیل دریاب کا تکیہ اٹھانے ہی لگی تھی کہ دریاب نے اپنا تکیہ اٹھا کر اپنے بازو میں دبا لیا دریاب تکیہ تو دے دو آپ تو ویسے تکیہ نہیں لگاتے۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے کہا تو یہ میرا تکیہ ہے اگر تمہیں لگانا ہے تو اپنا تکیہ وہاں سے لے آؤ چوہے کے پاس سے دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ، یا اللّٰہ جی مجھے صبر عطا فرما قندیل نے دل میں سوچا اور بغیر تکیے اور دوپٹے کے بیڈ پر تھوڑی سی جگہ پر سمٹ کر سو گئی۔۔۔۔۔۔۔ دریاب کی چھٹیوں کا خیال کرتے ہوئے دریاب کے کراچی میں مقیم دوستوں نے اسے شادی کی دعوت دی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ ارحم دریاب کا قریبی جگری دوست تھا اسلئے باقی سب کی چھوڑ کر دریاب نے ارحم کی دعوت قبول کرلی ، اب اسے قندیل کو راضی کرنا تھا ، قندیل سنو ، آج میرے دوست ارحم نے ہمیں ڈنر پر انوائٹ کیا ہے تو شام سات بجے تک ریڈی ہو جانا دریاب نے وارڈوب میں سے گرے کلر کا سوٹ نکالتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اس کی وجہ سے میں پوری رات بے سکون رہی بنا دوپٹے کے سوئی ، قندیل اب بدلے کا وقت ہے ۔۔۔۔۔
قندیل نے دل میں سوچا۔۔۔۔ میں کیوں جاؤ آپ کا دوست ہے آپ جائیں قندیل نے اتراتے ہوئے کہا ایسی بات ہے تو تم بھی دوستی کر لو ارحم سے پھر تو چل سکتے ہیں ہم اکٹھا دریاب نے قندیل کو جلانے کے لیے کہا ، پہلا شوہر دیکھا ہے جو اپنی بیوی کو ایسی غیر مرد سے دوستی کی آفر دے رہا ہے شیم ان یو دریاب قندیل نے حیرت سے دریاب کو دیکھتے ہوئے کہا ، قندیل کو تھوڑی تھوڑی تکلیف دے کر دریاب کو تو جیسے سکون مل رہا تھا بہت گھٹیا سوچ ہے آپ کی دریاب اکیلے جانا خود بے شرم۔۔۔۔۔۔ قندیل کو دریاب کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ دیکھ کر کچھ زیادہ ہی غصہ اگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ مائی وائف جاؤ گی تو تم ہی وہ بھی اس بے شرم شوہر کے ساتھ دریاب نے ایک ایک لفظ جتا کر کہا اور کمرے سے نکل گیا ائی ڈونٹ گو وتھ یو اینڈ آئی ڈونٹ کیئر قندیل نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا مسئلہ ہے قندیل تمہارے ساتھ اٹھو فورا یہ کپڑے پہنو اور تیار ہو جاؤ شبانہ بیگم نے صبا کے ساتھ قندیل اور دریاب کے کمرے میں داخل ہو کر قندیل کو وارڈروب میں سے ہینگر پکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم کی پھرتی دیکھ کر قندیل حیران ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ افوہ امی میں نہیں جاؤں گی دریاب کے ساتھ قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ہے جو کہا ہے وہ کرو کیوں میری جان کی دشمن بن گئی ہو شبانہ بیگم نے غصے سے قندیل کو آنکھیں دکھائی ۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔۔ امی جی قندیل نے رونی صورت بنائی ، صبا چلو بہن کی ہیلپ کرو پانچ منٹ میں قندیل تم نیچے ڈرائنگ روم میں پہنچو دریاب کب سے ویٹ کر رہا ہے محترمہ کے مزاج ہی نہیں ملتے۔۔۔۔ صبا دیکھنا زرا بھی دیر نا ہو ، شبانہ بیگم نے قندیل کو کپڑوں کے ساتھ واش روم میں جاتا دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔ پنک کلر کی شارٹ فراک پہنے جس پر کام سلور رنگ کا تھا ، ساتھ ہی بڑی میرون چادر سے سر کو ڈھکے ہوئے لائٹ سا میک اپ کئے ، چوڑیاں سے بھرے ہوئے مہندی والے ہاتھ ، نازک سلور کام کی چھوٹی سول کی سینڈلز اسکے بھرے ہوئے مہندی و
لائٹ سا میک اپ کئے ، چوڑیاں سے بھرے ہوئے مہندی والے ہاتھ ، نازک سلور کام کی چھوٹی سول کی سینڈلز اسکے بھرے ہوئے مہندی والے پاؤوں میں بھلی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ چلیں دریاب خود کو گھورتے ہوئے دریاب کے پاس آ کر قندیل نے کہا ، دریاب خود ڈارک براؤن کل کے کرتے شلوار میں ملبوس بہت ہی وجیہہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔ دریاب قندیل نے دریاب کے ہاتھ پر چٹکی بھری ، آ ۔۔۔۔۔ کیا کر رہی ہو دریاب نے چونکتے ہوئے کہا ، چلنا نہیں کیا آٹھ بجنے والے قندیل نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔