ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 25 part (1)
ہممم بھول گئے ہونگے دریاب بھائی اجالا نے کہا پہلے آپ مجھے یہ بتائیں درے آپی شاہ ویر بھائی کیا لگیں گے آپ تو پھوپھو لگیں گی اور شاہ ویر بھائی کیا پھوپھا لگے گے صبا نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہورہی ہے شاہ ویر نے کچن میں اندر آتے ہوئے صبا کی بات سن لی تھی، کچھ نئی ویر بھائی یہ تو مینٹل ہے ایسے ہی بات کرتی رہتی ہے اجالہ نے صبا کو گھور کر چٹکی بھرتے ہوئے کہا درے کس کی پھوپھو بن گئی اور میں پھوپھا ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے ایک آئی برو اٹھا کر تینوں کی طرف دیکھ کر سوال کیا درے تم بتاؤ ویر بھائی کو ہم آتے ہیں ۔۔۔۔اجالا صبا کا ہاتھ پکڑ کر کچن سے نکل گئی ، اجالا رکو ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کا وہی تاثر دیکھ کر در ثمین کے الفاظ منہ میں رہ گئے زیادہ بھاگنے کی کوشش مت کرو پہلے جو پوچھا وہ بتاؤ کس کی بات ہورہی تھی شاہ ویر نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہم مزاق ۔۔۔۔۔۔۔مزاق کررہے تھے در ثمین شاہ ویر کو گھورتا ہوا دیکھ کر چپ ہوگئی ، کچھ نہیں ہے قندیل کی طبیعت ٹھیک نہیں تو تائی امی اور چاچی کو لگا رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے شرم کے باعث بات ادھوری چھوڑی ہممم ۔۔۔۔ کیا لگ رہا ہے امی کو ۔۔۔ شاہ ویر نے حیران ہو کر آئی برو اچکائی ، یہ کہ ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔ تایا بن گئے در ثمین نے شاہ ویر سے نظریں چراتے ہوئے کہا ، اوہ مائے گاڈ ۔۔۔۔۔۔ دریاب قندیل ماشاءاللہ شاہ ویر نے خوش ہونے کے ساتھ حیران ہوتے ہوئے کہا ، در ثمین نے شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا تھا ، شاہ ویر در ثمین کی ادا پر دل ہی دل میں ہائے کر کے رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے تم ایسے شرما کر خوش خبری دے رہی ہو جیسے میں تایا نہیں پاپا بن گیا ہوں اور تم ماما اور ایک اور بات میرے سامنے ایسے شرمایا نہیں کرو پھر میں نے کچھ کردیا تو تم مجھے ہی برا کہو گی شاہ ویر نے در ثمین کی طرف جھکتے ہوئے کہا ، دور ہٹیں ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی بات سن کر در ثمین نے منہ بتاتے ہوئے شاہ ویر کو دھکا دیا ،مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا وہ شاہ ویر سے بچ کر باہر جانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تائی امی مبارک باد تو لیتی جائیں شاہ ویر نے در ثمین کا ہاتھ پکڑ کر روکا خیر مبارک میں پھوپھو ہوں تائی امی نہیں ہوں آئی سمجھ آپ کو ہاتھ چھوڑیں میرا کوئی آ جائے گا۔۔۔۔۔در ثمین نے منہ بناتے ہوئے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ، ہاتھ تو نہیں چھوڑوں گا پہلے اچھے سے مبارک باد دو تائی امی نہیں بھلے پھوپھو بننے کی دیدو ، اجالا اور صبا کو دی ہوگی تم نے ویسے دو شاہ ویر نے در ثمین کو گلے لگ کر مبارک باد دینے کا اشارہ کیا شاہ ویر کی خواہش پر در ثمین اندر ہی اندر لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔شاہ ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر ہاتھ چھوڑیں تائی امی در ثمین کا رخ کچن کے دروازے کی طرف تھا جہاں سے کچن کی طرف آنے والوں کو دیکھ سکتے تھے سامنے سے انجمن بیگم آ رہی تھی ، در ثمین نے سامنے سے آتی ہوئی انجمن بیگم کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔۔بار بار ایک مذاق نہیں چلے گا در ثمین تم شاید بی جان کی بات بھول چکی ہو شوہر کی ہر بات مانتے ہیں ، جلدی سے مجھے مبارک باد دو پھر جانا شاہ ویر نے در ثمین کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ساتھ ہی اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ شاہ ویر کے سینے سے آ لگی تھی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی قربت سے در ثمین کی نظریں جھک چکی تھی ، وہ شاہ ویر کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تھوڑا فاصلہ بنا گئی ۔۔۔۔درے بیٹا چائے بن۔۔۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے کہا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر انکے الفاظ منہ میں رہ گئے انجمن بیگم کو کچن میں دیکھ کر شاہ ویر کے پسینے چھوٹے تھے شاہ ویر فوراً در ثمین سے دور ہوا تھا جب کہ در ثمین کچن کاؤنٹر کی طرف منہ کرکے دبی دبی ہنسی ہنس رہی تھی ۔۔۔۔۔ اب آئیگا مزا ، ا۔۔۔۔۔۔امی آپ ۔۔۔۔۔میں درے کو ۔۔۔۔۔۔چائے کا ہی بول رہا تھا ۔۔۔۔۔ آ۔۔۔۔۔ آپ کب آئی ۔۔۔۔۔
امی آپ ہی بنادیں چائے درے تو سن نہیں رہی شاہ ویر نے اپنی گبھراہٹ کو چھپاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے کب ۔۔۔۔۔۔کہا چائے بنانے کا تائی امی یہ جھوٹ بول رہے ہیں یہ تو یہاں آ کر مجھے تنگ کررہے تھے در ثمین نے شاہ ویر کے جھوٹ پر کلس کر فوراً کہا اور شاہ ویر کو پھنسا دیا ۔۔۔۔۔در ثمین کی بات پر شاہ ویر نے در ثمین کو گھورا ، لگتا ہے مجھے بی جان بلارہی ہے میں آتی ہوں درے تم اتنے دودھ رکھو چائے کے لئے انجمن بیگم نے دونوں کی باتیں سن کر ہنسی دباتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔ تم بتا نہیں سکتی تھی امی آ رہی ہے شاہ ویر نے انجمن بیگم کے جانے کے بعد سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا میں نے کہا تھا ۔۔۔۔۔ آپ نے سنی نہیں در ثمین چائے بنانے لگی ، اور کیا بول رہی تھی امی کو میں تنگ کررہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ ویر نے در ثمین کے قریب آتے ہوئے کہا ہاں جی آپ ۔۔۔۔تنگ ہی کررہے تھے تائی امی نے خود دیکھا ۔۔۔۔۔ وہ تنگ نہیں ہوتا پیار ہوتا ہے اور تمھاری تائی امی جی نے دیکھ لیا سب ، نا مبارک باد نا کچھ کرنے دیا پھنسوا اور دیا ، درے رخصتی ہونے دو میں نے سارے حساب برابر کرنے وہ بھی سود سمیت جتنا مجھے تم تنگ کررہی ہو نا۔۔۔۔۔۔شاہ ویر نے در ثمین کے کان میں سرگوشی کی تو در ثمین سرخ پڑ گئی ، تائی امی ۔۔۔۔۔در ثمین نے شاہ ویر کو چھیڑا۔۔۔۔ شاہ ویر نے فوراً دروازے کی طرف پلٹ کر دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا جب کہ در ثمین ہنس رہی تھی کرلو جتنا تائی امی کرنا ہے شاہ ویر نے در ثمین کو ہنستا دیکھ مسکراتے ہوئے کہا اور کچن سے باہر چلا گیا کہ کہیں سب میں انجمنِ بیگم دوبارہ نا آ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت قندیل کی آنکھ کھلی تو وہ ٹائم دیکھ کر فوراً اٹھ گئی ۔۔۔۔۔دریاب ابھی بھی گہری نیند میں تھا ، قندیل اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔۔۔۔ دریاب جو سوتے ہوئے بھی قندیل کی غیر موجودگی محسوس کرتے ہوئے جاگ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔قندیل ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے باتھروم کے بند دروازے کو دیکھا تو سمجھ گیا وہ باتھروم میں دریاب بیڈ سے اٹھ کر روم کے ساتھ ملحق ٹیرس پر آگیا ۔۔۔۔۔۔۔ شام کا وقت تھا ٹھنڈ بڑھ رہی تھی سامنے پہازوں پر سے گزرتے بادل سامنے منظر کو اور زیادہ حسین بنارہے تھے ، روم سے آتی کھٹ پٹ کی آواز سن کر دریاب روم میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔ کیسی طبعیت ہے اب قندیل ، دریاب نے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا جو بیڈ شیٹ پر پڑی شکنوں کو درست کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔ الحمد بہت بہتر ۔۔۔۔۔۔دریاب ۔۔۔۔۔مجھے شاہ حویلی بات کرنی ہے امی اور سب کی یاد آ رہی ہے قندیل نے خوشگوار لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔ہاں کیوں نہیں دریاب نے سائیڈر سے موبائل اٹھا کر شاہ حویلی میں شاہ ویر کو کال ملائی ۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی بات شاہ ویر سے کرنے کے بعد دریاب نے موبائل قندیل کو دے دیا۔۔۔۔۔۔شاہ ویر نے قندیل کی بات شبانہ بیگم سے کروادی ۔۔۔۔۔۔۔تو شبانہ بیگم کو بہت تسلی ہوئی قندیل کی طرف سے شبانہ بیگم کے بعد بی جان نے دریاب سے بات کی ، السلام علیکم بی جان دریاب نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔قندیل دریاب کو بی جان سے بات کرتا بغور دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔جی ٹھیک۔۔۔۔ کیا مگر بی جان ۔۔۔۔۔۔
۔چلے جیسے آپ سب کی مرضی ، خدا حافظ دنیا تھوڑا سا پریشان لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ دریاب ، سب ٹھیک تو ہے نا قندیل نے دریاب کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا جہاں کچھ پریشانی کے آثار تھے ، ہاں وہاں تو سب ٹھیک ہے پر یہاں نہیں دریاب نے منہ بنایا ، کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ۔۔۔۔۔ بی جان کیا کہہ رہی تھی قندیل مضطرب ہوئی ۔۔۔۔ بڑا شوق ہو رہا تھا نا تمہیں وہاں شاہ حویلی جانے کا آرہا ہے لینے تمہارا بھائی دریاب نے اسی لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔کب۔۔۔۔۔۔ واقعی ۔۔۔۔۔۔کل آجاتے شاہ ویر بھائی قندیل نے خوش ہو کر کہا کل کیوں آج نہیں بلا لیں ہیلی کاپٹر پر آ جائیں گے تمھارے پیارے بھائی اپنی پیاری بہن کو لینے دریاب نے جل کر کہا۔۔۔۔۔ اگر آپ کو اچھا نہیں لگ رہا تو میں نہیں جاتی قندیل نے معصوم سا منہ بنا کر مذاق کیا ۔۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔قندیل تم۔۔۔۔۔ تم ابھی نہیں جاؤ میرے ساتھ چلنا میں ابھی بی جان کو منع کر دیتا ہوں کہ قندیل ابھی نہیں آرہی ۔۔۔۔۔دریاب نے خوش ہو کر کہا ، میں مذاق کر رہی تھی۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔شیم شیم قندیل نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔بہت مزہ آرہا ہے نا مجھے تنگ کر کے دریاب نے قندیل کو گھورتے ہوئے کہا ، ابھی میں کچھ کہہ نہیں سکتی مجھے پیکنگ کرنی ہے اپنی ، آپ جلدی چلیں میری مدد کروائیں۔۔۔۔۔۔