ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Don’t copy without my permission
Episode 12 part (1)
پیر چناسی کا مزار پہاڑ پر تھا اس کے راستے میں بھی اور اسکے چاروں طرف بلند و بالا پہاڑ اور اونچے اونچے درخت تھے پہاڑوں کے مختلف رنگ تھے ، کہیں سرخ کہیں خاکی اور کہیں سیاہ۔۔۔۔۔ رات کو برف باری ہونے کی وجہ سے پورے راستے میں برف تھی ، اور مزار کے چاروں اطراف بھی پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔ وہ سب اپنی جیپ سے اتر کر پیدل جارہے تھے ، پیر چناسی کے مزار تک برف کے راستوں پر سے چل کر ، قندیل موسم سے لطف اندوز ہوتی اپنے خیالوں میں چل رہی تھی تب ہی ایک ٹھنڈا یخ برف کا گولا قندیل کے منہ پر آ کر لگا اور وہ گرنے ہی لگی تھی کہ دریاب نے اسے آگے بڑھ کر فوراً کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کر لیا۔۔۔۔۔ پہلے ٹھنڈے گولے کی ٹھنڈ اور پھر دریاب کی قربت سے قندیل سمٹ کر رہ گی۔۔۔۔ ٹھیک ہو ، دریاب نے قندیل سے پوچھا جو برف کے گولا لگنے اور دریاب کی اتنی قربت کی وجہ سے لال ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔ ہ۔۔۔۔۔۔ ہاں ٹھ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہوں ک۔۔۔۔ کس نے ماری بر۔۔۔۔ برف قندیل نے خود کو سنبھالتے ہوئے دریاب کی باہوں کے حصار میں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ، سوری آپی ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا آپ گر جاؤ گی صبا نے کان پکڑ کے کہا ۔۔۔ صبا کو دیکھ کر دریاب قندیل سے دور ہوا ، کوئی بات نہیں دریاب نے مسکرا کر کہا تبھی صبا کے منہ پر گولا لگا ، وہ ٹھٹھر کر رہ گئی کس نے مارا ۔۔۔۔۔ صبا نے ٹھٹھرتے ہوئے کہا ، میں نے اور یہ دوسرا بھی بابر نے ہنستے ہوئے کہا اور ایک اور گولا صبا کی طرف پھینکا ۔۔۔۔۔ تائی امی ۔۔۔۔ صبا صبا گولوں سے بچنے کے لیے انجمن بیگم کی طرف بھاگی تھی اسکے باوجود گولا اس تک پہنچ ہی گیا تھا اور وہ بابر کو ٹھنڈی ہوتی ہوئی غصے سے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔۔ ۔ اپنے کام نپٹانے کے بعد در ثمین نے شاہ ویر کے کمرے کا رخ کیا ، در ثمین نے شاہ ویر کے کمرے کا دروازہ ناک کیا۔۔۔۔۔
کون۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے پوچھا ، میں ہوں اچھا ۔۔۔۔ اندر آجاؤ شاہ ویر نے کہا، وہ کپڑے دے دیں جو دھونے کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے اندر آتے ہی ایک نظر شاہ ویر کو دیکھا جو لیپ ٹاپ میں بزی تھا اس نے اپنے کام کی بات کی ۔۔۔۔۔۔ وارڈروب کے تیسرے پارٹ میں باسکٹ میں رکھے ہیں ۔۔۔۔ شاہ ویر نے بنا در ثمین کو دیکھے کہا ، ایسا کیا کام کررہا ہے جو اپنے کپڑے خود اٹھ کر نہیں دے سکتا ۔۔۔۔ شاہ ویر کا اگنور کرنا در ثمین کو برا لگا ، تو وہ وارڈروب میں سے کپڑے لینے لگی ۔۔۔۔۔ اس میں تو شادی والے کپڑے بھی ہیں کیا وہ بھی لے کر جائیں گے ، در ثمین نے منہ بنایا کیوں کہ کپڑے بہت زیادہ تھے ، تمہیں اس سے کیا تم بس دھو دو ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے ایک نظر در ثمین کو دیکھتے ہوئے اس کو چھیڑنے کے لیے کہا ، دھوبن لگ رہی ہوں نا جو بس چپ چاپ دھو دوں ، در ثمین نے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔ ہاں واقعی آپ کے کپڑوں سے مجھے کیا در ثمین نے غصے میں شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے کہا اور سارے کپڑے لے کر کمرے سے چلی گئی ، جب کہ شاہ ویر پیچھے مسکرا کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔ ۔
چلیں مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بعد اعجاز صاحب نے کہا۔۔۔۔۔ ہاں بھائی بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے مزار پر دعا مانگ کر انجمن بیگم نے مسکرا کر چلتے ہوئے کہا پیر چناسی پیر سید حسین شاہ بخاری کے مزار کی وجہ سے مشہور ہے۔۔۔۔۔۔۔ اعجاز صاحب نے معلومات دی۔۔۔۔۔ اور کچھ بتائیں ماموں قندیل نے کہا ، اور ہاں جو یہ یہاں کی پہاڑی اتنی اونچی ہے کہ یہاں سے مظفر آباد کا پورا شہر نظر آتا ہے ۔۔۔۔ اس وقت یہ سب اس چوٹی پر موجود تھے ۔۔۔۔ اعجاز صاحب نے چوٹی کے نیچے کے منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو سب نے نیچے کے نظریے کو محویت سے دیکھا ۔۔۔۔۔ بہت خوبصورت نظارے دیکھنے کو ملے ہیں ہمیں اعجاز بھائی انجمن بیگم نے قدرت کیسے رنگوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ آپا اب چلتے ہیں اب ٹھنڈ بڑھ رہی ہے اور یہاں برف باری بھی ہونے والی ہے یہاں پر اور میں نہیں چاہتا میرے مہمان بیمار ہو جائیں اعجاز صاحب نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ جی ماموں چلتے ہیں گھر راستے میں بھی پھر دیر لگ جانی دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے کپڑے دھو کر پریس کر دیے ہیں اور آپ کے کمرے میں بھی رکھ ائی ہوں ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے اور کوئی کام تو نہیں ہے ، رات کے وقت در ثمین نے ہی جان کے کمرے میں آ کر بی جان کے ساتھ بیٹھے شاہ ویر سے کہا ۔۔۔۔۔۔ لگیج میں کون رکھے گا بی جان شاہ ویر نے معصومیت سے کہا۔۔۔۔ درے ہے ناں رکھ دے گی ۔۔۔۔ اچھا جاؤ تم کمرے میں درے کو بتا دو کونسے کپڑے رکھنے ہیں درے سیٹنگ سے رکھ دے گی ۔۔۔۔۔۔ بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا ، تو وہ اپنے روم میں ہنسی دباتا ہوا آگیا در ثمین بھی اس کے پیچھے پاؤں گھسیٹتی ہوئی آگئی کیونکہ بی جان کا فرمان تھا ٹال تو نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے وارڈروب میں سے لگیج نکال کر بیڈ پر کھول کر رکھ دیا۔۔۔۔۔ تو در ثمین بھی وارڈروب میں سے کپڑے نکال کر رکھنے لگی ، یہ نہیں رکھو درے شاہ ویر نے در ثمین کو لگیج میں کپڑے رکھتے ہوئے دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔ کیا مطلب یہ نہیں رکھنے۔۔۔۔۔
در ثمین نے حیرانی سے شاہ ویر کو دیکھا۔۔۔۔۔ یہ رکھنے ہے۔۔۔۔ شاہ ویر نے وارڈوب میں سے دوسرے فارمل کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھتے ہوئے کہا تو در ثمین جل کر رہ گئی ۔۔۔۔۔ تو پھر آپ نے دھلوائے کیوں تھے یہ والے کپڑے بس ایسے ہی دل نے کہا شاہ ویر نے مسکراتے ہوئے در ثمین کو دیکھتے ہوئے کہا ، مجھے آپ کی فضول بکواس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔۔ سنا آپ نے در ثمین نے شاویر کو نظر انداز کرتے ہوئے رخ موڑا اور کمرے سے باہر جانے لگی ۔۔۔۔ بی جان کو بولو تم میری پیکنگ نہیں کر رہی ، شاہ ویر نے جاتی ہوئی در ثمین کو کہا ٹھیک ہے میں بھی بی جان کو بتا دیتی ہوں آپ نے مجھ سے فالتو میں اتنے کپڑے دھلوائے ۔۔۔۔۔ چلیں ساتھ ۔۔۔۔۔ در ثمین نے شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے کہا ایسا کام کرتے کیوں ہے آپ جو سامنا کرنے کی ہمت نہ ہو۔۔۔۔۔ شاہ ویر کو خاموش دیکھ کر در ثمین نے کہا ۔۔۔۔۔۔ اچھا ایسی بات ہے تو تم تو بڑے دعوے کرتی تھی مجھ سے محبت کے کہاں گئی وہ محبت ۔۔۔۔۔۔ ویسے در ثمین ایک بات کہوں تمہیں مجھ سے محبت نہیں اٹریکشن ہوا تھا شاہ ویر نے در ثمین کے پاس آ کر کہا ۔۔۔۔۔ آپ نے کبھی محبت کی ہو تو اپ کو پتہ ہو نا محبت میں صرف محبت ہوتی ہے اٹریکشن نہیں ہوتا اور رہی بات ابھی کی تو سن لے شاہ ویر آپ کی چھ سال پہلے کی زہریلی باتوں سے میرا دل تو اسی دن ہی رک چکا تھا یہ صرف میرا وجود ہے جو آپ کو ادھر ادھر گھسیٹتا ہوا نظر آرہا ہے در ثمین کی آنکھیں بھیگنے لگی ۔۔۔۔۔ لیکن اپ اس بھول میں مت رہیے گا کہ مجھے آپ سے محبت تھی تو وہ ابھی بھی ہوگی وہ تو اسی دن مر چکی تھی جس دن آپ نے میرے دل کا لمحے بھر کا بھی مان نہیں رکھا تھا اور نا اس نکاح کا خود کو مجھ سے دور کردیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے در ثمین نے رونے کے بعد بھی خود کو مضبوط بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ درے آئی ایم سوری یار شاہ ویر نے در ثمین کا ہاتھ پکڑ کر کہا تو در ثمین نے اپنا ہاتھ فوراً شاہ ویر کی گرفت سے نکالا ۔۔۔۔ اور اپنے آنسو ایک ہاتھ سے صاف کرتی ہوئی کمرے سے چلی گئی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر خالی ہاتھ اور خالی دل کے ساتھ اسے اپنے سے دور جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا دریاب آج آپ چپ چپ تھے کچھ ۔۔۔۔۔ قندیل جو کافی دیر سے دریاب کی خاموشی کو دیکھ کر بیڈ پر بیٹھ کر لیٹے ہوئے دریاب سے پوچھا ۔۔۔۔۔ ہاں بس جب جب ماموں کو دیکھتا ہوں امی یاد آ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ ماں باپ کے بنا اس دنیا میں زندگی کا گزارا نہیں اور اگر پھر بھی کسی بچے کو زندگی گزارنی پڑے تو وہ ایسی زندگی ہوگی جس میں اس بچے کی خواہش سوچ لاڈ پیار جو ماں باپ دیتے وہ اکثر اس کی زندگی سے بلکل ختم ہو جاتا ۔۔۔ رہ جاتی تو انکے سوچ جنکے وہ ہاتھ میں ہوتے ، ماں باپ کے ساتھ بچہ ضدے کرتا اپنی منواتا ، خوب تنگ کرتا انکو ، لیکن وہ کبھی اپنے بچے کو جلدی سے اپنے سے دور نہیں کرتے کوئی غلطی بھی کرتا تو اس سے پوچھتے کیوں کی ، اور اسے اس غلطی پر سمجھاتے ہیں کہ ایسا کرنا غلط ہے ۔۔۔۔۔ لیکن جب ماں باپ نہ ہو تو لوگ اس کو اس غلطی کا نہ پوچھتے نہ سمجھاتے ، بلکہ صرف اسے سزا سناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے اپنی زندگی کا ایک اہم پہلو بیان کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ کیا مطلب اس کا قندیل نے نا سمجھی میں کہا ۔۔۔۔۔ اس کو سمجھنا تمہارے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ تم یتیم نہیں ہو۔۔۔۔۔ دریاب نے طنز کیا ۔۔۔۔۔ دریاب ایسا تو مت کہیں گھر میں تو سب ہی آپ سے بے لوث محبت کرنے والے یہ کیا کم ہے۔۔۔۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں محبت کے پھول چنتے ہیں۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔۔ تم کرتی ہو کیا مجھ سے محبت وہ بھی بے لوث۔۔۔۔ دریاب زیادہ بحث میں الجھنا نہیں چاہتا تھا اس لیے اس نے بات بدلتے ہوئے قندیل کی بات کاٹی۔۔۔۔۔ ہاں کرتی ہوں ناں ۔۔۔۔۔ قندیل نے روانی سے اپنے دل کی بات کہہ دی۔۔۔۔۔ کیا ۔۔۔۔ کیا کہا ، دریاب نے اپنی ہنسی چھپائی۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔ میں نے ۔۔۔۔۔ میں نے کہا اتنے سارے لوگ ہیں نا تم سے محبت کرنے کے لیے ۔۔۔۔ اور میرے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے تمہیں۔۔۔۔۔ قندیل نے اپنی غلطی کے اوپر پردہ ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ فرق پڑتا ہے جسے نو میں ایک کو ملا دو تو دس ہو جاتا ہے ایسے ہی مجھے بھی تو پتہ چلے میرے چاہنے والوں کی تعداد کتنی
ے اور دشمنوں کی تعداد کتنی ہے۔۔۔۔۔ دریاب نے بیٹھتے ہوئے کہا ، اور اگر نہیں بتاؤں تو قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ٹھیک ہے مت بتاؤ لیکن مجھے پتہ چل گیا دریاب نے قندیل کے اظہار کرنے کے بعد ہوئے گلابی چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ک۔۔۔۔ کیا ، کیا پتہ ہے آپ کو ۔۔۔قندیل نے تھوک نگلتے ہوئے کہا ، یہی کہ جب سامنے اتنا حسین ہینڈسم خوب رو فوجی بندہ ہو تو ۔۔۔۔ سامنے والا محبت تو کیا عشق میں بھی گرفتار ہو جائے۔۔۔۔ دریاب نے اتراتے ہوئے خود کی تعریف کی
پر مجھے تو نہیں ہوئی قندیل نے جل کر جھوٹ کہا ۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ہوئی ہے… دریاب نے کہا ۔۔۔۔ نہیں ہوئی قندیل نے دو بد ہو کر جواب دیا ہوئی ہے ہوئی ہے ہوئی ہے دریاب آج قندیل سے سچ اگلوانا چاہتا تھا اچھا ہوئی بھی ہے تو تمہیں اس سے کیا ۔۔۔۔ تمہیں تو نہیں ہے نا مجھ سے محبت قندیل کے منہ سے سارے ڈر اور وہم نکل گئے ، دریاب لاجواب ہو کر رہ گیا قندیل شرم کے مارے اپنے آپ کو کوستی ہوئی فورا کمبل میں دبک گئی۔۔۔۔ میں تو مذاق کر رہا تھا کیا واقعی قندیل کو مجھ سے محبت ہوگئی ہے دریاب نے اپنے دل میں سوچا لیکن مجھے تو ابھی قندیل سے بدلہ لینا ہے اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا دریاب کا دماغ اسے یاد دلانے لگا ، اچھا ہوا جو قندیل کو مجھ سے محبت ہو گئی اب میرا دیا ہوا زخم اسے دگنا محسوس ہوگا۔۔۔۔ گزارا لو ۔۔۔گزار لو۔۔۔ قندیل بیگم یہی تو تمہاری خوشی کے دن اس کے بعد تو شاید ہی کوئی ہنسی تمہارے ہونٹوں پر ملے ، دریاب نے بیڈ پر لیٹی ہوئی قندیل پر ایک قہر الود نظر ڈالتے ہوئے سوچا اور خود بھی سونے کے لیے لیٹ گیا ۔۔۔۔۔ لیکن نجانے کیوں بار بار قندیل کی اواز اس کا پیچھا کر رہی تھی اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بے سکون ہو گیا پر وقت وہ کہاں رکا ہے کسی کے لیے بھی ۔۔۔۔۔ وہ بھی آہستہ آہستہ گزرنے لگا تو رات بھی کھسکنے لگی۔۔۔۔۔ ۔