ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 15 part (1)
شاہ ویر پورے دل وجان سے اپنے کام میں دن رات ایک کررہا تھا ، اسے بس یہ تھا کہ کیسے بھی جلدی کام ختم کر کے پاکستان جائے ، اور در ثمین کے ہوش ٹھکانے لگائے جو اسکی اس دن کی باتوں کا جواب نہیں دے رہی مزید اسے تڑپا رہی ہے ۔۔۔۔۔ شاہ ویر اس بات کو مانتا ہے کہ اس نے در ثمین کے ساتھ زیادتی کی ، اسے نکاح جیسے خوبصورت رشتے نام دے کر ، وہ در ثمین سے جان بوجھ کر دور ہوگیا یہ جانتے ہوئے بھی وہ اس سے محبت کرنے لگ گئی تھی ، اتنے سال اس نے باہر ملک میں رہنے کے بعد بھی کبھی اسکی خیر خیریت معلوم نہیں کی ، لیکن اس بات کا اندازہ اس کو آج ہو رہا تھا جب بات خود اس پر آئی ، کہ کیا گزری ہوگی در ثمین پر ، ورنہ تو در ثمین کو اس نے اور کچھ سال سزا دینی تھی ۔۔۔۔ دریاب کو گئے آج آٹھ دن ہوچکے تھے ، ان آٹھ دنوں میں دریاب نے ایک بار بھی قندیل سے بات نہیں کی تھی ، قندیل اندر ہی اندر دریاب سے خفا تھی ۔۔۔۔۔ قندیل اس بات پر حیران تھی چلو شوہر صاحب کو تو پرواہ ہے نہیں گھر والوں میں سے بھی کوئی اسے ڈانٹ نہیں رہا پوچھ نہیں رہا ، کہ وہ مجھے سے بات کیوں نہیں کررہا۔۔۔۔۔ کہیں میں لاوارث تو نہیں ، جب بات دریاب کی تھی تو امی مجھے ڈانٹتے اور نصیحتیں کرتے نہیں تھکتی تھی ۔۔۔۔ اب اس میسنے کو کوئی کچھ بول نہیں رہا ، قندیل جب بھی اکیلی ہوتی اسکے ذہن میں سوچوں کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ دریاب جان بوجھ کر
قندیل سے بات نہیں کررہا تھا وہ اچانک اسکو سرپرائز دینا چاہتا تھا ، مگر وہ اس بات سے انجان تھا کہ قندیل روز کئی گھنٹے اسکو یاد کرتے اسکو سوچتے گزارتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسی چل رہی ہے قندیل تمہاری میریڈ لائف اجالا نے ثمامہ کو سلاتے ہوئے کہا اٹھ دن سے موصوف گھر پر ہے نہیں آپی کو لائف کی پڑی ہے ، قندیل نے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ بہت اچھی قندیل نے زبردستی ہنستے ہوئے کہا ، میرا مطلب ہےکہ تم دریاب کے ساتھ خوش تو ہو ناں ، کال وغیرہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اجالا نے شوخی سے کہا ۔۔۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔ جی بہت خوش ہوں بہت خیال کرتے دریاب میرا۔۔۔۔۔ قندیل نے اجالا کو یقین دلاتے ہوئے کہا ، قندیل آپی آج آپ اپنے روم میں جا کر سوئے اجالا آپی اور میں یہاں سوئیں گے۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔ کیوں میں پہلے بھی تو یہاں سوتی تھی ناں ، اجالا آپی کے آنے کے بعد بھی ، اور تم اپنا بستر نیچے بچھا لو ہمیشہ کی طرح لیکن میں یہی سوؤں گی ، میں نہیں جارہی وہاں ۔۔۔۔۔ قندیل نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا پہلے تو مجبوری تھی ۔۔۔۔ لیکن اب تو آپ کے پاس اپنے کمرے کا آپشن ہے ناں ، ویسے بھی میں نیچے نہیں سونے والی میری کمر میں درد ہو جاتا ہے صبا نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں ، قندیل تم اپنے روم میں جا کر سو جاؤ خالی کمرے میں بھوتوں کا بسیرا ہو جاتا ہے ، ویسے تم کب سے یہاں سو رہی ہو اجالا نے ہنستے ہوئے کہا ، جب سے دریاب بھائی گئے ہیں قندیل آپی نے یہاں بسیرا کر لیا ہے ۔۔۔۔۔ صبا نے اجالہ کے پاس آ کر بیٹھتے ہوئے کہا ، میرا مطلب ہے کتنے دن ہو گئے اجالا نے تب کر کہا ۔۔۔۔۔ آٹھ دن ہو گئے ہیں ناں قندیل آپی صبا نے انگلیوں پر دن گنیں ۔۔۔۔۔۔ اب آپ دونوں مجھے ڈراؤ تو مت میں ، میں کمرے میں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔ قندیل نے خوفزدہ ہو کر کہا ارے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔دریا۔۔۔۔۔صبا نے اپنی چلتی ہوئی زبان کو بریک لگایا ۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔ کیا کہا صبا تم نے قندیل نے فوراً پوچھا ، وہ۔۔۔۔۔ وہ آپی ۔۔۔۔در۔۔۔۔۔ درود شریف کا ورد کر لینا ، صبا نے بات کو سنبھالتے ہوئے کہا ، پر آپی میں اکیلے کیسے رہوں گی ، قندیل نے بے بسی سے کہا بھئی جلدی کمرہ خالی کرو آپ ۔۔۔۔۔ مجھے نیند آرہی ہے صبا نے مصنوعی جمائی لے کر اسے روکتے ہوئے ہوئے کہا ، ہاں ہاں جا رہی ہوں لیٹ جانا کھل کر بدتمیز ۔۔۔۔۔۔تمیز نہیں ہے بڑوں سے بات کرنے کی قندیل نے غصے سے بیڈ سے اٹھ کر سلیپر پہنتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔اور کمرے سے نکل گئی جبکہ پیچھے صبا اور اجالا کی ہنسی کمرے میں گونجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل مرے مرے قدم اٹھاتی ہوئی اپنے روم تک آ گئی ، روم کا دروازہ کھول کر قندیل نے ڈرتے ڈرتے روم کی لائٹ آن کی ، لائٹ جلانے کے بعد سامنے کا منظر دیکھا تو قندیل ہکا بکا رہ گئی ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ روم تو ایک دم بالکل صاف تھا اور لش پش کرتا نظر آرہا تھا ، روم اسپرے کی خوشبو بھی کمرے میں تحلیل تھی ، روم کو دیکھ کر لگ نہیں رہا تھا یہ آٹھ دن سے بند ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ کس نے کی صفائی قندیل نے دل میں سوچا کہیں یہ واقعی بھوتوں کا کام تو نہیں یہ سوچتے ہی قندیل کے جسم میں پھریری آ گئی ۔۔۔۔۔۔ ارے بھوت تو کمرہ گندا کرتے ہے صاف تھوڑی کرتے قندیل کو دریاب کی بات یاد آئی تو قندیل نے خود کو ہمت دلائی اور قدم آگے بڑھائے ۔۔۔۔۔ خود کو مطمئن کرنے کے بعد وہ چند چھوٹے موٹے کام نمٹا کر خود پر سورت الناس کا دم کرتے ہوئے سو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے نکاح کے ہوتے ہی یہاں کوارٹر کی ایپلیکیشن دے دی تھی جو اب فوری طور پر منظور ہو چکی تھی کیونکہ حال میں ایک فوجی کواٹر خالی کر کے گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اب دریاب ویک اینڈ کے آنے کے انتظار میں تھا تاکہ وہ جلدی گھر جا کر قندیل کو یہاں لا سکے ۔۔۔۔۔۔دریاب آج ہی رات کے دس بجے گھر پہنچا تھا دریاب کے سرپرائز کے مطابق کسی نے بھی اس کی امد کا قندیل کو نہیں بتایا تھا ، وہ پہلے روم میں گیا جہاں گندگی اس سے برداشت نہیں ہوئی پندرہ منٹ کے اندر اس نے اپنا پورا روم صاف کیا ۔۔۔۔ اور بی جان کے روم میں آ گیا۔۔۔۔۔ دادا جان سو چکے تھے ، اب بی جان بھی سونے والی تھی ، اس لیے دریاب وہاں سے اٹھ کر واپس اپنے روم میں آ گیا ۔۔۔۔۔۔جہاں قندیل دنیا سے بے خبر سو رہی تھی ، کہاں کہہ رہی تھی آپکے بغیر اس کمرے میں نہیں رہوں گی اور اب مسز مجھ سے پہلے ہی گھوڑے بیچ کر سوئی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔
دریاب کو قندیل کی کہی ہوئی بات یاد آگئی ، اس بات سے بے خبر کہ صبا اور اجالا نے اسے پلان بنا کر یہاں کمرے میں بھیجا ہے ۔۔۔۔۔ دریاب سفر سے تھکا ہوا تھا ۔۔۔۔۔اس لیے فریش ہو کر بیڈ کے دوسرے طرف آ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیٹنے کی دیر تھی دریاب پر نیند کی دیوی مہربان ہوگئی۔۔۔۔ اذان کی آواز سے دریاب کی آنکھ کھلی۔۔۔۔۔ اٹھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اس لیے دریاب دوبارہ آنکھیں بند کر کے اذان سننے لگا ، اذان ہو ہی رہی تھی کہ قندیل کی آنکھ کھلی ، نماز پڑھنے کے خیال سے وہ فوراً اْٹھ کر بیٹھ گئی ، اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب دوسری طرف دریاب کو سوتا ہوا دیکھا ۔۔۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ پہلے صبا اور آپی نے کمرے سے نکال دیا ، پھر رات کو یہاں آئی تو کمرہ صاف اور اب دریاب۔۔۔۔۔۔۔ دریاب کیسے آ سکتے ہیں ، کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی قندیل بڑبڑائی ، دریاب جو انکھیں بند کیے لیٹا تھا اس نے قندیل کی بڑبڑاہٹ سن کر اپنی ہنسی ضبط کرنے لگا ۔۔۔۔۔ ہاتھ لگا کر دیکھو کہیں بھوت تو نہیں قندیل نے بڑبڑاتے ہوئے دریاب کی طرف ہاتھ اگے ہی بڑھایا تھا جو دریاب نے ہوا میں ہی پکڑ لیا ، قندیل اس کے لئے تیار نہیں تھی وہ فوراً دریاب کو بھوت سمجھ کر (جو ابھی ہاتھ پکڑ کر اسکو کھا جائے گا )چیخنے لگی تھی دریاب نے ایک ہی جست میں قندیل کو اپنی طرف کھینچ کر اسکے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔ پاگل کہیں کی میں ہی ہوں دریاب ، اس میں چیخنے والی کیا بات تھی ، سارے گھر والے کیا سوچے گے ، قندیل دریاب کے سینے سے لگی ہونقوں کی طرح دریاب کو دیکھ رہی تھی ، جب ہی اسکی باتیں سنانے پر قندیل کو غصہ آیا ، وہ دریاب کے ہاتھ پر کاٹ گئی ، دریاب نے فورا اسکے منہ پر سے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔۔۔۔ ایسے بھوتوں کی طرح آئے گے تو بھوت ہی سمجھو گی ، پہلے ہی میں کیسے ڈر ڈر کے سوئی تھی اٹھتے ہی آپ نے ڈرا دیا۔۔۔۔۔
قندیل نے منہ بناتے ہوئے دریاب سے دور ہوتے ہوئے کہا ، اور یہ ہاتھ پر کاٹا کس خوشی میں دریاب نے بیٹھتے ہوئے قندیل کے سامنے اپنا ہاتھ کیا جس پر اسکے دانتوں کے نشان واضح تھے ، یہ آپکی سزا ہے جو آپ نے مجھے ڈرایا اور پاگل بولا مجھے اور اتنے دن مجھ سے بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قندیل نے اپنی قینچی جیسی زبان کو چلنے سے روکا ، اوہ یہ بات ، اب تو ویسے بھی میں تمھاری ساری شکایتیں دور کرنے والا ہوں ، دریاب نے بیڈ سے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا ، کیا آپ آرمی چھوڑ آئے ہیں میرے ساتھ رہے گے ہمیشہ ۔۔۔۔۔ قندیل کی ساتھ رہنے کی خواہش ہونٹوں پر آگئی ، نعوذ باللہ لڑکی چلو نماز کی تیاری کرو پتہ چل جائے کچھ دیر میں ۔۔۔۔۔۔دریاب نے آرمی چھوڑنے والی بات پر خفا ہوتے ہوئے کہا ، اور باتھروم میں فریش ہونے چلا گیا جب کہ قندیل سوچتی رہی گئی آخر کیا کرنے والا دریاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔