ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 20 part (2)
ایک انجانی خوشی سوار تھی۔۔۔۔۔ جلدی بتائے ۔۔۔۔دریاب کو خود کے اتنا نزدیک پا کر قندیل نے بلش کرتے ہوئے کہا ، درے اور شاہ ویر رخصتی کے لیے مان گئے ہیں ۔۔۔۔۔اور آج بی جان اور سب نے مل کر اگلے مہینے کی درے کی رخصتی کی ڈیٹ بھی فکس کردی ہے۔۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کے گلابی چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔کیا ۔۔۔۔۔واقعی مجھے بھی جانا ہے وہاں ۔۔۔۔دریاب آپ سن رہے ہیں ناں ، اور بی جان نے ہمیں کیوں نہیں بلایا ۔۔۔۔قندیل نے پہلے خوش ہو کر اور پھر ناراضگی دکھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔کوئی بڑی تقریب نہیں رکھی ، بس شاہ حویلی کے ہی لوگ تھے سب ۔۔۔۔میں نے ہی بی جان کو منع کیا تھا اور ۔۔۔۔۔۔اور تم اکیلے میرے بغیر چلی جاتی ، دریاب نے قندیل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو اور کیا میں چلی جاتی وہاں سب میرے اپنے تو ہے ، اور سب کے سب مجھ سے محبت کرنے والے قندیل نے اتارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ اچھا اور جو میں یہاں تمھارا اتنا خیال رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔ اور محبت کا کیا ہے وہ بھی ہو جائے گی ، ویسے بھی تھوڑی سی تو ہوگئی ہے دریاب نے آخری جملہ آہستہ سے کہا تھا۔۔۔۔ کیا کہا آپ نے آخر میں قندیل نے فوراً دریاب کی بات پکڑی۔۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔میں کہہ رہا تھا کتنا وزن ہے تم میں قندیل ، کم کھایا کرو ۔۔۔۔دریاب نے قندیل کی جاسوسی نظروں کو دیکھتے ہوئے بہانا بنایا۔۔۔۔۔۔ او سوری۔۔۔۔ میں آتی ہوں ، قندیل نے فوراً اٹھتے ہوئے کہا ، اور سب کچھ بھول بھال کر کچن میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔ کیا میں واقعی میں موٹی ہو گئی ہوں قندیل پچھلے پانچ منٹ سے آئینے میں خود کو دیکھنے میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے ، دریاب جو کافی دیر سے کتاب پڑھنے میں مصروف تھا وہ قندیل کی بات کو سنتے ہوۓ کتاب کو ایک سائیڈ پر رکھ کر قندیل کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔ آپ ہی تو کہہ رہے تھے قندیل نے بیڈ کے دوسری طرف بیٹھتے ہوئے کہا ، ہاں وہ۔۔۔۔۔۔ میں مذاق کر رہا تھا ۔۔۔۔۔تم بالکل پرفیکٹ ہو دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا ، آپ میرا دل رکھنے کے لیے نہیں کہے ۔۔۔۔۔
ویسے بھی درے آپی کی شادی ہونے والی ہے ، میں کوئی ڈائیٹ شروع کر دیتی ہوں آخر میں دلہن کی بہن بھی ہوں اور اکلوتی بھابھی بھی ہوں قندیل نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ وہ تو سب ٹھیک ہے مگر یہ ڈائٹ کا خیال دل سے نکال دو ورنہ سب کہیں گے میں تمہیں کھانے کو نہیں دیتا ۔۔۔۔ دریاب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا ، قندیل کو کیسے یقین دلائے کہ اسکو ڈائیٹ کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ تو چاہتے ہیں ، میں کھا کھا کر میں پھول جاؤں ، اور اگر خدا نخواستہ میں کہیں بے ہوش ہو کر گر گئی تو مجھے کون اٹھائے گا۔۔۔۔۔ قندیل نے منہ بناتے ہوئے آگے کا سوچنے لگی ۔۔۔۔۔ میں ہوں نا تمہیں اٹھانے کے لیے ، اور کسی کی کیا ضرورت ، اب یہ ڈائٹ کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو تم۔۔۔۔۔ جیسی ہو اگر ویسی بھی نا رہی اور پھول گئی میں تب بھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔ دریاب نے نرم لہجے میں کہا۔۔۔۔۔ واقعی ، قندیل کا دل خوش ہوگیا تھا ، اب ظاہر ہے شادی میں نے کی ہے تو نبھانی بھی مجھے ہی پڑے گی۔۔۔۔۔۔ پھر چاہے مجھے تمہیں کرین کے ذریعے ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے دریاب نے قندیل کو تپانے کے لیے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا مزا آتا ہے ناں اجالا آپی ۔۔۔۔۔ اگر قندیل آپی بھی یہاں ہوتی صبا نے قندیل کو یاد کرتے ہوئے کہا ، اسوقت بی جان اور شبانہ بیگم کے علاؤہ شاہ حویلی کی سب لیڈیز یہاں موجود تھی ۔۔۔۔۔۔ ہاں یہ تو ہے مگر دریاب بھائی کہہ رہے تھے کہ جلد آ جائیں گے وہ اور قندیل ، اجالا نے ثمامہ کو کھلونوں سے بہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔درے بیٹا تم خوش تو ہونا انجمن بیگم کے دل میں مچلتا ہوا سوال لبوں پر آیا ۔۔۔۔۔۔۔جی ۔۔۔۔۔۔تائی امی ۔۔۔۔ در ثمین نے سر جھکا کر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ خوش رہو ، انجمن بیگم نے دل سے دعا دی ، ہیلو بیوٹی فل لیڈیز صبا کو چھوڑ کر بابر نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
صبا نے منہ بنا کر بابر کو دیکھا ، بابر۔۔۔۔۔ کیا ملتا ہے تمھیں صبا کو تنگ کر کے انجمن بیگم نے بابر کو گھورتے ہوئے کہا ثواب امی جان ۔۔۔۔۔۔بابر نے ہنستے ہوئے کہا ، اور سب کے درمیان بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے اب فلمیں دیکھنی چھوڑ دی تھی مگر ڈر پھر بھی اسکے دماغ پر سوار تھا ۔۔۔۔۔۔۔دو تین بار شام کے بعد دریاب کی غیر موجودگی میں جب لائٹ گئی ، جسکی وجہ سے قندیل کافی خوفزدہ ہوئی تو دریاب نے ایک ٹارچ قندیل کو لا کر دے دی تھی ویسے تو کواٹرز میں لائٹ جاتی نہیں تھی ، جاتی بھی تھی تو فوراً جرنیٹر آن کردیے جاتے تھے ، لیکن کبھی جرنیٹر کی خرابی کی وجہ سے سب کو تھوڑی پریشانی اٹھانی پڑتی تھی ، کوئٹہ کا موسم کافی ٹھنڈا رہتا تھا ، اسلئے تھوڑی بہت لائٹ کی ہی پریشانی ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔وہ بھی رات کے وقت ، اس دن قندیل کی اور دریاب کی جو بات ہوئی تھی اسکے بعد سے دریاب آفس سے آنے کے بعد قندیل کو ٹائم دینے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ اکیلا محسوس نا کرے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی امی بہت خیال رکھتے ہیں دریاب میرا ، قندیل موبائل پر شاہ حویلی میں شبانہ بیگم سے بات کررہی تھی ، ماشاءاللہ ، اللّٰہ تعالیٰ خوش رکھے ہمیشہ تم دونوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل بیٹا تم اپنی اور دریاب کی شادی کی کوئی شاپنگ نہیں کرنا میں یہاں سب بچوں کے ساتھ خرید لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے پیار بھرے لہجے میں کہا ، جی جی ۔۔۔۔امی ہمیشہ آپ ہی تو کرتی ہے ۔۔۔۔اور ویسے بھی مجھے کہاں سمجھ آتی جلدی ، قندیل فوراً لاڈلی بن گئی ۔۔۔۔۔ بیٹا تمھاری اور دریاب کی کمی یہاں سب کو محسوس ہورہی ہے ، ہم بھی ابھی آنے کا سوچ رہے تھے تمھارے پاس شادی کی بات شروع ہوگئی ، اب کام اتنے ، تم بتاؤ کیسے نکلا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔شبانہ بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ امی میں دریاب کے ساتھ ہی آؤ گی ، بس اب کچھ دن تو ہے قندیل نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو روکتے ہوئے مسکرا کر کہا ، امی
۔۔۔۔۔۔۔۔شبانہ بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ امی میں دریاب کے ساتھ ہی آؤ گی ، بس اب کچھ دن تو ہے قندیل نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو روکتے ہوئے مسکرا کر کہا ، امی آپ اپنا اور سب کا سب کا خیال رکھیے گا اور سلام بھی دیجئے گا سبکو ، دریاب کے کسی دوست کی کال آ رہی ہے ۔۔۔۔۔ پھر بات ہوگی ، اللّٰہ حافظ ، اللّٰہ حافظ بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔قندیل کو شبانہ بیگم کی بہت یاد آرہی تھی اسلئے اس سے اپنا رونا کنٹرول نہیں ہوا ، وہ فوراً بہانہ بناتے ہوئے کال کاٹ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ دریاب جو باقاعدہ کتاب پڑھ رہا تھا مگر اسکی نظریں قندیل پر تھی جو کمرے کے ملحقہ چھوٹے سے ٹیرس پر کرسی پر بیٹھی بات کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔کال بند ہونے کے بعد اسکے رونے میں تیزی آ گئی تھی ، قندیل ۔۔۔۔۔کیا ہوا یار چاچی نے ڈانٹا کیا ، دریاب نے قندیل کو مسلسل روتا دیکھ اسکے پاس آ کر کہا ، ن۔۔۔۔۔نہیں قندیل نے خود کو دریاب کے سامنے سنبھالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔تو پھر کیوں رو رہی ہو یار ، چپ ہو جاؤ ، دریاب نے قندیل کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ، اب کیا ۔۔۔۔۔۔روؤں بھی آپ۔۔۔۔۔ کی مرضی سے ، امی ابو یاد آ رہے ہیں سب قندیل نے رونے کے ساتھ اٹکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔نہیں یار پتہ نہیں کیوں مجھے تکلیف ہورہی ہے تمھارے رونے سے اس لئے کہا روؤں نہیں ،اور ویسے بھی ہم جائیں گے تو جلد ہی ۔۔۔۔ دریاب نے اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل سوں سوں کرتی ہوئی دریاب کو دیکھتی رہ گئی ، اچھا اب آنسوؤں کو صاف کرو ، آئس کریم کھاؤ گی لاؤ تمھارے لیے ۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کے چہرے پر سے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے اسکا دھیان بٹانے کی کوشش کی ، اتنی ٹھنڈ میں ۔۔۔۔۔۔ آئس کریم کون کھاتا ہے ، قندیل نے کہا ۔۔۔۔۔۔تو اور کچھ بتاؤ جو تمھیں کھانا ہو ۔۔۔۔پسند ہو ۔۔۔۔ آپ اپنے ہاتھ کی چائے پلادے ، قندیل نے بہت معصومیت سے معصوم سی خواہش ظاہر کی ، بس چائے ، ابھی بنا دیتا ہوں مگر ایک شرط پر۔۔۔۔۔ دریاب نے فوراً کہا ، بنانی ہے تو بنادیں ، شرطیں ورطیں میں نہیں مانتی ۔۔۔۔۔۔اور ہاں میں نیچے نہیں سوؤں گی ، قندیل نے منہ بتاتے ہوئے کہا اسے لگا تھا دریاب ولیمے والی رات کی طرح اسکو شرط کے نتیجے میں نیچے سونے کا کہے گا ۔۔۔۔۔۔ اس بات کو تم بھولی نہیں میرا مطلب تھا ایک شرط یہ کہ میرے ساتھ کچن میں چلو چائے بنانے ، یہاں اکیلی بیٹھی رہی تو مجھے پتہ ہے تم روتی رہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور اسکے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلا دی ، جسے قندیل نے جھجھکتے ہوئے تھام لی تھیں،وہ دونوں کچن میں آگئے تھے ،قندیل بچوں کی طرح کچن سلپ پر بیٹھ گئی تھی تاکہ دریاب کو اچھے سے چائے بناتا ہوا دیکھ سکے ، دریاب بڑی مہارت سے چائے بنا رہا تھا ساتھ ساتھ وہ قندیل کو باتوں میں بھی لگائے ہوئے تھا ، یہ لے مسز دریاب آپکی چائے حاضر ہے اور کوئی حکم بندہ خاص کے لئے ۔۔۔۔۔۔دریاب نے بڑی تابعداری سے چائے سرو کی تھی کہ قندیل کو ہنسی آگئی ، بہت بڑے ایکٹر ہیں آپ ، کیپٹن کیوں بنے آپ ۔۔۔۔۔ہیرو بن جاتے آپ قندیل نے چائے کا کپ لیتے ہوئے کہا ، ابھی چائے ٹیسٹ کرو پھر تم کہو گی چائے والے بن جاتے آپ ہوٹل کھول لیتے ۔۔۔۔۔دریاب نے ایکشن سے کہا ، اچھا جی ابھی ٹیسٹ کر کے بتاتی ہوں ۔۔۔۔
۔۔قندیل نے فوراً چائے کا سپ لیا ، تو وہ رنگ رہ گئی ۔۔۔۔۔۔اتنی اچھی چائے تو واقعی اس نے کبھی نہیں پی تھی ۔۔۔۔۔۔پوری شاہ حویلی کی عورتوں کی چائے ایک طرف دریاب کی چائے ایک طرف ۔۔۔۔۔۔بولو اب ۔۔۔۔۔قندیل کو کھویا ہوا دیکھ دریاب نے کہا ۔۔۔۔۔سچی ۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔مجھے بھی سکھا دیں ۔۔۔۔۔بہت اچھی چائے ہے ، ہوٹلوں ، ریسٹورنٹ سے بھی بہت ہی اچھی ۔۔۔۔۔۔۔قندیل نے کھلے دل سے دریاب کی تعریف کی ، میرے ہوتے ہوئے تمھیں کیا سیکھنے کی ضرورت 
جب پینی ہو چائے یہ بندہ حاضر ہو جائے ۔۔۔۔۔ دریاب نے خراب سی شاعری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ آپ بھی پئے چائے بہت اچھی ہے آپ نے پہلے بتایا کیوں نہیں آپ کو اتنی اچھی چائے بنانی آتی ہے ، قندیل نے شکوہ کیا ۔۔۔۔بس یاد ہی نہیں رہا کبھی ، لیکن درے کو پتہ ہے اسے کافی بار پلائی بھی ہے حویلی میں بنا کر ۔۔۔۔۔ دریاب نے تھوڑا سا ہنستے ہوئے کہا اور چائے پینے لگا ، روٹی بنانی آتی ، آٹا گوندھنا ، اور بیسن کے آلو قندیل نے سوال کیا ۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔ ہاں سب آتا بنانے