ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 19 part (2)
واقعی قندیل تمہارے لیے جو ہو گیا سو ہو گیا لیکن چاچو نے مجھے تمہاری وجہ سے ہاسٹل میں بھیج دیا ۔۔۔۔ وہاں سب لڑکے مجھ سے بڑے تھے انہوں نے میرے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا ، وہ لڑکے اپنے کپڑے اپنے جھوٹے برتن اپنا ہوم ورک ، اپنے سب کام جو وہاں خود کو کرنے ہوتے ، وہ مجھ سے کرواتے تھے۔۔۔۔ یہاں تک کہ رات کو جب میں تھک ہار کر سوتا تھا تو وہ سخت سردی میں مجھ سے کمبل تک چھین لیتے تھے ۔۔۔۔تمہیں کیا پتہ میں نے کتنی اذیت سے گزارے وہ چار سال دریاب کے چہرے پر تکلیف کے آثار لہرائے تھے ۔۔۔۔۔ تو آپ نے یہ ساری باتیں ابو یا کسی سر کو کیوں نہیں بتائی ، قندیل ، نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا ایک بار بتایا تھا سر کو ، سر نے تو بس انہیں ڈانٹا تھا لیکن اس کے بعد ان تینوں لڑکوں نے مجھے مل کر بہت پیٹا تھا ، کہ میں نے شکایت کیوں لگائی ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں کتنی ہی رات بھوکا سویا ہوں ، اور ویسے بھی سر کوئی میرے والدین نہیں تھے جو میری حفاظت کرتے ہیں ان لڑکوں سے دریاب نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔ تو آپ ان سب ساری زیادتیوں کا قصوروار مجھے سمجھتے تھے ، اور اس کا بدلہ لینے کے لیے آپ نے مجھ سے شادی کی ، تاکہ آپ مجھے بتا سکے اسوقت آپ پر کہا گزری تھی ۔۔۔۔ دریاب کی بات سن کر قندیل کی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ اس بات کو لیکر حیران تھی کہ شاہ حویلی کا لڑکا وہ بھی یتیم ، اسکے ساتھ اتنا برا سلوک ہوا ۔۔۔۔۔تو وہ اکیلی ہی نہیں پوری شاہ حویلی قصور وار ہے دریاب کی ۔قندیل نے بات کی تہہ تک پہنچتے ہوئے کہا ہاں اور میں تمہیں ہی قصوروار سمجھتا ہوں ، اور ویسے بھی ان سب میں تمہارا ہی قصور ہے تمہیں پتہ
ہے بورڈنگ اسکول کہ وہ برے لمحے اکثر ڈراؤنے خواب بن کر میری نیند خراب کرتے ہیں ، یہ بات تو تم نے دیکھی ہوگی ۔۔۔۔
میری کیا حالت ہوتی ہے ، دریاب نے لیٹتے ہوئے کہا ، دیکھیں دریاب میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔واقعی وہاں میں غلط تھی ، اور دوسرا شاہ حویلی کے بڑوں کو آپ کو سمجھانا چاہئے تھا ، ناکہ آپ کو سب سے دور کردیا جائے ۔۔۔۔۔۔ سوری دریاب رئیلی سوری ، دریاب کی خواب والی حالت واقعی قندیل تین چار بار دیکھ چکی تھی وہ سمجھ سکتی تھی کہ وہ چار پانچ سال اس نے کیسے اذیت سے گزارے ہونگے بورڈنگ اسکول میں ۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے اسے سوری کہا تھا ، دریاب خاموش تھا ۔۔۔۔۔۔دریاب۔۔۔۔۔ دریاب تو کب ہوگا آپ کا بدلہ پورا ، کیا۔۔۔۔۔کیا ہم دونوں ایسے ہی گزاریں گے زندگی ، بدلے کی آگ میں جلتے ہوئے قندیل کے منہ سے چھپی ہوئی بات نکل گئی۔۔۔۔۔۔ قندیل کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اس بات سے خوش
ہو کے دریاب نے آج اسے اپنا سارا دل میں چھپا دکھ بتا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اس بات پر شرمندہ کہ وہ اب بھی اسے ہی قصوروار سمجھتا ہے ، تم اس بارے میں سوچنا بند کرو ، اور آ
تم اس بارے میں سوچنا بند کرو ، اور آرام کرو کافی وقت ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا اور آہستگی سے خود کے ہاتھ پر سے قندیل کا ہاتھ ہٹایا تھا ۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں آرہی نیند ، اور اب تو بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے میں سورہا ہوں اب مجھے جگانے کی کوشش کی تو بہت برا ہوگا ، دریاب نے قندیل کو ڈرانے کے لیے کہا تاکہ وہ واپس اسے سوتے ہوئے تنگ نا کرے۔۔۔۔ک۔۔۔۔کیا ۔۔۔برا ۔۔۔۔ہوگا ۔۔۔۔۔ قندیل نے پوچھا اگر تم نے مجھے سکون سے سونے نا دیا تو ریٹرن میں ، میں نے تمھیں ساری رات سونے نہیں دینا ، دریاب نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔بدتمیز کہیں کے ۔۔۔۔۔دریاب ۔۔۔۔ قندیل نے بات کا مطلب اپنی سوچ سے لے جاتے ہوئے بیڈ پر سے کشن اٹھا کر دریاب کو مارا ۔۔۔۔۔۔ارے ۔۔۔۔قندیل میں نے یہ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔۔جو تم سمجھ رہی ہو ۔۔۔۔قندیل کی سوچ پر دریاب کو ہنسی آگئی ، دریاب کو ہنستا دیکھ قندیل کو خفت نے آ گھیرا ۔۔۔۔ کیا واقعی میں نے کچھ زیادہ سوچ لیا ، توبہ توبہ ۔۔۔۔ قندیل نے دل میں خود سے سوال کیا اور فوراً خود کی سوچ کو ملامت کی ۔۔۔۔۔میں نے گدگدی کا کہا تھا کہ گدگدی کرکے ساری رات نہیں سونے دوں گا ، ایسے ، دریاب نے ہنسی روکتے ہوئے کہا اور ہاتھ بڑھا کر قندیل کو گدگدی کی۔۔۔۔۔تو قندیل ہنسی سے دوہری ہوتی ہوئی خود میں سمٹتی ہوئی دریاب کے ہاتھوں کو پکڑنے لگی ۔۔۔۔۔ دریاب بہت آہستہ گدگدی کررہا تھا لیکن شاید قندیل کو گدگدی زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اسلئے وہ پاگلوں کی طرح ہنسے جا رہی تھی ، قندیل کو ہنستا دیکھ دریاب میں سکون اترا تھا ۔۔۔۔۔اب بتاؤ سوؤگی یا نہیں ۔۔۔۔۔دریاب نے اپنے ہاتھ روکے تھے ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔قندیل شرارت میں بول گئی ، ایسے نہیں مانو گی تم ۔۔۔۔ پہلے تو دریاب قندیل کے کندھوں اور گردن پر گدگدی کررہا تھا ۔۔۔۔۔ اب دریاب نے قندیل کی کمر پر گدگدی کی تو قندیل کی جان پر بن آئی ۔۔۔۔۔در۔۔یاب ۔۔۔۔ سورہی ہوں ۔۔۔دریاب ۔۔۔قندیل کے چہرے پر ہنسی اور شرم دونوں کے تاثرات تھے ۔۔۔پکا ۔۔۔ دیکھو شروع تم نے کیا تھا ، ختم میں کررہا ہوں ، اب دوبارہ کوئی شرارت نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔۔دریاب نے قندیل کی مرنے والی حالت دیکھ کر فوراً ہاتھ روکے تھے ۔۔۔۔۔۔ ڈانٹے تو نہیں ، قندیل نے منہ بنایا ، ڈانٹا کب ۔۔۔۔۔پیار سے کہا ، دریاب نے حیران ہوتے ہوئے کہا ، جی دیکھ رکھا ہے آپکا پیار قندیل منہ بناتی ہوئی کروٹ لے کر دریاب کی طرف اپنی پشت کر کے لیٹ گئی ۔۔۔۔۔۔دیکھا ہی تو نہیں پیار ۔۔۔۔ دریاب نے اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ، دیکھنا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔اتنے غصے والا پیار ، قندیل نے اسی موڈ میں کہا تو دریاب کو بے ساختہ ہنسی آگئی ۔۔۔۔۔دریاب بھی کروٹ لے کر لیٹ گیا ، دریاب کے لیٹنے کی دیر تھی ، نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوگئی ، روز کی طرح دریاب کی نیند کا یقین کرکے قندیل دریاب کے نزدیک آ کر دریاب کا ہاتھ خود پر رکھ
کر پُرسکون ہو کر سوگئی تھی اگر وہ ایسا نا کرتی تو ساری رات اسکی سونے کے بجائے ڈر میں گزر جاتی ۔۔۔۔۔۔۔
اخر کار تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے در ثمین ۔۔۔۔۔شاہ ویر بغیر ناک کیے پہلی بار در ثمین کے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔۔پ در ثمین جو بنا دوپٹے کہ اپنے وارڈروب میں گھسی ہوئی تھی صفائی کے ارادے سے شاہ ویر کی آواز سن کر فوراً چونکی ۔۔۔۔ اور دوپٹے کو نظروں سے تلاش کرنے لگی ، آپ ۔۔۔۔آپ یہاں کیوں آئے اور آپکی بات کا مطلب ، در ثمین نے دوپٹے کے نظر آتے ہی دوپٹے کو اچھے سے اپنے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔تم نے بی جان سے کیا کہا ہے شاہ ویر نے قریب آ کر جھٹکے سے در ثمین کا بازو پکڑتے ہوئے خود کے قریب کرتے ہوئے کہا ، وہ۔۔۔۔ م۔۔۔۔ مجھے ابھی رخصتی نہیں کروانی ، در ثمین نے ساری بات سمجھتے ہوئے کہا مگر مجھے کروانی ہے شاہ ویر نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔دیکھتے ہیں سب اپ کی بات سنتے ہیں یا میری در ثمین نے شاہ ویر کی مضبوط گرفت سے خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا کوئی سنے یا نہ سنے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تم میرے نکاح میں ہو ، اور رخصتی ہو یا نہ ہو مجھے اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا شاہ ویر نے ایک ہاتھ سے در ثمین کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے ہوئے کہا ، یہ کیا کر رہے ہیں آپ شاہ ویر ۔۔۔۔۔ در ثمین نے شاہ ویر سے دور ہونے کی کوشش کی ، فکر مت کرو ابھی کچھ نہیں کر رہا۔۔۔۔۔ اگر تم اپنی ضد سے نہیں باز آتی تو ضرور کچھ کر بیٹھوں گا ۔۔۔۔۔ اور اس کی ذمہ دار تم خود ہو گی شاہ ویر نے در ثمین کے کان کے قریب اپنا چہرہ کرتے ہوئے ، در ثمین کو دھمکی دیتے ہوئے اسے آہستہ سے اپنی گرفت سے آزاد کیا ، شاہ ویر آپ مجھ سے زبردستی نہیں کر سکتے در ثمین نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا ، تم سب جانتی ہو میں تمہارے لیے کیا محسوس کرتا ہوں اس کے باوجود تم اپنی انا کی دیوار گرانے کے بجائے اور مضبوط بناؤ گی ، تو میرے لیے صرف یہی راستہ بچے گا شاہ ویر نے در ثمین کو روتا ہوا دیکھ غصے میں اپنے ہاتھ کی مُٹھی بنا کر اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے کہا ، اور کمرے سے نکل گیا ، در ثمین خود کو اس وقت بے بس محسوس کر رہی تھی ، اسکے پاس شاہ ویر کا فیصلہ ماننے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ، اس سے بعید نہیں شاہ ویر ہر حد سے گزرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔۔۔۔۔کیونکہ وہ ایسا ہی تھا پہلے وہ اپنا بدلہ لینے کے لیے اور اب اپنا پیار حاصل کرنے کے لیے۔۔۔۔ در ثمین سسک کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔ آج آپ کو اتنی دیر ہو گئی ، دریاب ابھی رات کے نو بجے ڈیوٹی سے آیا تھا ، قندیل نے دریاب کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے دریاب کو دیکھ کر پوچھا ہاں۔۔۔۔۔۔ یار بس تھوڑا سا مسئلہ چل رہا ہے شکر کرو ہے وہاں رات نہیں رکا مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو ، یاد آ رہی تھی میری کھانا کھایا تم نے ، دریاب نے تھکے ہوئے وجود کے باوجود قندیل کی فکر کر
آج آپ کو اتنی دیر ہو گئی ، دریاب ابھی رات کے نو بجے ڈیوٹی سے آیا تھا ، قندیل نے دریاب کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے دریاب کو دیکھ کر پوچھا ہاں۔۔۔۔۔۔ یار بس تھوڑا سا مسئلہ چل رہا ہے شکر کرو ہے وہاں رات نہیں رکا مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو ، یاد آ رہی تھی میری کھانا کھایا تم نے ، دریاب نے تھکے ہوئے وجود کے باوجود قندیل کی فکر کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ دریاب آپ کو پتہ ہے ناں مجھے اکیلے گھر میں کتنا ڈر لگتا ہے اسلئے پوچھا اور آپ دریاب وہاں رات رہنے کا سوچئے گا بھی نہیں ۔۔۔۔۔ ورنہ قندیل نے رونی صورت بنائی ورنہ ۔۔۔۔ بتاؤ تو کیا کرو گی دریاب نے قندیل کی دھمکی پر ہنسی روکتے ہوئے کہا ، ورنہ ۔۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔میں بھی آجاؤ گی وہاں آپ کے پاس قندیل نے روہانسے لحجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
