ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 18 part (2)
دریاب جائیں آپ بھی فریش ہو جائیں ، دریاب اپنی سوچوں کے طوفان میں پھنسا ہوا تھا کہ تب ہی قندیل کی آواز سے چونکا ، ہممم جاتا ہوں ، دریاب نے بھی قندیل کے ساتھ میچنگ کے لیے وارڈروب سے سفید شلوار سوٹ نکال لئے تھے ۔۔۔۔۔ پانچ منٹ بعد ہی وہ سفید شلوار اور پہنے کندھوں پر ٹاول لئے باہر نکلا ، قندیل دریاب پر ایک نظر ڈال کر دوبارہ دوپٹہ سیٹ کرنے لگی ، دوپٹہ تھا کہ سیٹ ہونے میں نہیں آ رہا تھا بار بار پھسلے جارہا تھا جو کہ دریاب نے بھی نوٹ کیا ، قندیل دوپٹے کو چھوڑ دریاب کی لائی پمپی ٹائپ سلیپرز پاؤں میں پہنے لگی ، تب تک دریاب بھی بال پونچھ کر سفید قمیض پہن چکا تھا ۔۔۔۔۔ قندیل ایک بار پھر دوپٹے سے الجھنے لگی ، ایک طرف سے پکڑتی دوسری طرف سے پھسل جاتا جب دوسری طرف سے پکڑتی تو پہلے والا ہاتھ سے پھسل جاتا ، لاؤ میں کراؤ ہیلپ دریاب نے قندیل کی پریشانی کو سمجھتے ہوئے اسکے نزدیک آ کر کہا تو قندیل نے بھی پنز لے کے دریاب کی مدد سے دوپٹہ سر اور کندھوں پر اچھے سے سیٹ کرلیا۔۔۔۔۔۔ تھینکس قندیل نے آئینے میں اپنے اور دریاب کے مکمل عکس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ دوپٹہ سیٹ کروانے کے لیے دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ، ن۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔ ہاں اس کے لئے بھی ۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔اور ساری شاپنگ کے لیے بھی ۔۔۔۔۔تھینک یو ۔۔۔۔قندیل نے ساری بات کرکے نظریں جھکائی تھی دریاب کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا تھا ،
آج تم میری لگ رہی ہو ، دریاب نے نزدیک آ کر قندیل کے کان میں سرگوشی کی تو قندیل نے نظریں اٹھا کر آئینے میں دیکھا تاکہ تصدیق کرسکے کہ یہ واقعی دریاب نے کہا ، ایک پل کے لئے قندیل دریاب کی انکھوں میں دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ آپ نے بال نہیں بنائے ۔۔۔۔ وہ سب آجائیں گے ، آپ مکمل تیار تو ہو جائیں قندیل نے دریاب کی نظروں سے گھبراتے ہوئے کہا ہاں ، میں کیسا لگ رہا ہوں دریاب کو قندیل کی گھبراہٹ سمجھ آ گئی تھی اسلئے اپنی ہنسی کو دباتے ہوئے شرارت سوجھی ۔۔۔۔۔۔ جیسے ۔۔۔۔۔ لگتے ۔۔۔۔۔ویسے لگ رہے ہیں ، قندیل نے ہچکچاتے ہوئے کہا کیسا لگتا ہوں دریاب نے بال بنانے کے بعد خود پر پرفیوم لگاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔ ا۔۔۔اچھے ۔۔۔۔۔ اچھے ہی لگ رہے آپ ، بس اچھا ، دریاب نے قندیل کا رخ موڑ کر خود کی طرف کیا ، اب بولو کیسا لگ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل سے واچ اٹھا کر کلائی پر باندھنے لگا ، اچھے کہا میں نے ، اچھے ہی لگتے آپ ۔۔۔قندیل نے دریاب کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ، یہاں دیکھو ، مطلب جن سے محبت ہو وہ بس اچھے ہی لگتے ، دریاب نے قندیل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔دریاب کی بات پر قندیل پھنس چکی تھی ، تب ہی ڈور بیل بجی ، لگتا وہ آگئے قندیل نے جان بچنے پر شکر کیا ، آجاؤ تم بھی ۔۔۔۔۔ قندیل کی جان بچنے پر دریاب مسکراتا ہوا باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔ آ رہی ہوں آپ جب تک دروازہ تو کھولیں قندیل نے دانت ہچکچاتے ہوئے کہا ، اور ایک نظر آئینے میں اپنے عکس پر ڈالتی ہوئی دریاب کے پیچھے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ دروازہ کھولتے ہی اس کے دوست ریحان عامر اور شبیر اپنی وائف اور بچوں سمیت کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ السلام علیکم بھائیوں ، السلام علیکم بھابھیوں اور میرے پیارے بچوں دریاب نے عامر کی بیٹی
۔۔۔۔۔۔قندیل نے آنکھیں پھیلائی تھی ، کون سی گھٹیا بات کی ، دریاب نے سوال کیا۔۔۔۔۔ یہی جو آپ ابھی بول رہے تھے چپکوں گا اور وغیرہ ، وغیرہ قندیل نے دریا کی نقل اتاری۔۔۔۔۔۔۔ اوہ میڈم یہ الفاظ بھی آپ نے ہی استعمال کیا تھا ۔۔۔۔۔میرے کیوں چپک رہے تھے ، اب کی بار دریاب نے قندیل کی نقل اتارتے ہوئے حساب برابر کیا تو قندیل منہ بنا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔اچھا بھئی میری غلطی ہے پر میری بات کہنے کا مطلب صرف یہ تھا کہ جب ہمارا ریلیشن ایسا ہے ہی نہیں تو پھر اس میں دکھاوے کے رنگ کیوں بھرے ۔۔۔۔۔ صرف اس لیے تاکہ لوگ آپ کے اور میرے بارے میں اچھی رائے قائم کریں ، پتہ ہے اپ کو مسز شبیر کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔لگتا ہے دریاب تمھیں بہت چاہتا ہے اسکی تم پر سے نظر ہٹ ہی نہیں رہی ، اور مسز عامر وہ کہہ رہی تھی لگتا ہے تم بہت جلد ہمیں گڈ نیوز سنانے والی ہو۔۔۔۔۔۔۔ اور مسز ریحان وہ اپنے طریقے سے مشورے دے رہی تھی مجھے وہ بھی آپ کی حرکتوں کی وجہ سے قندیل نے سچائی بیان کرتے ہوئے کہا ، اور وارڈروب میں سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں چلی گئی دریاب قندیل کی باتیں سن کر ہنستا چلاگیا ۔۔۔۔۔اب دریاب اس کو کیا بتاتا آج تو خود اس کا دل اس کے بس میں نہیں تھا اور جو کچھ ہوا تھا وہ دکھاوا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ بی جان آپ نے بات کی سب سے رخصتی کی شاہ ویر کل رات کی فلائٹ سے پاکستان آیا تھا اسکا در ثمین سے اب تک سامنا نہیں ہوا تھا یا وہ جان بوجھ کر اسکے غصے سے چھپ کر بیٹھی تھی ، بی جان اس وقت کمرے میں اکیلی تھی تو وہ ان سے پوچھنے چلا آیا ۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔بی جان کی جان ، کیا بات کرتی سب سے ، درے نے فی الحال منع کر دیا ہے رخصتی سے ، بی جان نے کہا ۔۔۔۔۔کیا ۔۔۔۔۔کیوں مگر آپ نے پوچھا نہیں اس سے ، شاہ ویر نے حیران ہوتے ہوئے کہا ، تم میرے لاڈلے پوتے ہو تو وہ بھی میری لاڈلی پوتی ہے جب اتنے سالوں سے میں نے تم سے وجہ نہیں پوچھی انکار کی ۔۔۔۔ تو بی جان کی جان اس سے بھلا کیا پوچھتی میں بی جان ہے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔۔ تو شاہ ویر زبردستی مسکرا گیا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا در ثمین اسے جان بوجھ کر سزا دے رہی ہے ، وہ اندر ہی اندر در ثمین کے ہوش ٹھکانے لگانے کا سوچنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔