ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 22 part (2)
دریاب اذان کی اواز سن کر باہر صوفے پر آ کر بیٹھ گیا اور اب اسے اپنی ایک ایک خطا یاد آ رہی تھی قیامت کے ڈر سے اس کی انکھوں سے انسو جاری تھے۔۔۔۔۔۔۔دریاب نے خوب رونے کے بعد نماز ادا کی اور واپس اپنی محرم بیوی کے پاس آکر لیٹ گیا ، آپ کہاں گئے تھے قندیل نے مندی مندی آنکھوں سے دریاب کو دیکھا ۔۔۔۔۔کہیں نہیں میری جان نماز پڑھ رہا تھا ، سوجاؤ آرام سے دریاب نے قندیل کو خود کے قریب کرتے ہوئے بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا وہ بھی دریاب کے کھینچنے پر کٹی ڈال کی طرح شرمائی سی دریاب کے سینے میں سر چھپا گئی ۔۔۔۔۔قندیل کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی آنکھیں بند کرکے سکون کی نیند سوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سونے سے پہلے وہ چار دن کی چھٹی کی درخواست آفس میں میل کرنا نہیں بھولا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ اس دن کے بعد سے در ثمین شاہ ویر سے خود ہی بچتی پھر رہی تھی ، وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ شاہ ویر کی میٹھی باتوں میں آئے ۔۔۔۔۔۔۔پورا پورا دن شاہ حویلی میں در ثمین اور شاہ ویر کی شادی کا تذکرہ چلتا رہتا تھا ، در ثمین بچاری کے کان پک گئے تھے اوپر سے بار بار اپنی شادی رخصتی کی بات سننے سے اسکے گال شرم سے دہکنے لگتے تھے وہ چپ کئے سب کی سنتی رہتی تھی ،دادا جان چاہتے تھے کہ بس ولیمہ کردیا جائے اور ساتھ ہی رخصتی مگر انجمن بیگم اور بی جان کی خواہش تھی کہ در ثمین اور شاہ ویر کی ساری رسومات ہو بارات بھی ہو یہاں تک ، آخرکار انکا لاڈلا جان سے پیارا پوتا ہونے کے ساتھ شاہ حویلی کے بڑے ہوتے کے عہدے پر فائز تھا ۔۔۔۔۔۔ اور پھر دادا جان کی سب کے سامنے ایک نا چلی ، مایوں مہندی ایک دن ، بارات اگلے دن اور اس سے اگلے ہی دن ولیمہ ہونا طے پایا ، انجمن بیگم اور شبانہ بیگم پر اب اور کام بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔۔
سب کی بارات کی تیاری بھی کرنی تھی ، درثمین اور شاہ ویر کا نکاح پہلے ہی ہوچکا تھا اسلئے کوئی پردہ نہیں رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین بیٹا زرا یہ لہنگے کا دوپٹہ اوڑھ کر دکھانا در ثمین جو ڈرائنگ روم میں شاہ ویر کو سب کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر سبکی چائے رکھ کر اپنی چائے کا کپ اٹھا کر کھسک رہی تھی ، انجمن بیگم کے آواز سن کر اسے مجبوراً رکنا پڑا ، انجمن بیگم اور شبانہ بیگم پچھلے آدھے گھنٹے سے لائی ہوئی شاپنگ کھول کھول کر سب کو دکھا رہی تھی بی جان ، اجالا ، صبا ، شاہ ویر ، ثمامہ ۔ فائز ، بابر ابھی ضروری کال آنے پر باہر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔در ثمین کا بھی ارادہ تھا سب کے ساتھ بیٹھ کر شاپنگ دیکھنے کا ، مگر شاہ ویر کو دیکھ کر وہ وہاں سے بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔ کیا تائی امی ۔۔۔۔۔در ثمین ایک لمحے کے لیے انجان بنی تھی بیٹا درے بھابھی چاہتی ہے تم ایک بار یہ لہنگے کا دوپٹہ اوڑھ کر دکھا دو ، یہ رنگ تم پر ججچ بھی رہا ہے یا نہیں وہ دیکھنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تائی ۔۔۔۔۔امی اچھا ہے بہت ۔۔۔۔۔ تائی امی ابھی اوڑھنا ضروری تو نہیں ، در ثمین شاہ ویر کے سامنے کچھ بھی کرنا نہیں چاہتی تھی اسلیے بہانے بنانے لگی ، شاہ ویر در ثمین کی سب حرکتیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔لائیں امی مجھے دے میں درے کو اوڑھا کر آپ سب کو دکھاتا ہوں ، شاہ ویر نے صوفے پر سے اٹھتے ہوئے انجمن بیگم سے لال عروسی کا دوپٹہ لیا ، جو کافی وزنی تھا در ثمین کے دھان پان سے جسم کے حساب سے ، شاہ ویر دوپٹہ لئے در ثمین کی طرف بڑھا ، ایک دل کیا در ثمین کا کہ باہر کی طرف دوڑ لگا دے مگر وہ کوئی چھوٹی بچی تھی جو یہ حرکت کرتی ، اسکو تو وہیں کھڑے ہو کر سب حالت کا سامنا کرنا تھا ، م۔۔۔۔۔میں خود اوڑھ لو گی در ثمین نے شاہ ویر کے قریب آنے پر اپنی سانسیں روکتے ہوئے کہا ، یہ آپشن آپکے پاس اب نہیں ہے اسلئے چپ چاپ کھڑی رہے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔شاہ ویر نے دبی دبی آواز میں کہا جو صرف در ثمین سن سکتی تھی ، وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے شاہ ویر نے دوپٹہ کو ایک جھٹکے سے ہوا میں کھولتے ہوئے ساتھ ہی در ثمین کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے دوپٹے کو آہستگی سے در ثمین کے سر پر ٹکا گیا تھا ، ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو سادگی میں بھی شاہ ویر نے در ثمین کے قریب جھکتے ہوئے کہا تو اسکا چہرہ مزید گلابی ہوگیا تھا ، شاہ ویر بھائی سامنے سے ہٹے ہم نے بھی دیکھنی ہے درے آپی ، فائز نے کہا تو شاہ ویر در ثمین کے سامنے سے ہٹ گیا تھا ، در ثمین کی نظریں پہلے ہی شرم سے جھکی ہوئی تھی مسلسل ، کچھ شاہ ویر کے جملے سے اسکا چہرہ گلابی ہوگیا تھا ، سب نے بیک وقت ماشاءاللہ کہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ درے آپی آپ کو تو میک اپ کی بھی ضرورت نہیں ہے صبا نے دل سے تعریف کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔شاہ ویر بیٹا میری پوتی کی نظر اتارو ۔۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ بی جان نے کہا تو شاہ ویر نے اپنی جیب سے کئی ہزاروں کے نوٹ نکال کر در ثمین پر وارنے لگا ۔۔۔۔۔۔یہ بی جان کے کہنے پر تمھاری نظر اتار رہا ہوں ۔۔۔۔۔باقی اپنی حسین بیوی کی نظر تو میں اپنے طریقے سے اتارو گا شاہ ویر نے ہنسی دباتے ہوئے کہا تو در ثمین نے نظر اٹھا کر شاہ ویر کو گھورا تھا ، تائی امی اتار دو دوپٹہ ۔۔۔۔۔در ثمین نے شاہ ویر کی بے باک باتوں سے بچنے کے لئے دوپٹہ اتارنے میں ہی بھلائی سمجھی ، ہاں بیٹا اتار دینا زرا میرے پاس تو آؤ انجمن بیگم نے محبت لٹاتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو در ثمین فورا انکے پاس آگئی ۔۔۔۔۔انجمن بیگم نے بڑے پیار سے در ثمین کا ماتھا چوما اور اپنے سینے سے لگایا ، واہ امی ۔۔۔۔۔ بہو سے اتنا پیار آپ شاہ ویر بھائی کو بھی کرے پیار ۔۔۔۔۔فائز نے کہا تو انجمن بیگم نے شاہ ویر کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تو وہ بھی مسکراتا ہوا انجمن بیگم اور در ثمین کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین اس کھڑوس انسان کے بدلنے پر حیران تھی جو بنا جھجھک اسکے قدموں میں بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔۔
کل تک جس کو اس کا ہاتھ برداشت نہیں تھا آج وہ اسکے قدموں میں تھا ، در ثمین نے پاؤں تھوڑے پیچھے کیے تھے ، انجمن نے شاہ ویر کے ماتھے پر بھی اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔۔۔۔ہمیشہ خوش رہو دونوں انجمن بیگم نے مسکراتے ہوئے دعا دی ۔۔۔۔۔کوئی تو ہمیں چاچو بنادو یار ، دریاب بھائی تو بھول گئے ہیں شاہ ویر بھائی آپ نے بھولنا نہیں ہے فائز نے اچانک سے کہا تو سب دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی نظریں در ثمین پر ہی تھی ، فائز کی بات سن کر در ثمین نے ایک نظر شاہ ویر کو دیکھ کر واپس جھینپ کر جھکا لی تھی ، کتنے بھتیجا بھتیجی چاہئے فائز شاہ ویر نے در ثمین کو چھیڑنے کے لیے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ۔۔۔ہاں انہوں نے تو جیسے دکان کھولی ہوئی ہے نا کتنے چاہئے جو پیسے دینگے اور اٹھالیں گے ، در ثمین دل ہی دل میں کلس کر سوچ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔بھائی کم از کم پانچ پانچ آپ دونوں کے ہو ، فائز حساب لگانے لگ گیا ، جبکہ باقی سب افراد سمجھ گئے تھے شاہ ویر در ثمین کو تنگ کر رہا ہے اسلئے سب ہنسنے میں مصروف تھے ۔۔۔۔۔۔۔ بس پانچ ، بچے تو سات آٹھ ہونے چاہیے مجھے تو یہ بھی کچھ کم لگ رہے ہیں کیوں بی جان شاہ ویر نے بی جان کو آنکھ ونک کرتے ہوئے کہا ، شاہ ویر کی نظروں کا محور در ثمین ہی تھی ، اب تو در ثمین کی بس ہوچکی تھی پانچ سے سات آٹھ پر آگئے ۔۔۔۔
۔وہ بھی کم لگ رہے ، تائی امی در ثمین نے رونی صورت بناکر انجمن بیگم کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔ارے ۔۔۔۔ارے میری جان ویر مزاق کررہا ہے ، انجمن بیگم نے در ثمین کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے پیار سے کہا ، جبکہ در ثمین کا منہ دیکھ کر شاہ ویر سمیت سب زور سے ہنسنے لگ گئے ۔۔۔۔۔۔۔ تائی امی دیکھ رہی ہے آپ سب ملے ہوئے ہیں بی جان ، چاچی آپ بھی در ثمین نے سبکو دیکھتے ہوئے اپنی آنکھوں میں آئے پانی کو روکا ۔۔۔۔۔ نہیں بی جان کی جان میں تمھارے ساتھ ہوں ۔۔۔۔۔بی جان نے فوراً کہا شاہ ویر ، فائز آئندہ میری درے کو تنگ کیا تو میں تم دونوں کی چپل سے پٹائی کرو گی ۔۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے مسکراہٹ روکتے ہوئے کہا ، ہاں امی فائز کو پیٹے پہلے ، اس نے ہی بات شروع کی تھی ۔۔۔۔۔صبا نے اچھی بنتے ہوئے کہا ، تو میں نے کیا غلط کہا ، جو بھائی نے پوچھا وہ بتایا ۔۔۔۔۔۔۔ بھائی کی پٹائی بنتی ہے وہ چھیڑ رہے آپی کو فائز اپنی باری میں معصوم بن گیا ، ہاں چاچی انکی کرے پٹائی در ثمین نے منہ بناتے ہوئے شاہ ویر کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔چاچی آپ اپنے پیارے بیٹے کو مارے گی شاہ ویر نے فوراً شبانہ بیگم کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پیار سے کہا ، چاچی یہ آپ کو بلیک میل کررہے ہیں انکی نہیں سنے ،در ثمین نے لڑنے والے انداز میں کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ چپل سے تو نہیں مارو گی مگر کان ضرور کھینچو گی شبانہ بیگم نے شاہ ویر کا کان پکڑتے ہوئے کہا تو در ثمین اور صبا کھکھلا کر ہنسنے لگی ، در ثمین کو کئی سال بعد پہلی بار شاہ ویر نے ایسے ہنستے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔۔۔
