Episode 7 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 7 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 7 part (1)

جائے سالے صاحب آپ اور در ثمین بھی ایک ساتھ گفٹ دے ، میں گفٹ دے چکا ہوں درے اکیلے دے دے گی تحفہ ، شاہ ویر جب سے آیا تھا اسکی نظریں درے پر ہی تھی وہ حد سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی شاید پارلر سے تیار ہوئی تھی ، اوپر سے اسکے لمبے بال کرل کیے ہوئے تھے ۔۔۔۔ ارے کچھ نہیں ہوتا آئے آپ ساتھ بیٹھے دریاب نے کہا تو شاہ ویر کو آنا ہی پڑا صوفے کے ایک سائیڈ پر قندیل دریاب تھے ، دریاب کے پاس در ثمین بیٹھی درثمین کے برابر شاہ ویر پہلی بار وہ دونوں ایک دوسرے کے اتنا نزدیک بیٹھے تھے ، شاہ ویر کے پرفیوم کی خوشبو نے در ثمین کو اپنے حصار میں لے لیا تھا ۔۔۔۔ ویر بھائی صحیح ہو کر بیٹھے میں نے آپ چاروں کی ایک پکچر لینی ، فائز نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ تو شاہ ویر نے اچھے سے پھیلتے ہوئے اپنا بازو درثمین کے پیچھے صوفے پر سے گزار کر دریاب کے کندھے پر رکھا،دیکھنے میں ایسا لگ رہا تھا در ثمین شاہ ویر کے سینے سے لگی محسوس ہورہی تھی ، شاہ ویر کی زرا سی قربت پر در ثمین نے شرم سے سر جھکا لیا درے آپی اوپر دیکھے بہت پیاری لگ رہی آپ ۔۔۔۔۔ فائز کے کہنے پر در ثمین نے اوپر چہرہ کیا تو فائز نے دو تین تصویر لی پھر باقی سب بھی آگئے اور یوں انکی ولیمے کی یادگار تصویر بن گئی ۔۔۔۔۔۔   اف آج تو بہت تھکن ہو گئی ہے انجمن بیگم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا دو گھنٹے لگ گئے ہیں کار میں اتنی دور والا میرج ہال شادی کے لئے بک کروانا لازمی تھا دریاب کو بھی ……. انجمن بیگم نے تھکن بھرے لہجے میں بابر کو دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی گاڑی ڈرائیو کر کے انجمن بیگم ، شبانہ بیگم اور صبا فائز کو لایا تھا ۔۔۔۔۔ ویسے بھابھی زین پیلس تھا بہت خوبصورت سب مہمان تعریف کر رہے تھے ، شبانہ بیگم بے حد خوش تھی ۔۔۔۔۔۔

 

چلو بھائی جہاں بھی ہوئی تقریبات شادی با خیریت انجام پائی باقی بابر نے تمام کام ذمیداری سے باخوبی سنبھالے جہانگیر شاہ جو پہلے ہی ڈرائنگ روم میں موجود تھے انہوں نے دونوں بہووں کو آپس میں بات کرتا ہوا دیکھ کر کہا ، بی جان اور اپ جلدی اگئے تھے سب خیریت ہے دادا جان شاہ ویر نے ڈرائنگ روم میں آتے ہوئے کہا وہ ابھی ہال سے لوٹا تھا ، سبکی آوازیں سن کر ڈرائنگ روم کی طرف آگیا۔۔۔۔۔۔ ہاں بیٹا سب ٹھیک ہے بس تمہاری بی جان کے پیٹ میں صبح سے درد ہو رہا تھا شادی کے کھانے تیز مصالحوں کے ہوتے تو تھوڑا پیٹ درد ہو جاتا ، ہم سادہ کھانا کھانے والے لوگ ، دوسرا بیٹا عمر کا بھی تقاضا ہے ، جہانگیر شاہ نے کہا۔۔۔۔ تو دادا جان آپ صبح ہی مجھے بتا دیتے ہیں میں بی جان کو ڈاکٹر کے لے جاتا۔۔۔۔۔۔ بی جان کو کم از کم اتنی تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی ، شاہ ویر بی جان کے لیے بہت فکر مند تھا بھئی تم جانو تمہاری بی جان جانے جاؤ پوچھ لو۔۔۔۔۔ پچھلے ایک گھنٹے سے بچاری در ثمین اسکی خدمت میں لگی ہوئی ، بہت تھکی ہوئی لگ رہی تھی ، دادا جان نے مسکراتے ہوئے کہا صبح سے میری تو سن نہیں رہی شاید تمہاری سن لے دادا جان کی بات سنتے ہی شاویر اٹھ کر بی جان کے کمرے کی طرف اگیا۔۔۔۔۔۔ سب آگئے اجالا کہاں ہیں انجمن بیگم نے صبا اور فائز کو دیکھتے ہوئے پوچھا ، ہاں بھابھی وہ ادریس بتا رہے تھے کہ کل اس کی بہن رضیہ کو رشتے والے دیکھنے آ رہے ہیں تو پھر میں نے بھیجا اجالا کو اچھا نہیں لگتا نند کا رشتہ ہورہا ہے اور بھابھی گھر میں نہ ہو ، ایک دو دن میں اجالا چکر لگائے گی اسکا سارا سامان یہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے تفصیل سے بات بتائی چلو اچھا انجمن بیگم مسکرائی۔۔۔۔۔۔

 

  بی جان اب آپ کی طبیعت کیسی ہے شاہ ویر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا آہستہ ابھی سوئی ہیں بی جان در ثمین نے شاہ ویر کو ٹوکا ۔۔۔۔۔ آپ پریشان مت ہوئیں اب کافی بہتر ہے بی جان کی طبیعت در ثمین نے آہستہ آواز میں کہا ڈاکٹر کو بلایا کیا بی جان کو دیکھنے ، کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ، شاہ ویر نے بی جان کا سر دباتی ہوئی در ثمین کو دیکھتے ہوئے کہا جو ولیمے کے لباس میں ہی تھی اب تک ، ہاں وہ ڈاکٹر کو یہی بلا لیا تھا بی جان کو دلیہ کھلا کر میڈیسن بھی دے دی ہے اس لیے اب وہ سو رہی ہیں در ثمین نے بی جان کو دیکھ کر ایک نظر شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے کہا، تھینکس بی جان کا خیال رکھنے کے لیے شاویر نے تشکر امیز لہجے میں کہا ، تھینکس کس خوشی میں خود کو سمجھتے کیا ہیں آپ یہ میری بی جان بھی ہیں انکا خیال ہے مجھے اور آپ ہوتے کون ہیں در ثمین نے شاہ ویر کو غصے میں دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا ، زین پیلس والی شاہ ویر کی حرکت پر در ثمین پہلے ہی غصہ تھی اس لئے موقع ملتے ہی سارا غصہ نکال لیا ، اچھا بھول گئی ہو یا بتاؤں میں کون ہوں شاویر نے دو قدم اگے آ کر در ثمین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ بہت جلدی خیال آگیا مسٹر شاہ ویر😏 در ثمین نے شاہ ویر سے نظریں چرائیں ، بی جان کا خیال کر رہا ہوں ورنہ تمھاری اس بات کا جواب میں تمھیں اچھے سے دیتا ، شاویر نے سوتی ہوئی بی جان کی طرف ایک نظر ڈال کر در ثمین کے ناراض سراپے کو انکھوں میں اتارتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا جو صرف در ثمین ہی سن سکتی تھی شاہ ویر اپنی بات مکمل کر کے کمرے سے جا چکا تھا جب کہ در ثمین اندر ہی اندر سرخ ہونے کے ساتھ جل کر رہ گئی ۔  امی ۔۔۔۔امی اج میرا ولیمہ تھا اور ولیمے کے بعد دولہن اپنی امی ابو کے گھر آتی ہے تو میں اج اپنے روم میں آ کر سو جاؤ۔۔۔۔۔ قندیل نے شبانہ بیگم سے پیار جتاتے ہوئے کہا بہت دور بھیج دیا ہے نا تمھیں ہم نے خود سے تو جو تم آٹھ گھنٹے کا سفر کر کے پہنچی ہو یہاں ، جاؤ سیدھی ہو کر اپنے کمرے میں ، دریاب کمرے میں تمھارا انتظار کر رہا ہوگا اور یہ صبح سے کیا ہو گیا ہے تمہیں آئندہ ایسی کوئی حرکت کی نا تو مجھ سے برا کوئی

 

اور یہ صبح سے کیا ہو گیا ہے تمہیں آئندہ ایسی کوئی حرکت کی نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا، آئی سمجھ شبانہ بیگم نے قندیل کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی اب کیا ہوگا قندیل چل دیکھتے ہیں دریاب اب تک ذین پیلس سے واپس نہیں آیا تھا، اتنی اسانی سے جگہ چھوڑ دی تو اترائے گا ایسا کرتے ہوں ٹیڑھی ہو کر لیٹ جاتی ہوں ، آج جب دریاب زمین پر سوئے گا اور صبح اسکو اپنی کمر اکڑی ہوئی ملے گی ۔۔۔۔۔ تب پتہ چل جائے گا ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دل میں سوچا اور دوپٹہ ان پن وہ پہلے کر چکی تھی اسلئے دوپٹہ سائیڈ پر رکھ کر بیڈ پر پھیل کر کمبل سر تک لپیٹ کر لیٹ گئی، تھکی ہوئی تو تھی لیٹتے ہی نیند آ گئی ، بیس منٹ بعد دریاب کمرے میں داخل ہوا اس سوچ کے ساتھ پتہ نہیں قندیل آئے گی یا نہیں دروازہ بند کر لیتا ہوں آئے گی تو دروازہ بجا دے گی تھوڑا اس کو تڑپا کے دروازہ کھولوں گا ، اس کو تنگ کرنے میں مزہ ائے گا😁 دریاب نے دروازے کو دیکھتے ہوئے سوچا پھر اندر آ کر دروازہ بند کر لیا دروازہ بند کر کے مڑا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی ہنسی نکل گئی ، قندیل بیڈ پر پھیل کر کمبل لئے لیٹی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب بنا اسے تنگ کئے باتھ روم میں فریش ہونے چلا گیا ، تقریبا بیس ۔۔منٹ بعد وہ اپنے نائٹ ڈریس ( وائٹ پینٹ وائٹ شرٹ) پہنے ہوئے فریش ہو کے آیا ، قندیل اٹھو دریاب نے بیڈ کے پاس آ کر آواز دی مگر قندیل ٹس سے مس نہ ہوئی ، شاید وہ گہری نیند میں تھی ۔۔

 

قندیل اٹھو چلو جاؤ نیچے کارپیٹ پر جا کر سوؤ شرط بھول گئی ہو کیا اپنی، دریاب نے کہا ، مجھے بہت نیند ا رہی ہے دریاب آپ نیچے سوجائیں ، قندیل نے کمبل کے اندر سے ہی کہا ۔۔۔۔۔ اچھا تو یہ مجھ سے کل رات کا بدلہ لینا چاہتی ہے دریاب نے دل میں سوچا ، اچھا سو جاؤ گا کمبل تو دے دو پہلے ، دریاب نے کہتے ہی ایک جھٹکے سے قندیل کے اوپر سے کمبل لے کر زمین پر ڈال دیا، کمبل کے ہٹتے ہی قندیل سٹپٹا کر اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ، وہ اب بھی ولیمے والے بھاری کپڑوں میں تھی دوپٹے سے بے نیاز ، فل میک اپ اور آنکھوں میں نیند کا خمار لیے وہ دریاب کو حیرانی سے دیکھ رہی تھی ، اسے دریاب سے اسکی امید نا تھی ، دریاب اسکا گہری نظروں سے جائزہ لے رہا تھا، دریاب کو خود کو دیکھتا پاکر اس نے اپنی حالت پر غور کیا ، تو فوراً اپنا دوپٹہ تلاشنا چاہا ، اپنی شرط بھول گئی کیا مسز ، کیا ہوا تم تو سو رہی تھی نا 😏 دریاب نے قندیل کے روپ سے نظریں چراتے ہوئے کہا سوئی تھی مری نہیں تھی ، آپ نے اتنی زور سے کمبل کیوں کھینچا قندیل نے نیند خراب ہونے پر منہ بنا کر کہا یہ میرا کمرہ اور یہ میرا بیڈ ہے اور کمبل بھی میرا ہے ، جسے اوڑھ کر میں اب گہری نیند سونے والا ہوں ، اور تم مسز شرط بھول گئی ہو ، جاؤ جا کر نیچے سوؤ، دریاب نے بیڈ پر اپنی جگہ پر لیٹتے ہوئے کہا، اور قندیل سے کمبل لیا ۔۔۔ ۔۔ شاید اپ بھول رہے ہیں کہ آپ کی شادی ہو گئی ہے اور میں اپنی بیوی ہوں اوراب آپ کی سب چیزوں پر میرا بھی حق ہے برابر کا ، اور جو حق نہیں دیتا اس سے میں چھین لیتی ہوں قندیل نے پیار سے دریاب کے پاس تھوڑا جھکتے ہوئے بڑی معصومیت سے کہا اور فوراً دریاب کے اوپر سے کمبل کھینچ لیا۔۔۔۔۔ دریاب قندیل کی معصومیت میں کچھ پل کے لئے کھو گیا تھا، قندیل کے کمبل کھینچنے پر ہوش میں آیا اور فوراً کمبل کا دوسرا کونا پکڑ لیا ، اب سین کچھ یوں تھا دونوں بیڈ پر کمبل پکڑ کھینچا تانی کر رہے تھے 😁

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *