ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 25 part (2)
قندیل نے اتراتے ہوئے کہا اور دریاب کا بنا ہوا منہ دیکھ کر ہنستی ہوئی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل ۔۔۔۔۔۔قندیل پلیز مت جاؤ دریاب نے قندیل کو وارڈروب میں سے پیکنگ کے لیے اپنے کپڑے نکالتے ہوئے دیکھ کر اداس ہو کر کہا ۔۔۔۔۔کیا ہو گیا دریاب آپ کو جب سے بی جان نے ویر بھائی کے کل آنے کا بتایا ہے آپ نے یہی رٹ لگائی ہوئی ہے نہیں جاؤ ، نہیں جاؤ قندیل نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ یار قندیل بس میرا دل نہیں کررہا تمھیں بھیجنے کو شاہ حویلی خود سے دور ، دریاب نے مدعے پر آتے ہوئے کہا آٹھ دن تو رہ گئے ہمارے جانے میں ، میں خود تمھیں لے کر چلو گا ۔۔۔۔۔۔دریاب نہیں چاہتا تھا جو سکون اسے میسر آیا ہے وہ اب کبھی بھی اس سے لمحہ بھر بھی دور ہو ، دریاب مجھے جانا ہے بھئی ، آپ تو پورا دن ڈیوٹی پر ہوتے میں اکیلی ہوتی ہوں گھر میں ۔۔۔۔۔میں نے اب جانے کا سن لیا ہے ناں اب مجھ سے نہیں رہا جائے گا پلیز جانے دیں قندیل نے سب پیکنگ چھوڑ کر دریاب کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ،قندیل مجھے تم سے کچھ کہنا ہے دریاب نے قندیل کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا جی کہیے کیا کہنا ہے آپ کو قندیل نے فوراً کہا جھوٹ مت بولنا قندیل کیا تمہیں میری آنکھوں میں کچھ نظر نہیں آرہا دریاب نے کہا تو قندیل دریاب کی انکھوں میں اپنا عکس کے ساتھ اپنے لئے محبت دیکھ کر نظریں جھکا گئی وہ جانتی تھی دریاب چاہتا ہے وہ دونوں ساتھ رہ کر اس رشتے کو وقت دے اور تمام غلط فہمیوں کو دور کرے پھر شاہ حویلی جائے ۔۔۔۔۔مگر قندیل یہ نہیں چاہتی تھی وہ چاہتی تھی دریاب دل سے محسوس کرے قندیل کی کمی کو تاکہ وہ دل و دماغ سے اقرار کرے اسکی محبت کا اور یہ سب وہ اس سے دور رہ کر ہی کرواسکتی ۔۔۔۔۔۔دریاب ۔۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے محبت بس نظر آنے اور محسوس کرنے کا نام نہیں ۔۔۔۔۔کہ مجھے آپ کی محبت نظر آ رہی ہے یا میں اس کو محسوس کررہی ہوں تو میں سمجھ جاؤ آپ کو مجھ سے محبت ہے ۔۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد شاہ ویر دریاب کے ساتھ مارکیٹ چلا گیا تھا ، پورے دو گھنٹوں بعد اب وہ لوٹے تھے ۔۔۔۔۔۔وہاں سے آنے کے بعد بھی شاہ ویر اور دریاب باتوں میں لگے گئے تھے , قندیل دریاب اور شاہ ویر کے لئے چائے بنا لائی تھی ۔۔۔۔۔ وہ بھی ڈرائنگ روم میں انکے ساتھ بیٹھ کر شاہ حویلی کی باتوں میں مصروف ہوگئی تھی ، ایک دم سے شاہ ویر کو تایا والی بات یاد آگئی ۔۔۔۔۔ ویسے دریاب بہت بہت مبارک ہو تم دونوں کو شاہ ویر نے مسکراتے ہوئے کہا ، خیر مبارک مگر کس بات کی دریاب نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ویر بھائی آپ کی چائے قندیل نے شاہ ویر کو چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے کہا ، وہ بھی حیران سی شاہ ویر کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔۔ دریاب یار ۔۔۔۔مجھے تایا بنانے کے لیے شاہ ویر نے حیرانگی ختم کی ۔۔۔۔ کس نے بنایا آپ کو تایا ، دریاب نے دوبارہ سوال کیا ۔۔۔ تم دونوں نے اور کس نے بنانا ہے اب کی بار شاہ ویر حیران تھا ، کہ دریاب کو کچھ پتہ نہیں ہے یا یہ مجھ سے مذاق کررہا ہے ۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل اور دریاب دونوں نے ایک زبان ہو کر کیا کہا اور ساتھ ہی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ گئے۔۔۔۔قندیل تو تھوک نگل کر رہ گئی کس نے دی ویر بھائی اپ کو یہ خوشخبری دریاب نے قندیل کی حالت دیکھتے ہوئے ہنسی کو دباتے ہوئے کہا کیا مطلب ہے تمہارا دریاب شاہ ویر نے ناسمجھی میں کہا ۔۔۔۔۔مطلب یہ کہ ایسی کوئی بات نہیں اور ہم نے تو نہیں کہا کسی کو خوشخبری کا ، پھر آپ کو کس نے دی خوشخبری دریاب نے پوچھا ، سارے شاہ حویلی والے بات کر رہے تھے اس بارے میں تو ۔۔۔۔۔۔ شاید قندیل کی طبیعت کو لیکر مس انڈراسٹینڈگ ہوگئی امی اور چاچی کو ، شاہ ویر نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔کیا سب کو ایسا لگا ۔۔۔۔۔قندیل شرم سے ڈوبنے لگی تھی یہ سوچ کر کہہ سب یہ سوچ رہے میرے بارے میں ، واقعی قندیل لگتا ہے اب تو کچھ سوچنا پڑے گا بی جان ، تائی امی اور چاچی کو انتظار کروانا ٹھیک نہیں ۔۔۔۔دریاب کو شرارت سوجھی تھی ، ک۔۔کس بارے میں قندیل نے شرم کو چھپانے کے لیے چائے پینا شروع کردی شاہ ویر بھائی کو تایا ابو بنانے کے بارے میں دریاب نے گہری نظروں سے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ ویر بھائی۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کو گھورا جو شاہ ویر کو نظر انداز کئے قندیل کو فوکس کئے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔ویر بھائی آپ دیکھ رہے ہیں دریاب کتنے بدتمیز ہو گئے قندیل نے غصے میں سرخ ہوتے ہوئے کہا تھا قندیل مذاق کر رہا ہے وہ شاہ ویر نے ہنستے ہوئے کہا ، شاہ ویر بھائی آج آپ طے کر لیں آپ ان کے ساتھ ہیں یا میرے ساتھ قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اف کورس تمہارے ساتھ ہوں بیٹا جب ہی تو تمہیں لینے آیا ہوں۔۔۔۔۔دریاب خبردار جو میری بہن کو تنگ کیا ورنہ تمھاری تمہاری بہن بھی ہیں شاہ ویر نے مذاقاً کہا ۔۔۔۔۔۔ ویر بھائی درے آپی کو آپ بیچ میں نہیں لائیں ، جو بھی سزا دینی اس مجرم کو دیں۔۔۔۔۔۔قندیل نے دریاب کو دیکھ کر منہ بناتے ہوئے کہا ، قندیل کی بات سن کر دریاب اور شاہ ویر کا قہقہہ بلند ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے کھانے میں بھی قندیل نے شاہ ویر کے لئے خوب اہتمام کیا تھا شاہ ویر کے ہزار بار منع کرنے کے بعد بھی ۔۔۔۔۔۔۔ کھانے کھانے کے بعد چائے کا دور چلا کیوں کہ شاہ ویر رات کے کھانے کے بعد چائے پینے کا عادی تھا ، یار میں بہت تھک گیا ہوں اس لیے میں سونے جا رہا ہوں ، واپس اتنا لمبا سفر کرنا ہے اور ویسے بھی سفر کے دوران مجھے نیند آتی نہیں ۔۔۔۔۔۔ قندیل تم اپنی تیاری مکمل کر لینا انشاء اللہ کل صبح کراچی کے لیے نکلنا ہے شاہ ویر نے اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھا جو رات کے دس بجا رہی تھی شاہ ویر قندیل کو ہدایت کرکے ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔۔قندیل شاہ ویر کو تسلی دے کر چائے کے کپ سمیٹ کر کچن میں آگئی تھی کیا کر رہی ہو مسسز دریاب بھی قندیل کے پیچھے ہی کچن میں آگیا تھا ، برتن دھو رہی ہوں چائے کے قندیل نے بنا مڑے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔ ہممم ۔۔۔۔۔۔مجھے مس کرو گی دریاب نے قندیل کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا ن۔۔۔۔۔۔نہیں قندیل نے دریاب کے لمس سے جھجھکتے ہوئے کہا کیوں ۔۔۔۔۔دریاب نے حیران ہوتے ہوئے کیوں پر زور دے کر کہا ، دریاب کی بیتابی قندیل کو اچھی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔دیکھے نا ۔۔۔۔۔وہاں مجھے اور بھی تو کام ہوں گے کیسے آنی یاد آپکی ، قندیل نے دریاب کے حصار سے نکلتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ اچھا جی اور کچھ ۔۔۔۔۔دریاب نے فوراً قندیل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اسکے سینے سے آ لگی ، تو ۔۔۔۔۔ تو میری نند کی شادی ہے اور پھر میرے بھائی کی بھی شادی ہے ناچنا گانا بھی ہوگا تو اپ سمجھ رہے ہیں نا۔۔۔۔۔ یاد کرنے کا ٹائم ہی نہیں ہوگا قندیل نے ہنسی دباتے ہوئے دریاب کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ، قندیل کی اپنائیت سے دریاب کو ایک خوشگوار سا احساس ہوا تھا اور نند کا بھائی اس کا کوئی احساس نہیں ہے تمہیں۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کی طرف چہرہ جھکاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ ہاں نہیں ہے قندیل نے فوراً دریاب کا ارادہ بھانپ کر اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور کھلکھلا کر ہنسنے لگی ، قندیل ۔۔۔۔۔تم نے مجھے معاف نہیں کیا آئی ایم سوری یار ، میری جان میں بہت شرمندہ ہوں سچ میں اس سب کے لئے ۔۔۔ دریاب کو اپنے حواسوں پر بلا کا کنٹرول تھا اسلئے وہ اپنے جزباتوں پر قابو پاتا ہوا ، کچھ دیر تک قندیل کو ہنستا ہوا دیکھتا رہا پھر اپنے دل کی بات زبان سے ادا کی ۔۔۔۔۔۔۔۔