ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 32 part (2)
در ثمین کا شرمایا سا سرخ چہرہ دیکھ کر اجالا اور قندیل بھی ہنسنے لگی تھی ، ہاں آپی اجالا آپی ٹھیک کہہ رہی ہیں اچھا نہیں لگتا اور ابھی تو کچھ مہمان ہے شاہ حویلی میں ، ایسا کرتی ہوں آپ کا میں یہ آپ کا دوپٹہ ان پن کر دیتی ہوں تاکہ آپ آرام سے لیٹ سکے قندیل نے در ثمین کی مدد کرنے کے لیے کہا تو در ثمین سرخ چہرے کے ساتھ اثبات میں سر ہلا گئی ، ویسے درے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں سچی درے میں بھی بہت تھک گئی ہوں میں تو جا کر آرام کروں گی ، اجالا نے تھکان بھرے لہجے میں کہا نہیں اجالا تم بھی آرام کرو بس قندیل چائے بناؤ تو ایک کپ میرے لیے بھی لے آنا ، میڈیسن لے لو گی چائے کیساتھ در ثمین نے قندیل کو مسکرا کر کہا جی جی درے آپی ابھی بنوا کر لاتی ہوں ، اجالا آپی آپ بھی کچھ دیر رک جائیں جب تک میں چائے لاؤ مل کر چائے پیتے ہیں پھر آپ آرام کرنے چلی جانا ، قندیل چاہتی تھی کہ اسکی غیر موجودگی میں اجالہ در ثمین کو کمپنی دے نیکی اور پوچھ پوچھ اجالا نے فورا مسکراتے ہوئے کہا ساتھ ہی جہازی سائز بیڈ پر در ثمین کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گئی ، جاؤ جلدی کڑک سی چائے لاؤ اجالہ نے کہا تو قندیل مسکراتی ہوئی چائے لینے کے لیے وہاں سے چلی گئی
کافی مہمان جا چکے تھے شاہ ویر کے دس پندرہ دوست بچے تھے سب کے سب شاہ ویر کا ریکارڈ لگا رہے تھے کہ آج اسے دو بجے سے پہلے کمرے میں جانے نہیں دیں گے تمام جوان پارٹی مل کر محفل بنا کر بیٹھے تھے شاہ ویر فارملیٹی کے لیے تھوڑا شرما کر ہنس کر بے باک جملوں سے سب کا جواب دے رہا تھا تاکہ سب کچھ نارمل لگے جب کہ اندر سے تو وہ خود آج کمرے میں جانا نہیں چاہتا تھا ، جبکہ شاہ ویر کے چکر میں دریاب کو بھی مجبوراً وہاں رک کر سب کو کمپنی دینی پڑ رہی تھی ورنہ آج تو اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک سیکنڈ بھی قندیل سے دور رہے اوپر سے اج کام کی تھکن الگ ہو گئی تھی جتنے بھی محفل میں مرد حضرات بیٹھے تھے اس میں بابر کے سوائے سب شادی شدہ تھے ادریس بھی محفل کا حصہ تھا اب جب کہ شاہ ویر ور کی سب سے آخر میں شادی ہوئی تھی تو سب شاہ ویر کو خوب ہی تنگ کر رہے تھے
یہ سوچے سمجھے بغیر کہ دریاب کی بہن شاہ ویر کے گھر میں ہے بس وہ یہ جانتے تھے شاہ ویر کا بہت پہلے اپنی کزن سے نکاح ہوا تھا ، اور یہ بات شاہ ویر اور دریاب کو سب کو بتانا ضروری لگی بھی نہیں کیونکہ دوستوں میں اتنا کھلا مذاق تو چلتا ہے دس بج گئے ہیں اب بس بھی کرو اپنے گھروں کو نکلو شاباش بھابیاں انتظار کر رہی ہونگی ، شاہ ویر کو نیند آنے لگی تھی کیوں ویرے تجھے نئی بھابی کی یاد آ رہی ہے کیا ، اس لئے ہمیں بھگا رہا ہے اسلم نے آنکھ ونک کرتے ہوئے کہا ، ہاں آ رہی ہے بہت مجھے تو اپنی والی کی تم لوگوں کو نہیں آ رہی کیا اپنی بیگموں کی شاہ ویر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو بیویوں کی یاد نہیں آتی مونس نے دانت دکھائے ، اور ویسے بھی کل بھی تو تجھے چھوڑ دیا تھا نا ہم نے رحم کھا کر آج نہیں چھوڑیں گے رحیم نے شرارتی لہجے میں کہا ، فائدہ تو کچھ ہوا نہیں تمھارے چھوڑنے کا شاہ ویر نے دل میں سوچا ۔۔۔۔ منحوسوں کمینوں میں نے تمہیں کیوں بلایا اپنی شادی میں شاہ ویر نے اپنے کمینے دوستوں کو دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ جو بھی ہو اج ہم یہیں رہیں گے اور جب تک ہمیں نیند نہیں آ جاتی تب تک ویرے تو بھی یہاں سے ہلے گا نہیں رفیق نے تمام دوستوں کو اپنی طرف کرتے ہوئے کہا ، تو سب اس کی ہاں میں ہاں ملا گئے اور ویسے بھی کل سنڈے ہے تو کوئی اتنا مسئلہ نہیں ہونا بیوی بچوں کو کل ٹائم دے دینگے تو ، تو فکر مت کر شاہ جی افضل نے اب کی بار کہا
سب کا وہی جمنے کا ارادہ دیکھ کر دریاب کو کھانسی کا دورہ پڑ گیا تمہیں کیا ہو گیا دریاب خیریت تو ہے اسلم نے دریاب کی کمر سہلاتے ہوئے کہا یہ تو بہت اچھا ہو گیا آج تو ڈبل مزہ آنے والا ہے دریاب نے اپنی کھانسی پر کنٹرول کرتے ہوئے زبردستی ہنستے ہوئے کہا
قندیل در ثمین کے پاس کچھ دیر بیٹھ کر اپنے روم میں جا چکی تھی کیونکہ اسے بہت نیند آئی تھی ، قندیل کے جاتے ہی در ثمین شاہ ویر کا انتظار کرنے لگی ، اتنے ہیوی ڈریس اور میک اپ کیساتھ وہ نماز بھی پڑھنے سے قاصر تھی گھڑی رات کے نو بجا رہی تھی اور شاہ ویر کا کچھ اتا پتہ نا تھا در ثمین کا ایک دل چاہا کہ سب کچھ اتار کر سکون کا سانس لے لیکن پھر شاہ حویلی کے مکینوں کے بارے میں سوچا کہ ان میں سے کوئی اس کے روم میں آ نا جائے ، خاص کر کے انجمن بیگم ، اس ڈر سے وہ یوں ہی لیٹے لیٹے اپنی سوچوں میں گم ہو گئی کب نیند آئی اسے کچھ پتہ نہ چلا بیڈ کے ایک سائیڈ پر وہ سمٹی ہوئی لیٹی تھی جبکہ دوسری طرف اس کا کامدار دوپٹہ بیڈ پر پھیلا ہوا تھا کہ شاہ ویر کے آنے پر وہ اسے فوراً اوڑھ لے گی ، آج نا چاہتے ہوئے بھی وہ شاہ ویر کا انتظار کررہی تھی مگر کیوں یہ بات اسے بھی نہیں پتہ تھی آج تقریباً شاہ حویلی میں تمام عورتیں شادی کی تقریبات سے تھک کر پُرسکون ہو کر سوئی تھی ، سوائے انجمن بیگم کے وہ اب تک شاہ حویلی میں موجود مہمانوں کی خاطر داری میں کوئی کمی نا رہ جائے اس ڈر سے ملازماؤں کے ساتھ کام دیکھ رہی تھی شبانہ کو بھی کچھ دیر پہلے وہ سونے بھیج چکی تھی ، تھوڑی تھوڑی دیر بعد بابر محفل
تھوڑی تھوڑی دیر بعد بابر محفل میں بیٹھے شاہ ویر کے دوستوں کی جو بھی فرمائش ہوتی وہ ، لے کر آتا انجمن بیگم اسے خاص اپنی نگرانی میں بنوا کر بھیج رہی تھی مہمان بھی کافی حد تک آرام کرنے جا چکے تھے بی جان بھی انجمن بیگم اکیلا محسوس نا کرے اسلئے وہ ڈرائنگ روم میں براجمان تھی یہ شاہ ویر کہاں رہ گیا بی جان بچاری در ثمین اب تک سب پہنے اسکا انتظار کررہی ہے میں ابھی اوپر سے ہو کر آئی ہوں کھانا پوچھنے گئی تھی ، وہ بیچاری اسی حالت میں تھک ہار کر سو چکی ہے ، انجمن بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا بہو فکر نہیں کرو بابر آئے تو اسکو پیغام کہلوادینا ، اور دریاب آیا کیا بی جان نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔ نہیں بی جان شام سے بیچارہ بابر ہی نظر آ رہا ہے کوئی بھی نہیں آیا شاہ حویلی تو ، بی جان آپ تھک گئی ہونگی آپ آرام کرلے آپکے گھٹنوں اور کمر میں درد ہو جائیگا زیادہ بیٹھنے سے انجمن بیگم نے فوراً بی جان کے تھکن زدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ، نہیں بہو تم اکیلی ہو ، میں ساتھ ہونگی تو تمھارا وقت بھی گزر جائیگا بی جان نے اپنی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا انجمن بیگم کی یہی باتیں تو بی جان کو بہت پسند تھی کہ وہ کبھی تھکتی نہیں نا کام کرتے ہوئے نا پیار دیتے ہوئے وہ سب کی بہت فکر کرتی ، اسلئے انجمن بیگم کی بی جان کے دل میں بہت ہی خاص جگہ تھی
ابھی ساڑھے گیارہ بجے تھے شاہ ویر کے تمام دوست بچپن کے ، اسکول کے اور کالج کے قصے یاد کر کر کے ہنس رہے تھے جبکہ دریاب کو اندر ہی اندر قندیل کے پاس جانے کی بے چینی لگی ہوئی تھی دریاب نے فوراً دماغ میں ہی ایک منصوبہ بنایا یہاں سے بچنے کا السلام علیکم جی چاچو ابھی آتا ہوں ، کیا ہوا شاہ ویر نے دریاب سے پوچھا جو موبائل جیب میں ڈالے بھاگنے کی تیاری میں تھا کچھ نہیں یار وہ میں نے چاچو کی آفس کی امپورٹنٹ فائل اسٹڈی میں رکھی تھی ، تو وہ ان کو مل نہیں رہی اس لیے مجھے بلا رہے ہیں دریاب اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیے کافی سیریس انداز میں کہا تمہارا جانا ضروری ہے کیا کال پر ہی بتا دو جہاں بھی رکھی فائل ، شاہ ویر سب سمجھ گیا تھا کہ دریاب نے یہاں سے بچ کر جانے کا بہانہ گھڑا ہے کیونکہ چاچو کبھی اتنی رات کو فائل سٹڈی نہیں کرتے ، اور اج اتنی تھکان کی بات تو بالکل بھی نہیں ، ویر نہیں مل رہی ہے ان کو میں آتا ہوں ویسے بھی بابر ادریس ہیں تو مجھے چینج بھی کرنا تھوڑی دیر ہو جائے گی یار ۔۔۔۔۔ دریاب بولتے ہوئے رکا نہیں فوراً وہاں سے چلا گیا اس کو پتہ تھا اگر اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیا تو وہ سب اسے وہاں سے جانے نہیں دیں گے ، ہاں ہاں جلدی آنا سو مت جانا مونث نے پیچھے سے ہانک لگائی تو سب کا قہقہہ بلند ہوا