Episode 4 🗣️ میجک وائس

Episode 4 🗣️ میجک وائس

🗣️ میجک وائس

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 4

last Episode

 

ابھی وہ چینج کر کے ہی بیٹھی تھی کہ موبائل بجنے لگا۔۔۔اسکرین پر وہی ان نون نمبر تھا۔۔۔عالیہ نے کال ریجیکٹ کر دی۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بشر کے بارے میں سوچے یا اس رونگ کال کرنے والے کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔وہ تنگ آ چکی تھی ان دو دنوں میں اس کال کرنے والے سے۔۔۔۔۔۔اج تو اس رونگ نمبر والے شخص کی ہمت بھی اس نے دیکھ لی تھی۔۔۔۔ کیسے وہ سںب کے ہوتے اس کے قریب ایا ،اور اسکی اواز، عالیہ اس بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی😐 مگر بشر بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا اسے بار بار کال کیے جا رہا تھا۔۔۔تو تھک ہار کر عالیہ نے کال ریسیو کر ہی لی۔۔۔۔۔مسئلہ کیا ہے آپ کا کیوں بار بار کال کر رہے ہو۔۔۔۔۔آپ کو کیا چاہیے مجھ سے۔۔۔۔۔عالیہ نے تپ کر کہا۔۔۔۔۔ میں بس آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔بشر نے نرم لہجہ اختیار کیا۔۔۔۔ مگر کیوں۔۔۔۔عالیہ حیران تھی۔۔۔یہ بات تو میں آپ کو جب بتاؤں گا جب آپ اپنی آواز میں بات کریں گی۔۔۔بشر نے کہہ کر کاٹ دی۔۔۔   عالیہ کو تجسس تھا سوچتے سوچتے رات ہوگئی تھی کہ بات کرو یا نا کرو ،اس شخص کو جاننے کے لیے۔۔۔اس لیے اس نے میجک ساؤنڈ آف کرکے کال کی۔۔۔فرمائیے کال یس ہوتے ہی عالیہ نے کہا۔۔۔دراصل عالیہ میں نے آپ سے ایک چھوٹا سا مذاق کیا تھا جو سب کچھ آج صبح کال پر حال میں ہوا تھا۔۔۔مجھے لگا آپ بہت بہادر ہیں۔۔۔کون ہو آپ۔۔۔عالیہ نے بات کاٹی۔۔۔میں۔۔۔میں بشر خان ہوں۔۔۔دراصل یہ نمبر پہلے عالی یوز کرتا تھا تو میرے پاس سیو تھا۔۔۔تو اگر آپ کو برا لگا ہو تو آئی ایم سوری۔۔۔رئیلی۔۔۔رئیلی۔۔۔اگر آپ کہیں گی تو اٹھک بیٹھک بھی کرلونگا۔۔۔بشر نے شرمندہ لہجے میں کہا تو عالیہ کی ہنسی چھوٹ گئی جو کہ بشر کو زہر لگی۔۔۔اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔میں نے آپ کو معاف کیا۔۔۔عالیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ مگر میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ عالیہ حبیب بشر نے دل میں سوچا تھینکس اوکے گڈ نائٹ بشر نے کہا تو عالیہ نے بھی مسکرا کر گڈ نائٹ ٹو کہہ کر کاٹ دی بشر کو اب عالیہ پر اپنی محبت کا جادو چلانا تھا۔۔۔عالیہ حیران تھی یہ سوچ کر کہ بشر اسے تنگ کر رہا تھا ان دو دنوں میں اس نے اس کا کتنا خون جلایا تھا وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی مگر دوسری طرف اسی خوش بھی تھی کہ کہیں نہ کہیں بشر نہ خود پہل کر دی اور تنگ کرنے کے بہانے سے ہی سہی اس کا نمبر آٹومییٹکلی عالیہ کے موبائل میں آ گیا تھا آج عالیہ کو سکون کی نیند آنے والی تھی وہ بھی بشر کے خوابوں کے ساتھ۔۔۔۔

 

آج عالیان کی ولیمہ سرمنی تھی بشر کا سوچ کر وہ اج پارلر سے تیار ہوئی تھی بلیک شورٹ فراک میں سوفٹ میک اپ کیساتھ کھلے بالوں میں قیامت لگ رہی تھی، ایک نظر میں تو کوئی بھی اسے پہچان نا سکا تھا۔۔۔۔ یہاں تک کہ بشر بھی 😜 شاید ہی اس نے کوئی اتنی حسین لڑکی اج تک دیکھی ہو۔۔۔۔ ایک پل کے لئے تو بشر بھی اسکے کارنامے بھول کر اس کے حسن میں کھو گیا تھا۔۔۔۔ لیکن جلد ہی اس نے خود پر قابو کیا، عالیہ کے پاس آج آخری دن تھا بشر کو جی بھر کے دیکھنے کا اور وہ با خوبی اس پر عمل کر بھی رہی تھی۔۔۔ ایک دو بار بار بشر نے دور سے ہی اشارے سے پوچھا بھی مگر وہ شرما کر نظریں جھکا گی۔۔۔۔ ہال میں سب آئے لوگوں کی نظریں دولہا دلہن پر تھی سوائے عالیہ کے وہ سب سے خود کو بچا کر کر بشر کو اپنی آنکھوں میں اتار رہی تھی بشر کو اپنا جادو عالیہ پر چلتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ جان بوجھ کر اس کے ارد گرد کھوم ریا تھا تاکہ عالیہ اس کے سحر سے نکل نا سکے ،عالیان کے گھر والوں سے بشر کی کافی اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے بشر اور کھل کر سب سے پیش ارہا تھا۔۔۔۔ولیمے کے اختتام ہوتے ہی بشر نے اپنے گھر کی راہ لی ،جو کہ عالیہ ناگوار گزری 🙂 اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کی کوئی قیمتی شے اس سے کھو گئی بشر کے جانے کے بعد اس نے وہ لمحے کیسے کاٹے یہ اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا ،اج اسے اچھے سے پیار کرنے والوں کی بے چینی کا احساس ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔   بشر کو نوابشاہ سے آئے ہوئے دو دن ہو چکے تھے وہاں عالیہ کے از خود کال کرنے کے انتظار میں تھا آخرکار اس کی مراد بر آئی اور عالیہ نے اسے کال کی پہلے دو بار بشر نے اگنور کی تیسری بار کال کو یس کر کے موبائل کان پر لگا لیا۔۔ آپ تو ہمیں بھول ہی گئے😔۔۔عالیہ نے فورا شکوہ کیا یار آپ بھی کوئی بھولنے والی چیز ہے بشر نے دانت پیس کر کہا۔۔۔۔ آپ کیسے ہیں۔۔۔۔۔۔بشر کے منہ سے ایسے القابات سن کر عالیہ کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا۔۔۔۔۔ الحمدللہ میں ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ کیسی ہیں بشر نے پوچھا جی میں بھی ٹھیک ہوں اپ ڈے بات ہوگئی اب تو ایک دم فٹ عالیہ مسکرائی۔۔۔۔ آہاں۔۔۔۔۔۔۔

 

پہلے ٹھیک نہیں تھی کیا، بشر نے اسکی حالت پر مزا لیا، ن۔۔۔ نہیں مطلب ٹھیک ہی ہوں ایک دم فٹ ،عالیہ نے بات بنائی ویسے ایک بات پوچھوں میں تم سے بات کر رہا ہوں کیا تم اب بھی اپنے بھائیوں سے کہہ کر میری چمڑی ادھڑواں گی بشر نے طنز کیا تو عالیہ کی ہنسی چھوٹ گئی نہیں بالکل نہیں آپ ہمیں تنگ تھوڑی کر رہے ہیں آپ تو بہت اچھے ہیں اور اپکا تنگ کرنا مجھے اچھا لگ رہا ہے کاش اپ ایسے ہی ساری زندگی ہمیں تنگ کرتے رہے🥰 ۔۔۔۔۔ اہہم بشر نے گلا کھنکارا ، تب ہی عالیہ کو بےخودی کا احساس ہوا کہ وہ یہ کیا بول گئی ، اگے بشر کی بات سننے کی اس میں تاب نا تھی عالیہ نے احساس ہوتے ساتھ ہی کال کاٹ دی۔۔۔ عالیہ نے سوری🙈 کا میسج ٹائپ کرکے بھیج دیا۔۔۔۔کہ وہ اگے سے اس کے میسج کا رپلائی دے لیکن بشر نے میسج سین کرکے اگنور کردیا، وہ عالیہ کو خود کے لیے تڑپاتا چاہتا تھا   آج پھر عالیہ نے بشر کو کال کی۔۔۔۔۔ آپ بھی کبھی ہمیں بھی یاد کر لیا کریں🥺 عالیہ نے سلام دعا کے بعد کہا عالیہ دراصل ہم دو اور دکان کھول رہے ہیں تو اس لئے بہت بیزی رہتا ہوں بشر نے بہانہ بنایا۔۔۔۔ اچھا جی۔۔اور سنائیں کیسے گزر رہیں ہیں دن۔۔۔۔۔۔عالیہ نے بات بنائی۔۔۔۔ بیزی دن ہیں اور سیڈ راتیں ہیں۔۔۔۔۔

 

آپ کے بغیر۔۔۔۔۔۔بشر نے کہا۔۔۔۔۔ ہم۔۔۔۔۔ کیا م میرے بغیر عالیہ حیران ہونے کے ساتھ خوش ہوئی۔۔۔۔ہمممم بشر نے دانت پیسے۔۔۔۔ آپ کیا ہمیں پسند کرتے ہیں جو ہمارے بغیر اداس ہے عالیہ نے پوچھا کوئی شک۔۔۔۔ بشر نے پیار بھرے لہجے میں کہا پتہ نہیں، ہاں مگر آپ نے کبھی کہا تو نہیں تو مجھے کیسے پتا ہوتا کہ اپ میرے بغیر اداس ہے نا کوئی میسج کرتے ۔۔۔۔ عالیہ نے کہا یہ کہنے کی بات تھوڑی ہے ناں یہ تو اگلے بندے کی آنکھوں میں نظر آ جاتا ہے کہ وہ اپ کے لیے کیا سوچتا ہے جیسے ولیمے والے دن آپ کی آنکھیں بیان کر رہی تھی۔۔۔بشر نے کہا۔۔۔کیا۔۔۔۔ میری آنکھیں تب تو ایسی کوئی بات نہیں تھی عالیہ اپنی چوری پکڑے جانے پر حیران تھی۔۔۔۔۔۔ہاں مجھے پتہ ہے آپ پہلے دن سے ہی مجھ پر فدا ہے ہے بشر نے بنا ڈرے کہا تو عالیہ کی زبان تو جیسے گنگ ہی ہو گئی۔۔۔چپ کیوں ہوگئی ہو بات کرو مجھ سے بشر نے دوسری طرف خاموشی پاکر کر کہا۔۔۔ک کیا بولو۔۔۔عالیہ نے لب کچلے۔۔۔وہی کہو جو تمہاری آنکھیں کہتی ہے۔۔۔۔۔ بشر نے کہا۔۔۔۔۔میری آنکھیں اس وقت آپ کو خدا حافظ کہہ رہی ہیں۔۔۔۔۔اوکے بائے عالیہ نے مسکراتے ہوئے جان چھڑائی اور کال کاٹ دی۔۔۔۔ اب میں کال نہیں کرونگی اگر مجھ سے بات کرنی ہے تو خود کیجیے گا عالیہ نے میسیج ٹائپ کر کے بشر کو سینڈ کر دیا مگر اس پر خود کا عمل کرنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔

 

ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا مگر بشر نے کال تو کیا مس کال تک نہیں دی تھی عالیہ نے ہنسنا بولنا گھر میں کم کردیا تھا بس ہر وقت موبائل کو ہاتھ میں لیے بشر کی کال کا انتظار کرتی تھی۔۔۔۔بشر نے اس کا میسج پڑھا تو تھا مگر وہ اسے سونیا اور باقی دوسری لڑکیوں کا احساس دلانا چاہتا تھا کہ ان پر وہ وقت کیسا گزرا ہوگا ۔۔۔۔۔ مگر محبت کے ساتھ یہی وجہ تھی کہ بشر نے رات کو بارہ بجے کال کی اس کی کال موبائل پر دیکھتے ہی عالیہ اپنی آٹھ دن کی تڑپ بھول گئی تھی اتنی رات کو آپ نے کال کی ہیں خیریت۔۔۔۔ عالیہ نے اپنی بے چینی کو چھپاتے ہوئے کال یس کرکے سلام دعا کے بعد کہا۔۔۔۔۔خیریت تو نہیں ہے۔۔۔۔ یار عالیہ جس دن سے آپ کو دیکھا ہے ناں۔۔ بس یہ دل ہے ناں۔۔۔۔ پتہ نہیں کہاں اڑ کر چلا گیا ہے ذرا اپنے پاس دیکھنا وہاں تو نہیں آیا آپ کے دل سے سودا کرنے بشر نے محبت بھرے لہجے کہا تو عالیہ سے شرم کے باعث کچھ بول نہ سکی آپ خاموش ہیں یعنی منافع کا سودا ہے ٹھیک ہے اب میرا دل سنبھال کر رکھنا میں آپ کا دل سنبھال لوں گا جب تک آپ خود میرے پاس نہیں آجاتی۔۔۔بشر نے کہا۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔میں آپ کے پاس کیوں آنے لگی۔۔۔عالیہ نے ہمت کرکے شرم کے مارے کہا۔۔۔۔۔۔اپنا دل لینے۔۔۔بشر نے کہا۔۔۔اچھا مگر میرا دل تو میرے پاس ہی ہے اب کیوں آؤں میں آپ کے پاس۔۔۔عالیہ نے مسکراہٹ دبائی۔۔۔۔او میڈم عالیہ وہ جو آپ کے پاس ہے ناں وہ میرا دل ہے نہ کہ آپ کا اور وہ میری امانت ہے جو کہ میں نے آپ کو کچھ دن کے لیے رکھنے کو دی ہے۔۔۔بشر جان بوجھ کر ایسی باتیں کر رہا تھا کیونکہ اسے عالیہ کو محبت کے جال میں پھنسانا تھا۔۔۔

 

کچھ دیر باتوں کا سلسلہ یونہی چلتا رہا ،اچھا بابا ٹھیک ہے۔۔۔میں پھر بعد میں بات کروں گی۔۔۔اللہ حافظ۔۔۔عالیہ نے جان چھڑائی۔۔۔مگر اصل میں تو اس کی جان اب پھنس چکی تھی۔۔۔کال بند ہونے کے بعد بھی اس کے لبوں پر ہنسی مچلتی رہی اور اس کا دل اپنی مخصوص رفتار کو چھوڑ کر بھاگنے لگا تھا۔۔۔کتنا عجیب ہوتا ہے چاہے جانے کا احساس انسان زمین کو چھوڑ کر آسمان کا رخ کرنے لگتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ آسمان میں بنا پروں کے بھی کبھی کوئی اڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ایک ماہ سے زیادہ ہوچکا تھا انہیں بات کرتے ہوئے۔۔۔اب بشر سے اور محبت کا ڈرامہ نہیں رچایا جا رہا تھا اس نے اب سیدھے سیدھے عالیہ سے بات کرنے کی ٹھان لی تھی۔۔۔بشر آج ہمیں بات کرتے ہوئے ڈیڑھ ماہ ہوچکا ہے۔۔۔دیکھیں وقت کیسے ریت کی طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔۔۔ایک ماہ پہلے کا سوچیں تو ہم دونوں ایک دوسرے سے انجان تھے اور آج ہم ایک دوسرے کو ایسے جانتے ہیں جیسے ایک ماہ سے نہیں صدیوں سے ساتھ ہے۔۔۔عالیہ نے کانوں میں ہینڈ فری لگائے بشر سے کال پر کہا۔۔۔کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہو مگر ایک بات ہے اگر اس کا جواب مجھے مل جائے تو میں سمجھوں گا واقعی میں آپ کو آپ سے بہتر جانتا ہوں۔۔۔ایک بات کیا آپ سو پوچھیں بش۔۔۔مگر آئندہ یہ مت کہنا کہ میں تمہیں اچھے سے نہیں جانتا۔۔۔عالیہ نے دکھی ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔آپ مین وائس کا استعمال کیوں کرتی ہے۔۔۔بشر نے پوچھا۔۔۔رو۔۔۔رونگ نمبر کے لیے۔۔۔عالیہ کے ماتھے پر اچانک پسینہ چمکنے لگا۔۔۔اچھا۔۔۔تو پھر یہ عالی نام کی فیسبک آئی ڈی اور انسٹا پر پوسٹیں تمہاری ہے۔۔۔بشر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔ہا۔۔۔ہاں وہ میری ہے۔۔۔عالیہ اب

 

بوکھلانے لگی۔۔۔ایسی کیا وجہ ہے جو تم نے فیک آئی ڈی بنائی اور میجیک وائس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔۔۔عالیہ مجھے سچ سننا ہے۔۔۔بشر مسلسل غصے میں تھا۔۔۔بش۔۔۔بشر بب۔۔۔بتایا تو ہے۔۔۔آپ کو رونگ کالز کی وجہ سے۔۔۔عالیہ نے تھوک نگل کر ہکلاتے ہوئے کہا۔۔۔او کے تمہیں نہیں بتانا تو مت بتاؤ۔۔۔مگر اب مجھے کال یا میسج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے سنا تم نے۔۔۔بشر کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا تھا۔۔۔بشر۔۔۔بشر۔۔۔پلیز ایک بار میری بات سن لیں کال مت کاٹیں۔۔۔اب کی بار وہ رونے لگی تھی۔۔۔بشر عالیان بھائی نے یہ میجیک وائس والا موبائل مجھے لا کر دیا تھا۔۔۔۔جسٹ اپ عالیہ۔۔۔بشر نے عالیہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور کال کاٹ دی۔۔۔کال کے کٹتے ہی عالیہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔بشر چاہتا تھا کہ وہ اپنے منہ سے اپنا گناہ قبول کرے مگر عالیہ نے بھی شاید سچ نہ بولنے کی قسم کھا رکھی تھی۔۔۔بس یہی وجہ تھی جو بشر کو سخت فیصلہ لینے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔۔۔۔ ان تین دنوں میں اس نے کئی میسج کر دیے تھے۔۔۔سوری اور پلیز کے۔۔۔مگر بشر صرف سچ سننا چاہتا تھا۔۔۔دوسری طرف عالیہ سے بشر کی ناراضگی سہی نہیں جا رہی تھی۔۔۔آخر کار اس نے ہمت کرکے کال کر لی۔۔۔جو کہ یس تو ہو چکی تھی مگر خاموشی کے ساتھ۔۔۔بشر۔۔۔بشر۔۔۔عالیہ سسکنے لگی تھی۔۔۔عالیہ مجھے تمہارا رونا نہیں سننا اگر سچ بتانا ہے تو بتاؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ۔۔۔بشر نے غصے میں کہا۔۔۔میں۔۔۔میں بتاؤں گی سب کچھ مگر تم۔۔۔تم مجھ سے ناراض مت ہوؤ۔۔۔پلیز۔۔۔دراصل دو سال پہلے کی بات ہے۔….

 

۔دو محبت کے جھوٹے بولوں کو محبت سمجھتی ہے۔۔۔۔اور میرے فیک ائی ڈی عالی نام کی باتوں میں اتنا کھو گئی تھی کہ انہوں نے کبھی عالی کی آئی ڈی میں عالیان کو تلاش نہ کر پائی یا پھر اس میجک وائس کے پیچھے چھپی لڑکی کو جاننے یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔ بولیں بشر کیا اب بھی میں غلط ہو۔۔۔۔۔۔عالیہ جو کہ بشر کی بات کاٹے مسلسل بولے جا رہی تھی عالیہ نے جواب مانگا۔۔۔ہاں تم غلط ہو تم غلط تھی اور تم غلط رہوں گی۔ لوگ لڑکوں کو کہتے ہیں کہ لڑکیوں کا استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔اور پھینک دیتے ہیں مگر آج عالیہ حبیب تم نے تاریخ بدل دی تم خود لڑکی ہو کر تم نے لڑکیوں کا استعمال کیا اور انہیں پھینک دیا۔۔۔۔۔ شیم آن یو عالیہ حبیب۔۔۔آئی ہیٹ یو فور ایور۔۔۔بشر یہ کیا کہہ رہے ہیں اپ۔۔۔آپ تو مجھ سے محبت کرتے تھے ناں۔۔۔میں بھی تو آپ سے محب۔۔۔غلط فہمی ہے تمہاری۔۔۔میں صرف سونیا سے محبت کرتا تھا اور کرتا رہوں گا یہ اس سے محبت کی طاقت تو تھی مجھ میں جو میں اس کے قاتل کو ڈھونڈ پایا ہو۔۔۔۔ یعنی کہ۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔مجھے تم سے صرف اور صرف نفرت ہے اگر پچھلےایک ماہ کی بات کریں تو وہ تو صرف ٹائم پاس تھا یا میرا تمھارے ساتھ دا فلٹر گرل عالی عرف عالیہ ڈرامہ کیا تم سے سچ اگلوانے کا بشر نے عالیہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔بشر پلیز ایسا مت بولیں مجھے۔۔۔۔۔میں نے تو ہر لمحہ آپ سے محبت کی ہے آپ ہی کو چاہا ہے اگر آپ نے مجھ سے بات نا کی تو میں پاگل ہو جاؤں گی۔۔۔۔عالیہ نے ڈریسنگ ٹیبل کی تمام چیزیں ایک ہاتھ سے گرا کر کہا جس کا شور بشر نے بھی بخوبی سنا۔۔۔۔۔ یہی تو میں چاہتا ہوں اور یہی تمہارا انجام ہے مس عالیہ حبیب۔۔۔۔آئی ہیٹ یو سو مچ آئی کانٹ ایکسپلین یو۔۔۔بشر نے زور کا قہقہہ لگایا۔۔۔۔اور کال کاٹ دی جبکہ عالیہ سپاٹ چہرہ لیے کچھ لمحے یوں ہی ساکت بیٹھی رہی۔۔۔۔
اس کا دماغ جیسے ایک بند قبر میں زندہ کو دفن کر دیا جائے ایسی حالت میں خود کو محسوس کر رہا تھا جو چاہے کتنی بھی جدوجہد کر لے آخر اسے بھی دم گھٹ کر ہی مرنا تھا۔۔۔۔ اس زندہ کو بھی اس کے اپنے لاش سمجھ کر دفنا کر گئے یہاں عالیہ کو بھی اس کے دل و دماغ کی سوچوں نے یہاں لاکر کر کھڑا کیا تھا۔۔۔۔ اچانک سے عالیہ میں حرکت ہوئی۔۔۔اس نے اپنے موبائل کی جاہلوں کی طرح سم نکالی پہلے تو اس کو دیکھ کر خوب ہنستی رہی کچھ لمحوں میں اس کی ہنسی رونے میں بدلنے لگی اس نے سم کو ہاتھوں پاؤں سے مارنا شروع کردیا اور پھر آخر میں اس نے روتے روتے سم کے اپنے ہاتھوں سے دو ٹکڑے کر ڈالے اور ڈسٹ بن کے سپرد کردیے اور پھر بیڈ پر بیٹھ کر بچوں کی طرح تالیاں بجانے لگی کبھی ہنستی کبھی روتی کبھی غصے میں کمرے کو تہس نہس کر دیتی۔۔۔  1سال بعد۔۔۔۔۔۔ زاہدہ کی شادی کو ایک ماہ ہو چکا ہے۔۔۔۔وہ بہت خوش ہے اپنی نئی زندگی سے اب اسے عالیہ سے بھی کوئی پرابلم نہیں ہے کیونکہ کہ جس عالیان کو لے کر و عالیہ سے جلتی آئی تھی۔۔۔۔ اب وہ محبت اس کے دل میں عالیان کے لیے ختم ہو چکی تھی۔۔۔اس نے عالیہ کو معاف کردیا تھا۔۔۔۔اسکا مانننا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے ☺️۔ عالیہ اج جس حالت میں ہے یہ اسکے کے حسد کا نتیجہ ہے، سونیا کے دل میں صرف اور صرف اپنے شوہر کے لیے محبت تھی۔۔۔۔۔ آخر کیوں نہ ہو محبت۔۔۔۔۔ ایسے خوبصورت مرد کو دیکھ کر تو لڑکی نظریں ہٹانا بھول جاتی ہیں اور پھر وہ خوبصورت وجیہہ مرد بشر خان اس کی دسترس میں تھا۔۔۔۔ جس کا ہر دعویٰ زاہدہ سے شروع اور زاہدہ پر ختم ہوتا تھا۔۔۔۔ عالیہ سے بدلہ لینے کے بعد بشر کو کئی گنا سکون حاصل ہوا تھا۔۔۔۔دوسری طرف بشر کی ماں اس پر شادی کا زور دے رہی تھی اور پھر سونیا کی بھابھی نے بھی سمجھایا تو وہ راضی ہوگیا۔۔۔۔
مگر وہ از خود لڑکی کو دیکھنا چاہتا تھا کئی حسین لڑکیوں کے رشتے اس نے ٹھکرائے، کیوں کہ اسے سونیا جیسی کی تلاش تھی 😍 اور اتفاقاً وہ لوگ کہیں رشتہ دیکھنے گئے تھے تو وہاں بشر کی نظر ان کے گھر آئی مہمان پر پڑ گئی۔۔۔جو پہلی نظر میں بشر کو سونیا لگی اور پھر بشر نے لمحہ نہیں لگایا سونیا کی پرچھائی کو اپنانے کے لیے۔۔۔۔۔۔چٹ منگنی پٹ گیا وہ زاہدہ تھیں مگر بشر نے اس کا نام سونیا رکھ دیا تھا۔۔۔۔بشر بہت خوش تھا سونیا کو دوبارہ پا کر۔۔۔۔زاہدہ کی آنکھیں بالکل سونیا جیسی ہے اداس مگر گہری۔۔۔۔زاہدہ کی محبت بھی کہیں نہ کہیں بشر پر حاوی تھی۔۔تب ہی وہ دونوں ٹوٹے ہوئے شخص ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔۔۔۔زاہدہ نے بھی ساری زندگی عالیہ سے بدلہ لینے کے بعد بھی جلنا تھا۔۔۔۔اگر خدا اس پر مہربان نہ ہوتا۔۔۔اور بشر کو اس کی زندگی میں نہ بھیجا ہوتا۔۔۔۔۔ ایک سال پہلے ہی بشر نے عالیان سے بھی بائیکاٹ کر لیا تھا اب ان دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا۔۔  اس ایک سال میں وہ لوگ عالیہ کا کئی بڑے ہسپتالوں میں علاج کرا چکے تھے مگر۔۔۔عالیہ کی حالت سنورنے کے بجائے مزید بگڑنے لگی تھی۔۔۔۔عالیہ کی یہ حالت اس کے ماں باپ اور چاروں بھائیوں کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی۔۔۔اپنی اس حالت کی ذمے دار سوائے عالیہ کے کوئی اور نہ تھا۔۔۔۔ یہ ایک ایسا راز تھا جو کبھی کوئی نہ جان پائے گا۔۔۔۔۔گھر والوں کو لگتا تھا کہ شای د شادی میں عالیہ کو نظر لگ گئی ۔۔۔۔۔ہیلو بے بی کیسی ہو مجھ سے بات کرو۔۔۔۔ پلیز۔۔۔سنو۔۔۔۔۔پلیز اس نے اچانک ہی وہ ٹوٹا موبائل زمین پر دے کر مارا مجھ سے بات نہیں کرے گی۔۔۔۔بدتمیز۔۔۔۔میں تیری جان لے لوں گی عالیہ نے تکیہ کو پکڑ کر مارا، بات کر مجھ سے۔۔۔۔ جواب دے مجھے وہ چیخنے لگی تھی۔۔۔۔کہ تب ہی دروازہ کھول کر کوئی اندر آیا سامنے کا منظر اسے حیران کر گیا۔۔۔عالیہ یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔سنبھالو خود عالیان نے پھٹے ہوئے تکیے کو عالیہ سے دور کر کے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔۔بھ۔۔۔۔ بھائی یہ مجھ سے بات نہیں کر رہی۔۔۔۔۔ان کی و۔۔۔وجہ س۔سے وہ بھی مجھے۔۔چھ۔۔۔چھوڑ۔۔ڑ گیا۔۔۔۔و۔۔۔ہ کو۔۔۔۔۔ئی میں۔۔نے جان کے تو نہیں کیا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔ کون چھوڑ گیا، اور کون ہے یہ۔۔۔۔ عالیان نے ہمیشہ کی طرح سوال کیا۔۔۔۔یہ۔۔۔۔ یہ کوئی بھی نہیں۔۔
کیا۔۔۔۔یہ۔۔۔۔ یہ کوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔میں تو ٹائم پاس ک۔۔۔کررہی ہوں۔۔۔۔عالیہ نے زور زور سے تالیاں بجا کر کہا۔۔۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔۔ چلو پہلے میڈیسن کھالو۔۔۔۔۔عالیان نے پانی کا بھرا گلاس عالیہ کو پکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔پہلے اس کو بولے مجھ سے بات کرے۔۔۔عالیہ نے تکیہ کو گھورا۔۔۔۔۔ ہاں میں بولتا ہوں فی الحال تم دوائی کھا لو۔۔عالیان نے کچھ گولیاں لے کر اس کے منہ میں ڈال کر اسے پانی پلایا۔۔۔۔۔۔ تو تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ تھک ہار کر بیڈ پر سو گئی عالیان نے اسے تکیے پر لٹا کر اس پر چادر ڈال دی اور وہ ٹوٹا ہوا موبائل اس کے سرہانے رکھ دیا۔۔۔۔۔ کیوں کے ہوش آنے پر وہ سب سے پہلے موبائل ہی ڈھونڈے گی۔۔۔۔الماری سے ایک نیا تک نکال کر اس کے سرہانے رکھ نے کے بعد وہ پھٹا ہوا تکیہ لے کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔عالیہ خود کو سب لڑکیوں سے الگ سمجھتی تھی یہ اس کی سب سے بڑی بھول تھی کیوں کہ لڑکیاں جس بھی روپ میں ہو۔۔۔ چاہے وہ سونیا ہو یا زاہدہ ہو یا پھر عالیہ ہو وہ نازک ہے اور نازک ہی رہیں گی۔۔۔ ان تینوں نے محبت کی مگر جب محبت نے ساتھ نہیں دیا تو تینوں نے الگ راہ چنی۔۔۔کسی نے اپنی زندگی خود ختم کر لی سونیا بن کر تو کسی نے جل کر زندگی گزاری زاہدہ بن کر تو کسی نے ساری زندگی اب خود کا مذاق بنوانا تھا عالیہ بن کر۔۔۔۔۔۔۔۔

از قلم:مشی علی شاہ۔۔۔ آپ سبکو میری ناول کیسی لگی؟؟؟۔۔۔۔۔ امید کرتی ہوں آپ سبکو میری ناول پسند آئی ہوگی اور اس ناول کا اختتام بھی۔۔۔۔۔اپنی رائے کا اظہار کریں تا کہ میں اپنی دوسری ناول  کو بھرپور طریقے سے پیش کر سکوں۔۔۔۔۔
Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *