ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 5 part (2)
اتنی بری لگ رہی ہوں تو پہلے بول دیتے آپ امی کو کہ مجھے پارلر نہیں بھیجے بلا فضول میں نے پارلر میں چھ گھنٹے اپنی کمر توڑی دلہن بننے میں ۔۔۔۔۔۔ اور اپ میرا مزاق پر مذاق بنائے جا رہے ہیں ، ائندہ کبھی تیار نہیں ہوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے ، قندیل کو تو جیسے رونے کا بہانہ مل گیا۔۔۔۔۔ اب اس میں رونے والی کیا بات ہے میں نے تو ایسے ہی کہا تھا کب سے تم نے یہ سب بھاری لہنگا جیولری پہنی ہوئی ہے تھک گئی ہوگی ، جاؤ چینج کر لو۔۔۔۔۔۔ اگر تمہیں بری لگی میری بات تو بھلے ایسے ہی سو جاؤں میں کچھ نہیں کہہ رہا ، روتے ہوئے وہ اور زیادہ پیاری لگ رہی تھی ، دریاب نے اپنے سر کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے قندیل سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ اب بات بدلے نہیں اپ نے مجھے ان ڈائریکٹلی ناگن بھی کہا ۔۔۔۔۔ اور اب کیسے جان چھڑا کر بھاگ رہے ہیں ، میں نے یہ سب آپ کے لیے پہنا تھا آپ کے لیے اتنا تیار ہوئی تھی ، مجھے نہیں پتا آپ یہ سب اتارنے میں میری ہیلپ کرے ۔۔۔۔ نہیں تو جا کر امی یا اجالہ یا درے کو بلا دے ، مجھ سے نہیں ہوگا سب ، قندیل کو دریاب کی بات بری لگی تھی۔۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا اج کیسے بھی دریاب
مجھے نہیں پتا آپ یہ سب اتارنے میں میری ہیلپ کرے ۔۔۔۔ نہیں تو جا کر امی یا اجالہ یا درے کو بلا دے ، مجھ سے نہیں ہوگا سب ، قندیل کو دریاب کی بات بری لگی تھی۔۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا اج کیسے بھی دریاب کو خود سے پہلے سونے نہیں دینا۔۔۔۔ یہ مجھ سے کیا بدلہ لے گا میں خود اس کے ہوش ٹھکانے لگاتی ہوں آیا بڑا۔۔۔۔ قندیل نے دل میں سوچتے ہوئے پلان بنایا اور معصوم بن کر روتے ہوئے دریاب سے اجالا کو بلانے کا کہتی ، پاگل ہو کیا قندیل اچھا نہیں لگتا کسی کو روم میں بلانا تم کرلو خود ، آہستہ آہستہ دریاب نے قندیل کو گھورتے ہوئے کہا ، مجھے نہیں پتہ ۔۔۔ یا کسی کو بلائے یا آپ کرے مدد
قندیل رونی صورت بناتی ہوئی جا کر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس موجود کرسی پر بیٹھ گئی ، اسے پتہ تھا وہ کسی کو بھی نہیں بلانے جائے گا ، اب مجبوراً وہ خود آئیگا نا چاہتے ہوئے بھی
۔۔۔۔۔ کیا کروں بتاؤ مجھے ،،، دریاب نے قندیل کے پاس آتے ہوئے کہا ، یہ دوپٹہ پہلے ان پن کروائے
قندیل نے اپنی آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ کیسے کرو ، دریاب جھنجھلایا یہ پن لگی ہوئی نا انکو نکالے ۔۔۔ مجھے تو نظر نہیں آ رہا اپ کو تو دکھ رہا ہوگا، میں نے کہا تھا آپ سے نہیں ہوگا درے آپی کو ہی بلادے ، قندیل نے جھنجھلاتے ہوئے ہاتھ باندھے کھڑے دریاب کو دیکھتے ہوئے کہا ، ایسا کونسا کام ہے جو فوجی نہیں کر سکتے
میں تو ایسے ہی بول رہا تھا دریاب نے بات بنائی اور قندیل کے کامدار لال دوپٹے کی پنیں دیکھ کر ان کو اتارنے لگا ۔۔۔۔۔ تقریباً آدھا گھنٹے بعد دوپٹہ اتار کر دریاب نے ایک طرف رکھا، اب تو خود کرلو گی ناں سوجاؤ میں دریاب نے اسکے بنا دوپٹے کے وجود سے نظریں چراتے ہوئے کہا، ن ۔۔۔ نہیں ، ابھی یہ جیولری میں بھی کرے مدد مجھ سے نہیں اترے گے یہ سب ، میں پہلے ہی بہت تھک گئی ہوں ہاتھ بھی دکھ رہے ہیں ایسے کر کر کے
قندیل رونی سی صورت بنا کر
اپنے ہاتھوں کے بھاری بھاری کنگن اور چوڑیاں دکھانے کے ساتھ ساتھ دریاب کو اپنے ہاتھ بھی رکھ کر دیکھانے لگی ۔۔۔۔۔
دریاب کو اس کی صورت پر ترس آیا ، اور اسکے ہاتھ پکڑ کر ڈریسنگ ٹیبل پر اسکے سامنے بیٹھ کر اسکی چوڑیاں آرام آرام سے اتارنے لگا، تین تین کرکے اس نے قندیل کی دونوں ہاتھوں کی چوڑیاں اتار دی تھی ، اسکے نرم لمس سے قندیل کا دل اور تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ نظریں نیچی کیے اپنی دھڑکنوں کو کنٹرول کر رہی تھی تاکہ دریاب نا سن لے۔۔۔ یہ بھی اتارے پتہ نہیں کہاں سے لگا ہوا ہے قندیل نے مانگ ٹیکے کو پکڑ کر کہا ، جیسے ہی دریاب نے ہاتھ چھوڑا قندیل نیا کام ڈھونڈ کے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ دریاب ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھ کر پھر اس کے پیچھے کھڑا ہو کر مانگ ٹیکے کو دیکھ کر پنوں سے آذاد کرنے لگا۔۔۔۔ ان دونوں کا عکس شیشے کی نمایاں ہو رہا تھا ۔۔۔ جہاں دونوں کی ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی حرکت پر بھی نظر تھی ، دریاب کو مسلسل ٹیکے سے الجھا دیکھ قندیل کو ہنسی آگئی ۔۔۔ جو دریاب سے چھپی نا رہی
کیا ہے ، زیادہ ہنسی آ رہی ۔۔ مجھے کونسا یہ سب کام آتے اتنی مدد کردی ہے اب خود دیکھو ، دریاب نے مانگ ٹیکا نکال کر ٹیبل پر رکھا اور اپنا بیڈ کی جانب رخ کیا ۔۔۔۔۔۔۔ دریاب پلیز اور تھوڑی مدد کردو قندیل اب کھل کر ہنس رہی تھی
۔۔۔۔۔ دریاب سمجھ گیا تھا قندیل نے اس سے مذاق کیا۔۔۔۔ اوہ ، اب کیا کپڑے چینج کرنے میں چاہئیے مدد ۔۔۔۔ تم چلو واشروم میں آتا ہوں ابھی
دریاب نے قندیل کو دیکھتے ہوئے بے باکی سے کہا اور بیڈ پر گرنے کے انداز سے لیٹ گیا۔۔۔۔۔ استغفر اللہ ۔۔۔ بدتمیز قندیل نے شرم سے سرخ ہوتے ہوئے کہا اور بنا دریاب کی طرف دیکھے خود کو جیولری سے آذاد کرنے لگی ، مجھے اب نیند ارہی ہے اور بھاگنے کا تو دوبارہ سوچنا بھی مت مسز آئی سمجھ ۔۔۔۔۔دریاب نے گہری نیند میں جاتے ہوئے قندیل کو وارننگ دی اور تکیے کو باہوں میں لپیٹے سوگیا۔۔۔۔۔
قندیل ایک باہمت لڑکی تھی اس لیے اس نے موقعے کی نزاکت کو سمجھا اور خود کو سنبھالا اس عزم کے ساتھ کہ اس نے دریاب کے ساتھ ایسا کیا کیا ہے جو وہ اسے بدلہ لینا چاہتا ہے اور اس نے بدلہ لینے کے لیے نکاح کا راستہ اختیار کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے ساری جیولری اتارنے کے بعد ڈریسنگ ٹیبل کے ائینے میں خود کو دیکھتے ہوئے سوچا۔۔۔۔ اور فریش ہونے باتھ روم میں چلی گئی۔۔۔۔ فریش ہو کر باہر ائی تو سوا بارہ کا ٹائم ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ قندیل نے ٹائم دیکھ کر وضو کیا اور عشاء کی نماز ادا کی نماز پڑھنے کے بعد تھکن سے اس کی بھی انکھیں بند ہو رہی تھی۔۔۔۔ بد تمیز کہیں کا پورے بیڈ پر مزے سے اکیلا سو رہا ہے کہاں سووْ۔۔۔ ایسا کرتی ہوں کمبل لے کے نیچے سو جاتی ہوں قندیل نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا ، قندیل نے بیڈ پر سے کمبل اور ایک تکیا اٹھایا اور کالین پر رکھا اور سارے روم کی لائٹ آف کر کے سونے لیٹ گئی۔۔۔۔ بیڈ کے اوپر لگی لائٹس کو آف کرنے کا کوئی سسٹم نہیں تھا وہ مسلسل آن تھی کمرے میں جسکی وجہ سے دھیمی دھیمی روشنی تھی ، لائٹس کو دیکھ کرقندیل کو دریاب پر پیار آیا
کہ وہ اگر اس سے بدلہ لینا چاہتا تو اسکی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال نا کرتا۔۔۔۔۔ وہ اپنے اور دریاب کی کچھ دیر پہلے کی تمام باتیں سوچ رہی تھی۔۔۔۔ سوچتے سوچتے اسے کب نیند آگئی پھر اس کی انکھ صبح فجر کی اذان پر ہی کھلی ، انکھ کھلتے ہی قندیل نے کمرے کی لائٹ آن کی اور واش روم میں گھس گئی فریش ہونے ۔۔۔۔ تبھی دریاب کے موبائل کا الارم بجا ، الارم بجتے ہی دریاب فوراً اٹھا۔۔۔۔ یہ قندیل کہاں ہے ، بڑی ضدی ہے کہیں اپنے روم میں تو نہیں چلی گئی ، دریاب کو اٹھتے ہی پہلا خیال قندیل کا آیا۔۔۔۔۔ دریاب نے خالی کمرے میں نظریں دوڑائی لیکن دروازہ تو اندر سے لاک تھا جیسے کہ وہ کر کے سویا تھا اخر یہ سوئی کہاں تھی ، کیوں کہ رات کو تو وہ جان بوجھ کر
سارے بیڈ پر سویا تھا اسے تنگ کرنے کے لیے ۔۔۔۔ تاکہ جب وہ اسے اٹھائے تو وہ اس سے دوبارہ لڑسکے
، دریاب نے بیڈ سے اترتے ہوئے سوچا ۔۔۔۔ پھر اسکی نظریں کم
وہ جان بوجھ کر سارے بیڈ پر سویا تھا اسے تنگ کرنے کے لیے ۔۔۔۔ تاکہ جب وہ اسے اٹھائے تو وہ اس سے دوبارہ لڑسکے
، دریاب نے بیڈ سے اترتے ہوئے سوچا ۔۔۔۔ پھر اسکی نظریں کمبل اور تکیے پر گئی جو بیڈ کے تھوڑا پاس ہی قالین پر تھا ، اوہ تو مسز یہاں سوئی تھی ۔۔۔۔۔ دریاب نے تکیہ اور کمبل اٹھا کر بیڈ پر رکھا ، قندیل جلدی باہر آؤ مجھے دیر ہوجانی جماعت کے لیے ، دریاب نے باتھروم کا دروازہ ناک کیا ۔۔۔۔ دو منٹ بعد ہی باتھروم کا دروازہ کھلا قندیل دوپٹہ نماز کی طرف باندھے ہوئے باہر آئی اور بنا دریاب کی طرف دیکھے جائے نماز نکال کر نماز پڑھنے لگی۔۔۔۔۔ دریاب بھی فریش ہوکر نماز پڑھنے مسجد چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے وہ بچپن کے دن اب بھی اچھے سے یاد تھے گھر کے سب بچے ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش رہا کرتے تھے گھر کے سب بچوں میں وہ سب سے بڑا تھا سب اس کو ویر کہہ کر بلایا کرتے تھے پیار سے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد حیدر چاچو کے دو جڑواں بچے تھے در ثمین اور دریاب شاویر کو خاندان کا بڑا پوتا اور در ثمین کو خاندان کی بڑی پوتی ہونے کا درجہ حاصل تھا اور پھر سب سے چھوٹے مظفر چاچا کی اجالا یہ تینوں ایک دوسرے سے آٹھ آٹھ مہینے چھوٹے تھے اجالہ کے ایک سال بعد قندیل پھر بابر کی آمد نے گھر میں خوشیاں بکھیر دی بابر کے دو سال کا تھا شبانہ چاچی کی صبا اور میری امی کے فائز نے ہمیں اور بڑا بنا دیا۔۔۔۔۔ چاچو حیدر کو چھوٹی سی زہین قندیل بہت اچھی لگتی تھی ، جبکہ راحیلہ چاچی مجھے شروع سے اپنا بڑا بیٹا کہا کرتی تھی سب کچھ اچھے سے جا رہا تھا چاچو حیدر فوج میں تھے اور چاہتے تھے کہ دریاب بھی فوج میں ہی جائے بڑا ہو کر ۔۔۔۔۔۔ ملک کا نام روشن کرے ، ہم سب بڑے ہو رہے تھے اسکول جانے لگے تھے دریاب شروع سے ہی شرارتی تھا دریاب اور در ثمین مجھ سے ایک کلاس پیچھے پڑھتے تھے میں جب فائیو سٹینڈرڈ میں تھا چاچو چاچی کا انتقال ہو گیا مجھے اس کا مطلب پتہ نہیں تھا لیکن جب چاچو چاچی کے چلے جانے کے بعد میری امی مجھے چھوڑ کے انہیں سنبھالتی تھی تو مجھے اکیلا پن محسوس ہوتا شاید میں اس وقت نو یا دس سال کا تھا دریاب شرارتی تھا اس لیے کھیل کود میں بھول جاتا تھا کہ اس کے مما پاپا ہے کہاں۔۔۔۔
لیکن در ثمین بہت حساس تھی اسے ہر چھوٹی بات پر چاچو چاچی یاد آتے تھے ، ان دنوں شبانہ چاچی اپنے میکے گئی ہوئی تھی جسکی وجہ سے در ثمین میری امی کے اور قریب ہوگئی ۔۔۔جب در ثمین کو چاچا چاچی یاد آتے تھے تو وہ اکیلے میں کہیں بھی رونا شروع کر دیتی اور تب تب امی ہم تینوں بھائیوں کو چھوڑ کر اسے چپ کرواتی تھی بہلاتی تھی اور ایسا پھر ہر بار ہونے لگا۔۔۔۔۔ امی ہم سے زیادہ اسے اہمیت دیتی بات بات پر ، شاید بابر اور فائز یہ بات نوٹ کرنے جیسے نہ ہوں لیکن در ثمین کی طرف سے ملی گئی ہر تکلیف میرے لیے محاذ بنتی چلی گئی ۔۔۔۔۔ اور پھر شبانہ چاچی کے آنے کے بعد بھی وہ نہ جانے کیوں میری امی سے لپٹی رہتی تھی اور پھر یوں میں آہستہ آہستہ بڑے ہونے کے ساتھ امی سے دور ہوتا چلا گیا اور پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔ کب بی جان کے قریب ہوگیا ، اور ان کا لاڈلہ پوتا بن گیا ۔۔۔۔۔ انٹر کرنے کے بعد میں آگے اعلی تعلیم کے لیے باہر ملک جانا چاہتا تھا تاکہ وہاں سے مزید تعلیم حاصل کر کے اپنے دادا جہانگیر شاہ کے بزنس کو ایک نیا مقام دے سکوں لیکن اس سے پہلے میں اپنے دل میں بچپن سے جلتی ہوئی آگ کا بدلہ لینا چاہتا تھا اور پھر مجھے وہ راستہ نظر ایا جس میں سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔۔۔۔ ۔ السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے کچن میں چائے بناتی ہوئی در ثمین کو مسکرا کر کہا اور پیار سے اسکے گلے لگی ، وعلیکم السلام قندیل بھابھی جی صبح صبح کچن میں تھوڑا دلہناپے کا لحاظ تو کیا ہوتا۔۔۔۔ مطلب صبح صبح کچن میں ، در ثمین نے قندیل کو پیار سے کہا وہ عادت ہے نا۔۔۔۔ آپی اس لیے کمرے میں رہا ہی نہیں گیا قندیل مسکرائی۔۔۔۔ چائے تو بن گئی ہیں ایسا کرتی ہوں اٹا گوندھ دیتی ہوں پھر سات بجے ناشتہ بنا لوں گی در ثمین نے چائے کا تھرماس چائے سے بھر کر ایک سائڈ پر احتیاط سے رکھ کر خشک آٹا تھال میں نکالنے لگی ۔۔۔۔۔۔ آپی میں
آلو چڑھا دیتی ہوں ابلنے کے لیے آج ناشتے میں آلو کے لئے پراٹھے بنا لیں گے قندیل کو خالی کھڑا ہونا اچھا نہیں لگا اس لیے ساس بین لے کر سنک میں سے پانی بھرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔