Episode 14 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 14 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

 

Episode 14 part (1)

ہاں تو میں امی کو بتا دونگی کہ آپ نے ہی ڈرایا مجھے اور اب مجھے سنبھال نہیں رہے ، قندیل نے دوبارہ منہ بنایا ۔۔۔۔۔ بہت اچھا ۔۔۔۔ کمبل کہاں ہے کہیں چڑیل کو تو نہیں دے کر آئی ۔۔۔۔دریاب نے قندیل کو چھیڑنے کے لیے کہا ، دریاب میں اسے بھولنے کی کوشش کر رہی ہوں تو آپ مجھے کیوں یاد دلا رہے قندیل نے روہانسی ہو کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا مجھے چھوڑو ایک منٹ میں کمبل لے کر آتا ہوں دریاب نے کہا۔۔۔۔ ن۔۔۔۔۔ نہیں میں ساتھ ۔۔۔۔ چلوں گی آپ کے ۔۔۔۔۔ قندیل نے فوراً کہا ، قندیل ایسے باہر کسی نے ہمیں دیکھ لیا تو مذاق اڑائے گے گھر والے ، دریاب نے اسے خود سے لپٹا ہوا دیکھ کر کہا تو ۔۔۔۔۔پھر آپ نے مجھے چڑیل کیوں دکھائی قندیل نے رونی صورت بنا کر دریاب کے چہرے کو دیکھا اور اپنی گرفت ڈھیلی کی مگر اب بھی قندیل دریاب سے دور نا ہوئی۔۔۔۔ میں ہوں نا یہاں کچھ بھی نہیں ہوگا تمھیں ۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا ، ہمممم۔۔۔۔۔ قندیل کچھ پل کے لئے چڑیل کو بھلائے دریاب کی انکھوں کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔ میرا ہاتھ پکڑ لو ، کمبل تو اٹھانا نا وہاں سے ۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔ اور قندیل کا ہاتھ تھام کر چلنے لگا ۔۔۔۔۔ دریاب قندیل کو لئے کمرے سے باہر آ کر تھورا سا دور دس بارہ قدم کے فاصلے پر پڑا ہوا کمبل اٹھایا اور وہ دونوں واپس ویسے ہی ایک ساتھ کمرے میں آ گئے ۔۔۔۔۔ اس دوران قندیل نے دریاب کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ جیسے کوئی ان دونوں کو دور نا کرتے ۔۔۔۔۔قندیل کمبل لے کر سو جاؤ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کے ہاتھوں میں کمبل تھماتے ہوئے کہا ، آپ کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ قندیل نے بند اسکرین کو ایک نظر دیکھا اسکو تسلی ہوئی تو اس نے فوراً دریاب سے سوال کیا۔۔۔۔۔ چڑیل سے ملنے 😁۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یار قندیل ڈرو نہیں کہیں نہیں جا رہا ، دروازہ لاک کر کے آ رہا ہوں دریاب نے تھوڑا سا مذاق کرتے ہوئے کہا تو قندیل منہ بناتی ہوئی بیڈ پر ا کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ لائٹ اف کر دو دریاب نے قندیل کو چھیڑا ۔۔۔۔۔دریاب جان لے لوں گی آپ کی آئے آ کر چپ چاپ لیٹے ۔۔۔۔ قندیل کی غصے اور ڈر کی ملی جلی کیفیت ہورہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل کی بات سن دریاب کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔۔۔۔ دریاب میں آپ کو آخری بار بول رہی ہوں مجھے مت چڑاوْ ۔۔۔۔۔ ورنہ میں آپ کے گلے پڑ جاؤں گی ، قندیل نے منہ بنایا ۔۔۔۔۔ ہاں واقعی قندیل ایک بار جب بچپن میں میں نے تمہیں ڈراونی فلم دکھائی تھی۔۔۔۔۔ باقی وہ بھی تمہاری اپنی مرضی سے……….. تمھاری ڈراؤنی فلم دیکھنے کی ضد کی وجہ سے میں نے تمہیں فلم دکھائی تھی ۔۔۔۔ اس فلم کا سٹارٹ بھی تم نے نہیں دیکھا تھا اور بھاگ گئی تھی اور پھر تم نے میری شکایت بھی لگا دی تھی جس کی وجہ سے چچا چچی مجھ سے خفا ہو گئے تھے ، دریاب نے کہا ۔۔۔۔۔۔ دریاب مجھے پتہ میں نے ہی کہا تھا آپ کو فلم دیکھنے کا میں وہاں سے جان بوجھ کر نہیں بھاگی تھی ۔۔۔۔ مجھے سچ میں ڈر لگ رہا تھا اس لیے ڈر کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی ، اور آپ کو پتہ تو ہے بچپن سے میں کبھی روم میں بھی اکیلی نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔ دریاب و۔۔۔۔۔ وہ ڈراؤنی فلم میرے ذہن میں رہ گئی تھی مانتی ہوں کہ میں نے ضد کی تھی فلم دیکھنے کی تم سے پر مجھے فلم دیکھنے کے بعد اور زیادہ ڈر لگنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس لیے میں سارا وقت امی سے چمٹی رہتی تھی ڈرتی رہتی تھی ، ایک دفعہ ابو نے مجھ سے پوچھ لیا کہ میں ایسا بی ہیو کیوں کر رہی ہوں۔۔۔۔ آپ کو پتہ میں جھوٹ نہیں بولتی میں نے ابو کے پوچھنے پر سب کچھ بتا دیا ، ابو نے بات ہنس کر ٹال دیا مجھے سمجھایا کہ بھوت نہیں ہوتا پر امی ابو تم سے کب ناراض ہوئے ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے کہا۔۔۔۔۔۔۔

 

تم واقعی اتنی معصوم ہو یا بنتی ہو دریاب نے سر جھٹکتے ہوئے بیڈ پر لیٹ کر کہا۔۔۔۔۔ دریاب آئی ایم سوری آپ کو میری وجہ سے امی ابو کی ناراضگی سہنی پڑی ، قندیل نے رونی صورت بنا کر کہا ۔۔۔۔۔ قندہل چھوڑو ان باتوں کو اور سو جاؤ دریاب نے بات ختم کرنے کے لیے کہا ۔۔۔۔۔میں آپکا ہاتھ پکڑ لو ، مجھے ڈر لگ رہا ہے اس لیے ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کے تھوڑا نزدیک لیٹ کے دریاب کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ پہلے ہاتھ پکڑا پھر اجازت مانگ رہی ہو اچھا آرام سے سو جاؤ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے کہا تو قندیل منہ بناتی ہوں دریاب کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ڈھال سمجھ کر سو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ بس ایک الزام ہٹنے سے تم بری نہیں ہو سکتی قندیل دریاب نے دل میں سوچا اور سونے کے لیے انکھیں بند کر لی۔۔۔۔۔ جبکہ اسکا ایک مضبوط ہاتھ قندیل کے نرم نازک ہاتھوں میں قید تھا ، یہ احساس اسے سونے نہیں دے رہا تھا ، قندیل کے سونے کا یقین کرکے دریاب نے آہستگی سے اپنا ہاتھ قندیل کی گرفت سے نکالا اور پُرسکون ہو کر سوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بی جان دادا جان میں کل چلا جاؤں گا۔۔۔۔۔ دریاب نے بی جان کے پاؤں دباتے ہوئے کہا ، بھلا ہو ، اتنی جلدی ختم ہو گئی تمہاری چھٹیاں ۔۔۔۔۔۔ دادا جان نے پوچھا ، جی دادا جان ایک دن تو کوئٹہ کینٹ میں پہنچنے میں بھی لگے گا مطلب سفر ہے پھر مجھے اگلی صبح ڈیوٹی جوائن بھی کرنی تو کل ہی جانا ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے کہا دریاب بیٹا قندیل کو ساتھ لے جاتے وہ یہاں بچاری اکیلے کیا کرے گی ، پہلے کی بات اور تھی ۔۔۔۔۔ نئی نئی شادی ہوئی ہے تمھاری اچھا نہیں لگتا نئی دلہن کو چھوڑنا ، تمہارے ساتھ رہے گی تو تمہارے دو چار کام کر دے گی ، بی جان نے قندیل کے لئے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہی ہیں تمہاری بی جان اپنے ساتھ لے کر جاؤ اسے ۔۔۔۔۔ دادا جان نے فوراً کہا ، لیکن دادا جان وہاں تو میں لڑکوں کے ساتھ رہتا ہوں ایسا کرتا ہوں میں ابھی جاؤں گا تو کچھ انتظام کر لوں گا پھر قندیل کو آ کر لے جاؤں گا اپنے ساتھ دس پندرہ دن میں دریاب نے نرم لہجے میں کہا ہاں یہ ٹھیک ہے دادا جان نے مسکراتے ہوئے کہا ، تو بی جان کو بھی تسلی ہوئی۔۔۔۔۔۔ ۔ دریاب جانے کی تیاری کر رہا تھا اور قندیل اسے بت بنے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔ میں خوبصورت ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم مجھے دیکھتی رہو ، دریاب نے اپنے کپڑے لگیج میں رکھتے ہوئے کہا م۔۔۔۔۔۔ میں اپنے کمرے میں چلی جاؤں گی یہاں نہیں رہوں گی ، قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ کیوں میری وجہ سے یعنی کہ میرے بغیر تمہارا دل نہیں لگے گا اس کمرے میں ہے ناں۔۔۔۔۔۔

 

دریاب نے قندیل کو چھیڑتے ہوئے کہا ، آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھ لیں آپ , قندیل اداس تھی ، سچ تو یہ تھا کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ دریاب جائے ڈیوٹی پر مگر وہ کیسے اسے اپنے دل کا حال بتاتی کہ وہ اس کے بغیر کیسے رہے گی ۔۔۔۔۔ آج نہ کوئی جھگڑا ہوا نہ کوئی دھمکی دی ، بات کیا ہے آخر ، دریاب نے لگیج کی زپ بند کرتے ہوئے قندیل سے پوچھا ، ک۔۔۔۔ کچھ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔۔ اب آپ۔۔۔۔۔ آپ کب تک ائیں گے قندیل نے اٹکتے ہوئے بات مکمل کی۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ خیریت دریاب حیران ہوا ، بتانا ہے تو بتا دو نہیں بتانا تو مت بتاؤ قندیل نے رونی صورت بناتے ہوئے کہا ، شاید تین مہینے بعد آؤں ، دریاب نے کہا ، ایسے نہیں چلے گا ، دریاب آپ کو ان تین مہینے کے دوران مجھ سے ملنے آنا ہوگا ۔۔۔۔۔ ورنہ آپ سے میں ناراض ہو جاؤں گی ، قندیل کو اپنی بات مکمل کر کے احساس ہوا اس نے کیا کہہ دیا ہے ، لیکن اب پچھتانے کے سوا کچھ نہیں تھا اس لیے اس نے شرم کے باعث اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھپا لیا۔۔۔۔۔ تاکہ دریاب کے چہرے کے تاثرات نا دیکھ سکے ، قندیل کی بات سنکر دریاب کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔۔۔ پلیز بیگم مجھ سے ناراض نہیں ہونا میں آ جاؤں گا اور ہاں اب یہ ہاتھ اپنے منہ سے ہٹا لو ، دریاب نے ہنسی کو روکتے ہوئے کہا ، اور واش روم میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب کے واش روم میں جانے کے بعد قندیل نے نے سکھ کی سانس لی اور مسکراتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *