ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 27 part (1)
شاہ ویر نے بھی در ثمین کو اچھے سے تنگ کرنے کا ارادہ شادی کے دن پر چھوڑ دیا تھا لڑکیاں سب پورا دن شاہ حویلی میں یا تو باتیں یا شادی کی چھوٹی موٹی تیاریوں میں لگی رہتی جبکہ شبانہ بیگم اور انجمن بیگم اب تک بازاروں کے چکر کاٹ رہی تھی فائز کے ساتھ جبکہ بی جان مہمانوں کا سوچ سوچ کر پریشان ہورہی تھی کہ کوئی بھی رہنا نہیں چاہئے سب کو دعوت پہنچنی چاہئے کشمیر سے لے کر کراچی اور کراچی سے لے کر سکھر تک سب کو دعوت نامہ بھیجا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ تیاریوں میں آج مایوں کا دن آ پہنچا ۔۔۔۔۔آج شاہ حویلی میں مایوں کی تقریب ہونے جا رہی تھی رسم کا سارا انتظام دریاب اور بابر نے کیا تھا گلابی اور پیلے رنگ کے دوپٹے اور لائٹوں سے لان کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔۔۔۔۔۔ لان کی اوپر دوپٹوں اور لائٹوں کی چھت بنائی گئی تھی جو بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی شاہ حویلی کی تمام سیڑھیوں پر بھی لائٹ کیساتھ گلابی اور پیلے دوپٹے لپیٹے گئے تھے ، مہمانوں کو دینے کے لیے مایوں کارڈز کیساتھ چھ چھ ملٹی چوڑیاں مہندی اور پان مصالحہ گجروں کا بھی خاص انتظام دریاب نے اپنی طرف سے کروایا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اسکی بہن کی شادی اور خوشیوں میں کسی بھی چیز کی کمی رہے ۔۔۔۔۔۔ مہندی کے کھانے میں بھی کل ملا کر آٹھ سے بارہ آئٹم رکھے گئے جس میں بیف بریانی ، مٹن کڑاہی ، چکن قورمہ ، نان ، چپاتی ، سالاد ، پاستہ خاص بچوں کے لیے، رائتہ ، ڈرائی فروٹ ٹرائفل ، تکہ ، کولڈ ڈرنکس ، چائے ، آئس کریم شامل تھی ۔۔۔۔۔۔ پوری شاہ حویلی اور پورا لان مہمانوں سے بھرا پڑا تھا مہمانوں کی ریل پیل دیکھ کر دریاب نے ساتھ کا خالی بنگلہ بھی رینٹ پر لے کر مہمانوں کے لئے صاف کروالیا تھا ، تاکہ مہمانوں کو مشکلات پیش نا آئے شاہ حویلی میں اندر اور باہر کام کرنے کے لیے خاص جان پہچان کے لیڈیز اور جینٹس ملازمین رکھے گئے تھے تاکہ کسی کام میں پریشانی یا رکاوٹ نا آئے ۔۔۔۔۔۔
بابر سب ملازمین کو اچھے طریقے سے تمام کام سمجھا چکا تھا مایوں تھیم کے مطابق سب لڑکوں نے پیلی رنگ کی واسکٹ یا کرتا پہنا ہوا تھا لڑکے تمام تیار ہوکر نیچے لان میں مہمانوں کو دیکھ رہے تھے جبکہ شاہ ویر مکمل تیار سفید شلوار سوٹ میں ملبوس تھا ، بس اوپر پیلے رنگ کی واسکٹ پہننی باقی تھی وہ بھی اس نے فنکشن کے قریب تیار ہو کر آنا ہے جبکہ لڑکیوں کی اب تک تیاری مکمل نہیں ہوئی تھی۔۔۔ لڑکیوں نے پیلے سادہ شیفون گراروں پر پیلی کامدار لمبی فراکیں ، اور شیفون کے ہلکے کام کے دوپٹے لئے ہوئے تھے جبکہ در ثمین کا پیلا ایمبرائیڈڈ لہنگا اور اسکے ساتھ ایمبراڈیڈ والی فل آستین کی چھوٹی سی شرٹ تھی جو بمشکل اسکا پیٹ ڈھک پا رہی جسکی وجہ سے در ثمین لیڈیز میں ہی بہت پریشان ہورہی تھی ساتھ ہی نیٹ کا گلابی ایمبراڈیڈ نیٹ دوپٹہ تھا جو در ثمین کو کسی کام کا نہ لگ رہا تھا ، اسے شاہ ویر کا ڈر تھا کہ وہ اسکو پھر سے سنائے کا اگر اسے کچھ نظر آ گیا تو ۔۔۔۔۔مگر انجمن بیگم کی خواہش اور خوشی پر وہ خاموشی سے سب کچھ پہنے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔پیلی تھیم کے مطابق بی جان شبانہ بیگم اور انجمن بیگم نے بھی پیلے کامدار قمیض شلوار زیب تن کیے ہوئے تھے ، جبکہ بی جان قدرے سادہ تھا انجمن اور شبانہ کی نسبت ۔۔۔۔۔۔بیوٹیشن کے میک اپ نے چار چاند لگا دیے تھے ، درے تم تیار ہو چکے نیچے امی ناراض ہورہی ہے کہ مہمان چلے جائیں گے جب آؤ گی نیچے ، اجالہ نے ہنسی روکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
بیوٹیشن کے میک اپ نے چار چاند لگا دیے تھے ، درے تم تیار ہو چکے نیچے امی ناراض ہورہی ہے کہ مہمان چلے جائیں گے جب آؤ گی نیچے ، اجالہ نے ہنسی روکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ ہاں تیار ہوں لیکن یہ میک اپ دیکھو زیادہ لگ رہا ہے ، در ثمین نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ درے اب کوئی میک اپ دھونے والی حرکت کی نا تو میں شاہ ویر بھائی کو ابھی بلا لیتی ہوں ، چپ چاپ چلو نیچے اجالا نے در ثمین کو دھمکی دی ہنسی دباتے ہوئے ۔۔۔۔۔ارے درے آپی کوئی میک اپ نہیں زیادہ بہت بہت حسین لگ رہی آپ ماشاءاللہ قندیل نے دل کھول کر تعریف کی ، قندیل، صبا ، اجالا ، تم سب کان کھول کر سن کو مجھے ایک جگہ سے پلانا مت ایک تو یہ شرٹ بہت چھوٹی ہے اوپر سے اسکا کسی کام کا نہیں در ثمین نے رونی صورت بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔ہاں نہیں اٹھائے گے آپ بے فکر رہے ، ویسے اتنا خاص کچھ نظر آ نہیں رہا اور یہ جو آپ بار بار ایسے کررہی ہو تو خاک کچھ نظر آنا اجالا نے فوراً مذاق کرتے ہوئے در ثمین کو دیکھتے ہوئے کہا ، جو شرٹ اور لہنگے کو مٹھیوں میں دبائے ملانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔ اجالا پلیز ۔۔۔۔۔پہلے ہی میں بہت نروس ہوں ۔۔۔۔۔ قندیل تم نے اپنے ہاتھ میں ایک بھی انگوٹھی نہیں پہنی در ثمین نے خود کا دوپٹہ سیٹ کرتی ہوئی قندیل کے مہندی بھرے ہاتھوں کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔ سبکی نظر قندیل کے ہاتھوں پر رکی ، قندیل جاؤ اپنی منہ دکھائی والی انگوٹھی پہن لو اور جو امی نے گولڈ کی دی تھی وہ بھی لازمی پہننا ۔۔۔ نئی نویلی دلہن ہو تم اجالہ نے ہنستے ہوئے کہا آپی اس کی کیا ضرورت ہے میں یہیں سے کوئی پہن لیتی ہوں قندیل نے بہانہ بنایا کیونکہ اسے پتہ تھا اس وقت دریاب اس سے ناراض ہے کہیں اسے روم میں دیکھ کر غصہ نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔ پلیز قندیل جاؤ نا میرے لیے در ثمین نے پیار سے کہا تو قندیل منع نہیں کر سکی اور وہ وہاں سے ڈرتے ڈرتے اپنے روم میں آ گئی ۔۔۔۔۔ شکر ہے دریاب کمرے میں نہیں ہے قندیل نے سکھ کا سانس لے کر سوچا اور وارڈوب کھول کر رنگ تلاش کرنے لگی اسی وقت دریاب پیسے لینے روم میں آیا تھا ۔۔۔۔۔۔قندیل کا سجا سنورا روپ دیکھ کر ایک پل کے لئے اپنے غصے کو بھول چکا تھا لیکِن پھر خود پر قابو کرتے ہوئے وارڈروب کھول کر پیسے لینے لگا قندیل حیران تھی دریاب نے اسے نظر انداز کیسے کیا ۔۔۔
دریاب ۔۔۔ دریاب آپ ناراض ہیں کیا مجھ سے قندیل نے دریاب کو پیسے گننے میں مصروف دیکھتے ہوئے کہا ہاں پر تم اس سے کیا فرق پڑتا ہے دریاب نے غصے میں کہا اور وہاں سے پیسے لے کر چلا گیا ۔۔۔ قندیل نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو اپنے اندر انڈیلتے ہوئے رنگ نکال کر پہننے لگی ۔۔۔۔۔ ۔ شاہ ویر اور در ثمین کو رسم کے لئے ایک ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا تھا رسم کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ۔۔۔۔سب باری باری باری رسم ادا کرتے جارہے تھے اور دونوں کی جوڑی کو دل کھول کھول کر دعائیں دے رہے تھے ۔۔۔۔۔ در ثمین اپنی شرٹ کو لیکر بہت نروس تھی بیٹھنے کی وجہ سے زیادہ کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا اگر وہ ہاتھوں کو اوپر نا کرے تو ، رسموں کے بعد سب مہمان کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔۔۔۔ فائز در ثمین کی کچھ تصویریں لینے اسٹیج پر آگیا تھا جہاں صرف شاہ ویر اور در ثمین خاموش بیٹھے سبکو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔درے آپی تھوڑا کھڑی ہو جائے آپکے پورے ڈریس کی تصویر لے لونگا ماشاءاللہ بلکل گڑیا سی لگ رہی ہے آپ ۔۔۔۔ فائز نے کہا تو در ثمین نے قندیل اور اجالا کے لئے نظریں دوڑائی تو وہ تینوں بہت دور مہمانوں کے ساتھ لگی ہوئی تھی جنکو پاس بلانا مشکل ہی ناممکن لگ رہا تھا ، نہیں فائز در ثمین منمنائی ۔۔۔۔۔بھابھی نہیں ہے میری پیاری بس ایک فائز نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو در ثمین نے شاہ ویر کی طرف دیکھا ، کیا ہوا ۔۔۔۔خیریت ہے شاہ ویر نے در ثمین کی طرف ہلکا سا جھکتے ہوئے آہستہ آواز میں پوچھا کیونکہ میوزک کے شور میں سبکو تیز اور اونچی آواز میں بات کرنی پڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔ میں نہیں اٹھ سکتی ۔۔۔۔ آپ فائز کو منع کردے در ثمین نے رونی صورت بناتے ہوئے کہا کیا ہوا مجھے بتاؤ چکر آ رہے ہیں کیا جوس وغیرہ کچھ منگواؤ ۔۔۔۔۔
شاہ ویر ہلکا سا پریشان ہوا کچھ بھی نہیں ہوا بس نہیں ہونا کھڑا ، در ثمین کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکلنے کے لیے بیتاب تھے ، ارے یار درے میں منع کرو تو کوئی وجہ بھی تو ہو۔۔۔۔۔سب ٹھیک تو ہے شاہ ویر نے بیٹھے بیٹھے ہی در ثمین کے سر سے پاؤں تک نظر ڈالی ، شاہ ویر۔۔۔۔۔۔۔ یہ شرٹ چھوٹی ہے بہت آپ کو نظر نہیں آرہا ، در ثمین ایک ہاتھ سے آنکھ میں آئے پانی کو انگلیوں کی مدد سے روکا تاکہ آنسو نیچے اتر کر میک اپ کو خراب نا کردے ۔۔۔۔۔۔ در ثمین حیرت میں تھی شاہ ویر کی اب تک نظر گئی کیوں نہیں ، ویر بھائی بولے نا بھابھی کو ۔۔۔۔۔فائز نے سفارش لگائی ، تو شاہ ویر نے ناسمجھی میں در ثمین کی طرف دیکھا پھر فائز کی بات پر اس کو اثبات میں اشارہ کر کے اسے رکنے کا کہا تو وہ مڑ کر ہال میں صبا کو ڈھونڈنے کے گیا تاکہ اسکی بنا بتائے الٹی سیدھی تصویر لے سکے ۔۔۔۔۔ کیا نظر نہیں آرہا مجھے ، مطلب سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔۔شاہ ویر نے اب اپنا رخ مکمل در ثمین کی طرف کرکے پوچھا یہ دیکھے در ثمین نے فائز کا دھیان دوسری طرف دیکھ کر دوپٹہ کو اوڑھنے کے انداز میں صحیح کیا تو اسکے سفید پیٹ پر شاہ ویر کی نظر پڑی ۔۔۔۔۔۔ یہ بس چند سیکنڈ کا منظر تھا مگر شاہ ویر الجھ گیا تھا شاہ ویر کو ایسا محسوس ہوا جیسے دنیا کا سب سے خوبصورت نظارہ اس نے آج اور ابھی دیکھا ہو ، میں۔۔۔۔۔میں دیکھ لونگا فائز کو ۔۔۔۔۔۔ مطلب بول دونگا ۔۔۔تم۔۔۔۔تم آرام سے بیٹھو ۔۔۔ شاہ ویر نے در ثمین کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے ہنسی دبائی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ جانے انجانے میں جس سے سب کچھ چھپا رہی تھی اسی کو دکھا گئی ۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے شاہ ویر کی نظریں دیکھ کر شرم سے سر جھکا لیا ، فائز ۔۔۔۔۔۔ در ثمین کی تصویر قندیل نے لے لی ہے دریاب کے موبائل میں اور در ثمین کو اچھا نہیں لگ رہا سب کے سامنے کھڑا ہونا تو تم بس رہنے دو ۔۔۔۔