Episode 6 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 6 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 6 part (1)

ارے چھوڑو سکون سے کھڑی رہو اگر کسی چیز کو ٹچ کیا تو اچھا نہیں ہوگا ، در ثمین نے قندیل سے ساس پین لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ بہت خوب قندیل تیرے ساتھ تو بہت ہی اچھی ہوگئی دونوں بہن بھائی دھمکاتے رہتے ہیں ، قندیل نے دل میں سوچا ، ارے بیٹا قندیل تم یہاں ہو ۔۔۔۔ میں کب سے تمھیں ڈھونڈ رہی تھی ، انجمن بیگم نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم تائی امی اپ کو کوئی کام ہے مجھ سے درے آپی تو مجھے کسی کام کو ہاتھ ہی نہیں لگانے دے رہی۔۔۔ قندیل نے خوش ہوتے ہوئے انجمن بیگم کو سلام کرکے گلے ملتے ہوئے کہا وعلیکم السلام خوش رہو صحیح کہہ رہی ہے درے کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں کسی کام کو ہاتھ لگانے کی اور یہ کیا تم نے لان کا سادہ سا سوٹ پہنا ہے بیٹا اب تمہاری شادی ہو گئی ہے تھوڑے کلر فل بھاری کپڑے پہنو ۔۔۔۔۔۔۔ انجمن بیگم کی باتیں وہ سر جھکائے سن رہی تھی ۔۔ اوہ بیٹا میں تو تمہیں بتانا بھول ہی گئی تمہیں دریاب ڈھونڈ رہا تھا شاید اسے کوئی کام ہے جاؤ فوراً ۔۔۔۔ اور ایسے بنا دولہے کے کمرے سے باہر نہیں آتے ۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا ، اب کیا ہے انکو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے اثبات میں سر ہلایا اور زبردستی مسکراتے ہوئے دل میں سوچتے ہوئے اوپر کی طرف رخ کیا کیونکہ ان سب کے کمرے اوپر ہی تھے ۔۔۔۔ بیٹا قندیل چوڑی وغیرہ بھی ڈال لینا ہاتھوں میں انجمن بیگم نے کچن سے باہر آ کر اوپر کی طرف جاتی ہوئی قندیل کو کہا ، جی تائی امی قندیل نے رک کر جواب دیا ۔۔۔۔۔۔چائے اوپر بھجوا دوں کندیل بھابھی جی ، در ثمین نے بھی ہنستے ہوئے کہا نہیں بس دریاب سے پوچھ لوں پہلے کیا کام ان کو ، میں پھر چینج کر کے سب کے ساتھ روز کی طرح چائے پیوں گی ناشتے کے ساتھ قندیل نے مسکرا کر کہا اور اوپر روم میں آگئی۔۔۔۔

 

 جہاں دریاب صبح کی وائٹ شلوار سوٹ میں ہمیشہ کی طرح پرفیکٹ سا تیار بیڈ کی بیڈ شیٹ چینج کر کے نئی لگا چکا تھا۔۔۔۔ جی کہیے ۔۔۔ قندیل نے کمرے میں آتے ہی بیزاری سے کہا، کہیے نہیں کریے کتنا گند مچاتی ہو تم ، قندیل ایک دن میں میرا سارا روم بکھیر کر رکھ دیا ، چلو یہ ڈریسنگ ٹیبل پر سے اپنی جیولری ہٹاؤ اور وہاں واش روم سے اپنا لہنگا ، وہاں سے وہ دوپٹے اپنے اور یہ بیڈ کے نیچے سے سینڈلز شاید تم بھول رہی ہو یہ میرا روم ہے ۔۔۔۔۔ دریاب نے سب کام اپنے ہاتھ کے اشارے سے بتاتے ہوئے کہا قندیل واقعی صفائی کے معاملے میں تھوڑی سی سست تھی ۔۔۔۔ اچھا ایسی بات ہے یہ آپ کا کمرہ ہے ناں تو میں یہ اپنا سامان اٹھا کر اپنے کمرے میں چلی جاتی ہوں قندیل کو دریاب کا اپنا کمرہ کہنا ذرا بھی اچھا نہ لگا اس لیے بہانے ہی سے ہی سہی موقع ملتے ہی چھٹکارا پانے کا سوچ کر واش روم میں سے لہنگا نکال لائی اور وارڈوب میں سے باکس نکال کر جلدی جلدی جیولری رکھی اس میں ۔۔۔ ایک ہاتھ میں سب سامان پکڑنے کے بعد دوسرے ہاتھ میں سینڈل اٹھا کے مڑی ہی تھی کہ سامنے شبانہ بیگم کو دروازے پر کھڑا دیکھتے ہی قندیل کی ہوائیں اڑ گئی السلام علیکم امی آپ یہاں ۔۔۔۔۔ قندیل نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا ، شبانہ بیگم اپنی سمجھدا بیٹی کی اوٹ پٹانگ حرکتیں دیکھ کر دنگ رہ گئی ، السلام علیکم چاچی کیسی ہے آپ دریاب نے شبانہ بیگم سے سر جھکا کر سلام کیا اور خیریت پوچھی ۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام بیٹا الحمدللہ ٹھیک ، کیا ہو رہا ہے یہ سب ، شبانہ بیگم نے دریاب کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور حیرت سے دونوں کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔

 

چاچی دیکھے قندیل رات سے ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر مجھ پر غصہ کر رہی ہے اور بار بار کمرے سے باہر جانے کی دھمکی دے رہی ہے ، میں اسکو سمجھا رہا ہوں مگر یہ سمجھ ہی نہیں رہی آپ ہی دیکھے ۔۔۔۔۔۔ دریاب ساری بات قندیل پر ڈال کر خود معصوم بن گیا ، نہیں امی یہ جھوٹ بول رہے ہیں اپ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے بس ایک بار ہی کہا تھا۔۔۔۔۔ بس رہنے دو قندیل ، بات کو بڑھاؤ مت ، میں نے ابھی تمھیں خود دیکھا یہ کوئی کام ہے پہلی رات کی دلہن کے بجائے اپنا سامان سمیٹنے کے تم کمرہ ہی چھوڑ کر جا رہی ہو۔۔۔۔ اور تم نے ایک بار بھی کیوں کہا ۔۔۔۔۔۔ اور اب کوئی بحث نہیں فورا اپنا حلیہ بدلو اور نیچے اؤ سب چائے پر انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔ اور دریاب کی سب بات تمھیں ماننی ہے ٹھیک ہے ، شبانہ بیگم نے قندیل کی بات کاٹ کر غصے میں کہا اور نیچے چلی گئی قندیل کی انکھوں میں انسو آگئے ، یہ تو میرا پہلا وار تھا اب اگے دیکھو ہوتا ہے کیا دریاب نے قندیل کے پاس ا کر کان میں سرگوشی کی ویسے ایک بات اور اچھی ہوئی تم نے اپنا سامان جلدی جلدی باکس میں رکھ دیا لاؤ میں واڈروب میں سیٹنگ سے رکھ دیتا ہوں ائندہ کوئی چیز کمرے میں بکھری ہوئیی تو چاچی کو بول دوں گا ۔۔۔۔۔دریاب نے نے قندیل کے ہاتھ سے جیولری باکس کیا اور وارڈروب میں احتیاط سے رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔ قندیل کو ایک ہی جگہ پر کھڑا دیکھ دریاب نے وارڈروب سے بلو فراک اسکے سامنے کی ۔۔۔۔۔ جاؤ جلدی سے یہ پہن لو دیر ہو رہی ہے پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس نہیں تو میں اکیلا ہی چلا جاؤں گا۔۔۔۔۔ پھر چاچی سے نمٹنا تمہارا کام۔۔۔۔۔۔ دریاب نے فراک بیڈ پر رکھ کر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا ، قندیل نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کوئی اور بات شبانہ بیگم کو ناراض کرے اس لیے وہ فوراً ہینگر سمیت فراک لے کر باتھ روم میں گھس گئی تقریبا پانچ منٹ بعد باتھ روم سے آئی تو روم پورے طریقے سے صاف تھا دریاب وارڈروب میں سے خود کے لیے کپڑے نکال رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ماسی کہیں کا😏 ، قندیل نے دل میں سوچا ، میری تعریف بعد میں بھی ہو سکتی ہے ابھی اپنی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔ دریاب نے استری شدہ آسمانی کلر کی قمیض شلوار کو ہینگر سے نکالتے ہوئے کہا اور اس کے سامنے سے گزر کر باتھ روم میں بند ہو گیا۔۔۔۔ دریاب کے جاتے ہی قندیل

 

قندیل نے دل میں سوچا ، میری تعریف بعد میں بھی ہو سکتی ہے ابھی اپنی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔ دریاب نے استری شدہ آسمانی کلر کی قمیض شلوار کو ہینگر سے نکالتے ہوئے کہا اور اس کے سامنے سے گزر کر باتھ روم میں بند ہو گیا۔۔۔۔ دریاب کے جاتے ہی قندیل نے فٹافٹ ہاتھوں میں لوشن لگا کر گولڈن اور نیلے کلر کی چوڑیاں پہنی ، سامنے سے تھوڑے اٹھا کر بال ان کا اسٹائل بنایا ، لکویڈ بیس اپنے چہرے پر لگانے کے ہلکا سا بلش اور مسکارا لگایا اور لپ لوز لگا کر سنگھار میں سے اپنا سامان سمیٹنے لگی تاکہ دریاب دوبارہ اس کو باتیں نہ سنائیں۔۔۔۔۔ تب ہی دریا واش روم سے باہر آیا ، قندیل کی تیاری دیکھ کر حیران ہوا ، واہ یہ ہوئی نا بات ۔۔۔۔۔۔ اچھا وہ اپنی رنگ تو پہن لو سب پوچھیں گے منہ دکھائی کا ، دریاب نے خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے کہا اچھا جی ۔۔۔۔۔ اپنی عزت کا تو بڑا خیال ہے قندیل نے دل میں سوچا مجھے یاد نہیں آ رہی میں نے کہاں رکھ دی بعد میں دکھا دوں گی سب کو سب یہیں تو ہیں۔۔۔۔۔ قندیل نے بہانہ بناتے ہوئے کہا ، لگتا ہے دل نہیں بھرا تمہارا چاچی سے دوبارہ ڈانٹ کھانی ہے ، یہ تم واش روم میں ہی بھول ائی تھی رات کی ، ائندہ یہ مجھے یہاں وہاں نظر نا آئے دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھی پہناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ آیا بڑا میری فکر کرنے والا ایا بڑا قندیل نے انگوٹھی پہننے کے بعد اپنا ہاتھ دریا کی گرفت سے نکالتے ہوئے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *