Episode 2 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 2 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 2 part (1)

 

ماشاءاللہ صبا تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو جیا نے صبا کا سر تا پاؤں جائزہ لیتے ہوئے کہا واقعی مجھے تو لگتا ہے کہ اس گھر میں سب سے کم خوبصورتی میں میں ہی ہوں لیکن میری بیسٹی اج تم نے سماج والوں کے سامنے مجھے میری اصلی پہچان دلائی ہے صبا نے جیا کو کندھوں سے پکڑ کر کہا یار واقعی تم بدھو ہو بدھو ۔۔۔۔۔۔ میرے مذاق کو بھی اتنا سیریس لے لیا جیا نے صبا کو چھیڑا۔۔۔۔۔ بدتمیز ائی ول کل یو صبا نے جیا کے کندھوں پر اپنے رکھے ہاتھوں سے جیا گلا دبایا ۔۔۔۔ تو دونوں ملکر ہنسنے لگی 😂 ۔۔۔۔ یار ویسے مجھے اج تک یہ بات سمجھ نہیں ائی تمہاری فیملی ممبر ہے کتنے۔۔۔۔۔ مطلب تعداد ۔۔۔ مجھے یہ تو پتہ ہے قندیل اور اجالا تمہاری سگی بہن ہے لیکن باقیوں کا نہیں پتہ ان کا بھی بتا دو شاید میرا کوئی چانس بن جائے شاید 🫣 اتنے ہینڈسم ہیں تمہارے بھائی اور وہ والا تو سب سے زیادہ اٹریکٹیو اور ڈیشنگ ہے

 

جیا نے دریاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا او جی جیا جی دماغ ٹھیک ہے تمھارا یا نہیں۔۔۔ وہ میرے بہنوئی ہیں دریاب بھائی اور انہوں نے خود قندیل آپی کو پسند کیا ہے اپنے لیے ۔۔۔۔ صبا نے اتراتے ہوئے کہا اچھا۔۔۔۔ اچھا غلطی ہو گئی…. اس والے سے کرا دو جس نے بلیک شرٹ پہنی ہوئی ہے کتنا ڈیسنٹ اور انوسینٹ ہے اب یہ نہ کہنا یہ بھی انگیج ہے جیا نے بابر کی طرف اشارہ کیا ہاں ہاں کیوں نہیں لگتا تمہاری شادی کا نہیں جہنم میں جانے کا شوق ہو رہا ہے کیا مطلب جیا نے صبا کے ساتھ چلتے ہوئے کہا کچھ نہیں میڈم صبا نے منہ بنایا۔۔۔۔۔ آر یو جیلس۔۔۔۔۔۔۔ سو سویٹ سم تھنگ سم تھنگ 🤭جیا نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا کیا مطلب صبا نے گھورا۔۔۔۔۔ وقت انے پر بتاؤں گی جیا نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

 

مما اج آپ میرے اور بابر کے کمرے میں ا کر سوئیں گی ویر نے خوش ہوتے ہوئے اپنی ماں سے کہا جی ضرور بیٹا کیوں نہیں انہوں نے مسکرا کر کہا اور دونوں بچوں کے پاس بیٹھ کر انہیں سلانے لگی ۔۔۔۔۔۔ تائی مما آپی رو رہی ہے تبھی بوبی نے ا کر کہا کیوں بوبی بیٹا کیا ہوا آپی کو اس نے بہت پیار سے پوچھا۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔۔

 

مما آج آپ میرے اور بابر کے کمرے میں ا کر سوئیں گی ویر نے خوش ہوتے ہوئے اپنی ماں سے کہا جی ضرور بیٹا کیوں نہیں انہوں نے مسکرا کر کہا اور دونوں بچوں کے پاس بیٹھ کر انہیں سلانے لگی ۔۔۔۔۔۔ تائی مما آپی رو رہی ہے تبھی بوبی نے ا کر کہا کیوں بوبی بیٹا کیا ہوا آپی کو اس نے بہت پیار سے پوچھا۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔تائی مما۔۔۔۔۔۔ وہ ویر بھائی نے ڈرایا تھا آپی کو ۔۔۔۔ ہماری مما پاپا کبھی نہیں ائیں گے ۔۔۔۔۔ بوبی نے ویر کا غصے سے ڈرتے ہوئے بھی سب کچھ بتا دیا۔۔۔۔ بری بات ویر ایسا نہیں بولتے اپ تو بڑے ہو ناں آپ کو ایسی بات نہیں کرنی تھی ۔۔۔۔۔۔ اب آج میں بوبی اور اپی کے پاس سوؤگی ۔۔۔

 

یہ اپ کی پنشمنٹ ہے انہوں نے ویر سے خفگی جتائی تاکہ وہ آئندہ یتیم بچوں کی دل آزاری نا کرے۔۔۔۔۔۔ نو ۔۔۔۔ مما نو ائندہ نہیں کروں گا سوری ویر نے فورا اپنی غلطی مانتے ہوئے روہانسا ہوگیا اسکی بڑی بڑی انکھیں پانی سے بھر گئی ۔۔۔۔۔ اچھا رونا نہیں ۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں پہلے اپی اور بوبی کو ان کے کمرے میں سلا کر پھر اپ کے روم میں آؤں گی ۔۔۔۔۔ وہ بہت نرمی سے ویر سے گویا ہوئی اور بوبی کا ہاتھ پکڑ کر روم سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔ بہت گندی ہو تم تم نے مجھ سے میری مما لے لی میں تم سے کٹی ہوں۔۔۔۔۔ ویر نے انکھوں میں آیا پانی صاف کرتے ہوئے دل میں سوچا

 

پوری شاہ حویلی کو گیندوں کے پھول اور لائٹوں سے سجایا گیا شاہ حویلی عالیشان جدید طرز سے بنی ایک وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ جسمیں باہر کی طرف سوئمنگ پول ، لان ، پارکنگ ایریا بھی شامل تھا جو باہر سے دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپٹن کا سارا سیٹ اپ بابر نے لان میں کروایا تھا ۔۔۔۔۔ اجالا نے تھیم کے مطابق سب لڑکوں کے گلے میں پیلے دوپٹے ڈلوا دیے تھے شاہ ویر کچھ دیر پہلے آیا تھا ۔۔۔۔ ویسے تو تھکا ہوا تھا لیکن پھر بھی سب کی خوشی کی خاطر تھوڑی دیر کے لیے انجوائے کرنے نیچے لان میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔ اجالا نے دریاب کو رسم میں آنے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن پھر بی جان اور دادا جان کے کہنے کے مطابق ایک گھر میں رہتے ہوئے وہ دونوں کہاں چھپتے چھپاتے پھریں گے ۔۔۔

 

پردہ بھی لازم تھا تو پھر یوں طے ہوا کچھ کہ قندیل رسم میں اور رسم کے بعد سے دریاب سے شادی کے دن تک پردہ کرے گی ۔۔۔۔۔ مطلب گھونگھٹ میں رہے گی ۔۔۔۔۔ اپٹن کی رسم شروع ہوچکی تھی ۔۔۔۔ ایک ایک کر کے سارے گھر والے نے آ کر رسم ادا کر رہے تھے ۔۔۔ درثمین کب سے شاہ ویر سے نظر بچائے ایک سائیڈ کھڑے رسم دیکھنے میں مگن تھی ۔۔۔۔ شاہ ویر بھی لا تعلق سا بنا بی جان کے پاس بیٹھا باتیں کر رہا تھا ۔۔۔ در ثمین یہاں بی جان نے پیار بھرے انداز سے درثمین کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔۔ بی جان کی اواز پر در ثمین نے اپنے گلے میں پڑا ہوا دوپٹہ سر پر اوڑھا ۔۔۔۔ کیوں کہ وہ شاہ ویر بھی بیٹھا تھا۔۔۔۔ السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔ بی جان۔۔۔۔۔ اپ نے بلایا۔۔۔۔۔ در ثمین نے بی جان کے پاس آتے ہی شاہ ویر کو سلام کیا اور پھر بھی جان سے مخاطب ہوئی۔۔۔ شاہ ویر یہ ہمارے گھر کی پہلی خوشی ہے جو ہمیں اتنے سالوں بعد دیکھنا نصیب ہورہی ہے ۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *