ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 27 part (2)
ایسے ہی لے لو تصویر شاہ ویر نے فائز کو پاس بلا کر کہا ، ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔۔۔درے آپی آپ بھی نا بہت شرماتی ہو ، مجھے بتا دینا تھا ۔۔۔۔۔اچھا ابھی ایسے لے لو فائز نے مسکراتے ہوئے در ثمین کی اجازت لی تو در ثمین نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔ فائز در ثمین اور شاہ ویر کی تصاویر لینے لگا وہ دونوں ایک ساتھ مکمل لگ رہے تھے ، بھائی ۔۔۔۔فائز نے اشارہ کیا کچھ جو شاہ ویر فوراً سمجھ گیا ، جبکہ در ثمین ناسمجھی میں دیکھے گئی ۔۔۔۔ہوش تو جب آیا جب شاہ کا لمس اپنے بازو پر محسوس ہوا شاہ ویر نے اسکے پیچھے سے ہاتھ گزار کر اسکے دوسرے بازو پر رکھا تھا ۔۔۔ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔ فائز نے بے اختیار کہا دریاب بھی اسٹیج پر آچکا تھا در ثمین اور شاہ ویر کو ایک ساتھ دیکھ کر دریاب نے کئی نوٹوں کی گڈیاں ان دونوں کے سروں پر سے وار کر ہوا میں اڑائی تھی ۔۔۔۔۔ دریاب کو اسٹیج پر دیکھ کر قندیل ، اجالا ، ادریس ، بابر ، صبا سب اسٹیج پر پہنچ گئے تھے جبکہ قندیل کو دیکھ کر دریاب نے مسلسل اپنی ناراضگی ہی دکھائی ۔۔۔۔۔۔ ڈانس شروع ہوا تو در ثمین کی وجہ سے شاہ ویر بھی اپنی جگہ پر ہی بیٹھا رہا ، دریاب بھی معزرت کر کے سائیڈ ہوگیا تھا قندیل بھی دریاب کی وجہ سے سر کے درد کا بہانہ کر گئی بابر بھی نیچے مہمانوں کو دیکھنے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔بس ادریس اجالا اور فائز صبا اور کچھ رشتے داروں کے بچوں نے ملکر رات کی رونق بنائے رکھی دیر رات تک سب فنکشن میں لگے رہے ۔۔۔۔۔انجمن بیگم اور شبانہ بیگم نے بھی بچوں کی خوشی کے لئے انکا ساتھ دیا ، زیادہ رات کا خیال کرکے بابر نے سب کو سونے کا کہا تو سب تھک ہار کر آہستہ آہستہ اپنے اپنے رومز کی طرف چلے گئے ، دولہے بھائی چلیں۔۔۔۔ اٹھے بابر نے شاہ ویر کو مسلسل در ثمین کے ساتھ چپکے دیکھ کر مذاق کیا ، ہاں ۔۔۔۔ آتا ہوں ۔۔۔۔ زرا قندیل اجالا کو بلاؤ در ثمین کو لیکر جائے گی ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ، وہ ۔۔۔۔۔نظر ہی نہیں آ رہی ۔۔۔۔ٹھیک ہے میں بھیجتا ہوں بابر نے نظریں دوڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلاگیا ۔۔۔۔۔۔ اچھا ایسا کرو میرے ساتھ چلو ، میں لے جاتا ہوں تمھیں شاہ ویر نے در ثمین کے پاس سے اٹھتے ہوئے کہا سب کیا سوچے گے مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ در ثمین نے منہ بنایا ، درے میری بیوی ہو تم چلو کچھ نہیں بولیں گے میں ہوں نا شاہ ویر نے در ثمین کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ در ثمین کی کمر ویسے ہی بیٹھے اکڑ گئی تھی اس نے شاہ ویر کے ساتھ جانے میں ہی بھلائی سمجھی۔۔۔۔۔۔کیونکہ باقی سب شاید مہمانوں کے چکروں میں لگے ہوئے تھے ، در ثمین شاہ ویر کی ہتھیلی تھام کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی در ثمین نے اٹھنے کے بعد ایک نظر رکے ہوئے شاہ ویر کو دیکھا جسکی نظریں اسکے جھلکتے پیٹ پر تھی ۔۔۔۔۔۔۔شاہ ویر ۔۔۔۔۔در ثمین نے فوراً اپنے ایک ہاتھ سے پیٹ کو کور کیا تو شاہ ویر ہوش میں آیا ۔۔۔ درے ۔۔۔ ایسے ہی نظر چلی گئی شاہ ویر نے ہنسی دباتے ہوئے کہا اندر سے وہ پتہ نہیں کتنی دیر سے اس نظارے کے دیدار میں تھا ، شاہ ویر در ثمین کے سامنے ڈھال بنکر کھڑا تھا اسلئے کسی کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے اپنا آئی فون نکالا اور ایک یاد گار پکچر در ثمین کے ساتھ لی تھی در ثمین حیرت سے شاہ ویر کا چہرہ دیکھ رہی تھی ، اس بات سے انجان وہ اسکی اور اپنی ایک مکمل تصویر لے چکا ہے ۔۔۔۔۔۔
اہممم ۔۔۔۔۔اہمممم اجالا اور قندیل اسٹیج پر ہنستی ہوئی ان دونوں کے قریب چلی آئی تھی ، در ثمین نے اب بھی اپنے ہاتھ سے پیٹ کو کور کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ آجاؤ لے جاؤ میری دلہن کو اور خاص خیال رکھنا کل تک ، شاہ ویر نے موبائل واسکٹ میں رکھ کر ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور کوئی حکم ویر بھائی ۔۔۔۔۔ اجالا نے دو بد ہوکر جواب دیا ، در ثمین کا پیٹ پر ہاتھ رکھا دیکھ قندیل کو در ثمین کی بات یاد آگئی وہ فوراً در ثمین کے پاس پہنچی درے آپی سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔۔ قندیل نے پوچھا جی۔۔۔۔۔جی ۔۔۔۔ در ثمین نے قندیل اور اجالا کو گھورا تو وہ اسکا لہنگا اٹھائے احتیاط سے کمرے میں لے گئی ۔۔۔جبکہ شاہ ویر مسکراتا ہوا بابر اور دریاب کے پاس چلا گیا ۔۔۔۔۔۔ مہندی کی رسم میں اور رسم کے بعد بھی دریاب قندیل سے کچھ کھینچا کھینچا سا رہا جو شبانہ بیگم اور اجالہ نے صاف محسوس کیا ۔۔۔ آج اجالا اور صبا سو جائیں گی درے کے پاس قندیل بیٹا تم اپنے روم میں جاؤ شبانہ بیگم نے مسکرا کر کہا اور کیا امی در ثمین آپی ہماری بھی تو کزن ہے کچھ ٹائم ہم بھی تو آپی کے ساتھ گزارے صبا نے خوش ہو کر کہا جی چاچی جیسا اپ ٹھیک سمجھے در ثمین نے مسکرا کر کہا جاؤ قندیل اپنے کمرے میں شبانہ بیگم نے کہا جی امی ابھی تھوڑی دیر باتیں کر لوں پھر چلی جاؤں گی قندیل دریاب کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی اسلیے شبانہ بیگم کی بات کو ٹال مٹول کر گئی ۔۔۔۔۔قندیل بیٹا باتیں ہوتی رہیں گے ابھی تم جاؤ جا کے آرام کرو اور تم سب بھی آرام کرو صبح بارات کی تیاریاں بھی دیکھنی ہے شبانہ بیگم نے گھورا تو قندیل کو زبردستی اٹھنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔جبکہ در ثمین اجالہ اور صبا ہنس کر رہ گئی ہنس لو درے آپی ، آپ کو تو کل دیکھو گی ۔۔۔۔۔ قندیل کی بات اور اشارہ سمجھ کر در ثمین کو چپ لگ گئی مگر صبا اور اجالا اب تک ہنس رہی تھی ۔۔۔۔۔قندیل اپنا گرارہ سنبھالتی ہوئی روم میں داخل ہوئی تو دریاب روم میں نہیں تھا۔۔۔۔۔ ابھی وہ جیولری اتار کا چینج کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ دریاب روم میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔۔کیسے آ گئی تم ڈینجر زون میں دریاب نے طنزیہ لہجے میں کہہ کر اپنی شرٹ کی بٹن کھولنے لگا چینج کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔ یہ میرا بھی روم ہے قندیل نے اپنی حیرت کو چھپاتے ہوئے منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔۔اچھا مجھے تو لگا تم بھول گئی ہو یہ تمہارا بھی روم ہے دریاب نے تمہارا پر زور دیتے ہوئے وہی لہجہ اپنایا ، ایک تو میں سب کی باتیں مان مان کر تھک گئی اور جب بھی کوئی مجھ سے خوش نہیں ہوتا جس کو دیکھو وہ ناراض ہو جاتا ہے قندیل نے رونی صورت بنا کر کہا۔۔۔۔۔ ناراض کو منایا بھی جا سکتا ہے دریاب نے شرٹ اتار کے قندیل ک
۔۔۔۔۔اچھا مجھے تو لگا تم بھول گئی ہو یہ تمہارا بھی روم ہے دریاب نے تمہارا پر زور دیتے ہوئے وہی لہجہ اپنایا ، ایک تو میں سب کی باتیں مان مان کر تھک گئی اور جب بھی کوئی مجھ سے خوش نہیں ہوتا جس کو دیکھو وہ ناراض ہو جاتا ہے قندیل نے رونی صورت بنا کر کہا۔۔۔۔۔ ناراض کو منایا بھی جا سکتا ہے دریاب نے شرٹ اتار کے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا مطلب میں ہی مناؤ قندیل نے دریاب کو دیکھا جو اب وائٹ بنیان میں تھا قندیل بیڈ پر بیٹھ گئی ہاں تو یار ناراض بھی تو تم نے ہی کیا ہے۔۔۔۔۔اب مناؤ بھی تم ، اور تم ہو کہ جب سے میں آیا مجھے نظر انداز کئے جارہی ہو تمھارے پاس میرے لئے وقت ہی نہیں ہے دریاب نے اپنے گھٹنوں کے بل قندیل کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ تو شادی کا کام تھا ، اگر میں نے آپ سے بات نہیں کی تو آپ نے کونسا مجھ سے واپس بات کی قندیل نے منہ بناتے ہوئے اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا ، یار قندیل میں تو تم سے بہت ساری باتیں کرنا چاہتا تھا مگر تم موقع ہی نہیں دے رہی تھی ، اسلئے پھر میں بھی آنا میں آ کر مصروف ہوگیا ۔۔۔۔۔۔مگر سچ بولو روز تمھاری بہت یاد آتی تھی دل تو کرتا تمھیں درے کے روم سے اغواء کرلو لیکن پھر سوچا تم خود آو تو بہتر ہے دریاب قندیل کے ہاتھ تھامے باتیں کررہا تھا۔۔۔۔ دریاب کی بات سن کر قندیل نے شرم سے چہرہ جھکا لیا۔۔۔۔۔ قندیل۔۔۔۔۔ میں دریاب حیدر شاہ اپنے پورے ہوش حواس میں آج اقرار کرتا ہوں مجھے تم سے بہت پہلے ہی محبت ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ پہلی نظر کی محبت ، وہ ایک لمحہ میری زندگی میں بھی آیا تھا جب میرا دل صرف تمہارے لیے ۔۔۔۔۔اپنی محرم بیوی کے لئے دھڑکا تھا مگر میں نے اپنے بدلے کے آگ میں سب کچھ فراموش کرگیا کئی بار تمہارا درد مجھے محسوس بھی ہوا مگر چاہ کر بھی میں کچھ نہیں کر سکا اور مجھے اس بات کا احساس بھی ہے اور میں شرمندہ بھی ہوں ۔ کہ میں نے کیوں تم سے انتقام لینے کی کوشش کی اور پھر تم سے دور رہ کر اپنا دل جلایا ۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کے ہاتھ پر بوسہ دیا تو قندیل فورا سمٹ گئی اسے شرم آ رہی تھی دریاب کا اظہار سن کر ۔۔۔۔۔
شادی والے دن بھی میں نے سوچا تھا تمہارا جینا حرام کر دوں گا مگر جب میں نے تمہارا گھونگٹ اٹھایا تو تمہیں دلہن کے روپ میں سجا دیکھ کر میرا برا حال ہو گیا اور وہ ایک لمحہ جب مجھے خود پر بھی قابو نہ رہا وہی لمحہ میرے دل پر مسلط ہو گیا۔۔۔۔دریاب نے اپنے بائیں جانب سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا ساتھ ہی شادی کے دن والی حرکت دہرائی تھی قندیل کے ماتھے پر محبت کا لمس چھوڑ کر ، قندیل نے دریاب کا لمس محسوس کرکے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ دریاب کے سینے پر رکھے تھے ۔۔۔۔۔ ویسے اس رات تم نے بھی مجھے تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ، میں جلد از جلد تم سے دور ہونا چاہتا تھا تاکہ میں بہہ نا سکو۔۔۔ تم نے اپنے ساتھ مجھے بھی جگائے رکھا پتہ ہے کیسے میں نے کتنی مشکل سے خود پر کنٹرول کیا ہوا تھا میں دریاب ہنسا تھا تو قندیل نے بھی اپنی حرکتیں یاد کرکے لب دبا کر ہنسی تھی ، تو جب تیار آپ کے لئے ہوئی تھی تو سب اتارنے میں مدد بھی آپ نے ہی کروانی تھی۔۔۔۔۔قندیل نے اتراتے ہوئے کہا یار میں تو اس رات اور بھی تمھاری مدد کروانا چاہتا تھا مگر تم نے موقع ہی نہیں دیا ۔۔۔۔۔ دریاب نے معنی خیز لہجے میں کہا تو قندیل نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔۔