ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 2 part (2)
ہماری اور باقی سب کی بہت خواہش تھی کہ تم بڑے ہو پہلے تمھاری خوشیاں دیکھے لیکن خیر ہم تم سے زیادہ نہیں کچھ مانگ رہے بس میں چاہتی ہوں کہ دریاب اور قندیل کی شادی میں تم دونوں ایک ساتھ رسموں میں شامل ہو۔۔۔۔۔ بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام ۔۔۔۔ جیسا آپ کو ٹھیک لگے بی جان مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے بی جان کی بات ختم ہونے کے بعد در ثمین کو دیکھتے ہوئے اس کے سلام کا جواب دے کر بی جان سے مخاطب ہوا
مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں بی جان ۔۔۔۔ در ثمین نے ایک نظر سفید پینٹ شرٹ میں ملبوس شاویر پر ایک نظر ڈالتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔ شاباش میرے بچوں مجھے تم سے ایسی ہی فرمانبرداری کی امید تھی۔۔۔ جاؤ بیٹا اب تم دونوں کی باری رسم کرنے کی ۔۔۔۔۔ بی جان کے کہنے پر شاہ ویر زبردستی مسکراتے ہوئے کرسی سے اٹھ گیا۔۔۔۔ درے دوپٹے سر سے اتار کر جانا ۔۔۔۔۔ بی جان نے جاتے ہوئے درثمین کو ٹوکا جو سر پر دوپٹہ لیے ہی رسم کر آتی ۔۔۔۔۔ ان دونوں کو ساتھ رسم کرتا دیکھ سب کو خوشی ہوئی جبکہ بی جان نے دونوں کی جوڑی کا صدقہ دیا ۔۔
سچ کہو آج تمہیں اور ویر بھائی کو ایک ساتھ رسم کرتا دیکھ مجھے دلی خوشی ہوئی بی جان نے تو دل جیت لیا میرا ۔۔۔۔۔ اجالا نے در ثمین کو خوش ہوتے ہوئے کہا درثمین جو سوتے ہوئے ثمامہ کو کمرے میں لٹانے کے لیے ائی تھی تو اجالا سے شادی کی باتوں میں لگا گئی تبھی اچانک اجالا کو انکی رسم کی بات یاد آگئی ۔۔۔۔۔ در ثمین نے ایک نظر اجالا پر ڈالی تو اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر مسکرا کر رہ گئی۔۔۔۔۔ کیا تم خوش نہیں ہوں اپی۔۔۔۔۔ در ثمین کی طرف سے صرف کھوکھلی ہنسی دیکھ کر اور کوئی جواب نہ پا کر اجالا نے پھر سے پوچھا اجالا کیا مجھے واقعی خوش ہونا چاہیے رسم دیکھا کیسے کی جیسے احسان کر رہے ہو مجھ پر ۔۔۔۔۔ جب دل نہیں تھا تو نہیں کرنی تھی رسم ۔۔۔۔۔۔۔۔در ثمین طنزیائی ہنسی ۔۔۔۔۔ اس اتنے عرصے میں جتنا درثمین شاہ ویر کو سمجھی تھی شاید ہی کوئی اور اسکو سمجھتا ۔۔۔۔۔ آپی اپ کو پتہ تو ہے وہ شروع سے ہی روڈ انسان ہے لیکن دیکھنا شادی ہو جائے گی تو آپ کو پتہ چلے گا ان سے زیادہ خوش مزاج کوئی ہوگا ہی نہیں
اجالا نے در ثمین کو چھیڑا۔۔۔۔
اچھا لگتا ہے وہ کبھی شادی کے لیے راضی ہوں گے
کافی دیر ہو گئی میں چلتی ہوں تم آرام کرو در ثمین نے شاہ ویر اور اس کے ٹاپک کو وہیں ختم کرتے ہوئے کہا اور چلی گئی۔۔۔۔۔ در ثمین اپنے نام کی طرح ہی خوبصورت تھی بلکہ یوں کہہ لے دریاب در ثمین دونوں بہن بھائی بے حد خوبصورت تھے ۔۔۔۔۔ در ثمین کا اٹھارہ سال کی عمر میں شاہ ویر کے کہنے پر اسکا نکاح شاہ ویر کے ساتھ کر دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ شروعات میں وہ سمجھتی تھی کہ شاہ وشروعات میں وہ سمجھتی تھی کہ شاہ ویر اسے پسند کرتا ہے لیکن وہ شرمیلی اتنی ہی تھی کہ اس نے کبھی پوچھنے کی ہمت ہی نہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا صبح کے وقت ان دونوں جیتے جاگتے ہوئے انسانوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں دیتے ہوئے شاہ حویلی سے روانہ کیا تھا اور اب ان دونوں کی لاشیں گھر ائی تھی۔۔۔۔۔ شاہ حویلی پر اچانک ہی غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔۔۔۔۔جہانگیر شاہ کا سب سے خوبصورت نوجوان کیپٹن بیٹا اب لاش کی صورت میں خاموش بے جان وجود کے ساتھ انکی نظروں کے سامنے تھا۔۔۔۔۔ بس ایک بات کا ان کو سکھ تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ شہید کہلانا چاہتا تھا اج اس کے ساتھ اس کی بیوی نے اور انکی بہو نے بھی یہ رتبہ پالیا تھا۔۔۔۔۔کیپٹن حیدر جہانگیر شاہ ایک خفیہ مشن پر تھے پچھلے ایک سال سے ۔۔
کچھ بہت ہی خطرناک دہشت گرد تھے جن کی ناک میں دم کر رکھا تھا کیپٹن حیدر نے ، اج ان دہشت گردوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیپٹن حیدر سے جان چھڑا لی تھی۔۔۔۔ بی جان اور دادا جان نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو والدین کی لاشیں نہ دکھائی جائیں ان کی عمر ہی کیا تھی آٹھ سال کے تو تھے دونوں کے پھر یہی طے پایا کہ دریاب اور در ثمین سے فلحال یہ بات چھپائی گئی اور کہا گیا کہ وہ کہیں گھومنے گئے ہیں کچھ دنوں تک آ جائے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کی بھی آواز نہیں آرہی لگتا ہے سب نیچے ہال میں ہے۔۔۔۔۔ کیا کروں پردہ کروں یا نہیں ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں دریاب حویلی میں ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔قندیل کو چائے کی طلب ہورہی تھی اس نے روم سے باہر جھانکا ارے اب تو دو تین دن تو رہ گے ہیں۔۔۔ چلو پردہ کر کے ہی نکلتی ہوں صبا کے ہاتھ کی چائے پینے سے اچھا بندہ خود ہی بنالے ۔۔۔۔۔ قندیل نے اپنا سوٹ کے شیفون دوپٹے سے اپنا چہرہ ڈھکتے ہوئے سوچا اور کمرے سے نکل کر راہداری میں چلنے لگی ۔۔۔۔۔ اوہ اللّٰہ جی اس لائٹ کو بھی ابھی جانا تھا ویسے تو شاہ حویلی میں کبھی لائٹ جاتی نہیں ۔۔۔۔ اچانک سے اندھیرا ہونے کی وجہ سے قندیل کو ڈر لگا ۔۔۔۔۔ اس نے ڈر سے تھوک نگلا ۔۔۔۔وہ بچپن سے ہی اندھیرے سے ڈرتی تھی ۔۔۔۔۔ اندھیرا ہو جانے کی وجہ سے دریاب جو اسٹڈی کر رہا تھا وہ بھی اپنے کمرے سے باہر آ گیا یہ دیکھنے کے آخر لائٹ گئی کیوں ۔۔۔۔۔ لڑکے اور لڑکیوں کے روم ایک دوسرے کے اپوزٹ تھے ۔۔۔۔۔۔
دریاب اندازے سے تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا نیچے سیڑھیوں کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک اندھیرے میں اس کے سینے سے کسی کا سر ٹکرایا ۔۔۔۔ اوہ ائی ایم سوری ۔۔۔۔۔۔ لگی تو نہیں ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے فوراً اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کی ہے کون جو اس سے ٹکرایا ۔۔۔۔ ٹکرانے والا وجود ٹکر کھا کر فوراً دور ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اتنی زور سے سر میں لگی ہے ایسا لگ رہا جیسے دیوار میں کسی نے سر مارا ہو
کیا کھاتے ہیں اپ انسان ہے کہ دیوار ۔۔۔۔ وہ پہلے ہی اندھیرے سے ڈری ہوئی تھی ۔۔۔۔ اوپر سے ٹکر لگنے سے اسکی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھی وہ دریاب کی آواز کو پہنچانتے ہوئے روہانسے لحجے میں بولی ۔۔۔۔۔ قندیل کی باتوں پر دریاب نے اپنی ہنسی دبائی ۔۔۔۔۔ اہہہم ۔۔۔۔ وہ میں لائٹ دیکھنے جا رہا تھا نیچے مجھے پتہ نہیں چلا ۔۔۔۔۔