ناول
میجک وائس
رائیٹر
مشی علی شاہ
Don’t copy without my permission
Episode 2
اس دن تو سونیا ایسی کام میں لگی تھی کہ سب بھول گئی تھی مگر اگلی صبح عالی کی آئڈی سرچ کی تو وہ عالی کو دیکھ کر ایک پل کے لئے حیران رہ گئی کہ کوئی اتنا خوبصورت اور معصوم بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔سونیا کی خود کی جواد کے نام سے آئی ڈی تھی تو وہ عالی کی تمام تصویروں کو لائک اور کمنٹ کرتی گئی ویسے تو عالی کی آئی ڈی کو لائک اور کمنٹ کی ضرورت تو نہیں تھی مگر سونیا کو اس کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے اس نے عالی کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجی تھی۔۔۔بات کرتے کرتے سونیاکو پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ عالی کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور یوں پانچ ماہ ان کے درمیان سمٹ گئے سونیا کی گھر میں شادی کی تیاریاں ہونے لگیں۔۔۔۔جسے دیکھ کر سونیا کو رونا آتا تھا اس نے عالی سے بات کرنے کا فیصلہ لیا اس نے اب تک عالی کو اپنے رشتے اور شادی کے بارے میں نہیں بتایا تھا مگر آج وہ عالی کو اپنا سب کچھ بتانا چاہتی تھی اسے بشر کے مقابلہے عالی زیادہ اچھا لگتا تھا جب ہی تو وہ اس سے محبت کر بیٹھی تھی اس کی سوچ کے مطابق عالی اور اس کی اچھی انڈر اسٹینڈنگ تھی جو کہ اس کے اور بشر کے درمیان بالکل نہیں تھی۔۔اور پھر عالی اور وہ ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے تھے۔۔۔عالی۔۔۔۔۔۔میری شادی ہونے جا رہی ہیں سونیا نے ہمت کی۔۔۔۔۔ واٹ۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے یوں اچانک خیریت تو ہے۔۔۔۔ عالی حیران ہوا۔۔۔۔۔اچانک نہیں۔۔۔۔۔ دو سال قبل میرا رشتہ ہو چکا تھا اور اب۔۔۔۔۔تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اس بارے میں۔۔۔۔۔۔عالی میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔سونیا رونے لگی
۔۔۔دیکھو سونیا میں اس میں کیا کر سکتا ہوں تم کمنٹیڈ تھی یہ بات تمہیں مجھے پہلے بتانا چاہیے تھی عالی نے ضبط کیا۔۔۔عالی میں تم سے محبت کرنے لگی ہوں۔۔۔۔
اور۔۔۔۔ اور تمہارے علاوہ میں کسی سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔۔ سونیا یہ کیا بیوقوفی ہے تم میرے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہوں۔۔۔۔۔ میں بات صرف تمہیں دوست سمجھ کر بات کرتا تھا اور ایک اچھی دوست کے سواء تم میرے لئے کچھ بھی نہیں ہو۔۔۔۔عالی نے تپ کر کہا۔۔۔۔ ک۔۔۔کیوں نہیں سوچ سکتی۔۔۔تم لڑکے ہو اور میں لڑکی۔۔۔۔۔ اور عالی لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔۔۔اور تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔ سونیا نے کہا سونیا۔۔۔۔۔میں چاہ کر بھی تم سے محبت نہیں کر سکتا۔۔۔۔کیونکہ میں ویسا نہیں ہوں جیسا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔۔۔عالی کو اس پر ترس آیا۔۔۔۔۔ عالی تم جیسے بھی۔۔۔۔مجھے قبول ہو۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ پلیز مجھے ایک بار اپنا لو۔۔۔۔۔ساری زندگی تمہاری غلام بن کر رہو گی۔۔۔۔ عالی اگر تم مجھے نہ ملے تو مجھے نہیں معلوم میں کیا کر بیٹھونگی۔۔۔ پلیز عالی سونیا التجا کرنے لگی۔۔۔۔۔ پلیز سونیا جذباتی مت بنو تمہارے گھر والوں نے جو فیصلہ تمہارے لیے لیا ہے وہ سب سے بہتر ہے میں کچھ نہیں کر سکتا تمہارے لئے اب مجھ سے بات مت کرنا۔۔۔۔۔ ورنہ شاید ہماری بچی کچی دوستی بھی نہ رہے۔۔۔عالی نے ہری جھنڈی دکھائی۔۔۔۔۔تو سونیا تڑپ گئی۔۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتی عالی نے کال کاٹ دی اس نے دوبارہ کال ملائیں تو موبائل پاور آف جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت نازک دل کی تھی۔۔۔۔اور آج اس کا دل ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔۔رو رو کر اس نے خود کو بخار چڑھا لیا گھر والے حیران تھے سونیا کی طبیعت کو دیکھ کر اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا شادی کے دن نزدیک آرہے تھے اس کی طبیعت سنبھلنے کہ بجائے مزید بگڑنے لگی تھی یہ بات بشر سے چھپی نہیں رہی تھی اس کا دل سونیا سے ملنے کے لیے مچلنے لگا مگر وہ اپنے والد کے سخت اصولوں کے سامنے مجبور تھا اس لیے اسے ضبط کرنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔
عالی کی بے وفائی سونیا کو مارگئی شادی میں پندرہ دن بچے تھے اس نے خود کو ختم کر لیا تھا سارا گھر حیران تھا۔۔۔۔۔۔۔ کہ سونیا کو ہوا کیا ہے بخار سے بھی بھلا کوئی مرتا ہے مگر اس کی موت کا سبب کوئی نہیں جانتا تھا وہ آہستہ آہستہ نیند کی گولیاں سب سے چھپا کر اپنے اندر انڈیل رہی تھی۔۔۔۔۔ کیونکہ جاگتے میں تو عالی کی بے وفائی اسے سانس لینے نہیں دیتی۔۔۔۔ تو کم از کم نیند کی حالت میں تو وہ عالی سے محبت کی باتیں تو کرلیتی تھی۔۔۔۔خالی پیٹ نیند کی گولیاں اسے ری ایکٹ کررہی تھی اور پھر جو وہ سارا دن سوئی رہتی تھی وہ ہمیشہ کے لیے اپنے عالی کے خوابوں کے لیے ابدی نیند سو گئی سارا گھر غم ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔مگر بشر اس کی تو محبت مری تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خود کو مارلے یا اس دنیا کو آگ لگا دے مگر وہ ہمیشہ کی طرح بے بس رہا کیونکہ یہ سب کرنے سے نہ تو سونیا دوبارہ آ سکتی تھی اور نہ اس کا غم کم ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کبریٰ زرا نیند کی گولیاں تو دینا۔۔۔۔۔آج نیند نہیں آ رہی۔۔۔کتنی دیر ہوگئی مجھے لیٹے لیٹے کامران نے کہا تو کبریٰ الماری میں نیند کی گولی کی بوتل ڈھونڈنے لگی جو کہ وہاں سے غائب تھی کیا ہوا کامران نے پوچھا۔۔۔۔ رکیں۔۔۔۔۔میں امی کے کمرے میں دیکھ کر آتی ہیں۔۔۔۔۔ امی نے لی تھی کیا۔۔۔۔تم سے کامران حیران تھا۔۔۔۔۔ن۔۔۔ نہیں۔۔۔۔مل نہیں رہی تو سوچا امی سے پوچھ آؤ۔۔۔۔۔کبری نے کہا اور زیتون کے کمرے میں آگئی جو سونیا کی یاد میں آنسو بہا رہی تھی امی کب تک روینگی۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی یوں رونے سے سونیا واپس آنے سے رہی مگر آپ بیمار ہو جائیں گی۔۔۔۔۔پلیز سنبھالیں خود کو امی۔۔۔کبری نے زیتون کو گلے لگا کر کہا۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہا سونیا ایسے اچانک کیسے مر سکتی ہے۔۔۔ابھی کچھ مہینوں سے وہ کتنا خوش تھی۔۔۔زیتون نے الگ ہو کر کہا۔۔۔امی اللہ کے ہر کام میں ہم انسانوں کی ہی بہتری چھپی ہوتی ہے۔۔۔اب آپ بالکل نہیں روئیں گی۔۔۔کبری نے زیتون کے آنسو صاف کیے۔۔۔کچھ کام تھا جو تم اتنی رات گئے آئی ہو۔۔۔ زیتون نے بارہ بجاتی گھڑی کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔ جی امی وہ نیند کی میڈیسن کی بوتل نہیں مل رہی یہ کھاتے ہیں کبھی کبھی، آپ نے منگوائی تھیں میری الماری میں سے۔۔۔۔۔۔۔ کبریٰ نے آنسو پونچھ کر کہا۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ مگر تم الماری چیک کر لو ہو سکتا ہے یہاں رکھی ہو اور تم اپنے کمرے میں تلاش کررہی ہو۔۔۔۔ زیتون نے کہا۔۔۔۔۔۔ تو کبریٰ نے ساری الماری چیک کر لی سوائے ایک چھوٹے سے دراز کے علاوہ۔۔۔۔۔ ملی کیا۔۔۔زیتون نے پوچھا۔۔۔۔۔ نہیں امی۔۔۔۔کبری نے پریشان ہو کر کہا۔۔۔۔ اچھا ہی جو چھوٹا سا سونیا کا جو دراز ہے اسے بھی دیکھ لو۔۔۔۔
زیتون نے کہا تو وہ بیٹھ کر الماری کے بالکل نیچے کی طرف بنے دراز کی چابی کو گمھا کر اس میں دیکھنے لگی تو سامنے ہی بوتل نظر آ گئی جس کی تلاش میں وہ کب سے تھی۔۔۔۔۔دراز میں اس کا ٹچ موبائل پرس ڈائری شادی کے پیسے جو کبریٰ نے ہی اس کے پاس رکھوائے تھے۔۔۔۔اور منگنی کی انگوٹھی۔۔۔۔اور چند بانڈز bonds رکھے تھے۔۔۔کبری نے بوتل اٹھائی تو وہ حیران رہ گئی کیوں کہ وہ بوتل بلکل کی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔جس میں کامران کچھ دن پہلے ہی نئی لائے تھے اور وہ سیل پیک ہی رکھی تھی کبریٰ کی الماری میں۔۔۔امی آپ نے کھائی ہیں کیا یہ گولیاں۔۔۔کبری نے کچھ سوچتے ہوئے الماری بند کرکے زیتون سے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا گی۔۔۔بھلا میں کیوں کھاو گی ،اس عمر میں یہ تو بہت نقصان دہ ہوتی ہے ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امی یہ خالی ہے اس میں تو دو چار گولیاں ہی بچی ہیں جبکہ یہ تو پچیس ہوتی ہے ۔۔۔کبری کو سب بات سمجھ آنے لگی تھی۔۔۔کبری دوائی ملی یا نہیں۔۔تبھی کامران آواز دیتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔مل گئی ہے کبری نے لمبا سانس لیا، مل گئی تھی تو پھر لائی کیوں نہیں میں کب سے انتظار کر رہا ہوں۔۔۔کامران تپ گیا۔۔۔کامران یہ نیند کی دوائی کی بوتل سونیا کی دراز میں سے ملی ہیں اور یہ خالی ہے جبکہ امی نے تو ایک بھی نہیں کھائی تو اس کا مطلب سمجھ رہے ہیں ناں آپ۔۔۔کبری کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔۔تم کہنا کیا چاہتی ہو کہ یہ سب سونیا نے جان بوجھ کر کھائیں ہیں۔۔۔کامران نے پریشان ہو کر کہا۔۔۔جی۔۔۔کبری نے کہا۔۔۔مگر بیٹا وہ کیوں کھائے گی اس کے تو نقصانات بہت ہے یہ تو زیادہ کھانے سے بندہ مر بھی سکتا ہے۔۔۔زیتون نے کہا۔۔۔تو امی ہماری سونیا بھی زندہ نہیں ہیں یاد کریں آخری دنوں میں وہ کتنا سونے لگی تھی کھانے پینے کا تو اسے بالکل ہوش ہی نہیں تھا۔۔۔کبری نے کہا۔۔۔میرا دل نہیں مانتا کہ سونیا ایسی کوئی حرکت کر بھی سکتی ہے اس بھلا کیا ضرورت وہ اپنی زندگی کو یوں ختم کرے کہیں گر گئی ہوگی زمین پر گولیاں گندی ہوگئی ہونگی تو پھینک دی ہوگی سونیا نے ۔۔۔۔۔زیتون کے آنسو روانی سے بہنے لگے۔۔۔۔۔ مجھے بھی اپنی بہن پر یقین ہے کہ وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتی کبریٰ مہربانی کرکے اس ٹاپک کو یہیں ختم کرو ہم اس بارے اور کچھ سوچنا نہیں چاہتے امی آپ رونا بند کریں، کامران نے بکھرتی زیتون کو دیکھ کر کہا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔ _
اسلام علیکم۔۔۔۔۔۔ جی کون۔۔۔۔بشر نے سلام کا جواب دے کر پوچھا۔۔۔۔۔ میں سونیا کی بھابھی کبریٰ بات کر رہی ہوں بشر۔۔۔۔۔ آپ ٹھیک ہے۔۔۔۔ کبریٰ نے پوچھا۔۔۔۔۔جی بھابھی میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں۔۔۔۔بشر نے کہا۔۔۔۔ بشر تمہیں سونیا پسند تو تھی ناں۔۔۔۔۔کبری نے دل پر پتھر رکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔ بھابھی یہ کیسا سوال ہے بشر نے کہا۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ اس کی موت میں کہیں نہ کہیں تم بھی ذمے دار ہو۔۔۔۔۔کبری کی آنکھوں میں نمی اتر ائی ۔۔۔۔۔ بس کریں بھابھی آئندہ یہ بات غلطی سے بھی مت کہنا۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔ میں ذمے دار ہونگا سونیا کی موت کا جو ہر دن اس کی یاد میں تڑپ تڑپ کر گزارتا ہے۔۔۔۔۔ آپ نہیں جانتی میں کتنا بے چین تھا سونیا کو اپنی محبت کی داستان سنانے کو۔۔۔۔۔ بلکہ اس بات سے تو وہ خود انجان تھی۔۔۔۔ کہ میں اسے اس رشتے سے بہت پہلے ہی اس سے محبت کرتا تھا۔۔۔اور جب رشتہ ہوا تو مجھے ایسا لگا۔۔۔ جیسے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گئی ہو۔۔۔۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں کبھی اسے جتا نہیں پایا تھا جس بات کا دکھ مجھے اب ساری زندگی ہونا ہے۔۔۔۔ بشر نے کہا۔۔۔۔۔ سوری بشر۔۔۔۔دراصل میں پریشان تھی تو اس لیے تمھارا دل دکھا گئی سونیا کی الماری میں سے کامران کی نیند کی میڈیسن کی بوتل ملی تھی جو کہ بلکل خالی تھی اس کا مطلب کہ سونیا نے جان بوجھ کر اپنی موت کو وقت سے پہلے گلے لگایا ہے یہ بات میں نے امی اور کامران کو بتانے کی کوشش کی مگر وہ سننا نہیں چاہتے نجانے کیوں مجھے سونیا کی موت کا راز جاننا ہے میرے لیے سونیا بہن سے زیادہ عزیز تھی ، پچھلے کچھ مہینوں سے میں وہ ہنسنے اور نکھرنے لگی تھی اور پھر یوں اب ان دس بیس دن میں بلکل ہی۔۔۔۔۔۔۔۔کبریٰ نے جملہ ادھورا چھوڑا۔۔۔۔۔۔اور ایک درد بھری سانس اپنے حلق میں اتاری،۔ یہ سچ تو مجھے بھی جاننا ہے بھابھی آپ میری مدد کریں اور دوبارہ سونیا کی الماری کی تلاشی لیں۔۔۔۔شاید الماری میں کچھ
یہ سچ تو مجھے بھی جاننا ہے بھابھی آپ میری مدد کریں اور دوبارہ سونیا کی الماری کی تلاشی لیں۔۔۔۔شاید الماری میں کچھ ایسا مل جائے جو ہمیں اس کے قاتل تک پہنچا دے۔۔۔۔پھر وہ قاتل چاہئے میں ہی کیوں نہ ہو سزا اسے ضرور ملے گی ویسے بھی اسکا نا ہونا میرے لیے ایک سزا ہی ہے ۔۔۔۔ پر یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔۔۔بشر نے دکھی ہو کر کہا۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں پھر بات کروں گی۔۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔ اللّٰہ حافظ۔۔۔ کبریٰ نے کہا۔۔۔۔ تو بشر نے بھی خدا حافظ کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔۔۔ کبریٰ سونیا کے دراز میں دوبارہ تلاشی کے لیے گھسی تھی۔۔۔۔پہلے اس کی ڈائری کھولی تو ساری ڈائری خالی صفحوں سے بھری ہوئی تھی۔۔۔کبری ناامید ہو کر بند کرنے کی لگی تھی کہ ڈائری کے پہلے صفحے پر سونیا کا نام لکھا تھا۔۔۔سونیا عالی۔۔۔کبری حیران تھی۔۔۔یہ عالی نام کس کا ہے کیونکہ اس نام کا تو کوئی ان کے خاندان یا پڑوس میں بھی نہیں تھا۔۔۔کبری نے یہ بات بشر کو بتانا ضروری سمجھی۔۔۔بشر حیران تھا اس نام کو سن کر کیونکہ وہ اکثر اسے اس نام سے بلایا کرتا تھا۔۔۔مگر پھر اس نے خود کو سنبھالا کہ لازمی نہیں کہ وہی ہو۔۔۔بھابھی آپ واپس تلاشی لیں کیونکہ خالی نام سے ہم کسی کو شک کے دائرے میں نہیں لے سکتے۔۔۔بشر کے کہنے پر کبری نے پھر تلاشی لی تو وہاں اب صرف اس کا موبائل تھا۔۔۔موبائل کو چیک کرنے پر اسے بس یہی پتہ چل سکا تھا کہ سونیا عالی نام کے کسی لڑکے سے بات کرتی تھی۔۔۔اور گیلری میں اس لڑکے کی کچھ پکچرز بھی تھی جو کہ فیس بک سے نکالی گئی تھی۔۔۔کبری نے شرمندہ ہوتے ہوئے یہ بات بشر کو بتا دی۔۔۔عالی کی تصویر جو کہ کبری نے واٹس اپ کی تھی۔۔۔اسے دیکھ کر بشر کو جھٹکا لگا تھا کیونکہ یہی اس کا فیس بک فرینڈ عالیان تھا۔۔۔۔۔۔
مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔
مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔
“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”
آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
— رائیٹر: مشی علی شاہ