Episode 3 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 3 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 3 part (2)

اچھا ۔۔۔۔ بس کرو لڑنا شادی کے سو کام ہے ڈنر کی بھی تیاری کرنی اجالا صبا میرے ساتھ کچن میں چلو فائز سب کے گفٹ سب کے کمروں میں رکھ آؤ ۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے سب کو کام پر لگاتے ہوئے کچن میں چلی گئی ۔۔۔۔ آپ بھی اٹھیں اور تھوڑا ارام کرلیں ۔۔۔۔۔ کب سے بیٹھے ہوئے ہیں بی جان نے جہانگیر صاحب سے کہا تو وہ بھی اٹھ کر ان کے ساتھ اپنے روم کی طرف چلنے لگیں ۔۔۔ مظفر ذرا میرے روم میں تو ایک پروجیکٹ پر تھوڑا ڈسکس کرنا ہے منور صاحب نے صوفے پر سے اٹھتے ہوئے کہا اور روم میں چلے گئے بھابھی چائے ملے گی دو کپ بھائی کے کمرے میں بھیج دینا آپ ۔۔۔۔ کیوں نہیں مظفر ابھی بھیجتی ہوں ذرا درے بیٹا۔۔۔۔ بی جان اور دادا جان سے بھی چائے کا پوچھ آؤ تو پھر میں سب کے لیے چائے بنا دوں گی انجمن بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جی تائی امی ۔۔۔ در ثمین نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا اور بی جان کے کمرے کا رخ کیا ۔۔۔۔ امی جان میری دریاب بھائی اور ویر بھائی کی بھی چائے بنا دینا بابر نے جاتی ہوئی انجمن بیگم کو کہا ۔۔۔۔ ہاں بیٹا ٹھیک ہے صبا تم ابھی تک یہاں ہو۔۔۔۔ چلو کچن میں شبانہ کی مدد کرو انجمن بیگم نے ٹیڈی بئیر سے کھیلتی صبا کو ٹوکا ۔۔۔۔۔ جی تائی امی ٹیڈی بیئر کو روم میں چھوڑ کر اتی ہوں کچن میں ۔۔۔ صبا اپنا ٹیڈی بیئر اچھالتی ہوئی کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔۔ بابر کے موبائل پر کال آئی تو وہ بھی بات کرنے کے لیے لان میں چلا گیا ۔۔۔۔

 

ویر بھائی بیٹھے آپ سے ضروری بات کرنی ہیں اگر اپ برا نہ مانیں تو دریاب نے شاہ ویر کے پاس بیٹھے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہوں بولو کیا بات کرنی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر مسکرایا۔۔۔۔ وہ مجھے اچھا نہیں لگے گا مطلب یہ کہ اپ مجھ سے بڑے ہیں ہر چیز میں اگے رہے یہ بات میں آپ کو اپنا بڑا بھائی مان کر کہہ رہا ہوں غلط مت سمجھیئے گا۔۔۔۔ شادی پہلے آپ کی ہوئی ہے اور میں چاہتا ہوں جب تک اپ اپنی وائف کے ساتھ ہنی مون ٹرپ پر نہیں جائیں گے تب تک میں اپ کا گفٹ استعمال نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔ دریاب نے وضاحت کی ۔۔۔۔ لیکن ابھی فلحال مجھے لندن میں دو تین پروجیکٹ کمپلیٹ کرنے ہیں اس کے بعد پاکستان ا کر ابو چاچو کے ساتھ بزنس کی نئی برانچ کے لیے اوپن کروانی ہے اور پھر رخصتی اور یہ ٹرپ وغیرہ اس کے بعد اتا۔۔۔۔۔ اور اس میں تو بہت ٹائم ہے تم دونوں جاؤ جا کر انجوائے کرو۔۔۔۔ میری اور درے کی فکر مت کرو۔۔۔۔ اور ایک بات یہ ٹکٹ اسپیشل بک کئے ہے تم دونوں کے لیے ۔۔۔ جب تمہارا دل کرے تب کی ڈیٹ فکس کر کے ایجنٹ سے رابطہ کر لینا ۔۔۔ باقی سب وہ خود مینج کر لیں گے یہاں تک کہ سوزی لینڈ میں تمہاری روم کی بکنگ بھی کر دیں گے شاہ ویر نے بات کو بدلتے ہوئے کہا شاہ ویر اتنے تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی دریاب مسکرایا۔۔۔۔ اچھا تو پھر قندیل سے تو ایک بار پوچھ لینا شاہ ویر نے دریاب کو چھیڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک اور ڈائری۔۔۔ کہتے ہیں ڈائری میں انسان اپنی اچھی باتیں اور لمحات لکھتا ہے لیکن میں نے تمہاری دی ہوئی ڈائریوں میں تمہارے دیے ہوئے دکھوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں لکھا مسٹر شاہ ویر شاہ۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ نہیں اتی مجھے میں تم سے محبت کرتی ہوں یا نفرت۔۔۔۔ کوئی اتنا برا بھی ہو سکتا ہے نکاح جس سے رشتے کو انتقام کی اگ میں جلائے….. میں بھی دیکھتی ہوں اور کتنے سال تک تمہارا انتقام پورا ہوگا تمہاری دی ہوئی ڈائری میں تو میں نے صرف تمہارا انتقام ہی لکھا ہے۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے ڈیوائڈر پر ڈائری رکھ کر خود کو آئینیے میں دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔

 

اور کتنی دیر لگے گی صبا تمہیں تیار ہونے میں۔۔۔۔۔۔ فائز نے قندیل اور صبا کے مشترکہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا کیوں تم نے بھی اپنا میک اپ کروانا ہے ۔۔۔۔۔ صبا نے مکمل تیار ہو کر آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ ناٹ فنی بابر بھائی کو بھیجتا ہوں وہی تم سے اپنا میک اپ کروائیں گے۔۔۔۔ فائز نے صبا پر طنز کیا ۔۔۔۔ زیادہ بابر بھائی کا نام لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ قندیل آپی آپ بھی ریڈی ہو جائیں دریاب بھائی کے بعد آپ کی مہندی کی رسم ہوگی ۔۔۔۔ صبا نے سینڈل پہن کر فائز کے ساتھ روم سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔ مہندی کا فنکشن نیچے لان میں رکھا گیا تھا تینوں کزنوں اور دوستوں کی ہمراہ دریاب کو رسم کے لیے لایا گیا سب نے ملکر دریاب کی رسم ادا کی دریاب کی مہندی کی رسم کا اختتام ہوا اور قندیل کی مہندی کا آغاز ہوا۔۔۔۔ قندیل کو گھونٹ میں سب کزنیں اور دوستیں مل کر لائی رسم کے لیے ۔۔۔۔ اسی دوران دریاب بھی فریش ہو کر مہندی کے رسم کا حصہ بن چکا تھا ۔۔۔ سب نے تھیم میں ہرا رنگ پہن رکھا تھا لڑکوں نے ہرے رنگ کے دوپٹے لیے ہوئے تھے البتہ لڑکیوں نے ہرے رنگ کے لہنگے کے ساتھ میچنگ کی ہوئی تھی اجالہ نے ہرے لہنگے کے ساتھ لال چولی اور لال دوپٹہ کنٹراس لیا ہوا تھا۔۔۔۔۔ صبا نے ہرے لہنگے کے ساتھ سفید کلر کی لانگ کرتی اور ہرا دوپٹہ لیا ہوا تھا اور قندیل تو فل ہرے لہنگے ، ہری چولی اور ہرا دوپٹہ کا گھونگھٹ کے ساتھ اسٹیج پر براجمان تھی ۔۔۔۔ اور در ثمین نے ہرے رنگ کے لہنگے کے ساتھ ہری چولی کے ساتھ سلور کلر کا اپر اور گرین کلر کا دوپٹہ پہنا ہوا تھا بنا میک اپ کے وہ بہت حسین لگ رہی تھی پشت پر اس نے اپنے لمبے بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ سب نے ملکر قندیل کی رسم کی ۔۔۔۔۔۔

 

قندیل کی رسم کے بعد سب کزنوں نے ملکر قندیل کی خواہش پر ڈانڈیا ڈانس کیا۔۔۔۔ ڈانس میں سب جوڑیاں بنے ہوئے تھے اور ہر پانچ سٹیپ کے بعد گھوم کر دوسری جوڑی دار کے ساتھ ڈانس کرنا تھا سونگ پلے ہوا لڑکیاں تو احتیاط سے ڈانڈیا کھیل رہی تھی لیکن لڑکے تو دھما دم مار رہے تھے پانچ سٹیپ کے بعد صبا گھومی فائز اگیا ۔۔۔۔۔۔ فائز اور صبا نے مل کر ڈانڈیوں کے ساتھ ڈانس نہیں بلکہ تلوار بازی کی ، جیسے دونوں ایک دوسرے کو مارنے کا موقع ہی تلاش کر رہے ہو۔۔۔۔۔ فائز کی باری کے بعد صبا گھومی تو بابر اگیا ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ابھی تو بڑے مزے سے ناچ رہی تھی دما دم ڈانڈیا چلائے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔ بابر نے صبا کے چہرے پر سے ہوائیاں اڑتے دیکھ کر کہا ۔۔۔ کیا کروں میں اس ہٹلر کا۔۔۔ آ جاتا ہے میرا خون نچوڑنے صبا نے دانت پیستے ہوئے دل میں سوچا برائی کر رہی ہو نا میری دل میں ۔۔۔۔۔ بابر نے صبا کو چھیڑتے ہوئے کہا اسے کس نے بتا دیا ۔۔۔۔۔ نہ۔۔۔۔۔ نہیں بابر بھائی اپ تو بہت اچھے ہیں آپ کی برائی کرنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا صبا نے جلدی سے صفائی دی اور گھوم گئی بابر بھی مسکرا کر گھوم گیا۔۔۔۔ در ثمین نے دریاب کے ساتھ ڈانڈیا شروع کی تھی دریاب کے بعد اجالا ، اجالا کے بعد فائز اور پھر فائز کے بعد بابر ، بابر کے بعد ادریس بھائی ، ادریس بھائی کے بعد صبا اور پھر صبا کے بعد سب سے اخر میں شاہ ویر سے سامنا ہو گیا اور وہ بنا شاہ ویر کو دیکھ کے ڈانڈیا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ در ثمین کو دیکھ کر شاہ ویر کو پہلے والی در ثمین یاد اگئی جو بات پر کھلکھلا کر ہنستی تھی چوری چوری چھپ چھپ کر اس کو ہی دیکھتی تھی۔۔۔۔۔ اور بہانے بہانے سے شاویر کے سارے کام خود کیا کرتی تھی اور اس دوران اس نے کتنی نادانیاں بھی کی تھی یہ سب سوچ کر شاہ ویر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔۔۔

 

اور اب اسکے برعکس اتنی اداس شاہ ویر نے دل میں سوچا۔۔۔۔ اجالا نے دونوں کو جوڑی میں ایک ساتھ ڈانس کرتا دیکھ سب کا ڈانس رکوا دیا۔۔۔۔ اور سب کو دائرے کی صورت بنا کر در ثمین اور شاہ ویر کے گرد ڈانڈیا کرنے کو کہا ۔۔۔۔ سب کو اپنے ارد گرد ڈانس کرتا دیکھ پہلے تو در ثمین حیران ہوئی پھر مسکرانے لگی۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا تم سب کو اپنی جگہ پر ڈانس نہیں کیا جا رہا تھا۔۔۔ شاویر نے مسکرا کر کہا ، شاہ ویر کی بات پر در ثمین نے نظر اٹھا کے شاہ ویر کو دیکھا جہاں سب کچھ نارمل تھا ۔۔۔۔ اگر دل میں کچھ ہے ہی نہیں تو ایسی بات کرنے کا مطلب۔۔۔۔۔ در ثمین نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔ اوہو تو اپ کو پرائیویسی چاہیے تھی ۔۔۔۔ اجالا نے زو معنی انداز میں کہا۔۔۔۔۔ اگر ایسی بات ہے تو سالے صاحب رخصتی کیوں نہیں کروا لیتے پھر تو آپ ہی آپ ہوں گے ادریس نے شاویر کو چھیڑا🤭 میں مذاق کر رہا تھا اپ دونوں تو سیریس ہی ہو جاتے ہیں شاویر نے مسکراتے ہوئے وضاحت کی۔۔۔۔۔ میں قندیل آپی کو بلا کر لاتا ہوں پھر دریاب بھائی اور قندیل آپی کے ساتھ بھی سیم ٹو سیم سب دائرہ بنا کر ڈانڈیا کریں گے۔۔۔۔۔ فائز نے اجالا سے کہا اور تھوڑی دیر میں وہ قندیل کو اسٹیج پر لے ایا۔۔۔۔۔ یہ کیا گھونگھٹ میں ڈانڈیا کرے گی چلا تو جاتا نہیں ان سے دیکھ کر دریاب نے گھونگٹ میں کھڑی قندیل کو دیکھ کر کہا ایک تو اس کی پرابلم ہے کیا سمجھ نہیں آتی کبھی کچھ کبھی کچھ۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کے بات سن کر دل میں سوچا ہاں یہ بات تو ہے اجالا نے کہا۔۔۔۔۔ اچھا تم دونوں ایسا کرو آرام سے کھڑے رہو دل کرے تو تالیاں بجا لو ۔۔۔۔۔ ہم سب دائرہ بنا کر ڈانڈیا ڈانس کرتے ہیں شاویر نے اس مشکل کو حل کرتے ہوئے کہا اور یوں پہلے سب کزنوں نے ڈانس کیا پھر اہستہ اہستہ صبا سب کو کھینچ لائی اسٹیج پر اور پھر یوں مہندی کا پروگرام اپنے اختتام پر پہنچا ۔۔۔۔۔۔لڑکیاں تو سب مہندی لگوانے میں مصروف ہو گئی اور لڑکے سب بارات کے انتظامات میں لگ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *