ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 26 part (1)
دریاب ۔۔۔۔ میں ان باتوں کو بھول چکی ہوں ایک برا خواب سمجھ کر اس لیے آپ کو مجھ سے معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ، آپ اس بارے میں نہیں سوچا کرے اور نا ہی مجھے یاد دلایا کرے ۔۔۔۔قندیل کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا قندیل میری جان تم رو کیوں رہی ہو دریاب نے قندیل کو چپ کروانے کے لیے اپنے سینے سے لگائے اسکے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا کچھ دیر انھیں یونہی گزر گئے قندیل دریاب کے سینے سے لگی خاموشی سے آنسو بہاتی رہی قندیل یار رونا بند کرو ۔۔ دریاب نے قندیل کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسکے ماتھے پر عقیدت سے لب رکھنے کے بعد اسکی شفاف موتی بہاتی ہوئی دونوں آنکھوں پر باری باری لب رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔میں رو نہیں رہی ہوں قندیل نے اپنی بے خودی پر نادم ہوتے ہوئے دریاب کو لمس خود کے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے فوری دریاب سے دوری بنا کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا تو پھر اتنے آنسو کیسے آگئے اسکو رونا نہیں کہتے تو کیا کہتے ہیں ، دریاب نے قندیل کو چھوڑتے ہوئے اپنے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے قندیل کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ دریاب کی گہری نظریں خود پر مسلسل پا کر قندیل سرخ ہوگئی تھی قندیل کو شرارت سوجھی ۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔آنسو ۔۔۔۔۔یہ تو شاہ حویلی جانے کی خوشی کے آنسو ہے۔۔۔۔۔قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اور کھکھلا کر ہنستی ہوئی روم کی طرف دوڑ لگا گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک سیکنڈ ہی لگا تھا دریاب کو قندیل کی شرارت سمجھنے کے لیے ، دریاب بھی قندیل کے پیچھے ہنستا ہوا کچن سمیٹ کر روم میں پہنچ گیا ۔۔۔۔۔۔۔ اسے پتہ تھا قندیل نے اب کچن کا رخ نہیں کرنا ۔۔۔۔۔قندیل دریاب سے بچنے کے لئے پہلے ہی کمبل میں دبکی پڑی تھی ، قندیل کا ڈر دیکھ کر دریاب کو بے اختیار ہنسی آ گئی وہ وارڈروب سے نائٹ سوٹ نکال کر باتھ روم میں بند ہوگیا ۔۔۔۔تقریبا پندرہ منٹ بعد وہ فریش ہو کر بیڈ کی جانب پڑھا تھا گھڑی رات کے بارہ بجا رہی تھی ، قندیل سردی کی وجہ سے گہری نیند میں کمبل میں سمٹی ہوئی چھوٹی سی بچی محسوس ہورہی تھی ۔۔۔۔۔دریاب نے بیڈ پر لیٹنے کے بعد قندیل کو اپنی طرف کھینچا تھا تو وہ نیند میں بھی دریاب کا لمس محسوس کرتی ہوئی کسمسا کر اسکی بانہوں میں سمٹ آئی تھی دریاب بھی سوتی ہوئی قندیل کو اپنے سینے سے لگائے اس کے سر پر بوسہ دیکر اپنی آنکھیں موند گیا تھا یہ سوچ کر کہ اب یہ سکون پتہ نہیں کتنے دن بعد میسر آئیگا ۔۔۔۔۔۔
۔ اگلے دن صبح قندیل شاہ ویر کے ہمراہ کراچی کے لیے روانہ ہوگئی دریاب معصوم سا چہرہ بنائے قندیل کو دیکھتا رہ گیا لیکن وہ بھی جان بوجھ کر دریاب کو بھلائے اپنی تیاریوں میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف شاہ ویر کی موجودگی کی وجہ سے بھی دریاب کو موقع نا ملا قندیل سے بات کرنے کا اور رات کو بھی وہ دریاب کا انتظار کئے بغیر جلدی سوگئی تھی ۔۔۔۔ جب سے شاہ ویر اور قندیل کویٹہ سے لوٹے تھے ، ایسا لگ رہا تھا شاہ حویلی میں رونقیں لوٹ آئی ہو ، قندیل تو سب سے ملکر اتنا روئی جیسے سالوں سے بچھڑی ہو ۔۔۔۔۔۔ایک وقت میں بی جان قندیل کے رونے سے پریشان سی ہوگئی تھی مگر شاہ ویر کے تسلی دینے سے بی جان بھی سمجھ گئی پہلی بار اپنے گھر سے دور رہی اسلیے قندیل کی یہ حالت ہے ، شاہ ویر نے دریاب کو پہنچنے کا کال کر بتا دیا تھا ۔۔۔۔۔دریاب کا دل تو بہت تھا قندیل کی آواز سننے کا مگر پھر بس پوچھنے پر ہی اکتفا کیا ، قندیل کیسی ہے ویر ۔۔۔۔۔مطلب راستے میں طبیعت تو خراب نہیں ہوئی ، دریاب نے پوچھا ، الحمدللہ خیریت سے پورے راستے باتیں کرتی آئی ہے۔۔۔۔۔اتنا خوش تھی اور شاہ حویلی میں پہنچتے ہی رونا شروع ہوگئی سب سے ملکر شاہ ویر نے ہنستے ہوئے بتایا ، اچھا ۔۔۔۔۔پوچھ لینا تھا کہیں میری یاد تو نہیں آ رہی تھی دریاب نے قہقہہ لگا کر کہا ۔۔۔۔۔یہ بات بھی ٹھیک ہے ، شاہ ویر بھی دریاب کے ساتھ ملکر ہنسا تھا ویسے ویر جب یہ شاہ حویلی سے گئی تب بھی اس نے یہی کیا تھا پورا راستہ روتی گئی وہاں پہنچ کر بھی اتنا روئی ، سب پریشان ہونگے اسلئے میں نے کسی کو بتایا نہیں دریاب نے ہنستے ہوئے بتایا تو شاہ ویر بھی ہنس پڑا قندیل کی حالت سوچ کر کافی دیر دونوں باتوں میں مصروف رہے ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا تھا بیٹا تمہیں شبانہ بیگم نے قندیل کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا اس وقت ڈرائنگ روم شاہ حویلی کی تمام عورتیں موجود تھی ۔۔۔۔۔ اجالا کا بار بار شرارتی نظروں سے دیکھنا ، صبا کا اور در ثمین کا خوش ہونا تائی امی ، بی جان اور امی کی بار اسکی بلائیں لینا صدقے اتارنا وہ سب سمجھ گئی تھی یہ پروٹوکول کیوں دیا جارہا ہے وہ تو اندر ہی اندر شرم سے پانی ہورہی تھی کہ کیسے سب کی امیدوں پر پانی پھیروں گی ۔۔۔۔۔۔بس امی اپ کو تو پتہ ہے نا مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے تو بس اندھیرے میں گر گئی تھی اور ڈائننگ ٹیبل کا کونا میرے سر پر لگ گیا تھا جس کی وجہ سے میں بے ہوش ہو گئی تھی ، اور تو کچھ بھی نہیں ہے قندیل نے مسکراتے ہوئے کچھ بھی نہیں ہے پر زور دیتے ہوئے کہا تو شبانہ بیگم فوراً سمجھ گئی ۔۔۔۔۔۔ کوئی بات نہیں بی جان لگتا اللّٰہ پاک ہمیں ایک ساتھ ہی درثمین ، شاہ ویر اور دریاب قندیل کی خوشیاں دکھائے گئے ، شبانہ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے دعا دینے کے ساتھ غلط فہمی کو دور کیا ۔۔۔۔ آمین انشاءاللہ ۔۔۔۔۔ بی جان اور انجمنِ بیگم نے ایک ساتھ کہا تھا ، تو اجالا در ثمین اور صبا کو بھی بات سمجھ آ گئی تھی شبانہ بیگم کی دعا پر قندیل اور در ثمین جھینپ کر رہ گئی ۔۔۔۔ بیٹا قندیل ۔۔۔۔۔اچھا تو تم خوش تو ہو ناں دریاب کے ساتھ شبانہ بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا امی میں بہت خوش ہوں پتہ ہے آپ کو دریاب تو مجھے آنے ہی نہیں دے رہے تھے کہہ رہے تھے ساتھ چلیں گے۔۔۔۔۔ قندیل نے خوش ہو کر کہا ، ایک لمحے اسے دریاب کی بیتابی یاد آئی تو اسکا چہرے گلابی ہوگیا ، تو بیٹا تمہیں دریاب کا کہنا ماننا چاہیے تھا نا شبانہ بیگم نے بیٹی کی عقل پر ماتم کیا۔۔۔۔۔ امی ۔۔۔۔۔مجھے آپ لوگوں کی بہت یاد ا رہی تھی پھر اوپر سے شاہ حویلی میں شادی بھی تھی بہت اچھا لگتا نا کہ میں مہمانوں کی طرح آ کر شادی انجوائے کرتی قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا تو سب ہنس پڑے۔۔۔۔۔ پر پھر بھی بیٹا۔۔۔۔۔۔ بھئی امی اتنے دنوں سے ان کا کہنا ہی تو مان رہی تھی اور پھر آپ لوگ ایک بار بھی مجھ سے ملنے نہیں آئے قندیل نے شبانہ بیگم کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور لاڈ سے ان کے گلے لگ گئی تو شبانہ بیگم بھی مسکرا کر پیار سے قندیل کا سر چوم گئی ۔۔۔۔۔۔
قندیل کو شاہ حویلی گئے ہوئے آج چھ دن گزر گئے تھے ، قندیل نے ایک بار بھی دریاب سے بات نہیں کی تھی کچھ ڈیوٹی اتنی سخت تھی دریاب دن رات ڈیوٹی دے رہا تھا اسے ٹائم نہیں مل رہا تھا شاہ حویلی کی خیر خیریت معلوم کرسکے بس تھوڑی واٹس اپ پر کبھی شاہ ویر اور بابر سے سلام دعا ہو جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ان سب میں بھی وہ اپنے سکون کو نہیں بھولا تھا جو اسے قندیل سے میسر آیا تھا ، جب بھی فارغ ہوتا تو قندیل اسکے ذہن پر سوار ہو جاتی کبھی خیالوں میں تو کبھی خوابوں میں اسکا سراپا نظر آتا ۔۔۔۔۔۔دریاب اپنی اس کیفیت کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کررہا تھا ، لیکن ساتھ ہی اسکے دل میں یہ تھا کہ اسے کیپٹن دریاب حیدر شاہ کو بھی محبت ہوسکتی وہ بھی ایک عام سانولی مگر پُرکشش لڑکی قندیل دریاب احمد سے ۔۔۔۔۔۔ یہ خیال آتے ہی اسکے لب بے ساختہ پھیل جاتے ، آج بھی وہ خالی ذہن سے قندیل کے بارے میں سوچے جا رہا تھا قندیل ٹھیک کہہ رہی تھی مجھے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے کہ قندیل کا ہونا میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔۔۔۔۔ واقعی قندیل تمہارے بغیر میرا گھر اور میرا دل بالکل خالی خالی لگ رہا ہے، لگتا ہے مجھ پر تمھاری محبت کا رنگ چڑھ رہا ہے جب بھی تو تمہارا خیال میرے ذہن سے جاتا نہیں اب تو جلد ہی تمہارے پاس آنا پڑے گا کیونکہ قندیل کے بغیر اب دریاب کا گزارا نہیں۔۔۔۔۔۔ اج تمہیں گئے ہوئے چھ دن ہو گئے ہیں نہ کوئی کال نہ کوئی میسج مجھے پتہ ہے کہ یہ دن میں نے کیسے گزارے ۔۔۔۔ ایک ایک دن پہاڑ کی طرح لگا ، پتہ نہیں تم مجھے یاد کرتی ہوگی یا نہیں دریاب نے سوچا اور قندیل کے بارے میں سوچتے سوچتے نیند کی وادی میں نکل گیا۔۔۔۔۔ کندیل کے جانے کے بعد اس کا روز کا یہ معمول تھا وہ اس کے بارے میں گھنٹوں سوچتا اور سوچتے سوچتے سو جاتا تھا “میری ہر رات کا آخری خیال تم” اور “ہر صبح کی پہلی سوچ ہو تم “