ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 13 part (1)
تم نے میرے سامان کی پیکنگ کیوں کی ۔۔۔۔ دریاب اپنا پیک کیے ہوئے لگیج کو دیکھ کر کتاب پڑھتی ہوئی قندیل سے کہا ، اس دن تو زبردستی کروا رہے تھے اج میں نے خود پیکنگ کر دی تو برا کیوں لگ رہا ہے۔۔۔۔ قندیل نے فورا جواب دیا۔۔۔۔ کیونکہ مجھے اپنا کام خود کرنے کی عادت ہے ۔۔۔۔ اس لیے ائندہ مجھ پر یہ مہربانی کرنے کی ضرورت نہیں ، دریاب نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔۔ کیوں میں تو کروں گی۔۔۔ قندیل نے دریاب کو چھیڑتے ہوئے کہا ، کس لیے دریاب نے اس کے سامنے آ کر کہا ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ کس لیے۔۔۔۔ پر میں تو اب سے تمہارے سارے کام کروں گی ، اور دریاب پلیز ذرا یہ روم لائٹ تو آف کر دیں مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا اور کتاب کو فوراً سائیڈر پر رکھ کر کمبل میں گھس گئی۔۔۔۔۔ اس کو تو گھر جا کر دیکھوں گا آئی بڑی کام کرنے والی دریاب نے اپنے دل میں سوچا اور لائٹ بند کر کے قندیل کے برابر سونے کے لیے لیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ شاہ ویر کیا کہہ رہا تھا کیا واقعی خدا نے اس کے دل میں میرے لیے محبت ڈال دی۔۔۔۔۔۔ مجھے خوش ہونا چاہیے یا۔۔۔۔۔ یا مجھے بھول جانا چاہیے کہ اس نے مجھے بنا بات کی سزا دی ہے اتنے سال ۔۔۔۔۔ کیا مجھے یہ بھول جانا چاہیے اس نے میری محبت کا محل گرانے میں ایک لمحہ نہیں لگایا۔۔۔۔۔ کیا مجھے یہ بھی بھول جانا چاہیے کہ وہ میری وجہ سے اپنی ماں کو نہیں سمجھ پایا ، ان کی ہمدردی کو نہیں سمجھ پایا کیا مجھے یہ بھول جانا چاہیے کہ وہ بچپن سے مجھ سے نفرت کا تقاضہ رکھتا تھا ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔
میں نہیں بھول سکتی۔۔۔۔۔ شاہ ویر تمہیں تو مجھ سے ابھی محبت ہوئی ہے پر میں نے تمھارے نکاح میں ہوتے ہوئے کتنے سال تمہاری نفرت دیکھی ہے تمھارے ایک میٹھے لفظ کے لیے ترسی ہوں ، تمھاری ایک نگاہ کی محتاج رہی۔۔۔۔۔ گھر والوں کی دنیا کی طرح طرح کی باتیں سنی ہے ن۔۔۔۔ میں کیسے مان لوں ، تمہارا انتقام ختم ہو چکا ہے ، یا پھر یہ بھی تمھارے انتقام کا کوئی حصہ ہے ۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے اپنی سوچ شاہ ویر کی دی ہوئی ڈائری پر اتاری تب ہی اس کی آنکھوں میں سے دو موتی جھلک کر ڈائری میں جذب ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کیسا رہا سفر۔۔۔۔۔ بی جان نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔۔ ابھی آدھا گھنٹہ پہلے وہ سب بابر کے ساتھ شاہ حویلی پہنچے تھے ۔۔۔۔۔۔۔اس وقت وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے ، جبکہ دریاب ابھی حویلی آیا نہیں تھا ، مزہ آیا بہت آپ بھی چلتی ناں بی جان بی جان مزہ دوبالا ہو جاتا ۔۔۔۔ صبا نے فورا چہکتے ہوئے کہا جی بی جان بہت بہت انجوائے کیا سب نے مل کر۔۔۔۔ ہم سب کے لیے گفٹ بھی لائے ہیں اور اعجاز صاحب نے بھی کچھ گفٹ بھیجے سب کے لیے انجمن بیگم نے کہا ۔۔۔۔ ہاں اور ماموں نے کہا ہے گرمیوں میں بی جان اور دادا جان اور امی کو کہے وہ یہاں آئے گھومنے قندیل نے مسکراتے ہوئے کہا ، بھئی مجھے تو سب سے زیادہ مزا کشمیر میں حمزہ بھائی کے گھر آیا بابر نے صبا کو جلانے کے لئے کہا، کیوں وہاں ایسا کیا تھا شبانہ بیگم نے پوچھا ، وہ تو صبا سے پوچھو زیادہ اسی کو پتہ بابر نے صبا کو چھیڑا ۔۔۔۔۔ ای ۔۔۔۔۔ وہاں وادی تھی پہاڑ تھے اور آبشار بھی تھے بھیڑ تھے اور ۔۔۔۔۔۔ سکون تھا ، اس لیے ہے نا صبا نے اٹکتے ہوئے بابر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اس کو کیسے پتہ چلا میں کشمیر میں اس پر نظر رکھ رہی تھی صبا نے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔ تم تو بالکل پاگل ہو ، حمزہ بھائی کے گھر میں مرغیاں نہیں تھی ان کا نام تو لے لیتی ان کے انڈے کھا کر ان کا جوس پی کر تو آیا زیادہ مزہ ۔۔۔۔۔ بابر نے صبا کا مذاق بناتے ہوئے کہا ، بابر کی بات پر سب مل کر ایک ساتھ ہنسے ، جبکہ صبا منہ بنا کر رہ گئی۔۔۔۔۔
تم یہاں کیوں سو رہی ہو تم تو نیچے سوتی ہو نا دریاب رات کو جب روم میں آیا تو قندیل کو بیڈ پر لیٹا دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔۔ پر اب میں یہی سوؤں گی قندیل نے مزے سے کہا ، کیوں کس خوشی میں کیا یہ جگہ تم نے خرید لی ہے۔۔۔۔۔۔ دریاب نے طنز کیا ، خریدی تو نہیں ہے پر یہ جگہ میری ہے قندیل نے فوراً کہا ، اچھا جی ۔۔۔۔۔ وہ کیسے دریاب نے ہنستے ہوئے کہا ، و۔۔۔۔۔ وہ بھئی مجھے نہیں پتہ میرا دماغ مت کھاؤ امی کو بلاؤ ان سے پوچھ لو قندیل نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ چاچی کا نام سن کر دریاب خاموش ہو گیا اور دوسری سائیڈ پر آ کر لیٹ گیا اب آیا نا لائن پر قندیل نے منہ بناتے ہوئے آہستہ سے کہا اسی سرگوشی دریاب نے باخوبی سن لی تھی ۔۔۔۔ کیا کہا دریاب نے ایک آئی برو کو اونچا کرکے قندیل کو دیکھا۔۔۔۔ کچھ نہیں میں کہہ رہی تھی یہ کمبل پر لائن کتنی اچھی لگی ہوئی ہے نا ، قندیل نے بہانہ بنایا ۔۔۔۔۔ دکھاؤ ، دریاب نے تھوڑا سا اگے ہوکر کمبل پکڑا دیکھنے کے لیے اور دوسرے ہی لمحے سارا کمبل کھینچ کر اوڑھ لیا اور کچھ اپنے نیچے دبا لیا ۔۔۔۔ دریاب۔۔۔۔۔ دریاب آپ پورے کمبل پر قبضہ نہیں کر سکتے آدھا کمبل مجھے بھی دیں ، قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اور تم بیڈ پر قبضہ کر سکتی ہو دریاب نے فوراً کہا میں نے صرف اپنا حصہ لیا ہے۔۔۔۔۔ اور اگر آپ مجھے کمبل نہیں دے رہے تو ٹھیک ہے میں امی سے دوسرا کمبل لے آتی ہوں ، اگر انہوں نے کچھ پوچھا تو آپ خود دیکھ لینا ، قندیل نے معصومیت سے کہا اور اٹھ کر جانے ہی لگی تھی ، رکو۔۔۔۔ دریاب نے فوراً قندیل کا ہاتھ پکڑا ، میں مذاق کر رہا تھا یار تم مذاق بھی نہیں سمجھتی ہر بات ماں باپ کو بتانے کی نہیں ہوتی دریاب نے پیار سے قندیل کو سمجھاتے ہوئے کہا اور آدھا کمبل قندیل کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔ اور نرمی سے قندیل کا ہاتھ بھی چھوڑ دیا ، ہاں جی گڈ نائٹ قندیل نے ہنسی کو چھپاتے ہوئے کہا اور دوسری طرف کروٹ لے کر لیٹ گئی ۔۔۔۔ اسی طرح سے سب رہا تو میرا بدلہ کیسے پورا ہوگا ، اور خاص کر یہ یہاں رہی تو کسی نہ کسی کے نام پر مجھے بلیک میل کرتی رہے گی ۔۔۔۔ مجھے جلد ہی کچھ سوچنا پڑے گا دریاب نے دل میں سوچا اور ایک نظر سوئی ہوئی قندیل پر ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کروں ۔۔۔۔۔۔کروں فون گھر پر ، شاہ ویر نے ادھر ادھر ٹہلتے ہوئے پریشان ہوتے ہوئے سوچا ، ارے یاد آیا دریاب آگیا ہوگا کشمیر سے چلو اسی بہانے فون کر لیتا ہوں فون نہیں ایسا کرتا ہوں ویڈیو کال کر لیتا ہوں اس بہانے در ثمین نظر آ جائے گی۔۔۔۔ شاہ ویر نے خود کلامی کی اور فوراً لیپ ٹاپ اون کرکے پاکستان ویڈیو کال ملا لی ، ایک بیل جانے کے بعد ویڈیو کال اٹینڈ ہو گئی تھی ۔۔۔۔ ہائی برو ۔۔۔۔ سامنے بابر تھا جیو یقیناً اس وقت اپنے کمرے میں بات کررہا تھا ۔۔۔۔ ہائے کیسے ہو بابر اور کب آئے کشمیر سے کیسا رہا ٹرپ ، شاہ ویر نے پوچھا ۔۔۔۔ دو دن ہو گئے ہیں ہمیں آئے ہوئے بھائی ، الحمدللہ ٹھیک آپ سنائیں آپ کیسے ہیں۔۔۔۔۔ بابر نے خیریت پوچھی ، گڈ ، یار باقی سب کہاں ہے ڈرائنگ میں لے کر چلو ، شاہ ویر نے کہا یس اوکے بابر اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے شاہ ویر سے باتیں کرتا ہوا نیچے ڈرائنگ روم کی جانب آگیا ۔۔۔۔ جہاں سب افراد موجود باتوں میں مصروف تھے ، بابر نے لیپ ٹاپ ایک جگہ رکھ دیا جہاں سے آسانی سے شاہ ویر سب کو اور سب شاہ ویر کو دیکھ سکے ۔۔۔۔۔ ہائے سب نے مل کر کہا۔۔۔۔۔ ہائے۔۔۔۔ السلام علیکم بی جان دادا جان باقی سب بھی شاہ ویر نے مسکراتے ہوئے کہا وعلیکم السلام جیتے رہو بی جان کی جان بی جان نے شاہ ویر کو نیہارا۔۔۔۔ دادا جان نے بھی سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔ کیسی رہی ٹرپ قندیل شاہ ویر اب قندیل سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔ ویر بھائی بہت ہی مزہ آیا قندیل نے ہنستے ہوئے جواب دیا ، آپ بھی چلتے ناں ویر بھائی صبا نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ انشاء اللہ بیٹا اگلے سال چلے گے ۔۔۔۔ اور دریاب کہاں ہے قندیل شاہ ویر نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔ بھائی کسی دوست کی کال آئی تھی تو اس کی طرف گئے ہیں قندیل نے کہا اور باقی سب کہاں شاہ ویر نے نظروں سے ہی پورے ڈرائنگ روم میں اسے تلاش کرنا چاہا ۔۔۔۔ ویر بھائی ۔۔۔۔ سب تو یہی ہے صبا نے گھوم کر سب کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ ویر بھائی درے آپی کا پوچھ رہے ہیں ، فائز نے فوراً کہا۔۔۔۔ اووو ۔۔۔ اوووو ۔۔۔ بابر صبا قندیل نے ایک ساتھ کہا تو شبانہ بیگم اور انجمن بیگم ہسنے لگی ۔۔۔۔ ارے نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ شاہ ویر کو فائز کی حاضر دماغی پر غصہ آیا ۔۔۔۔۔ مگر بی جان سب سمجھ گئی ۔۔۔۔۔
درے ۔۔۔۔ درے بیٹا یہاں آؤ ، بی جان نے شاہ ویر کی دل کی بات جان لی تھی ، جی بی جان درے نے ڈرائنگ روم میں آکر کہا ۔۔۔۔۔ بیٹا شاہ ویر نے اتنی دور سے کال کی ہے تم بھی دعا سلام کر لو ۔۔۔۔۔ بی جان نے کہا تو در ثمین کو نا چاہتے ہوئے بھی شاہ ویر کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ السلام علیکم در ثمین نے سب کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا وعلیکم السلام شاہ ویر نے سلام کا جواب دیا۔۔۔۔ در ثمین کی نگاہیں جھکی ہوئی تھی ، کیسی ہو درے شاہ ویر نے پوچھا ۔۔۔ ج۔۔۔۔جی ۔۔۔۔الحمدللہ ٹھیک ہوں اور اپ کیسے ہیں ۔۔۔۔۔ در ثمین نے اپنی انگلی میں پڑی ہوئی انگوٹھی کو گھماتے ہوئے کہا خود ہی دیکھ لو کیسا ہوں۔۔۔۔۔ شاہ ویر کو در ثمین کا خود کو اگنور کرنا اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔ شاہ ویر کے منہ سے در ثمین کو ایسے جملے کی امید نہ تھی اس لیے اس نے فورا نگاہ اٹھا کر شاہ ویر کو دیکھا جب کہ شاہ حویلی کے سبھی افراد دبی دبی سی ہنسی ہنس رہے تھے۔۔۔۔ در ثمین نے دیکھا تو وہ شاہ ویر ہی تھا جو بڑے آرام سے بیٹھا ، سب کے سامنے اتنی بے باک بات کرنے کے بعد بھی مسکرا رہا تھا اور اسی کو ہی دیکھ رہا تھا ، در ثمین شرم سے پانی ہوگئ۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔ میں اتی ہوں در ثمین فوراً اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔۔۔ وااہ ویر بھائی موقع پر چوکا مارنا تو کوئی آپ سے سیکھے ، بابر نے کہا ، بابر میں مذاق کر رہا تھا مجھے کیا پتہ تھا ۔۔۔ تمھاری آپی شرما جائے گی ۔۔۔۔ شاہ ویر نے ہنستے ہ
