Episode 5 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 5 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 5 part (1)

دریاب نے اپنے دونوں ہاتھوں سے قندیل کا گھونگھٹ اٹھایا۔۔۔۔۔ تو ایک پل کے لئے دریاب کو یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہ وہی سانولی سی قندیل ہے۔۔۔۔۔ پارلر کا میک اپ یا پانچ چھ دن گھونگھٹ میں رہنے سے قندیل کے چہرے پر جو نور آیا تھا ۔۔۔۔ جو اسکا چہرہ دمک رہا تھا ۔۔۔ لگ رہا تھا کہیں کی شہزادی بیٹھی ہو دلہن کے لباس میں۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ بے اختیار دریاب کے لبوں سے ادا ہوا ، جو قندیل نے بھی باخوبی سنا۔۔۔۔۔ قندیل کا چہرہ شرم سے جھک گیا ، بیوٹی فل بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کی چہرہ دو انگلیوں کی مدد سے اٹھا کر کہا۔۔۔ اور بے اختیاری میں تھوڑا سا جھک کر اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر اسے معتبر کرگیا۔۔۔۔۔۔ قندیل کا دل زور زور سے دھڑکتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔ ہاں اجالا تمھاری بات سچی نکلی ، میں قندیل شاہ دریاب شاہ کی پسند ہوں ، آج اسکا پہلا ہی لمس اس کو سب میں خاص اور معتبر کر گیا تھا۔۔۔۔ دریاب کے اس عمل سے قندیل میں سکون اترا تھا جو دریاب نے بھی محسوس کیا ۔۔۔ اسکے دل کو ڈھارس ہوئی تھی وہ جو ڈر رہی تھی کب سے ۔۔۔ یہ تمھاری منہ دکھائی ہے ۔۔۔ دریاب نے مخملی کیس میں سے ہیرے کی انگوٹھی قندیل کے مہندی بھرے ہاتھوں کی انگلی میں پہناتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور قندیل کے دونوں ہاتھ پکڑ کر باری باری ان پر اپنے لب رکھ گیا۔۔۔۔۔

 

  ٹھیک یو سو مچ قندیل میری زندگی میں آنے کے لئے ۔۔۔۔ میری لائف پارٹنر ۔۔۔ میرا سکون بننے کے لیے دریاب بہت آہستہ آواز میں بات کررہا تھا ۔۔۔۔ قندیل شرم سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔۔۔ میری طرف دیکھو قندیل ، تمھیں کیا لگتا میں نے تم سے شادی کیوں کی ۔۔۔ مطلب کیا وجہ ہونی ۔۔۔۔ دریاب نے سوال کیا۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔م ۔۔۔۔۔ مجھے پسند کرتے ہیں سب یہی کہتے ہیں….ج۔۔۔۔ جب ہی تو آپ نے میرے ابو سے بات کی ہماری شادی کی۔۔۔۔۔ قندیل نے ہمت کر کے اپنی بات مکمل کی۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ دریاب ہنسا تھا ، قندیل کو حیرت ہوئی ۔۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔ میں تو تم سے شدید نفرت کرتا ہوں ۔۔۔یہ شادی تو محض ایک راستہ ہے تم سے بدلہ لینے کے لیے دریاب نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔۔ قندیل کے سر پر تو جیسے آسمان گر گیا ہو، آپ مذاق کر رہے ہیں نا دریاب پلیز ، یہ مذاق کا وقت نہیں ۔۔۔۔۔ ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ تو اسے چاہنے لگی تھی ، یا شاید وہ تھا ہی اتنا خوبصورت کہ کسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتا ہے۔۔۔۔ کوئی بھی لڑکی اسے اپنے دل میں بسا لیتی قندیل بے یقینی سے دریاب کو دیکھ رکھ تھی ۔۔۔۔۔ مذاق ۔۔۔۔ مذاق نہیں یہ سچ ہے ۔۔۔۔۔ بہت برداشت کیا میں نے قندیل اب تمھاری باری ہے۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کا بازو اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے کہا ، اتنا بڑا دھوکا ۔۔۔۔ دریاب آپ نے ہمیں دیا ، مجھے لگ ہی رہا تھا آپ کیوں کرے گے مجھ سے شادی 🥺 لیکن میں بھی گھر والوں کی باتوں میں اگئی ۔۔۔۔۔ قندیل کی آنکھیں پانی سے بھر گئی ، ان سب میں میرا کیا قصور ، میں نے کیا بگاڑا آپکا ۔۔۔۔ قندیل دریاب کی گرفت سے اپنا بازو چھڑانے لگی ، اتنی معصوم نہیں بنو قندیل تمہیں نہیں پتہ تم نے کیا کیا تم نے مجھ سے میرا بچپنا چھینا میری شرارتے چھینی مجھے میرے اپنے سے دور کر دیا ماں باپ تو میرے پہلے ہی نہیں تھے اور جو باقی سب رشتے تھے تم نے مجھے ان کی نظروں میں گرا دیا اور مجھے ان سے دور کر دیا ۔۔۔۔۔ یہ سب کم ہے کیا ۔۔۔۔دریاب نے قندیل کا بازو چھوڑ کر اسکا منہ دبوچ کر کہا ۔۔۔

 

اس دوران قندیل نے دریاب کی شفاف آنکھوں میں نمی دیکھی۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔ قندیل نے اپنے ذہن کے پر زور ڈالا لیکن ماضی میں اسے اپنا کوئی غلطی یا قصور نظر ہی نہیں آیا کیونکہ اس نے تو ہمیشہ صحیح اور سچ کا ساتھ دیا لیکن پھر ایسی کون سی بات ہے جو دریاب اتنا ہرٹ ہوا اس کی وجہ سے ۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے ہاتھ ہٹائے ، قندیل نے روتے ہوئے دریاب کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ اوہ رئیلی ۔۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں پوری زندگی پڑی ہے ۔۔۔۔ تو میری دی گئی تمام اذیتیں تمھیں سہنی پڑے گی تو تمھیں سب یاد آ جائے گا ، جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے مسز قندیل دریاب شاہ ۔۔۔۔ دریاب نے غراتے ہوئے کہا اور قندیل کا منہ جھٹکے سے چھوڑ دیا ، کون سی اذیت کونسا بدلہ ۔۔۔۔ مجھے آپکے ساتھ رہنا ہی نہیں ہے ، میں جارہی ہوں اپنے کمرے میں ۔۔۔۔ قندیل اپنے انسو صاف کرتی ہوئی فوراً بیڈ سے اپنا بھاری لہنگا سنبھالتی ہوئی بے دردی سے پھولوں کی راہ داری پر چلتی دروازے کی طرف بڑھی ۔۔۔۔

 

  دریاب ایک ہی جست میں اس تک پہنچتا اس کے اور دروازے کے درمیان حائل ہو گیا , اس ایک لمحے میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہوگئے تھے ۔۔۔ ہٹیں آپ میرے راستے سے ۔۔۔۔ قندیل نے جھجھکتے ہوئے دو قدم پیچھے لیکر کہا۔۔۔۔ واپس جاؤ جا کر بیڈ پر بیٹھو۔۔۔۔ نہیں تو مجھ سے برا کوئی ہوگا نہیں ، اور اس کمرے میں سے باہر نکلنے کی سوچنا بھی مت ورنہ اج ہی رات میں سارے حساب کتاب کردوگا ۔۔۔۔ جو میں نے آہستہ آہستہ کرنے کے سوچے تھے ، دریاب نے قندیل کو ہاتھ پکڑ کر قریب کرتے ہوئے اسے معنی خیز نظروں سے اس کا سر تا پا جائزہ لیتے ہوئے کہا ، جائے جا کر کسی اور کو ڈرائے میں نہیں ڈرتی آپ سے ۔۔۔ میرا ہاتھ چھوڑیں ۔۔۔۔۔اور ویسے بھی آپ سے برا ہے بھی نہیں کوئ ۔۔۔۔۔ ہٹیں آپ دروازے سے ، پہلے تو اسکی باتیں اور اسکی نظریں دیکھ کر وہ شرم سے لرزی ۔۔۔ پھر خود کو سنبھالتے ہوئے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے دریاب سے نظریں ملاتے ہوئے اسکا جواب دیتی ۔۔۔ ہاہاہاہاہا ، کیا کہا نہیں لگتا ڈر ، دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے ایک پل کے لئے خود سے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے دریاب جاہل کہیں کے ، قندیل ن

 

ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ دریاب ہنسا تھا ، قندیل کو حیرت ہوئی ۔۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔ میں تو تم سے شدید نفرت کرتا ہوں ۔۔۔یہ شادی تو محض ایک راستہ ہے تم سے بدلہ لینے کے لیے دریاب نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔۔ قندیل کے سر پر تو جیسے آسمان گر گیا ہو، آپ مذاق کر رہے ہیں نا دریاب پلیز ، یہ مذاق کا وقت نہیں ۔۔۔۔۔ ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ تو اسے چاہنے لگی تھی ، یا شاید وہ تھا ہی اتنا خوبصورت کہ کسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتا ہے۔۔۔۔ کوئی بھی لڑکی اسے اپنے دل میں بسا لیتی قندیل بے یقینی سے دریاب کو دیکھ رکھ تھی ۔۔۔۔۔ مذاق ۔۔۔۔ مذاق نہیں یہ سچ ہے ۔۔۔۔۔ بہت برداشت کیا میں نے قندیل اب تمھاری باری ہے۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کا بازو اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے کہا ، اتنا بڑا دھوکا ۔۔۔۔ دریاب آپ نے ہمیں دیا ، مجھے لگ ہی رہا تھا آپ کیوں کرے گے مجھ سے شادی 🥺 لیکن میں بھی گھر والوں کی باتوں میں اگئی ۔۔۔۔۔ قندیل کی آنکھیں پانی سے بھر گئی ، ان سب میں میرا کیا قصور ، میں نے کیا بگاڑا آپکا ۔۔۔۔ قندیل دریاب کی گرفت سے اپنا بازو چھڑانے لگی ، اتنی معصوم نہیں بنو قندیل تمہیں نہیں پتہ تم نے کیا کیا تم نے مجھ سے میرا بچپنا چھینا میری شرارتے چھینی مجھے میرے اپنے سے دور کر دیا ماں باپ تو میرے پہلے ہی نہیں تھے اور جو باقی سب رشتے تھے تم نے مجھے ان کی نظروں میں گرا دیا اور مجھے ان سے دور کر دیا ۔۔۔۔۔ یہ سب کم ہے کیا ۔۔۔۔دریاب نے قندیل کا بازو چھوڑ کر اسکا منہ دبوچ کر کہا ۔۔۔ اس دوران قندیل نے دریاب کی شفاف آنکھوں میں نمی دیکھی۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔ قندیل نے اپنے ذہن کے پر زور ڈالا لیکن ماضی میں اسے اپنا کوئی غلطی یا قصور نظر ہی نہیں آیا کیونکہ اس نے تو ہمیشہ صحیح اور سچ کا ساتھ دیا لیکن پھر ایسی کون سی بات ہے جو دریاب اتنا ہرٹ ہوا اس کی وجہ سے ۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے ہاتھ ہٹائے ، قندیل نے روتے ہوئے دریاب کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ اوہ رئیلی ۔۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں پوری زندگی پڑی ہے ۔۔۔۔ تو میری دی گئی تمام اذیتیں تمھیں سہنی پڑے گی تو تمھیں سب یاد آ جائے گا ، جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے مسز قندیل دریاب شاہ ۔۔۔۔ دریاب نے غراتے ہوئے کہا اور قندیل کا منہ جھٹکے سے چھوڑ دیا ، کون سی اذیت کونسا بدلہ ۔۔۔۔ مجھے آپکے ساتھ رہنا ہی نہیں ہے ، میں جارہی ہوں اپنے کمرے میں ۔۔۔۔ قندیل اپنے انسو صاف کرتی ہوئی فوراً بیڈ سے اپنا بھاری لہنگا سنبھالتی ہوئی بے دردی سے پھولوں کی راہ داری پر چلتی دروازے کی طرف بڑھی ۔۔۔۔

 

  دریاب ایک ہی جست میں اس تک پہنچتا اس کے اور دروازے کے درمیان حائل ہو گیا , اس ایک لمحے میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہوگئے تھے ۔۔۔ ہٹیں آپ میرے راستے سے ۔۔۔۔ قندیل نے جھجھکتے ہوئے دو قدم پیچھے لیکر کہا۔۔۔۔ واپس جاؤ جا کر بیڈ پر بیٹھو۔۔۔۔ نہیں تو مجھ سے برا کوئی ہوگا نہیں ، اور اس کمرے میں سے باہر نکلنے کی سوچنا بھی مت ورنہ اج ہی رات میں سارے حساب کتاب کردوگا ۔۔۔۔ جو میں نے آہستہ آہستہ کرنے کے سوچے تھے ، دریاب نے قندیل کو ہاتھ پکڑ کر قریب کرتے ہوئے اسے معنی خیز نظروں سے اس کا سر تا پا جائزہ لیتے ہوئے کہا ، جائے جا کر کسی اور کو ڈرائے میں نہیں ڈرتی آپ سے ۔۔۔ میرا ہاتھ چھوڑیں ۔۔۔۔۔اور ویسے بھی آپ سے برا ہے بھی نہیں کوئ ۔۔۔۔۔ ہٹیں آپ دروازے سے ، پہلے تو اسکی باتیں اور اسکی نظریں دیکھ کر وہ شرم سے لرزی ۔۔۔ پھر خود کو سنبھالتے ہوئے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے دریاب سے نظریں ملاتے ہوئے اسکا جواب دیتی ۔۔۔ ہاہاہاہاہا ، کیا کہا نہیں لگتا ڈر ، دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے ایک پل کے لئے خود سے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے دریاب جاہل کہیں کے ، قندیل نے فوراً دور ہوتے ہوئے کہا ، دور کیوں جارہی ہوں ۔۔۔۔ پاس آؤ ناں تم تو ڈرتی نہیں ہو قندیل دریاب شاہ 😏 اور مسز میں جاہل ہو تو نہیں لیکن تمہاری حرکتیں مجھے بننے پر مجبور کر رہی ہے اس لیے سیدھی شرافت سے وہاں جا کر بیٹھو۔۔۔۔۔۔ ورنہ فوجی بندے سے پنگا لینے کا نتیجہ بہت برا ہوگا تمھارے لیے دریاب نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ میں بہت تھک گیا ہوں ، مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔۔۔ اور بھاگنے کا تو دوبارہ سوچنا بھی مت مسز ۔۔۔۔۔ اور کیا تم نے ایسے سونا جاؤ جا کر چینج کرو ، اور اپنے اصلی روپ میں آؤ۔۔۔۔ دریاب نے ہنسی کو روکتے ہوئے قندیل کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اصل میں تو اس سے خود قندیل کا یہ دلہناپے کا روپ برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ جب جب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اپنے مقصد کو بھول رہا تھا ۔۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ قندیل اس کی آنکھوں میں اپنے لئے چاہت پڑھ لے۔۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *