ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 29 part (2)
۔ سو۔۔۔۔۔سوری زیادہ تو نہیں لگی دریاب نے فوراً کہا ۔۔۔۔ اتنی بھوک لگی تھی میری انگلی کھا گئے آپ قندیل رونی صورت بنائے روانی میں بول گئی جبکہ قندیل کی بات سن کر سب کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا ۔۔۔ دریاب اپنی ہنسی ضبط کر گیا قندیل کی انگلی سرخ ہو چکی تھی اور انکھیں تھی برسنے کے لیے تیار تھی آپی میک اپ خراب ہو جائے گا رونا نہیں صبا نے ہنسی روکتے ہوئے قندیل کو یاد دلایا تو وہ منہ بنائے دریاب کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔۔۔ یار سچ میں جان بوجھ کر نہیں کیا سوری دریاب نے آہستگی سے قندیل کی انگلی کو اپنی انگلی کے پوروں سے سہلاتے ہوئے کہا ویسے دریاب بھائی کیا ویڈیو بنی ہے میں ابھی شاہ ویر بھائی کو دکھا کر آتا ہوں فائز نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ فائز۔۔۔۔ دریاب نے گھورا تو وہ دبی ہنسی ہنسنے لگا ، دریاب میرا پیٹ بھر گیا ہے تم دونوں کھاؤ کھانا ۔۔۔۔۔ در ثمین نے کہا مجھے بھی نہیں کھانا قندیل نے منہ بناتے ہوئے آہستگی سے کہا۔۔۔۔۔ مجھے بھوک لگی ہے مجھے تو کھلا دو سکون جاناں دریاب نے قندیل کی طرف جھکتے ہوئے کہا جو صرف اس نے سنا قندیل اپنی انگلی کے درد کو نظر انداز کرتے ہوئے لقمہ بنا کر اسے کھلانے لگی ، دریاب گہری نظروں سے قندیل کا جائزہ لے رہا تھا جبکہ قندیل سب کے سامنے پزل ہورہی تھی اب کی بار دریاب بہت احتیاط سے لقمے کھا رہا تھا چھ سات لقموں کے بعد دریاب نے قندیل کو روک دیا تھا قندیل نے ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کئے فائز یار ۔۔۔۔ بابر کو بلاؤ یہ ٹرالی کو لے کر جاؤ اور اعجاز ماموں کو بھی لے آنا ۔۔۔۔۔ دریاب نے فائز کو اواز دے کر ہدایت دی ، لیڈیز ایریا میں بیٹھی تمام لیڈیز دریاب کی قندیل کے لیے محبت کو دیکھ کر اس کی قسمت کو داد دے رہی تھی۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد فائز اور اعجاز صاحب لیڈیز ایریا میں ایک ساتھ آتے دکھائی دیے ۔۔۔۔۔در ثمین کو اتنے سال بعد دیکھ کر اعجاز صاحب کو اپنی مرحومہ بہن راحیلہ یاد آگئی انھوں نے در ثمین کا ماتھا چوم کر اسے اپنے گلے سے لگا گئے۔۔۔۔۔ ہمیشہ خوش رہنا ، کبھی کوئی مسئلہ یا پریشانی ہو تو ماموں کو بتانے لائق لگے تو میں ہمیشہ تمھارے لئے حاضر ہوں ، اعجاز صاحب در ثمین کو گلے لگائے بہت پیار سے سمجھا رہے ، اعجاز صاحب کے گلے لگتے ہی در ثمین کو اپنائیت کا احساس ہورہا تھا اسکی آنکھیں بھرنے لگی اسکے ننھیال میں سے ایک واحد اعجاز صاحب ہی تو تھے ۔۔۔۔۔۔ مجھے معاف کرنا بیٹا مجھ سے کبھی کوئی غلطی ہوئی ہو شاہ حویلی والوں سے بڑھ کر تم میں بھی کبھی تم دونوں کا خیال نہیں رکھ پاتا شاہ حویلی والوں کے مجھ پر بہت احسان ہے بی جان آپ کا بہت احسان ہے آپ نے میری مرحومہ بہن کے جانے کے بعد بھی ان کے بچوں کا خیال کیا ،عزت دی ، پیار دیا ، بشرطیکہ کوئی کمی نہیں چھوڑی آپ نے ۔۔۔ انجمن آپا شبانہ آپا آپ دونوں بہنوں کی محبتوں کا شکریہ شاہ ویر اور قندیل جیسا ہم سفر تو میں بھی ان کے لیے ڈھونڈنے سے قاصر ہو جاتا ۔۔۔۔۔۔۔ اب میں بہت سکون سے ہوں کہ بچے شادی کرکے بھی آپ سب کے پاس اور ساتھ رہے گے وہ کبھی اکیلے نہیں پڑے گے ، شاہ حویلی کے احسانات یاد کر کے اعجاز صاحب کی آنکھیں نم ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ یہ کیا بات کر دی اعجاز بیٹا آپ نے بیگانوں والی دریاب اور در ثمین راحیلہ کے ساتھ ہمارے لخت جگر حیدر کی بھی اولاد ہے ہم کیسے نہ ان کی حفاظت کرتے کیسے دور کرتے خود سے جب کہ یہ دونوں تو ہمارے جینے کی وجہ ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ کی یہ بات بجا ہے کہ ہماری دونوں بہوئیں ماشاءاللہ بہت نیک اور نرم دل کی مالک ہیں ان کی بات کریں انہوں نے کبھی اپنے بچوں میں اور ان بچوں میں فرق نہیں کیا بی جان نے انجمن بیگم اور شبانہ بیگم کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا جو باقاعدہ رو رہی تھی۔۔۔۔۔ماموں دیکھیں در ثمین بھی رو رہی ہے دریاب نے اعجاز صاحب کا دھیان در ثمین کی طرف دلایا تو وہ مسکرا گئے در گڑیا رونا نہیں میک اپ خراب ہو جانا اعجاز صاحب نے در ثمین کے سر پر لب رکھ کر اسے دلاسا دیا تو وہ اور سسک پڑی اسے کہا میک اپ کی پرواہ تھی وہ تو چاہتی تھی اسکا میک اپ خراب ہو جائے۔۔۔۔۔ قندیل بیٹا سنبھالو بہن کو اعجاز صاحب نے کہا تو قندیل در ثمین کو بٹھائے چپ کروانے لگی جبکہ اس کے خود کے انسو بند نہیں ہو رہے تھے۔۔۔۔ اجالا اور صبا نے آگے بڑھ کر دونوں کو چپ کروانے لگی ، اچھا بی جان مجھے اجازت دے میں انشاء اللہ پھر آؤں گا دور الامان کے بہت کام ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ کی بیٹا ہم آپ کے کام سے بہت خوش ہے اللّٰہ تعالیٰ آپکی حفاظت کرے آپ کے کام میں خیر و برکت دے آمین بی جان نے اعجاز صاحب کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے دعا دی پھر کب آئیں گے ماموں دریاب نے پوچھا تم چاہو تو نو مہینے بعد تمہارے بچے کے عقیقے میں آسکتا ہوں لیکن مجھے بلانے کے لیے تمہیں محنت کرنی پڑے گی بہت ۔۔۔۔۔ اعجاز صاحب نے اس کے کان کے قریب جھکتے ہوئے مذاق کیا جو صرف اس نے سنا ماموں یار دریاب نے بالوں میں ہاتھ چلا کر اپنی شرم چھپانی چاہی برخوردار تم تو پہلے دن کے دولہے کی طرح شرما رہے ہو اعجاز صاحب نے ہنستے ہوۓ کہا نہیں ماموں کوششیں جاری ہیں انشاءاللہ محنت بھی جلدی رنگ لائے گی دریاب نے اپنی خفت مٹانے کے لیے بے باک جملہ ادا کیا تو دریاب اور اعجاز صاحب کا مشترکہ قہقہہ بلند ہوا اعجاز صاحب سب سے اجازت لیتے ہوئے اور محبتیں بانٹتے ہوئے اپنی منزل پر روانہ ہو گئے شاہ ویر کی آمد کا سن کر قندیل نے در ثمین کے چہرے پر آرگنزہ دوپٹہ واپس ڈھک دیا تھا شاہ ویر ادریس اور بابر کے ہمراہ لیڈیز ایریا میں داخل ہوا تو قندیل اجالا ، صبا اور اس کی سہیلیوں نے گلاب کے پھولوں سے ان کا ویلکم کیا شاہ ویر مسکرا کر سب کو نظر انداز کرتا ہوا دور سے ہی در ثمین کو آنکھوں میں قید کی اسٹیج پر پہنچا ، شاہ ویر نے محسوس کیا جتنی وہ دور سے حسین لگ رہی تھی اس سے کہیںزیادہ پاس آنے پر اس کا حسن دو بالا ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ در ثمین کو سب سے چھپا کر خود میں قید کر لے در ثمین کی پلکیں ہنوز جھکی ہوئی تھی مگر شاہ ویر کی نظروں کی تپش وہ اس کے لیڈیز ایریا میں انٹر کرتے ہی خود پر محسوس کر چکی تھی شاہ ویر درثمین کے بالکل برابر میں بیٹھ چکا تھا دونوں کے ساتھ بیٹھنے کی دیر تھی بابر نے کئی نوٹ ان پر اڑائے انجمن بیگم بی جان شبانہ بیگم نے اسٹیج پر آ کر دونوں کے باری باری ماتھے چوم کر ان کو دعائیں دی۔۔۔۔۔ دریاب بھی ایک فریم لئے اسٹیج پر آ چکا تھا ، ویر درے سب جانتے ہیں آپ دونوں کا نکاح سات سال پہلے ہو چکا ہے لیکن میں چاہتا ہوں آپ دونوں ایک بار پھر ایک دوسرے کو قبول کریں اور نئی زندگی کی شروعات کرے دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا کیونکہ در ثمین کی شاہ ویر سے بدگمانی کو وہ بہتر جانتا تھا۔۔۔۔۔۔ مطلب کیا کرنا ہے ہمیں شاہ ویر نے پوچھا ،میں قاضی کی طرح بنوں گا نکاح پڑھوں گا اپنے قبول ہے کہنا اور یہاں فنگر پرنٹ لگانا ہے دریاب نے شوخ لہجے میں کہا۔۔۔۔ در ثمین حیدر شاہ کیا تمہیں شاہ ویر شاہ اپنے نکاح میں قبول ہے در ثمین جانتی تھی دریاب یہ سب فارمیلٹی کے لیے کر رہا ہے اور ویسے بھی اس کے کون سا انکار کرنے سے نکاح ختم ہو جانا ہے وہ بے بس ہوتی ہوئی قبول ہے بول گئی۔۔۔۔۔۔ تو سب کی ماشاءاللہ کی اواز بلند ہوئی شاہ ویر شاہ کیا تمہیں میری جان سے پیاری حسین بہن در ثمین حیدر اپنے نکاح میں قبول ہے دریاب کی انکھیں بھرنے لگی تھی اس لیے اس نے نظریں جھکا لی قبول ہے قبول ہے تا عمر کے لیے قبول ہے شاہ ویر نے مسکرا کر دل سے قبول کیا چلیں اب اپ دونوں اس پر انگوٹھا لگائیں دریاب نے نکاح کا فریم ان کے سامنے کیا۔۔۔۔۔۔۔تو پہلے در ثمین نے اپنا انگوٹھا لگایا پھر شاہ ویر نے واپس در ثمین نے اسکے بعد شاہ ویر نے آخر میں لگائے گئے دونوں کے انگوٹھوں کے نشان کا دل بن گیا تھا جو بہت ہی حسین لگ رہا تھ۔۔۔۔۔۔۔تو پہلے در ثمین نے اپنا انگوٹھا لگایا پھر شاہ ویر نے واپس در ثمین نے اسکے بعد شاہ ویر نے آخر میں لگائے گئے دونوں کے انگوٹھوں کے نشان کا دل بن گیا تھا جو بہت ہی حسین لگ رہا تھا ، دریاب نے وہ فریم احتیاط سے قندیل کو تھما دیا تھا تاکہ وہ شاہ حویلی میں پہنچ کر شاہ ویر کے کمرے میں رکھ دے ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے جوتا چھپائی کی رسم کی اور اجالا نے دودھ پلائی اور صبا نے شاہ ویر کو میٹھا پان کھلایا ، انکا کوئی بھائی نہیں تھا وہ شروع سے ہی شاہ ویر کو ہی اپنا بھائی سمجھتی تھی اسلئے وہ تینوں بہت محبت سے دونوں طرف کی رسمیں نبھا رہی تھی شاہ ویر نے تینوں بہنوں کو انکے منہ مانگی قیمت سے زیادہ پیسے دئیے تھے صبا نے تو پیسے لیتے ہیں جو شور مچایا ۔۔۔۔۔ساتھ میں شاہ ویر کے نعرے الگ ، قندیل دیکھ لو کچھ اپنے کنجوس شوہر دریاب بھائی کو بھی سمجھاؤ صبا نے قندیل کے کان میں کھسر پھسر کی تو قندیل اپنی لالچن بہن کو گھور کر رہ گئی ، واہ بھائی سب کام ہم کرے پیسے یہ لڑکیاں لے فائز نے منہ بناتے ہوئے کہا تو سب نان اسٹاپ ہنسنے لگے جبکہ صبا تو فائز کو منہ بنا بنا کر اور چڑانے لگی ۔۔۔۔۔۔امی بس بہت ہوگیا میری اور بابر کی شادی میں صبا کو کوئی نیگ نہیں دے گا بہت پیسے کمالئے صبا نے ۔۔۔۔۔فائز نے صبا کے منہ سے تنگ آکر کہا ، کیوں بھئی نیگ تو لے گی صبا ، یہ کیا تم دونوں کی بہن نہیں ہے ، انجمن بیگم نے ہنسی دباتے ہوئے کہا بابر بھائی کا تو نہیں پتہ میری بہن نہیں ہے اور صبا میری شادی میں اپنے دانت بند کرکے آنا ۔۔۔۔۔۔فائز نے صبا سے جلتے ہوئے کہا میں تو تمھاری شادی میں ہنسو گی زور زور سے وہ بھی تمھاری بھینگی موٹی بیگم دیکھ کر صبا نے اپنا بدلہ لیا تو سب ہنسنے لگے بس کر جاؤ بچوں ہنس ہنس کر لیٹ میں درد ہوگیا شاہ حویلی چلو بہت ٹائم ہوگیا ہے درے بیٹا بھی تھک گئی ہوگی بی جان نے کہا تو کچھ تصاویر لینے سے فارغ ہونے کے بعد سب شاہ حویلی کے لیے روانہ ہوئے ، در ثمین بی جان انجمن بیگم شاہ ویر کی کار میں تھے اس لیے وہ شاہ حویلی دیر سے پہنچے تھے شبانہ بیگم نے قندیل اور اجالہ کے ساتھ مل کر تمام رسموں کی تیاری کر لی تھی شاہ ویر اور در ثمین کے آتے ہی رسموں کا آغاز ہوا سب کے شور وغل میں ، رسموں کے ختم ہوتے ہی رات کے بارہ بجے در ثمین کو شاہ ویر کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔۔۔۔۔۔