Episode 32 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 32 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

 

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

 

Episode 32 part (1)

 

شاہ حویلی میں آج آخری فنکشن تھا اور کافی مہمانوں کو آج ہی اپنے گھر لوٹنا بھی تھا تو پوری شاہ حویلی میں افراتفری کا ماحول بنا ہوا تھا  کیونکہ ولیمے کی تقریب حویلی میں ہی ہونی طے پائی گئی تھی مطلب لیڈیز کا سسٹم شاہ حویلی کے اندر ہی منعقد کیا گیا تھا جبکہ مردوں کا سسٹم کچھ منٹوں کے فاصلے پر گراونڈ میں کیا گیا تھا
مہمان زیادہ تھے خاص کر کے خصوصی مہمان ، تمام انتظامات بہتر طریقے سے دریاب ، ادریس اور بابر نے سنبھال لئے تھے اتنا پیسہ خرچ کیا گیا تھا کہ گراؤنڈ کو ہال بنانے میں کچھ ہی گھنٹے لگے تھے موسم کی مناسبت سے ٹھنڈا ، گرم ، فروٹ ، کھانا تمام اشیاء بڑی وافر مقدار میں دستیاب تھی  ہر ٹیبل پر ایک ، ایک ملازم مسلسل کھڑے تھے مہمانوں کی خاطر مدارت کے لئے بلکل ایسا ہی انتظام شاہ حویلی میں لیڈیز کے لیے بھی کیا گیا تھا مگر وہاں صرف لیڈیز ملازمہ اور جان پہچان کے ملازموں کو ہی اندر جانے کی اجازت تھی ، تھیم کے مطابق اور سرد ہواؤں سے ملتے جلتے موسم کو دیکھ کر لڑکوں نے بلیک پینٹ کے ساتھ پرنٹڈ فلورال ویلویٹ جیکٹ پہنی ہوئی تھی جبکہ شاہ حویلی کی لیڈیز نے ڈارک کلر بلیک بلو ویلویٹ کی کامدار ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھی سوائے صبا اور بی جان کے شاہ ویر نے لائٹ بلو ویلویٹ شرٹ وائٹ پینٹ کے ساتھ پہنی ہوئی تھی جبکہ در ثمین نے لائٹ بلو ایمبراڈیڈ کے ساتھ پاؤں تک چھوتی دل آستین کی میکسی زیب تن کی ہوئی تھی دونوں ولیمے کے دولہا دلہن کے ڈریس ہم ہی رنگ کے تھے۔

مہمان اتنے تھے کہ دریاب کو شاہ حویلی جانا نا ممکن لگ رہا تھا مگر وہ قندیل کی ناراضگی کے ڈر سے ٹائم نکال کر قندیل کو دیکھنے آ پہنچا تھا سب شاہ حویلی کی لیڈیز لان میں بنے اسٹیج پر موجود تھی سوائے قندیل کے دریاب در ثمین سے ملنے اور اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد قندیل کو دیکھنے روم میں آ پہنچا تھا  روم کا دروازہ کھلا ہی تھا تو وہ بنا ناک کیے روم میں داخل ہوا تھا ، سامنے کا منظر دیکھ کر دریاب کے ہوش اڑ گئے تھے قندیل بلیک ساڑھی میں حد سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی یا پھر اسکی محبت کا اثر تھا جو وہ اور حسین ہوتی جارہی تھی قندیل ڈریسنگ ٹیبل کے آگے جھکے اپنے ساڑھی کے گرتے بلیک شیفون پلو سے بے نیاز دریاب کا دیا ہوا لاکٹ اپنی گردن کے آگے کی طرف کئے ڈریسنگ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے پہننے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی ، ہائے اللّٰہ جی یہ میں نے اتارا ہی کیوں تھا اب پہنا نہیں جارہا یہ چین لاک لگ کیوں نہیں رہا ، اگر دریاب مجھے دیکھنے آگیا اور اسے یہ لاکٹ نا دکھا تو وہ ناراض ہو جائے گا ایک تو یہ ساڑھی کا پلو بار بار گرے جا رہا ہے کتنا کہا تھا پارلر والی کو اس پر پن لگا دو ۔۔۔۔۔اوپر سے یہ اتناچوڑا گلا ، نہیں میم یہ ایسے ہی پیارا لگے گا قندیل نے اخری جملے پر پارلر والی کی نقل اتاری تھی قندیل دریاب کی موجودگی سے بے خبر اپنے آپ سے باتیں کرنے میں لگی ہوئی تھی۔قندیل کو دیکھ کر اور اسکی باتیں سن کر دریاب کو اپنا آپ سنبھالنا مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے دروازہ لاک کیا تھا دروازے لاک کرنے کی آواز پر قندیل نے دروازے کی طرف دیکھا سامنے دریاب کو دیکھ کر قندیل کو شرمندگی محسوس ہوئی تھی اسکا چہرہ لمحے میں سرخ ہوا تھا  وہ جلدی سے اپنا ساڑھی کا پلو کندھے پر ٹھیک کرتی سیدھی ہوئی تھی ، آ  آپ یہاںدریاب ، قندیل نے دریاب کے خود کی طرف بڑھتے قدم دیکھتے ہوئے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا ہاں کیوں نہیں آ سکتا کیا ، اپنی سکون جاناں کی تیاری دیکھنے آیا ہوں دریاب نے گہری نظروں سے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا دریاب دیکھے نا یہ چین لاک بند نہیں ہورہا

 

 

 

 

مجھ سے پلیز یہ کردے نیچے سب میرا انتظار کررہے ہیں پہلے ہی اتنی دیر ہوگئی ہے قندیل نے اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوئے کہا ، دریاب کی نظروں سے وہ نروس ہو رہی تھی  ابھی کچھ دیر پہلے وہ دریاب کو یاد کر رہی تھی مگر جن حالات میں دریاب نے اسکو دیکھا وہ سوچ کر ہی قندیل کو جھرجھری سی آرہی تھی کہ اب اگے کیا ہوگا ، لاؤ میں کرو بند دریاب نے قندیل کے پیچھے کھڑے ہو کر ڈریسنگ مرر میں دیکھتے ہوئے کہا اور چین کو لاک کیا ۔۔۔۔ قندیل ایک ہاتھ سے لاکٹ کو پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے ساڑھی کے پلو کو پکڑے اپنے دھڑ دھڑ کرتی دھڑکنوں کو سنبھالے کھڑی تھی ، دریاب نے چین کو لاک کرنے کے بعد قندیل کی گردن کی پشت پر لب رکھے ، دریاب کی شرارت پر قندیل کے ہاتھ لرزے تھے دریاب ۔ قندیل بمشکل خود کو سنبھالے کھڑی تھی ، جی سکون جاناں دریاب نے شوخ نظروں سے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا ، دریاب نے اس کا رخ اپنی طرف کیا سکون جاناں کوئی پن وغیرہ ہے تو دو مجھے اس ساڑھی کے پلو کو بھی لگا دوں میں نہیں چاہتا کوئی میری سکون جاناں کو اس طرح دیکھے دریاب نے نارمل انداز میں کہتے ہوئے قندیل کا گہری نظروں سے جائزہ لیا ، میں سنبھال لوں گی آپ جائیں کوئی نہیں دیکھے گا مجھے میں اجالا سے لگوا لوں گی قندیل نے ہنستے ہوئے بات ٹالی چپ چاپ کھڑی رہو جب میں ہوں سب کرنے کے لیے ، تو کوئی اور کیوں پاس آئے یا مجھ سے شرما رہی ہو دریاب نے ہنستے ہوئے آگے بڑھ کر پن اٹھائی جو شاید قندیل نے لگانے کے لیے ہی نکال ہی تھی ، دریاب نے بہت احتیاط سے قندیل کے پلو پر پن لگا دی تھی ، نو جی ایسی کوئی بات نہیں قندیل نے پن لگتے ہی دریاب سے دو قدم کا فاصلہ بنا کر کہا  ارے یار سکون جاناں ایک منٹ ادھر تو آؤ بھاگنے کی لگی ہوئی ہے تمھیں دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اسکے سینے کا حصہ بنی تھی اس سے پہلے وہ کچھ سوچتی یا بولتی دریاب نے قندیل کے چہرے پر جھک کر چھوٹی سی شرارت کردی  دریاب

 

 

 

دریاب  میرا  میک اپ خراب ہو جائیگا قندیل نے دریاب کے سینے پر مکے مارتے ہوئے سرخ چہرے کیساتھ کہا  نہیں ہوتا خراب بہت پیاری لگ رہی ہو سکون جاناں آئی لو یو دریاب نے محبت بھرے لہجے میں کہا ساتھ ہی قندیل کے ماتھے پر لب رکھے تھے ، آئی لو یو ٹو اب جائیں کام کرے قندیل نے شرماتے ہوئے کہا جا رہا ہو اپنا خیال رکھنا کھانا کھا لینا ٹائم سے ، ٹائم ملا تو میں خود آ کر کھلا کر جاؤنگا دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا اور دروازہ ان لاک کرکے باہر کی طرف بڑھ گیا  جبکہ قندیل ڈریسنگ مرر میں دیکھ کر ٹشو سے اپنے میک اپ کو ٹھیک کرنے لگی

تمام لیڈیز کے کھانے سے فراغت کے بعد اور شاہ ویر کو دیکھنے کے بہت اظہار کے بعد بی جان کے بلانے پر شاہ ویر نے شاہ حویلی میں قدم رکھا تھا شاہ ویر کا چھ فٹ سے اٹھتا قد بھرا ہوا کثرتی جسم ، رعب دار پرسنالٹی اور گہری آنکھوں میں نیند پوری نا ہونے کی ہلکی سی شکایت لبوں پر ٹھہرا تبسم وہ تمام لیڈیز کو خود کی طرف دیکھنے پر مجبور کر گیا تھا صبح ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے کے بعد خود در ثمین نے بھی اب شاہ ویر کو دیکھا تھا در ثمین بے حد حسین لگ رہی تھی مگر شاہ ویر نے ایک نظر ڈالنے کے بعد اس پر دوسری نظر ڈالنا گوارا نہیں کیا یہ بات در ثمین نے بھی نوٹ کی ۔۔۔۔۔ اچھا ہے نہیں دیکھیں مجھے ، میں کون سا مری جا رہی ہوں ان کی ایک نظر کے لیے در ثمین نے منہ بناتے ہوئے دل میں سوچا بی جان کے کہنے پر شاہ ویر سب سے ملنے کے بعد در ثمین کے برابر آ بیٹھا تھا ، اسکے قریب بیٹھنے سے ہی در ثمین کے دل میں ہلچل ہوئی تھی دوسری طرف شاہ ویر سب سے ہنس کر مخاطب تھا سوائے اس پر جو اسکی سب کچھ تھی ، ایک نظر ڈالنے کا گہنگار تھا ، در ثمین کو تھوڑا عجیب سا لگا شاہ ویر کا رویہ مگر وہ خود کو ڈپٹ گئی کہ وہ جیسے بھی رہے اسکو کیا فرق پڑتا  ان دونوں کی جوڑی سورج اور چاند کی شبیہ دے رہی تھی قندیل ، اجالا ، صبا اور فائز اور باہر نے شاہ ویر اور در ثمین کو تحفے دیے ، کچھ تصویروں کے بعد شاہ ویر بنا در ثمین کو دیکھے اٹھ کر چلا گیا تھاشاہ ویر نے کل رات اور آج صبح جو کچھ ہوا تھا اس کے بعد سوچ لیا تھا کہ وہ اب اور اپنے جزباتوں کی بے قدری نہیں کروائے گا ، وہ در ثمین کو چاہتا ہے اس لئے وہ اسکے ساتھ ایسا کررہی ہے اسکی سچی محبت کو حوس کا نام دے رہی ہے کہ وہ اسکی طرف اسکے جسم تک رسائی کے لئے بڑھا ہے اسلئے ، اب جب تک در ثمین اس کی طرف پہل نہیں کرے یا کوئی اشارہ نہیں دے گی وہ خود کو کنٹرول میں رکھے گا ، شاہ ویر کو یہ ڈر بھی تھا کہ اگر وہ اسکو دیکھے گا تو وہ شاید ہی خود پر قابو رکھ پائے اسلئے اب اس نے سوچا کہ وہ اسکو دیکھنے اور مخاطب کرنے سے بھی گریز کرے گا   اور اسکی شروعات وہ آج اور ابھی سے ہی کرے گا بی جان نا بلاتی تو آج وہ شاید ہی وہاں جاتا ، ایک نظر در ثمین کو دیکھنے کے بعد دل نے دوبارہ خواہش کی لیکن وہ اس خواہش کا بری طرح گلا گھونٹ گیا  اب دیکھتے ہیں کب تک شاہ ویر خود پر قابو رکھتا ہے یا در ثمین کب تک اپنی محبت کو نظر انداز کرے گی

در ثمین کی بیٹھے بیٹھے کمر اکڑنے لگی تو انجمن بیگم نے اسکے اترے چہرے کا خیال کرتے ہوئے اسے قندیل اجالا کے ساتھ روم میں بھیج دیا  آپی لیٹ جائے آرام کرلے قندیل نے در ثمین کو احتیاط سے سے بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے کہا قندیل یہ سب پہن کر آرام کیسے کر سکوں گی مجھے یہ اتارنے میں مدد کر دو بہت بھاری پن لگ رہا ہے پھر میں شاور لے کر آرام کر لونگی آج تو شور سے سر میں بھی بہت درد ہورہا ہے میڈیسن بھی لینی پڑے گی ، در ثمین کو اپنا جسم اور سر گرم سا محسوس ہو رہا تھا   درے آپی پہلے ویر بھائی کو تو نظر بھر کر دیکھنے دو ، پھر آپ اتار لینا اور ابھی اتنا ٹائم ہوا نہیں ہے ابھی بس سات بجے ہیں ایک دو گھنٹے میں ویر بھائی بھی اپنے دوستوں کو چھوڑ کر آ جائیں گے ، پھر وہی اتار دیں گے اپنے طریقے سے آپ کا یہ سب سنگھار اجالا نے شوخ لہجے میں کہا تو در ثمین صرف سوچ سے ہی سرخ ہو گئی جبکہ وہ اچھے سے جانتی تھی انکا رشتہ نارمل میاں بیوی جیسا رشتہ ہے نہیں اور اوپر سے آج شاہ ویر کا رویہ در ثمین کو اندر ہی اندر تھوڑا بہت برا لگا تھا

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *