ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 24 part (2)
بی جان ، چاچی دریاب کی کال آئی تھی کچھ دیر پہلے کہہ رہا تھا کل رات کو قندیل چکرا کر گر گئی تھی تو اس کے سر پر چوٹ آگئی ہے معمولی سی ، ڈاکٹر کو بلا کر دریاب نے ڈریسنگ کروالی تھی ۔۔۔ سب لیڈیز ڈرائنگ روم میں بیٹھی شاہ ویر اور در ثمین کی شادی کی باتیں کررہے تھے کہ تب ہی شاہ ویر نے ڈرائنگ روم میں آ کر بتایا ۔۔۔۔۔ یا اللہ خیر و شبانہ بیگم کے منہ سے فوراً نکلا ۔۔۔۔۔۔اللّٰہ رحم فرمائے ہمارے بچوں پر ، بی جان نے دعا دی۔۔۔۔ بی جان دریاب بتا رہا تھا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں زیادہ چوٹ نہیں آئی بی جان ، آپ سب پریشان نہیں ہو۔۔۔دریاب ہے قندیل کے پاس اس نے لیو بھی لے لی ہے دو چار دن کی قندیل کے لئے ابھی دریاب واپس قندیل کو ڈاکٹر پر لے کر جارہا تھا وومیٹنگ ہوگئی تھی صبح ناشتہ کروایا تھا تب تو ویسے ہی لے جارہا چیک اپ کے لیے شاہ ویر نے سب کو تسلی دیتے ہوئے کہا ڈاکٹر نے رات کو کچھ بتایا ہوگا کہ کیوں آئے چکر انجمن بیگم نے پوچھا ۔۔۔۔۔امی دریاب نے بتایا تھا کہ قندیل نے صبح سے کھانا نہیں کھایا تھا اس لئے کمزوری سے چکر آگئے تھے ، شاہ ویر نے بتایا اور ایک نظر در ثمین پر ڈال کر موبائل پر مصروف ہو کر باہر کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔۔ بی جان ، شبانہ میں سوچ رہی تھی کہ قندیل کو بلا نا لے شادی بھی نزدیک ہے شاہ ویر چلا جائے گا اس سے لینے انجمن بیگم نے فکر مند ہو کر بی جان اور شبانہ بیگم کو مخاطب کیا ۔۔۔۔۔کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو دریاب جب جائے گا جب اسے چھٹی مل جائے گی آنے دو تمھارے دادا جان کو میں ان سے بات کرتی ہوں ایک دو دن میں ہی چلا جائے گا شاہ ویر قندیل کو لینے۔۔۔۔۔۔۔بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا اجالا درے جاؤ بیٹا کچن دیکھو شبانہ بیگم نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی کچن میں چلی گئی صبا تم بھی جاؤ بیٹا ، شبانہ بیگم نے صبا کو گھورا تو وہ بھی وہاں سے کھسک لی ۔۔۔۔۔۔ بی جان کہیں کوئی خوشخبری تو نہیں ہے بچے ہیں ان کو شاید پتہ نہ چلا ہو ، اور جیسی کنڈیشن شاہ ویر بتا رہا ہے اس سے تو یہی لگ رہا ہے شبانہ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے وہ بات کہی جس کے لئے انہوں نے سب کو ڈرائنگ روم سے باہر بھیجا تھا اس بات سے بے خبر کہ صبا اب تک ڈرائنگ روم کے باہر کھڑی جاسوسی کررہی ہے ، قندیل کی چوٹ کا سن کر وہ پریشان ہوگئی تھی اسلئے وہ رک کر باہر باتیں سننے لگی کہ کہیں قندیل کو کچھ ہو تو نہیں گیا ۔۔۔۔۔۔۔
ہو تو سکتا ہے پر ابھی کسی کے سامنے زکر کرنا ٹھیک بھی نہیں ہے قندیل آئے گی تو پھر بتا دے گی تو ہم اسے لیڈی ڈاکٹر پر چیک کروا آئے گے ، انجمن بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا یہ ٹھیک رہے گا انجمن ۔۔۔۔۔۔ اللّٰہ پاک سب بہتر کرے ہمارے بچوں کے ساتھ بی جان نے مسکرا کر کہا ڈرائنگ روم کے باہر صبا کھڑی ہوئی سب باتیں سن اور سمجھ رہی تھی ، صبا خوشی سے بھاگتی ہوئی کچن کی طرف دوڑ لگا گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ملا آپ کو مجھے دو سوئیاں اور لگوا کر قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔وہ دونوں ابھی کلینک سے واپس آئے تھے ۔۔۔۔دریاب نے قندیل کو نہ سیڑھیاں چڑھنے دیا اور نہ اترنے دی قندیل کے ہزار منع کرنے کے بعد بھی وہ خود اپنی بانہوں میں اسے اٹھائے سیڑھیوں پر اترا اور چڑھا تھا ، ابھی وہ قندیل کو بیڈ پر بڑھا کر بیٹھا ہی تھا کہ قندیل نے شکوہ کیا ۔۔۔۔۔۔خوشی دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا ایسا لگ رہا ہے چوٹ میرے سر پر نہیں بلکہ آپ کے سر پر آئی ہے ، اتنا خیال نہیں رکھے میرا ۔۔۔۔ قندیل نے منہ بنا کر کہا خیال تو میں رکھو گا اور بھی زیادہ ۔۔۔۔۔۔بیوی ہو تم میری قندیل مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے اور اب میں تمہیں صرف مسکراتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں دریاب نے قندیل کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تھا ۔۔۔۔۔۔قندیل چند سیکنڈ میں گلابی پڑگئی تھی ، کچھ کھانا کھالو پھر یہ میڈیسن کھانی ہے اسکے بعد آرام کرو جتنا ہوسکے ڈاکٹر کی بات سنی نہیں دریاب نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔
دریاب نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔مجھے کچھ نہیں کھانا بس دوائی کھا لوگی قندیل نے منہ بنایا ، اچھا جوس لاتا ہوں وہ تو پی لوں یار دوائی کے ساتھ دریاب نے اٹھکر فریج سے جوس لا کر قندیل کو زبردستی پورا پلایا اور اسے دوائی کھلا کر لٹا دیا ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔۔ کہاں جارہے ہیں آپ بھی آرام کرلے دریاب کے چہرے پر تھکن واضح تھی قندیل نے دریاب کو دور جاتا دیکھ کر کہا ، کہیں نہیں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔۔۔۔تم لیٹو دریاب نے قندیل کے پاس آ کر تکیہ صحیح کر کے اسے لٹا کر خود واشروم چلا گیا ، فریش ہونے کے بعد دریاب نے ظہر کی نماز ادا کی جب تک قندیل دریاب کو اپنی آنکھوں سے نیہارتی رہی ، قندیل کی نظریں دریاب خود پر باخوبی محسوس کر چکا تھا ۔۔۔۔۔ اسلئے نماز پڑھنے کے بعد سیدھا اسکی طرف آیا ، آرام کرو یار ، کہاں گم ہو دریاب نے کمبل میں دبکی ہوئی قندیل کو دیکھتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ کر کہا ابھی نہیں آ رہی نیند ۔۔۔۔قندیل نے بہانہ بنایا کیوں نہیں آ رہی نیند دریاب نے قندیل کے برابر لیٹتے ہوئے کہا ، ایسے ہی ۔۔۔۔قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا درد تو نہیں ہو رہا کہیں سر میں یا انجیکشن میں دریاب کو ایک دم خیال آیا ، ن۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔تو ۔۔۔۔۔ آپ آرام کرے میں سوجاؤ گی خود ہی جب نیند آئیگی قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ ایسے کیسے جب آئے گی نیند تب سوؤگی ، دریاب نے قندیل کو خود کے قریب کرتے ہوئے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔۔۔اب آواز نا آئے چپ چاپ سوجاؤ ، اگر میری نیند خراب ہوئی تو تمھارے لیے اچھا نہیں ہوگا دریاب نے قندیل کے کان میں سرگوشی کی تو وہ سرخ ہوکر رہ گئی ، قندیل کی پشت دریاب کے سینے سے لگی ہوئی تھی دریاب کے اندر سے اٹھتی خوشبو قندیل اپنی سانسوں میں اتار رہی تھی ، اچانک سے اتنا خوبصورت سب ہو جائیگا یہ کب سوچا تھا قندیل نے اتنا حسین خوبرو مرد قندیل کی ایک آہ پر دیوانہ سا ہو جائیگا ، اسکی اتنی پرواہ کرے گا کہ اسے زمین پر قدم رکھنے نہیں دے گا ۔۔۔۔۔۔وہ تو بس ایسا ٹی وی ڈراموں میں دیکھتی تھی کہ کوئی لڑکا لڑکی کو اس قدر چاہتا اور اسکی پرواہ کرتا مگر آج خود کو دیکھ کر اسے یقین آگیا تھا وہ دریاب جیسے ہی مرد ہوتے ہونگے جو عورت کو اپنی محبت سے نکھارتے ہیں ، دریاب قندیل کے لب سے بے ساختہ ادا ہوا ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا دریاب نے اپنی بند آنکھیں کھولتے ہوئے کہا ، تھینک یو قندیل نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو روکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔کس بات کے لئے قندیل ، دریاب نے قندیل کی طرف جھکتے ہوئے کہا تو اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل یا رو کیوں رہی ہو ، درد ہورہا ہے کہیں مجھے بتادو دریاب پریشان ہوا قندیل نفی میں سر ہلا گئی ڈر لگ رہا ہے دیکھو میں تمھارے پاس تو ہوں ۔۔۔۔دریاب نے قندیل کے آنسو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے کہا قندیل دوبارہ نفی میں سر ہلا گئی ، پکا کچھ بھی نہیں ہے دریاب نے قندیل کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا جو رونے کے باعث سرخ ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔ امی ۔۔۔۔۔۔امی یاد آ رہی تھی۔۔۔۔۔ اپکو دیکھ کر ۔۔۔۔ آپ کیوں کررہے میرا خیال اتنا ، مجھے عادت ہوجائیگی ۔۔۔۔۔۔قندیل کی آنکھیں پھر سے بھرنے لگی تھی یار میں ہوں نا ۔۔۔۔۔ میری بیوی ہو تمھارا خیال نہیں رکھو گا تو کس کا رکھو گا اور اس خیال اور پیار کی عادت ڈال لو اب ہم ایسے ہی رہے گے۔۔۔۔۔۔دریاب نے محبت بھرے لہجے میں کہا ، آپ نے مجھے ما۔۔۔۔۔ معاف کردیا قندیل نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ، قندیل کبھی غلط ہوسکتی ہے کیا اور معافی کس بات کی ، یار میں ہی غلط تھا ، اتنی حسین بیوی سے کوئی انتقام لیا جاتا ہے وہ تو محبت اور احترام کے قابل ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کے ماتھے کو چوم کر کہا ۔۔۔۔۔اب سوجاؤ قندیل دریاب نے واپس لیٹتے ہوئے کہا اور واپس قندیل کو بانہوں میں لیے سوگیا قندیل بھی سکون سے دریاب کی بانہوں میں آنکھیں موند گئی۔۔۔۔۔۔۔ کیا واقعی۔۔۔۔۔۔ اجالا نے خوش ہو کر کہا در ثمین بھی حیران سی صبا کو دیکھ رہی تھی بھئی میں نے تو تائی امی اور امی کو کہتے ہوئے سنا تھا اور نا شاہ ویر بھائی جائے گے قندیل آپی کو لینے کویٹہ ۔۔۔۔۔ صبا نے اتراتے ہوئے کہا ، مبارک ہو در ثمین تم پھوپھو بن گئی اجالہ نے ہنستے ہوئے در ثمین کو گلے لگا کر کہا ، اجالا تمھیں اور صبا کو بھی آنٹی بننے کی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔ پر اتنی بڑی نیوز مجھے دریاب نے کیوں نہیں دی ، در ثمین نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔