ناول
میجک وائس
رائیٹر
مشی علی شاہ
Don’t copy without my permission
Episode 3
ملک ہاؤس میں عالیان کی شادی کی تیاریاں ہونے لگیں تھیں۔۔۔وہ لڑکی ایک ٹیچر ہونے کے ساتھ بہت خوبصورت تھی بالکل اپنے نام کی طرح ساحرہ۔۔۔جب شادی کی بات ہو رہی تھی تو عالیان اپنے عزیز دوست بشر کو کیسے بھول سکتا تھا۔۔۔عالیان نے بشر کو انوائٹ کیا تو بشر نے دل پر پتھر رکھ کر شادی میں ضرور آنے کا عندیا دے دیا۔۔۔اسی دوران بشر کو ایک بے حد اہم بات پتہ چلی ۔۔۔وہ یہ کہ عالی کی اپنے نام کی آئی ڈی ہے جیسے بشر نے خود سرچ کی تو وہ بالکل عالیان کی آئی ڈی سے الگ تھی لیکن فیس بک پر بھیجی گئی ساری پکچرز عالیان کی تھی۔۔۔مگر اس کا پروفیشن ڈیٹ آف برتھ کسی اور کا تھا۔۔۔پروفیشن کے حساب سے ابھی وہ پڑھ رہا تھا اور ڈیٹ آف برتھ بھی 2001 کے قریب تھی۔۔۔جبکہ عالیان کی ڈیٹ آف برتھ تو 1997 تھی اور اسکا پروفیشن گورنمنٹ ٹیچر جو کہ وہ ہے۔۔۔بشر کو اب یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ عالیان کو کیا ضرورت پڑی ڈبل ای ڈی کی
۔۔۔چلو مان لیتے ہیں کہ اگر یہ آئی ڈی اس کی نہیں تو پھر کس کی ہے۔۔۔اور پھر عالی کی آئی ڈی پر عالیان کے ساتھ اس کے تینوں بھائی کے کمنٹ بھی تھے جس کا مطلب تھا کہ عالیان جانتا ہے وہ کس کی آئی ڈی ہے۔۔۔بشر نے کبریٰ کے دیے گئے عالی کے نمبر پر کال ملائی تو کسی لڑکے نے فون اٹھایا تھا۔۔۔لڑکے کی آواز سن کر بشر نے کال کاٹ دی۔۔۔اب بشر نے عالیان کو کال کی تو بشر کو اندازہ ہوا کہ اس لڑکے اور عالیان کی آواز میں بہت فرق ہے۔۔۔عالیان ویسے وہ تمہارا زونگ والا نمبر آن ہے یا پھر بند کر دیا ہے اسے۔۔۔بشر نے باتوں باتوں میں عالی کے نمبر کے بارے میں پوچھا۔۔۔یار یہ زونگ کا نمبر تمہارے پاس کیسے آیا۔۔عالیان حیران تھا۔۔۔یار ایک بار تو نے خود تو کال کی تھی اس نمبر سے۔۔۔بشر نے بہانہ بنایا۔۔۔
اچھا میں نے کی تھی۔۔۔چلو کوئی بات نہیں ویسے یار یہ نمبر گھر والوں کے پاس ہوتا ہے۔۔۔عالیان نے مسکرا کر کہا۔۔۔اچھا پھر میں بعد میں بات کروں گا خدا حافظ۔۔۔بشر نے کہا تو عالیان نے بھی اسے خداحافظ کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔گھر میں کون ہوگا۔۔۔گھر کا مطلب تو امی اور بہنیں ہوتا ہے مگر وہ تو لیڈیز ہیں اور کال پر تو کسی جینٹس کی آواز تھی۔۔۔یعنی مجھے شادی میں جانا چاہیے تاکہ سونیا کے قاتل کا چہرہ سب کے سامنے لا کر اسے سبق سکھا سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جان بوجھ کر مایوں سے شریک ہوا تھا۔۔۔ مایوں کی رسم کے دوران اسے بس دو منٹ کے لئے اندر بلایا گیا تھا۔۔۔وہ اندر لیڈیز میں آنا نہیں چاہتا تھا مگر عالیان کے مجبور کرنے اور قاتل کی تلاش کی وجہ سے وہ رسم کرنے آیا تھا۔۔۔کئی عورتوں اور لڑکیوں کی نظر اس پر اٹھی تھی اس کی وجاہت اور خوبصورتی کو دیکھنے کے لئے مگر وہ سب کو نظر انداز کرکے رسم کرنے لگا۔۔۔امی عالیہ کہاں ہے۔۔۔رسم ختم ہونے والی ہے۔۔۔تبھی عالیان نے مسکرا کر نائلہ سے شکوہ کیا۔۔۔او مائے گاڈ بھائی کتنی جلدی مچاتے ہیں۔۔۔عالیہ اچانک سے نمودار ہوئی تو بشر کی نگاہ ایک لمحے کے لئے عالیہ پر رک گئی۔۔۔واقعی وہ بہت خوبصورت تھی اپنے نام کی طرح اس کے کافی نین نقش عالیان جیسے تھے۔۔۔کسی کی نظروں کی تپش اسے خود پر محسوس ہوئی تو وہ فورا اسے دیکھنے لگی وہ کوئی اور نہیں اس کے بھائی کا بہترین دوست تھا جو شاید رسم کرنے اندر آیا تھا ایک لمحے کے لئے دونوں کی نگاہیں ملی تھیں تو بشر مسکرا کر نظریں جھکا کر رسم کرنے لگا جب کہ عالیہ کی آنکھیں بشر کا طواف کرنے لگی بشر کی شخصیت کے سامنے نے عالیان کی وجاہت بھی کم پڑ رہی تھی ہوئی تھی بشر کا سفید رنگ آنکھوں میں ٹھہرا پانی لبوں پر قاتل مسکراہٹ وہ صرف اپنے حسن سے ہی کسی کو قتل کرنے کا ہنر جانتا تھا۔۔۔۔رسم کرنے کے فورا بعد وہ گھر سے چلا گیا اس کے ساتھ ہی عالیہ کو اپنا دل جاتا محسوس ہو رہا تھا کچھ لمحوں کے لیے عالیہ اس کے سحر میں جکڑ گئی تھی یہ عالیہ کی سوچ تھی۔۔۔۔ کیونکہ بشر کے سحر میں جو ایک بار جکڑتا ہے وہ ساری زندگی اس کے سحر میں قید ہو کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔وہ ان کے گیسٹ ہاؤس میں رہ رہا تھا اس نے عالی کے نمبر پر کال ملائیں۔۔۔۔۔
پھر کسی لڑکے کی آواز پا کر اس نے کال کاٹ دی۔۔۔۔۔ تب ہی عالی کے نمبر سے خود کال آنے لگی۔۔۔۔اس نے ریجیکٹ کر دیں تب ہی دوبارہ کال آگئی۔۔۔۔تو اس نے یس کر کے موبائل کان پر لگالیا۔۔۔۔۔او ہیلو بھئی کون ہو۔۔۔۔۔کیوں بار بار کال کر رہے ہو۔۔۔۔ کوئی کام ہے۔۔۔۔ آئندہ کال کی نہ تو گھر آکر ماروں گا اس نے بشر کو کھری کھری سنا کر کال کاٹ دی۔۔۔
آج مہندی تھی مہندی ہال میں رکھی گئی تھی جہاں دیر رات کو فنکشن بھی ہونا تھا۔۔۔۔ مہندی کی رسم شروع ہو چکی تھی تب ہی گانوں اور فائرنگ کی گونج میں عالیہ اور سہیلیاں مہندی لے کر ہال میں داخل ہوئی عالیہ نے سی گرین کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔ ایک پل کے لیے عالیہ اور بشر دونوں کی نگاہیں ملی تھی۔۔۔۔مگر دوسرے ہی پل بشر نے مسکرا کر نگاہیں ہٹالی۔۔۔۔جب کہ عالیہ تو وہیں رک کر اس کی مسکراہٹ میں کھو گئی تھی۔۔یہ بات بشر نے بھی نوٹ کی کہ وہ بنا پلک جھپکائے اسے دیکھ رہی ہے۔۔۔۔ عالیہ۔۔۔۔ آگے بڑھو ویڈیو بن رہی ہے۔۔۔ہمارے جیجا کو بعد میں دیکھ لینا تب ہی ایک لڑکی نے عالیہ کو کندھا مارتے ہوئے کہا۔۔۔تو عالیہ جیسے دنیا میں آئی ہو۔۔۔۔ اور وہ اپنے خفت کو چھپانے کے لئے فورا چلنے لگی۔۔۔مہندی اسٹیج پر آ چکی تھی جو کہ عالیہ اور اسکی دوستوں نے سیٹنگ سے سجا دی۔۔۔۔ اب لڑکوں کی باری تھی انہوں نے بھی گانوں اور فائرنگ کی گونج میں عالیان کے ساتھ انٹری لی عالیان بشر کا ہاتھ تھامے چلتا ہوں اسٹیج پر رسم کے لئے آگیا تھا۔۔۔۔۔ مہندی کی رسم کا آغاز ہو گیا تھا ایک ایک کر کے حال کے سب ہی مہمان رسم کر چکے تھے عالیہ بھی مسکراتے ہوئے اپنا لہنگا سنبھالتے ہوئے رسم کر کے اسٹیج سے اتر ہی رہی تھی۔۔۔۔ کہ اس کا لمبا دوپٹہ اس کے پاؤں کے نیچے دب گیا اب ہی وہ منہ کے بل گرنے ہی والی تھی کہ بشر نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر گرنے سے
بشر نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر گرنے سے بچا لیا۔۔۔۔عالیہ نے گرنے کے ڈر سے آنکھیں زور سے بند کر رکھی تھی۔۔۔۔ جو کہ بشر کو مسکرانے پر مجبور کر گئی
سنبھال کر چلے ۔۔۔۔بشر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو عالیہ نے فورا آنکھیں کھول کر بشر کو ایسے دیکھا جیسے اس کی بینائی اور سماعت ابھی آئی ہوں۔۔۔بشر کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر عالیہ کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی تھی۔۔۔۔تم ٹھیک ہو نا عالیہ۔۔۔۔حدید نے حالیہ کا ہاتھ بشر کے ہاتھوں میں سے لے کر کہا۔۔۔۔۔ج۔۔۔۔۔ جی بھائی۔۔۔۔ عالیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ یار تھینکس۔۔۔۔۔حدید نے بشر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔۔تو بشر مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔ جب کہ عالیہ کو اب تک خود پر یقین نہیں ہو رہا تھا اس کی یہ ہاتھ کچھ دیر پہلے بشر کے ہاتھوں میں تھے۔۔ ۔۔ عالیہ اپنی اس کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا وجہ ہے کہ جو وہ بشر کی طرح کی کھینچی چلی جارہی ہے
۔۔۔۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی اس کا موبائل بجا۔۔۔۔تو وہ موبائل لے کر واش روم کے ایگزیٹ ایریا کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
سارے مہمان ہال میں تھے بشر کو یہ موقع صحیح لگا تھا اس قاتل کو پہچاننے کا بشر نے عالی کو کال ملائی۔۔۔۔اور حال میں بیٹھے سب آدمی اور لڑکوں کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔ ہیلو کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔کال یس ہو چکی تھی۔۔۔۔بشر یہ دیکھ کر حیران تھا۔۔۔ کہ کسی آدمی کے کان پر موبائل نہیں لگا تھا۔۔۔۔ اس نے کال کاٹ دی۔۔۔ یعنی کہ گھر کا کوئی آدمی نہیں ہے قاتل۔۔۔۔یہ قاتل کوئی اور ہے۔۔۔یعنی کیا عالی نے مجھ سے جھوٹ بولا ۔۔۔۔کہ یہ نمبر گھر والوں کے استعمال میں ہے۔۔۔۔۔ یہ سوچ کر بشر کو اس قدر غصہ آ رہا تھا کہ اس نے عالی کا نمبر ملایا اور اسے کھری کھری سنانے کا سوچا یہ سوچتے ہیں وہ ہال کہ واش روم ایریا کی طرف آ گیا۔۔۔۔۔یہاں گانوں کی آواز کم آ رہی تھی۔۔۔ہیلو۔۔۔۔کال یس ہوتے ہیں یہ الفاظ سنائی دیے۔۔۔۔ ابھی بشر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ عالیہ کان پر موبائل لگائے واش روم کی طرف ہی آ رہی تھی۔۔۔۔او ہیلو کچھ تو بولو۔۔۔۔کون ہو تم سامنے عالیہ کے لب عالی کی آواز کے ساتھ ہی ہل رہے تھے یہ بات بشر کے لئے بہت حیران کن تھی بشر نے فورا کال کاٹ دی یہ دیکھنے کے لئے اگر یہ بات کرنے والی عالیہ ہے تو اس کی کال بھی کٹ جائے گی اور وہی ہوا عالیہ نے منہ بنا کر موبائل کو دیکھا۔۔۔۔ لوزر۔۔۔۔ عالیہ مسکرائی۔۔۔۔بشر نے دوبارا کال ملائیں عالیہ ابھی جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی۔۔۔ اس نے کال کرکے موبائل کان پر لگایا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی۔۔۔بشر بول پڑا ہے۔۔۔ہیلو سوئیٹی بشر اپنا رخ موڑ کر چلنے لگا۔۔۔۔عالیہ حیران تھی کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ لڑکی ہے وہ تو بڑے احتیاط کے ساتھ یہ کام کرتی تھی۔۔۔ اوپر سے کال کرنے والے کی آواز میں بڑی جان لیوا تھی۔۔عالیہ کے پسینے چھوٹنے لگے۔۔۔مین وائس ہونے کے باوجود بھی عالیہ کے منہ سے ایک الفاظ بھی نہیں نکلا عالیہ نے کال کاٹ دی۔۔۔ جب کہ بشر نے جاتے جاتے منہ موڑ کر عالیہ کے بدحواس چہرہ دیکھا اور وہاں سے مسکرا کر چلا گیا۔۔۔جبکہ عالیہ خود کو سنبھالتے ہوئے سب کے درمیان آ تو گئی تھی مگر دیہان سارا اس کال کرنے والے پر تھا اسی وجہ سے وہ ڈھنگ سے فنکشن بھی انجوائے نہ کر پائی۔۔۔۔
بشر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عالیہ سونیا سے عالی بن کر بات کرتی اور وہی سونیا کی موت کی وجہ ہے بشر کو عالیہ پہلے دن جتنی خوبصورت لگ رہی تھی آج اتنی ہی بد صورت لگ رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عالیہ کو اس کے ہی دوپٹے سے ب پھانسی پر لٹکا دے وہ لٹکا بھی دیتا پھر چاہے اسے عمر قید کی سزا ملتی پر اس کا بدلہ تو ختم ہوتا مگر یہ سزا تو عالیہ کے لئے اسے کم لگی۔۔۔۔ بہت سوچنے کے بعد اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ عالیہ حسیب کو محبت کی مار مارے گا ۔۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے اس نے سونیا کے ساتھ کیا تھا۔۔۔۔ تاکہ آئندہ کوئی لڑکی عالیہ بننے کا سوچ بھی نہ سکے وہ عالیہ کی آنکھوں میں خود کے لیے پسندیدگی دیکھ چکا تھا ۔۔۔ اس نے دوبارہ عالیہ کو کال ملائی۔۔۔۔ جو کہ عالیہ نے ریجیکٹ کر دی بشر نے ہار نہیں مانی ساری رات اسے کال کر کے پریشان کرتا رہا۔۔۔
جس سے تھک ہار کر صبح عالیہ نے بات کرنے کا سوچا ہی تھا کہ کال آگئی عالیہ نے کال یس کر کے موبائل کان پر لگایا۔۔۔۔۔گڈ مارننگ سویٹی۔۔۔بشر نے کہا تو ایک لمحہ عالیہ اس کی مردانی آواز کے سحر میں ڈوب گئی۔۔۔او۔۔۔ہیلو مسٹر۔۔۔یہ میرا نمبر ہے آپ کی گرل فرینڈ کا نہیں اور میرا نام سویٹی نہیں عالی ہے۔۔۔ سمجھ آئی آپ کو۔۔۔عالیہ نے خود کو سنبھالا۔۔۔اپنا نام اور آواز جتنی بار بدلنی ہے بدل لو۔۔۔مگر اندر سے تو تم ایک لڑکی ہی رہوں گی ناں۔۔۔بشر نے مذاق اڑا کر کہا تو عالیہ کو اپنے اوپر آسمان ٹوٹتا محسوس ہوا۔۔۔واٹ ڈو ہو مین۔۔۔میں ایک لڑکا ہوں اور لڑکا ہی رہوں گا۔۔۔چاہے تو میری فیس بک یا انسٹا پر آئی ڈی بھی دیکھ سکتے ہو۔۔۔عالیہ نے دوبارہ خود کو سنبھال کر دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔اچھا۔۔۔اتنے ہی بڑے لڑکے ہو تو تم آؤ مجھ سے ملنے وہ بھی اکیلے میں۔۔۔آج کل نوابشاہ میں ہی ہوں۔۔۔بشر نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر معنی خیز لہجے میں کہا۔۔۔تو عالیہ شرم سے پانی پانی ہوگئی۔۔۔وہ بھی لڑکا بن کر بات کرتی تھی مگر اس نے کبھی ایسی بات لڑکیوں سے نہیں کی تھی۔۔۔وہ تو ایسی باتوں سے دور بھاگتی آئی تھی لیکن آج اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ لڑکے کس طرح بات کرتے ہیں۔۔۔کہ اگلے کسی بندے کے پاس کوئی لفظ ہی نہیں بچتے بولنے کے لیے۔۔۔اب۔۔۔اب اتنے بھی تم حسین یا ضروری نہیں کہ میں تم سے ملنے آؤ۔۔۔بدتمیز انسان۔۔۔عالیہ نے ہمت کرکے کہا۔۔۔اس کے لئے تو تمہیں مجھے دیکھنا پڑے گا۔۔۔اور دیکھنے کے لیے مانا پڑے گا۔۔۔اور ملنے کے لیے تو۔۔۔تم سمجھ گئی ہو ناں۔۔۔مطلب اکیلا آنا پڑے گا۔۔۔بشر اس کی ساری ہمتوں کو توڑنا چاہتا تھا۔۔۔ویسے آج میں بھی اسی شادی میں انوائیٹ ہوں جہاں تم اپنے حسن کے جلوے بکھیرنے والی ہو۔۔۔شیٹ اپ۔۔۔ہو کون تم۔۔۔ایک بار اپنا نام بتاؤ۔۔۔اگر تمہاری چمڑی نا ادھڑوادی تو کہنا۔۔۔جانتے نہیں ہو تم کہ میں ہوں کون۔۔۔اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسے بات کرنے کی۔۔۔اگر اپنی زندگی پیاری ہے تو آئندہ مجھے کال مت کرنا۔۔۔فضول انسان۔۔۔عالیہ نے بشر کی بات کاٹی اور اسے کھری کھری سنا دی۔۔۔کیونکہ اسے اپنی عزت بہت پیاری تھی۔۔۔جو کہ اس لڑکے نے دو ٹکے کی کر دی تھی۔۔۔کال بند کرنے کے بعد بھی وہ پریشان رہی کیونکہ ان کا رات کا پروگرام تھا۔۔
عالیان کی بارات شام کی تھی۔۔۔شام کو وہ بارات لے کر ہال میں پہنچے گئے۔۔۔ان کا بہت شاندار استقبال ہوا تھا۔۔۔مگر اس کے چہرے پر سے رونق غائب تھی۔۔۔جو کہ بشر نے بھی نوٹ کی۔۔۔آج اس نے بلو لونگ شرٹ کے ساتھ بلو پاجامہ اور دوپٹہ زیب تن کیا ہوا تھا۔۔۔اس قدر پریشان ہونے کے باوجود بھی اس کا حسن غضب ڈھا رہا تھا۔۔۔جو کہ بشر کے دل کو اور جلا رہا تھا۔۔۔عالیہ بشر کے علاوہ ہر لڑکے کو خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی۔۔۔کہ تبھی بشر جان بوجھ کر اس سے ٹکرایا۔۔۔اوہ۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔۔بشر نے فوراً کہا تو۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔عالیہ کے چہرے کے رنگ بدلے۔۔۔آپ مجھے پریشان لگ رہی ہیں اینی پرابلم۔۔۔بشر نے بات بڑھائی۔۔۔ہا۔۔۔ں نہیں تو۔۔۔عالیہ کی مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی۔۔۔اچھا۔۔۔آپ کی انگیجمینٹ ہو گئی ہے۔۔۔بشر نے بات بنائی۔۔۔جی۔۔۔عالیہ نے حیران ہوتے ہوئے جی پر زور دے کر کہا۔۔۔یعنی کہ آپ انگیج ہیں۔۔۔بشر نے فورا کہا اور مڑنے ہی لگا تھا کہ عالیہ فوراً بولی۔۔۔ارے آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔مطلب آئی ایم نوٹ انگیج۔۔۔اور آپ۔۔۔عالیہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔۔۔تھا مگر اب نہیں۔۔۔بشر نے دانت پیس کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔تب ہی نکاح کا شور مچ گیا۔۔۔تو وہ دونوں اپنے اپنے راستے چلے گئے یہ سوچ کر کہ آگے کا راستہ بالکل صاف ہے۔۔۔
نکاح کے بعد کھانے کا دور چل گیا۔۔۔ اس انجان نمبر اور انجان شخص کے بارے میں سوچ سوچ کر عالیہ کے سر میں درد ہونے لگا تھا تو ساحرہ کی والدہ نے اسے ویٹنگ روم میں کچھ دیر آرام کرنے کا مشورہ دے دیا جس پر اس نے فوراً عمل کیا۔۔۔ویٹنگ میں داخل ہونے کے دو دروازے تھے ویٹنگ روم میں کچھ بڑے سائز کے صوفے رکھے ہوئے تھے اور بالکل خالی تھا تو عالیہ آرام سے صوفے پر آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی۔۔۔ابھی اسے لیٹے ہوئے کچھ لمحے ہی گزرے تھے کہ اس پر نیند کی دیوی مہربان ہوگئی۔۔۔تم آگئی مجھ سے ملنے۔۔۔بشر جو اس کی جاسوسی کرنے میں لگا ہوا تھا اسے اکیلا دیکھ مین سوئچ بورڈ سے ویٹنگ روم کی لائٹ آف کر کے اندر اس کے پاس آ کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔لمحہ نہیں لگا تھا عالیہ کی نیند اڑنے میں۔۔۔جیسے ہی اس کی آنکھ کھلی چاروں طرف چھائے اندھیرے نے اس کی آدھی جان نکال دی۔۔۔ک۔۔۔کون۔۔۔عالیہ نے آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔میں ہوں سویٹی۔۔۔بشر نے کہا تو عالیہ زور زور سے چلانے لگی۔۔۔بشر بس اس کو ڈرانا چاہتا تھا۔۔۔جو کہ ہو چکا تھا اس لیے وہ وہاں سے لائٹ آن کر کے فوراً نکل گیا۔۔عالیہ آنکھیں بند کیے چیخنے چلانے میں لگی ہوئی تھی کہ اچانک لائٹ آن ہونے پر اس نے اپنے ارد گرد نظریں دوڑائی تو ویٹنگ روم خالی پایا۔۔۔۔۔اس نے لمحہ نہیں لگایا وہاں سے بھاگنے میں وہ پیچھے دیکھ کر آگے کی طرف بھاگتی ہوئی جا رہی تھی سامنے سے آتے بشر سے ٹکر ہو گئی۔۔۔سنبھال کر۔۔۔۔۔بشر نے دور ہو کر کہا۔۔۔س۔۔۔سوری۔۔۔عالیہ نے خود کو سنبھالا۔۔۔۔۔ خیریت ہے آپ ایسے کیوں بھاگی جارہی ہو جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔۔۔بشر کو انجانی سی خوشی مل رہی تھی اس کے چہرے پر ڈر دیکھ کر۔۔۔۔ج۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔۔ن۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔عالیہ ہکلائی۔۔۔۔۔۔مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کو کسی نے ڈرایا ہے۔۔۔۔۔۔بشر نے ہنسی چھپائی۔۔۔۔۔ن۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے جانا ہے امی بلارہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔عالیہ نے زبردستی اپنا ڈر چھپا کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔اور چلی گئی۔۔۔۔

