ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 24 part (1)
اچھا یار تھوڑا اٹھو کچھ کھاؤ پیو دیکھو میں تمھارے لئے کچھ چیزیں لایا جو پسند آئے وہ کھالو ۔۔۔۔۔لیکن کچھ تو کھاؤ ، ہم نے کلینک بھی جانا ہے اپوائنٹمنٹ لی ہوئی ہے ڈاکٹر شمشاد کی تو ناشتہ مطلب کچھ کھالو پھر ہاسپٹل چلیں گے دریاب نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا اور اٹھ کر سائیڈر پر سے کھانے کے شاپنگ بیگز کا کر قندیل کے سامنے بیڈ پر رکھے ۔۔۔۔۔اٹھو آرام سے دریاب نے قندیل کے ہاتھوں کو پکڑ کر قندیل کو اٹھا کر بٹھایا ، اچھا دیکھو تو شاید کوئی چیز کھانے کا دل کر جائے دریاب نے کہا ۔۔۔۔۔۔ قندیل منہ بسورتی ہوئی شاپنگ بیگز میں دیکھنے لگی جسمیں چھوٹے چھوٹے پیکٹس میں براؤنیز کیک ،چاکلیٹ ، کیک ، بسکٹس جیلی ، ببل ، چپس سب چیزیں چار ، چار پانچ ، پانچ قسموں کی تھی ۔۔۔۔۔ براؤنیز اور جیلی کی تو قندیل دیوانی تھی ، مگر دریاب کے سامنے اپنا آپ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اسلیے دوسرا شاپنگ بیگ دیکھنے لگی ، جسمیں مختلف جوس اور ملک شیک تھے الگ الگ فلیور کے ۔۔۔۔۔قندیل کو ایسا محسوس ہو رہا تھا دریاب بیکری کی تمام چیزیں لے آیا ہو ، دریاب کی فکر مندی دیکھ کر قندیل کی آنکھوں میں پانی اور لبوں پر ہنسی آئی تھی کہ کوئی ہے جو ماں باپ کے علاؤہ اسکا خیال کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ آئس کریم بھی رکھی ہے فریج میں اور کچھ جوس بھی ، بتاؤ کیا کھاؤ گی ، دریاب نے قندیل کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔ آپ اتنا سب کچھ لائے ، تھینکس قندیل نے فوراً کہا ۔۔۔۔۔۔وہ مجھے پتہ نہیں تھا تمھیں کیا پسند ہے اسلئے جو بھی بیکری اونر نے دیا لے آیا ۔۔۔۔۔ اب پتہ چل جائے گا تو وہی لاؤ گا ، اچھا اب تم کھا کر بتاؤ تمھیں کیا کیا پسند ہے ۔۔۔۔دریاب نے شرمندہ ہوتے ہوئے مسکرا کر کہا ، آپ بھی کھائیں ساتھ قندیل نے براؤنیز اور چاکلیٹ ملک شیک باہر نکال کر رکھا ، ہاں ہاں کیوں نہیں ۔۔۔۔کھاؤ گا میں بھی دریاب نے قندیل کے ہاتھ میں سے براؤنیز کا بائیٹ کے کر قندیل کی طرف بڑھایا تو قندیل دریاب کی موجودگی میں جھجھکتے ہوئے براؤنیز کھانے لگی ۔۔۔۔۔۔
در ثمین چائے لیکر بی جان کے روم میں پہنچی تو بی جان اور شاہ ویر کسی بات پر ہنس رہے تھے ۔۔۔۔۔ آپکی چائے در ثمین نے خشمگیں نگاہوں سے شاہ ویر کو گھورتے ہوئے چائے دی ، درے بیٹا تم بھی ادھر آجاؤ بی جان نے در ثمین کو اپنے پاس بلاتے ہوئے کہا ، تو در ثمین مسکراتی ہوئی بی جان کے پاس چلی آئی ، بی جان اپنی پیاری پوتی سے زرا پوچھ کر بتائے انھیں منہ دکھائی میں کیا گفٹ چاہئے ۔۔۔۔۔ویسے تو میں انکا منہ پتہ نہیں کتنی ہی بار دیکھ چکا ہوں لیکن اب رسما گفٹ دیا جاتا ہے تو مجھے وہ آسانی ہوگی لینے میں ، شاہ ویر نے چائے کا گھونٹ گلے میں اتارتے ہوئے در ثمین کو چھیڑا ، بی جان مجھے کچھ نہیں چاہئے الحمدللہ ان سے پہلے ہی میرے پاس سب کچھ ہے ، نا مجھے کچھ چاہئے نا انکو کوئی رسم نبھانے کی ضرورت ہے در ثمین نے منہ بناتے ہوئے شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔در ثمین کے منہ بنانے پر شاہ ویر اندر ہی اندر اس کے انداز پر فدا ہورہا تھا ، جبکہ لبوں پر مسکراہٹ ٹھہر گئی تھی در ثمین نے بات ایسے کی جیسے اپنا حساب برابر کیا ہو ۔۔۔۔۔۔درے بیٹا ایسے نہیں بولتے شوہر ہے تمھارا اور پھر اب سے تمھاری ساری ذمیداریاں ضرورتیں شاہ ویر نے پوری کرنی ہیں ۔۔۔۔۔ بدلے میں تم اپنے شوہر کی عزت کیا کرنا ، اور اسکی تمام ضرورتوں اور خواہشوں کا خیال کرنا ، اس کی بات سننی بھی ہے اور ماننی بھی ہے ، جب بھی شوہر گھر سے باہر جائے تو محبت سے بھیجنا اور جب واپس گھر پر لوٹے تو بن سنور کر خوشی خوشی اسکے سامنے آنا ہے تاکہ اسکی ساری تھکاوٹیں غائب ہو جائے بی جان نے پیار بھرے لہجے میں در ثمین کو سمجھایا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔شاہ ویر کے سامنے ایسی باتیں سن کر در ثمین پہلے ہی شرم سے پانی ہورہی تھی اوپر سے شاہ ویر کی نظریں مسلسل اس کو حصار میں لیئے ہوئے تھی ۔۔۔ سن لی بی جان کی بات سب بات ماننی ہے ۔۔۔۔اور بھی بتائیں بی جان در ثمین کو ، شاہ ویر نے در ثمین کا شرم سے لال چہرہ دیکھ کر ہنسی کو روکتے ہوئے کہا شاہ ویر کا اشارہ کل والی بات پر تھا جب در ثمین شاہ ویر سے جان چھڑا کر بھاگی تھی۔۔۔۔۔۔۔بی جان آپ مجھے بتا رہی ہے شوہر کے حقوق انکو بھی تو بتائے بیوی کے حقوق در ثمین کو شاہ ویر کی بات سن کر غصہ آیا ، وہ سمجھ گئی تھی شاہ ویر کونسی بات ماننے کی بات کررہا ہے ۔۔۔۔اس لئے فوراً بول گئی ، در ثمین کی بات سن کر شاہ ویر کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔۔۔بی جان بھی منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی ، در ثمین شاہ حویلی کی لڑکیوں میں سب سے کم بولتی تھی اسلئے بی جان کو اس سے اتنے بچپنے کی توقع نہیں تھی ، بی جان در ثمین نے بی جان کو شاہ ویر کے ساتھ ہنستا دیکھ منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔۔بی جان کی جان شاہ ویر کو پہلے سمجھایا اسکے بعد اپکو اور شوہر کی سب سے بڑی اور اہم ذمے داری ہوتی وہ اپنی بیوی کے اخراجات اٹھائے ، اسکی ضرورتوں کا خیال کرے۔۔۔۔ بیوی سے محبت سے پیش آئے ، ان سب میں بیوی کے تمام حقوق اور ضرورتیں آجاتی ۔۔۔۔۔۔لیکن بیوی پر شوہر کی زمیداری بڑی ہوتی اور پھر آگے جاکر بچوں کی انکی پرورش ۔۔۔۔۔ایک عورت اپنا تمام آرام سکون ختم کر کے ہی تو رشتوں کو لیکر چلتی ہے ، بی جان نے کہا تو در ثمین سر جھکا کر انکی بات سمجھنے لگی ۔۔۔۔۔۔ اچھا اب مجھے تم آپس میں لڑتے ہوئے نظر نا آؤ شادی تک نہیں تو میں تمھارا ایک دوسرے سے پردہ کروا دونگی ، بی جان نے یہ دھمکی شاہ ویر کو دی تھی کیونکہ در ثمین تو ویسے ہی شاہ ویر سے فرار چاہتی تھی ۔۔۔۔ بی جان پردہ کروادے ۔۔۔۔در ثمین نے فوراً کہا ، نہیں بی جان شوہر سے بھی کوئی پردہ ہوتا کیا ، یہ آپ سب غلط کرے گے شاہ ویر جو ابھی در ثمین کو منہ دکھائی والی بات پر چھیڑ رہا تھا کہ کافی بار دیکھ چکا ہوں چہرہ ، اب پردہ کی بات سن کر اسکا دل دھڑک گیا کہ وہ اتنے دن در ثمین کو دیکھے بنا کیسے رہے گا ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے بی جان اور در ثمین کی بات سن کر کہا اور ساتھ ہی در ثمین کو گھورا ۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا لڑو گے تو بی جان اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی تھی ، تو وہ دونوں بھی اپنی اپنی جگہ بی جان کے ڈرانے پر مسکرا کر رہ گئے ۔۔۔۔۔۔۔
قندیل تیار ہو جاؤ ہاسپٹل جانا ہے دریاب نے قندیل سے کہا جو ناشتہ کرنے کے بعد دوبارہ سونے کی تیاری پکڑ رہی تھی م۔۔۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا اور نہ تیار ہونا قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا قندیل ڈاکٹر پاس نہیں جاؤ گی تو ٹھیک کیسے ہوگی ۔۔۔۔ اب جلدی سے تیار ہو جاؤ اپائمنٹ لی ہوئی ہے ڈاکٹر شمشاد ہمارا انتظار کررہے ہونگے ، دریاب نے قندیل کے پاس بیٹھ کر فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ دریاب میرا دل نہیں کررہا تیار ہونے کا اور نا کہیں جانے کا قندیل نے کمبل میں منہ گھساتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔دیکھو قندیل اگر تم خود تیار نہیں ہوئی تو مجھے وہ کرنا پڑے گا جو میں کرنا نہیں چاہتا دریاب نے مسکراتے ہوئے گہری نظروں سے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔ کیا مطلب ہے آپ کا قندیل نے کمبل سے منہ نکال کر دریاب کو گھورا ۔۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے تمھیں آج ڈاکٹر پاس لے جانا ہے وہ بھی لازمی ، ان کپڑوں میں تو نہیں لے جا سکتا۔۔۔۔۔اسلئے اگر تم خود چینج نہیں کرو گی تو میں خود تمہیں چینج کرواؤں گا اب مطلب سمجھ گئی نا تم ۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کو چھیڑتے ہوئے کہا ، آ۔۔۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے قندیل نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ کیوں نہیں کر سکتا بیوی ہو تو میری سب حق رکھتا ہوں تم پر یہ الگ بات میں نے کبھی حق جتائے اور عمل کر کے دکھائے نہیں دریاب نے قندیل کو چھیڑنے کے لیے کہا اور آخری جملہ آہستہ آواز میں کہا ، ہا۔۔۔۔۔
ہاں تو مجھے نہیں کرنے اور نا کروانے چینج ، قندیل نے دریاب کے ڈر سے کمبل کو مضبوطی سے ہاتھوں میں دبایا ، مجھے تو کروانے ، یہاں کروگی یا باتھروم میں لے کر چلو دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا ۔۔۔۔۔ دریاب زیادہ بدتمیزی اور مجھے بلیک میل نہیں کرے ، قندیل نے دریاب کی بات سن کر سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ کہا ، ارے میری جان ابھی بدتمیزی کی کہاں ہے پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ کچھ کھاؤ پیو پھر دیکھنا ۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کی گود میں سر رکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا ، دریاب نے قندیل کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے سینے پر رکھ لئے تھے دریاب کی دھڑکنیں قندیل با آسانی سن سکتی تھی قندیل کی گود میں دریاب کو سکون مل رہا تھا ۔۔۔۔۔در۔۔۔۔۔دریاب ۔۔۔۔۔قندیل نے دریاب کو سکون سے آنکھیں بند کرتا دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔ہممم کیا فیصلہ کیا ، دریاب نے بند آنکھوں سے ہی ہنسی دباتے ہوئے پوچھا ، میں ۔۔۔۔۔ میں خود کر لوگی چینج ۔۔۔۔۔قندیل نے دریاب کے ہاتھوں میں سے اپنے ہاتھ نکالنے چاہے تھے مگر آگے گرفت مضبوط تھی ، گڈ گرل ۔۔۔دریاب نے باری باری قندیل کے دونوں ہاتھوں پر بوسہ دیا تو قندیل دریاب کے لمس پر لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔چینج کرنا۔۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔۔لیٹ ۔۔۔۔۔ہوجائے گے ۔۔۔۔۔قندیل کے شرم سے الفاظ بھی ادا نہیں ہورہے تھے ، دریاب کا دل نہیں تھا اپنے سکون کو برباد کرنے مگر قندیل کو دل ڈاکٹر پر کے جانے کا خیال آتے ہی وہ اپنے سکون کو فراموش کرگیا ، ہاں کچھ ہیلپ چاہیئے تو آواز دے دینا اور باتھروم کا دروازہ اوپن ہی رکھنا ۔۔۔۔میں ڈرائنگ روم میں ہوں تب تک ، دریاب نے آنکھیں کھولتے ہوئے فوراً قندیل کی گود سے سر اٹھا کر کہا ۔۔۔۔۔اور کھڑے ہوکر اپنی ہتھیلی کو پھیلا کر قندیل کو اٹھنے کا اشارہ کیا ، دریاب کی اتنی کئیر کرنے پر قندیل کی آنکھیں نم ہورہی تھی وہ اپنا نرم ہاتھ دریاب کے مضبوط گرفت میں تھما کر بیڈ سے اٹھ گئی ، دریاب قندیل کو پیار سے دیکھتا ہوا روم سے چلا گیا۔۔۔۔۔قندیل بھی تیار ہونے کی غرض سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر وارڈروب کے پاس آ کر کپڑے نکانے لگی ۔۔۔۔۔۔