ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 18 part (1)
اور کچھ پرسنل سامان جو وہ ایک بار غلطی سے اسکے واڈروب میں دیکھ چکا تھا ، دریاب کو لیتے ہوئے شرم آئی تھی مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی چیز رہے جس کی وجہ قندیل کل کو اسکو کہے آپ یہ تو لائے ہی نہیں ، سیلز گرل بھی اپنے باس کے سامنے نمبر بنانے کے لیے دریاب کو بتاتی گئی اور دریاب خریدتا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ تمام قندیل کی شاپنگ کے بعد دریاب کاؤنٹر سے بل ادا کرکے جانے ہی والا تھا تبھی دریاب کو سیلز گرل کے ساتھ آکر مارٹ کے مینیجر نے روکا ۔۔۔ سر دریاب آپ نے ہماری مارٹ سے بہت ہی زیادہ شاپنگ کی ہے ، یہ ہماری مارٹ کی طرف سے آپکا گفٹ ہے ، مینیجر نے ایک گفٹ بیگ دریاب کی طرف بڑھایا ، نہیں سر اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔ دریاب مسکرایا تھا ، پلیز سر رکھ لیجیے گفٹ ہے ، سیلز گرل نے مسکراتے ہوئے کہا اور مینجر نے گفٹ بیگ دریاب کی طرف بڑھایا تو دریاب نے لے لیا ۔۔۔۔۔ شکریہ دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا ، سر جب بھی آپ کو ضرورت ہو پلیز یہی تشریف لائے گا مینجر نے دریاب کو کہا تو دریاب اثبات میں سر ہلاتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔ اتنی دیر لگادی آپ نے ، سامان سارا لائے ناں ، قندیل نے دروازہ کھولتے ہی دریاب سے سوال کیا ۔۔۔۔۔ جی تقریبا چیک کرلو کچھ رہ گیا ہوگا تو ابھی چلا جاؤنگا ، دریاب نے تمام سامان کے بیگز کچن کی ڈائننگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ، قندیل نے ایک ایک کرکے تمام سامان چیک کیا سب مکمل تھا۔۔۔۔۔ اور یہ بیگز گفٹ والے ، اتنے سارے کیسے ہوگئے دریاب قندیل نے شاپنگ بیگز کو دیکھتے ہوئے کہا ، گفٹ تو بس یہ ہے باقی یہ سب تمھارے لیے ہے ، دریاب نے گفٹ اور قندیل کے شاپنگ بیگز
کو الگ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ میرے لئے اتنا سب کچھ ، میں نے تو بس ایسے ہی کہا تھا آپ تو سیریس ہی ہوگئے دریاب ، قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا مگر اندر ہی اندر وہ بہت خوش تھی ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ایسے ہی ، میں اپنی مرضی سے لایا سب دو ڈریسیز ہے ان میں سے ایک شام کو مہمانوں کے سامنے پہن لینا لازمی ، ٹھیک ہے اور بھی سامان اگر کچھ رہ گیا ہو تو بتا دینا میں لے آؤنگا ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے اپنا موبائل جیب سے نکالتے ہوئے کہا ، آپ جو کہے گے وہ پہن لو گی ۔۔۔۔۔ میں دیکھ لو آپ نے کیا شاپنگ کی ، قندیل نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں ہاں دیکھ لو تمھاری ہی شاپنگ ہے تمھارے لیے ہی لایا ہوں ۔۔۔۔۔ اور جو ڈریس تمھیں کمفرٹیبل لگے وہ پہن لینا ،قندیل ایسا کرو بیڈروم میں لے جاؤ یہ شاپنگ بیگز وہی دیکھ لینا ، وارڈوب میں بھی رکھ دینا ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نہیں چاہتا تھا قندیل اسکے سامنے سارا سامان دیکھے اسلئے دریاب نے قندیل کو بیڈ روم میں جانے کا کہا ۔۔۔۔۔۔ ارے ایسے کیسے آپ لائے میرے لئے سب آپکی چوائس آپکے سامنے ہی دیکھو گی ، یا ایسا کرے شاہ حویلی میں بابر کے پاس ویڈیو کال کرے میں سب کو ایک ایک چیز ویڈیو کال پر دکھاؤنگی آپ میرے لئے اتنا سب کچھ لائے وہ بھی خود شاپنگ کرکے ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے خوشی خوشی میں فوراً آئیڈیا دیتے ہوئے کہا ، نہیں ۔۔۔۔۔ نہیں قندیل پہلے تم دیکھ لو شاہ حویلی میں بس بتا دینا ، دکھانا ۔۔۔۔۔ دکھانا سب ضروری تو نہیں اور اور ویسے بھی اسوقت بابر حویلی میں نہیں ہے ابھی ہوئی تھی میری بات اس سے ، دریاب نے فوراً بات بدلی ۔۔۔۔۔ سچ میں ، آپ کے سامنے دیکھ لو قندیل نے منہ بنایا ، ہاں دیکھ لو ایسا نا ہو کہ ڈنر کی تیاری رہ جائے دریاب نے قندیل کا شاپنگ سے دھیان ہٹانا چاہا ، نہیں ہوگی دیر میں کر لوگی ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دانت دکھائے اور شاپنگ بیگز کھول کر دیکھنے لگی ، واقعی کسی نے سچ کہا ہے لڑکیاں شاپنگ کے پیچھے پاگل ہوتی ہے ، دریاب دل میں سوچا کر مسکرا کر رہ گیا ۔۔۔۔۔۔ قندیل ایک ایک بیگز کھول کر دریاب کی پسند کو داد دیتی جارہی تھی ، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ دریاب لڑکیوں کی اتنی اچھی شاپنگ کر سکتا ہے ، پر چیز اسکے حساب سے تھی ، ڈریس ، سینڈل ، چوڑی سب اسکے ناپ کی تھی ۔۔۔۔۔۔
ابھی بھی تین بیگز بچے ہے ان میں کیا ہے ، کوئی سرپرائز ہے کیا ۔۔۔۔۔ سب سامان مکمل ہونے کے بعد تین بچے بیگز پر قندیل نے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ۔، جسمیں ایک لیڈیز شاپ والے کی طرف سے گفٹ تھا ۔۔۔۔۔ اس میں کچھ سامان ہے ۔۔۔۔ پ۔۔۔ پرسنل ، قندیل کی بات سن کر دریاب نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کی ۔۔۔۔۔۔ پرسنل سامان کس کا قندیل نے حیران ہوتے ہوئے فوراً شاپنگ بیگ کھولا ، چند ہی سیکنڈ لگے تھے اسکو سمجھنے میں ، قندیل نے فوراً دریاب کی طرف دیکھا جو اسکے تاثرات دیکھ کر موبائل پر اسکرولنگ کرنے لگ گیا جیسے وہ یہاں ہے ہی نہیں ۔۔۔۔او۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔اس۔۔۔۔میں قندیل نے دوسرے بیگ کی طرف جھجھکتے ہوئے دیکھ کر کہا اس میں بھی ، ہاں ۔۔۔۔دریاب نے ایک نظر بند بیگز کو دیکھا کر کہا ۔۔۔۔۔۔قندیل نے مرے مرے ہاتھوں سے گفٹ بیگ کو کھولا ، تو اسمیں ہینگر میں لال رنگ کے کپڑے کو دیکھ کر حیرانی سے پوچھتے ہوئے باہر نکالا ۔۔۔۔۔۔ کہا تو سب تمھاری ۔۔۔۔۔۔ قندیل کی آواز پر دریاب نے کہا اور نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک ریڈ کلر کی نائیٹی تھی اوور نیٹ کوٹ کے ساتھ ، قندیل سمجھنے کی کوشش کررہی تھی دریاب کو سب سمجھ آگئی تھی ، کیونکہ اس نے تو یہ خریدی ہی نہیں تھی یہ ضرور سیلز گرل اور اسکے باس کا کام تھا ۔۔۔۔۔۔ جب ہی وہ اتنا اسرار کررہے تھے ، واہ یہ تو ایک دن میں ہی شوہر بن گئے شاپنگ ایسے کی جیسے پہلے تین بیویاں سنبھال کے بیٹھے ہو سب کچھ سمجھ آتے ہی قندیل نے دل میں سوچتے ہوئے دریاب کو گھورا ۔۔۔ یہ ۔۔۔۔یہ میں نے نہیں لیا تھا ، ان لوگوں نے گفٹ کیا ۔۔۔۔ قندیل کی گھوری دیکھتے ہی دریاب نے کہا ،تیسرا شاپنگ بیگ قندیل کی کھولنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی وہ منہ بناتی ہوئی سارے شاپنگ بیگز سمیٹتی ہوئی روم میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
واؤ یار قندیل مجھے یقین نہیں آ رہا یہ سب تم نے بنایا ، کچن کی ڈائننگ ٹیبل پر سب ڈشیز تیار ، نفاست سے رکھی ہوئی تھی ، اور بہت ہی خوبصورتی سے سجائی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔دریاب کو ایک امپورٹنٹ کال آ گئی تھی ، اسلیے وہ دوپہر کا گیا اب لوٹا تھا ، کچن میں قندیل کو کام میں مصروف دیکھ وہ سیدھا کچن میں آگیا ۔۔۔۔ قندیل خاموش تھی ، دریاب کی بات پر کوئی جواب نہیں دیا ، قندیل یار وہ میں نے سچ میں نہیں خریدی سیلز گرل اور انکے باس نے زیادہ شاپنگ پر دیا گفٹ ، اگر یقین نہیں تو شاپنگ ریٹ لسٹ پر چیک کرلو ، اگر اسکا نام لکھا ہو لسٹ میں ۔۔۔۔۔دریاب نے فوراً جیب سے ریٹ لسٹ قندیل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ، مجھے کچھ چیک نہیں کرنا ، قندیل نے دریاب کی طرف دیکھتے ہوئے منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔۔۔ نہیں کرنا چیک کوئی بات نہیں یار منہ تو صحیح کرو میرے دوست اور انکی وائف کیا سوچے گی ، ہم لڑ کر بیٹھے ہیں ایک دوسرے سے ۔۔۔۔۔ یہ شاپنگ سب میں نے تمھاری خوشی کے لئے کیا تھا مجھے نہیں پتہ تھا سب الٹا ہو جائے گا دریاب نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ، میں ٹھیک ہوں ، کھانا بھی تقریباً سب تیار ہے قندیل نے دریاب کی بات کو سمجھتے ہوئے کہا اچھا تو پھر تم ریڈی ہو جاؤ سب آنے والے ہوں گے کچھ ہی دیر میں ، تمھارے بعد میں بھی فریش ہوجاو گا ۔۔۔۔دریاب نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا جی میں جاتی ہوں چینج کر نے ۔۔۔۔۔قندیل نے کمرے کا رخ کیا ، تیس منٹ انتظار کرنے کے بعد بھی جب قندیل روم سے باہر نہیں آئی تو دریاب روم میں دیکھنے چلا آیا ۔۔۔۔۔ یہاں وہ دریاب کی لائی گئی سفید کلر کی پاؤں کو چھوتی ہوئی بڑی گھیر دار فراک جس پر نفاست سے سفید ایمبرائیڈڈ زری کا کام کیا گیا تھا آستین اور پوری گھیری ایمبرائیڈڈ کام سے سجی ہوئی تھی ، اس کو زیب تن کرنے کے بعد اسکا دوپٹہ جس پر سفید ہی ایمبرائیڈڈ کے چھوٹے چھوٹے پھول بنے ہوئے تھے اسے سیٹ کر رہی تھی ، دوپٹہ بار بار قندیل کے کندھوں پر سے پھسل رہا تھا ،۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائٹ سا میک اپ ، گلے میں باریک سی چین ، سفید کلر کے جمھکے کانوں میں ، ایک پل میں اسے اپنی لائی شاپنگ سے تیار دیکھ دریاب کھو سا گیا تھا ، ہر چیز جیسے اس کے لئے بنی ہو ، کیا ہوا دریاب نے قندیل کے پاس آ کر کہا ، ک۔۔۔۔ کچھ نہیں قندیل کے لمبے اور گھنے بال کھلے ہوئے تھے جن میں سے ایک دلفریب سی خوشبو آ رہی تھی جو دریاب کے ناک سے ٹکرائی تو وہ دیکھتا رہ گیا ، وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس لمحے میں کچھ خاص تھا یا اس جگہ میں جو وہ قندیل پر سے نگاہ ہٹا ہی نہیں پا رہا تھا یا شاید وہ پہلی بار اتنا اچھا تیار ہوئی تھی ، یا سب دریاب کے ڈریس کا کمال تھا جو وہ دریاب کو ایک اور بار اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
