Episode 2 🗣️ میجک وائس

Episode 2 🗣️ میجک وائس

ناول📚

🗣️ میجک وائس

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 2

اس دن تو سونیا ایسی کام میں لگی تھی کہ سب بھول گئی تھی مگر اگلی صبح عالی کی آئڈی سرچ کی تو وہ عالی کو دیکھ کر ایک پل کے لئے حیران رہ گئی کہ کوئی اتنا خوبصورت اور معصوم بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔سونیا کی خود کی جواد کے نام سے آئی ڈی تھی تو وہ عالی کی تمام تصویروں کو لائک اور کمنٹ کرتی گئی ویسے تو عالی کی آئی ڈی کو لائک اور کمنٹ کی ضرورت تو نہیں تھی مگر سونیا کو اس کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے اس نے عالی کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجی تھی۔۔۔بات کرتے کرتے سونیاکو پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ عالی کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور یوں پانچ ماہ ان کے درمیان سمٹ گئے   سونیا کی گھر میں شادی کی تیاریاں ہونے لگیں۔۔۔۔جسے دیکھ کر سونیا کو رونا آتا تھا اس نے عالی سے بات کرنے کا فیصلہ لیا اس نے اب تک عالی کو اپنے رشتے اور شادی کے بارے میں نہیں بتایا تھا مگر آج وہ عالی کو اپنا سب کچھ بتانا چاہتی تھی اسے بشر کے مقابلہے عالی زیادہ اچھا لگتا تھا جب ہی تو وہ اس سے محبت کر بیٹھی تھی اس کی سوچ کے مطابق عالی اور اس کی اچھی انڈر اسٹینڈنگ تھی جو کہ اس کے اور بشر کے درمیان بالکل نہیں تھی۔۔اور پھر عالی اور وہ ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے تھے۔۔۔عالی۔۔۔۔۔۔میری شادی ہونے جا رہی ہیں سونیا نے ہمت کی۔۔۔۔۔ واٹ۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے یوں اچانک خیریت تو ہے۔۔۔۔ عالی حیران ہوا۔۔۔۔۔اچانک نہیں۔۔۔۔۔ دو سال قبل میرا رشتہ ہو چکا تھا اور اب۔۔۔۔۔تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اس بارے میں۔۔۔۔۔۔عالی میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔سونیا رونے لگی🥺۔۔۔دیکھو سونیا میں اس میں کیا کر سکتا ہوں تم کمنٹیڈ تھی یہ بات تمہیں مجھے پہلے بتانا چاہیے تھی عالی نے ضبط کیا۔۔۔عالی میں تم سے محبت کرنے لگی ہوں۔۔۔۔

اور۔۔۔۔ اور تمہارے علاوہ میں کسی سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔۔ سونیا یہ کیا بیوقوفی ہے تم میرے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہوں۔۔۔۔۔ میں بات صرف تمہیں دوست سمجھ کر بات کرتا تھا اور ایک اچھی دوست کے سواء تم میرے لئے کچھ بھی نہیں ہو۔۔۔۔عالی نے تپ کر کہا۔۔۔۔ ک۔۔۔کیوں نہیں سوچ سکتی۔۔۔تم لڑکے ہو اور میں لڑکی۔۔۔۔۔ اور عالی لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔۔۔اور تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔ سونیا نے کہا سونیا۔۔۔۔۔میں چاہ کر بھی تم سے محبت نہیں کر سکتا۔۔۔۔کیونکہ میں ویسا نہیں ہوں جیسا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔۔۔عالی کو اس پر ترس آیا۔۔۔۔۔ عالی تم جیسے بھی۔۔۔۔مجھے قبول ہو۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ پلیز مجھے ایک بار اپنا لو۔۔۔۔۔ساری زندگی تمہاری غلام بن کر رہو گی۔۔۔۔ عالی اگر تم مجھے نہ ملے تو مجھے نہیں معلوم میں کیا کر بیٹھونگی۔۔۔ پلیز عالی سونیا التجا کرنے لگی۔۔۔۔۔ پلیز سونیا جذباتی مت بنو تمہارے گھر والوں نے جو فیصلہ تمہارے لیے لیا ہے وہ سب سے بہتر ہے میں کچھ نہیں کر سکتا تمہارے لئے اب مجھ سے بات مت کرنا۔۔۔۔۔ ورنہ شاید ہماری بچی کچی دوستی بھی نہ رہے۔۔۔عالی نے ہری جھنڈی دکھائی۔۔۔۔۔تو سونیا تڑپ گئی۔۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتی عالی نے کال کاٹ دی اس نے دوبارہ کال ملائیں تو موبائل پاور آف جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔   وہ بہت نازک دل کی تھی۔۔۔۔اور آج اس کا دل ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔۔رو رو کر اس نے خود کو بخار چڑھا لیا گھر والے حیران تھے سونیا کی طبیعت کو دیکھ کر اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا شادی کے دن نزدیک آرہے تھے اس کی طبیعت سنبھلنے کہ بجائے مزید بگڑنے لگی تھی یہ بات بشر سے چھپی نہیں رہی تھی اس کا دل سونیا سے ملنے کے لیے مچلنے لگا مگر وہ اپنے والد کے سخت اصولوں کے سامنے مجبور تھا اس لیے اسے ضبط کرنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔ 

عالی کی بے وفائی سونیا کو مارگئی شادی میں پندرہ دن بچے تھے اس نے خود کو ختم کر لیا تھا سارا گھر حیران تھا۔۔۔۔۔۔۔ کہ سونیا کو ہوا کیا ہے بخار سے بھی بھلا کوئی مرتا ہے مگر اس کی موت کا سبب کوئی نہیں جانتا تھا وہ آہستہ آہستہ نیند کی گولیاں سب سے چھپا کر اپنے اندر انڈیل رہی تھی۔۔۔۔۔ کیونکہ جاگتے میں تو عالی کی بے وفائی اسے سانس لینے نہیں دیتی۔۔۔۔ تو کم از کم نیند کی حالت میں تو وہ عالی سے محبت کی باتیں تو کرلیتی تھی۔۔۔۔خالی پیٹ نیند کی گولیاں اسے ری ایکٹ کررہی تھی اور پھر جو وہ سارا دن سوئی رہتی تھی وہ ہمیشہ کے لیے اپنے عالی کے خوابوں کے لیے ابدی نیند سو گئی سارا گھر غم ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔مگر بشر اس کی تو محبت مری تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خود کو مارلے یا اس دنیا کو آگ لگا دے مگر وہ ہمیشہ کی طرح بے بس رہا کیونکہ یہ سب کرنے سے نہ تو سونیا دوبارہ آ سکتی تھی اور نہ اس کا غم کم ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔

یہ سچ تو مجھے بھی جاننا ہے بھابھی آپ میری مدد کریں اور دوبارہ سونیا کی الماری کی تلاشی لیں۔۔۔۔شاید الماری میں کچھ ایسا مل جائے جو ہمیں اس کے قاتل تک پہنچا دے۔۔۔۔پھر وہ قاتل چاہئے میں ہی کیوں نہ ہو سزا اسے ضرور ملے گی ویسے بھی اسکا نا ہونا میرے لیے ایک سزا ہی ہے ۔۔۔۔ پر یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔۔۔بشر نے دکھی ہو کر کہا۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں پھر بات کروں گی۔۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔ اللّٰہ حافظ۔۔۔ کبریٰ نے کہا۔۔۔۔ تو بشر نے بھی خدا حافظ کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔۔۔   کبریٰ سونیا کے دراز میں دوبارہ تلاشی کے لیے گھسی تھی۔۔۔۔پہلے اس کی ڈائری کھولی تو ساری ڈائری خالی صفحوں سے بھری ہوئی تھی۔۔۔کبری ناامید ہو کر بند کرنے کی لگی تھی کہ ڈائری کے پہلے صفحے پر سونیا کا نام لکھا تھا۔۔۔سونیا عالی۔۔۔کبری حیران تھی۔۔۔یہ عالی نام کس کا ہے کیونکہ اس نام کا تو کوئی ان کے خاندان یا پڑوس میں بھی نہیں تھا۔۔۔کبری نے یہ بات بشر کو بتانا ضروری سمجھی۔۔۔بشر حیران تھا اس نام کو سن کر کیونکہ وہ اکثر اسے اس نام سے بلایا کرتا تھا۔۔۔مگر پھر اس نے خود کو سنبھالا کہ لازمی نہیں کہ وہی ہو۔۔۔بھابھی آپ واپس تلاشی لیں کیونکہ خالی نام سے ہم کسی کو شک کے دائرے میں نہیں لے سکتے۔۔۔بشر کے کہنے پر کبری نے پھر تلاشی لی تو وہاں اب صرف اس کا موبائل تھا۔۔۔موبائل کو چیک کرنے پر اسے بس یہی پتہ چل سکا تھا کہ سونیا عالی نام کے کسی لڑکے سے بات کرتی تھی۔۔۔اور گیلری میں اس لڑکے کی کچھ پکچرز بھی تھی جو کہ فیس بک سے نکالی گئی تھی۔۔۔کبری نے شرمندہ ہوتے ہوئے یہ بات بشر کو بتا دی۔۔۔عالی کی تصویر جو کہ کبری نے واٹس اپ کی تھی۔۔۔اسے دیکھ کر بشر کو جھٹکا لگا تھا کیونکہ یہی اس کا فیس بک فرینڈ عالیان تھا۔۔۔۔۔۔
Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *