ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 29 part (1)
حویلی میں گہما گہمی لگی ہوئی تھی در ثمین کو دریاب پالر چھوڑ کر آ چکا تھا شاہ ویر مکمل دولہا بنے لان میں بنے سٹیج پر براجمان تھا ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر کا چھ فٹ سے نکلتا قد چوڑا سینہ گندمی مگر کھلتی رنگت ، گھنی مونچھیں ہلکی سی بیرڈ کھڑی ستواں ناک ، مسکراتے ہوئے لب شاندار پرسنلٹی کے ساتھ وہ کریم کلر کی شیروانی شال اور شملہ پہنے وہ شہزادوں کا ہمنوا لگ رہا تھا ، کچھ در ثمین کو پانے کی خوشی اسے اندر تک سرشار کیے ہوئے تھے تھیم کے مطابق دولہے سمیت سب جینٹس نے شال کرتا سوٹ پہنے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ جبکہ تمام لیڈیز نے جدید طرز کے سلک کے کامدار کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے تمام لیڈیز اور مہمانوں کی تیاری مکمل دیکھ کر برات کی روانگی ہوئی انجمن بیگم تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی بارات حویلی بینکویٹ پہنچنے تک پیسہ خوب لٹایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔شام کے چار بجے بارات مکمل شادی ہال میں پہنچی تھی جہاں دریاب دادا جان ، فائز اور دیگر مہمان ان کے ویلکم کے لیے کھڑے ہوئے تھے نکاح ہو چکا تھا اس لیے بس لڑکوں کے تھوڑے ہلے گلے کے بعد کھانا کھانے کا دور شروع ہوا دریاب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی پیسہ پانی کی طرح بہانے میں کھانے کے انتظامات ہال والے باخوبی سنبھال رہے تھے ، مہمانوں کی آمد اب تک لگی ہوئی تھی دریاب بابر اور ادریس کو کچھ دیر کے لیے سب کی زمیداری دے کر در ثمین کو پارلر لینے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ کہیں اسکی بہن یہ محسوس کرے کہ اسکا واحد رشتہ اسکا بھائی کہاں ہے اسلئے در ثمین کے تمام کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرنا چاہتا تھا ، شادی کے کاموں کے چکر میں دریاب صبح کا گیا ہوا اب تک قندیل سے نہیں ملا تھا ، وہ چینج کرنے شاہ حویلی آیا بھی تھا مگر اسوقت قندیل بیوٹیشن کے پاس تھی ۔۔۔۔قندیل کو رہ رہ کر دریاب پر غصہ آرہا تھا کہ وہ دریاب کے لئے اتنا پیارا تیار ہوئی اور وہ ہے کہ غائب ہے ، شادی ہال میں لیڈیز کے پردے کا خاص خیال رکھا گیا تھا ، تمام لیڈیز کھانا کھانے اور شاہ حویلی کے مکینوں کی تعریف میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔اسٹیج کے سینٹر میں ایک بڑی ٹیبل رکھی گئی تھی شاہ حویلی کے خاص ممبرز ، تمام شاہ حویلی کی لیڈیز کھانے سے لطف اندوز ہورہی تھی سوائے قندیل کے ، اسے دریاب کی بے اعتنائی پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا کم از کم ایک بار تو بارات آنے کے بعد اسکی خیریت معلوم کرلیتا کہ وہ کیسی ہے کیسی لگ رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔دریاب در ثمین کو احتیاط سے لے کر ہال کے لیڈیز ایریا میں داخل ہوا تھا در ثمین کا پورا سراپا میرون ویلویٹ شال سے ڈھکا ہوا تھا تمام ہال میں موجود خواتین کی نظریں ان دونوں بہن بھائیوں پر اٹھی تھی نیوی بلو شال سوٹ میں دریاب بہت خوبرو ، حسین لگ رہا تھا نیوی بلو رنگ دریاب کی پرسنلٹی پر بہت زیادہ جچ رہا تھا پورا دن کام میں لگے رہنے کے بعد بھی اس کے چہرے پر کہیں بھی شکن نا تھی۔۔۔۔۔۔ دریاب در ثمین کو لیئے آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف بڑھ رہا تھا جاؤ قندیل دریاب بیچارہ سب کام خود کر رہا ہے بھابھی ہونے کے ناطے تمہارے بھی کچھ فرائض ہیں اجالہ نے قندیل کو ٹوکا تو وہ منہ بناتے ہوئے در ثمین کی طرف بڑھ گئی سامنے سے سجی سنوری پیچ کلر کی لانگ امبریلا فراک جس پر سلور کام تھا ، فراک کے کام کے ساتھ میچنگ جیولری ، خوبصورت ہئیر اسٹائل کیساتھ کیا گیا خوبصورت میک اپ تھوڑا سا غصے میں قندیل غضب ڈھا رہی تھی دریاب اسکا مکمل جائزہ لے رہا تھا دریاب نے قندیل کو دیکھ کر اسمائل پاس کی تھی جسے کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے قندیل نے منہ بنایا جسے دیکھ کر دریاب نے ہنسی ضبط کی۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کے ساتھ آ کر در ثمین کا مہندی سے بھرا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لیے آرام سے اسٹیج پر پہنچی اسٹیج پر پہنچ کر قندیل نے در ثمین کے سراپے کو چادر سے آذاد کیا چادر اترنے کے بعد بھی در ثمین کے چہرہ ایک اور لال رنگ کے ارگنزہ دوپٹے سے ڈھکا گیا تھا در ثمین کا وجود دلہن کے روپ میں دو آتشہ لگ رہا تھا ماتھا پٹی کے ساتھ ہیوی گولڈن اور ریڈ جیولری ، نفاست سے کیا گیا سوفٹ میک اپ ، کاجل سے بھری بڑی بڑی آنکھیں ، کشمشی کلر کے لینسز ، بھاری ریڈ لہنگا جس پر جدید گولڈن باریک کام سے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔درثمین کا سفید نازک بے داغ تراشا ہوا وجود شہزادیوں کے حسن کو مات دے رہا تھا ، ماشاءاللہ دریاب اور قندیل کے منہ سے ایک ساتھ بے اختیار نکلا در ثمین کی پلکیں شرم سے جھکی ہوئی تھی دریاب نے کئی ہزاروں کے نوٹ در ثمین پر وار کر اڑا دیئے تھے ۔۔۔۔
وہاں پارلر میں بھی سب نے اس کی تعریفیں کی تھی اور اب شاہ حویلی کے مکینوں کی باری تھی دریاب نے در ثمین کا ماتھا چوما یااللہ تعالی میری بہن کی طرح اس کی آنے والی زندگی کو بھی خوب صورت بنا دے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔ دریاب کی انکھیں بھر آئی تھی ، لیکن وہ در ثمین کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا اس لئے اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ اسٹیج سے اتر کر جینٹس ایریا کی جانب چلا گیا قندیل سے دریاب کی کیفیت چھپی نہ رہی وہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر روک نہ پائی۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ کر کے شبانہ بیگم ، انجمن بیگم ، بی جان اجالا صبا اسٹیج پر آگئی ، در ثمین کو دیکھنے والے نظر ہٹانا بھول رہے تھے شاہ ویر کی خوش قسمتی پر رشک ہو رہا تھا ، انجمن بیگم تو در ثمین کے اوپر واری نیاری جا رہی تھی جبکہ بی جان کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔۔۔۔۔ سارے لیڈیز ایریا میں در ثمین کی خوبصورتی کی چہ میگوئیاں ہو رہی تھی ، دریاب فائز اور بابر کے ساتھ کھانے کے ٹرالی لے کر لیڈیز ایریا میں آیا تھا ٹرالی کو اسٹیج پر در ثمین کے سامنے لا کر رکھ دی ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔ آپی پلس بھابی فائز نے کہا درے آپی بہت بہت پیاری لگ رہی ہو بابر نے دل کھول کر تعریف کی ، قندیل آو مدد کرو در ثمین کو کھانا کھلائیں دریاب نے قندیل کو مخاطب کیا دریاب بھائ
ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔ آپی پلس بھابی فائز نے کہا درے آپی بہت بہت پیاری لگ رہی ہو بابر نے دل کھول کر تعریف کی ، قندیل آو مدد کرو در ثمین کو کھانا کھلائیں دریاب نے قندیل کو مخاطب کیا دریاب بھائی اپ بھی کھانا کھالیں صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے آپ نے فائز یہیں ہے کچھ ضرورت ہو تو بتا دیجیے گا۔۔۔۔۔ بابر کی بات پر دریاب نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ واپس لڑکیوں کو نظر انداز کرتا ہوا جینٹس ایریا میں چلا گیا ، جی بھائی آپ بھی بیٹھے فائز نے کرسیاں سیٹ کی دریاب اور قندیل کے لیے ، قندیل آپی نے بھی کھانا نہیں کھایا دریاب بھائی صبا نے قندیل کی گھوری کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ مج۔۔۔۔۔ مجھے بھوک نہیں ہے قندیل نے سخت بھوک میں بھی بہانہ بنایا ، قندیل کو اپنی صحت کے ساتھ لاپرواہی دیکھ کر وہ لب بھینچ کر رہ گیا ، آؤ بیٹھو دریاب نے قندیل کو گھورا تو وہ منہ بناتی ہوئی بیٹھ گئی قندیل نے کھانا کھلانے کے لئے در ثمین کے چہرے پر سے آرگنزہ دوپٹہ ہٹا دیا تھا دریاب نے چھوٹا سا لقمہ بنا کر در ثمین کو کھلایا قندیل ابھی لقمہ بنا ہی رہی تھی کہ دریاب نے دوسرا لقمہ بنا کر قندیل کی طرف بڑھایا قندیل حیرانی سے دریاب کی طرف دیکھتی چلی گئی آپی کھانا کھائیں صبا نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہا تو قندیل دریاب کے ہاتھ سے لقمہ منہ میں رکھ گئی دونوں کی نظریں کچھ پل کے لیے ملی تھی ۔۔۔۔۔دریاب نے تیسرا لقمہ بنا کر در ثمین کو کھلایا دریاب تم بھی کھاؤ در ثمین نے آہستہ سے کہا کھا لوں گا میں بھی پہلے میں اپنی کوئینز کو تو کھلا دو دریاب نے دوبارہ لقمہ بنا کر قندیل کو کھلاتے ہوئے کہا وہ بہت دل سے دونوں کو باری باری کھلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ۔ در ثمین نے نظر بچا کر قندیل کو دریاب کو کھلانے کا اشارہ کیا تو قندیل جھجھکی تھی ۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر دریاب کی بھوک کا احساس کرتے ہوئے لقمہ بنا کر دریاب کی طرف بڑھایا ، ایک ہی وقت میں دریاب نے بھی قندیل کی طرف لقمہ بڑھایا تھا اب سین یہ تھا دونوں کے ہاتھ میں ایک دوسرے کے لیے لقمے تھے فائز چپکےسے موبائل میں دونوں کی ویڈیو بنانے کے ساتھ یہ پل تصویروں میں قید کرنے لگا دونوں مسکراہٹ چہرے پر سجائے ایک دوسرے کو کھلانے لگے دریاب اپنے ہاتھ کا لقمہ قندیل کو کھلا چکا تھا جبکہ قندیل کا دریاب کو لقمہ کھلاتے کے ساتھ اس کی چیخ نکلی تھی کیونکہ دریاب کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کب قندیل کی انگلی لقمے کے ساتھ اس کا لقمہ بن گئی ۔۔۔