Episode 10 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 10 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 10  part (2)

کتنا خالی ہو گیا ہے گھر بچوں کے جانے سے دادا جان نے اداس ہوتے کہا ہاں یہ تو ہے بس اللّٰہ تعالیٰ انہیں خیریت سے رکھے جہاں بھی جائے ۔۔۔۔۔۔ بی جان نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی ، آپ لوگوں کو دل نہیں لگ رہا اس لیے میں کہہ رہی تھی صبا کو روک لیتے ہیں اب دیکھو اس کے جانے کے بعد سے فائز بھی گم سم ہوگیا ہے ، اور درے وہ تو بیچاری بولتی ہی نہیں ہے ویسے ہی خاموش طبیعت ہے اسکا زیادہ ٹائم یا تو عبادت میں گزرتا یا کچن میں یا بی جان کے پاس شبانہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے آٹھ دن میں تو آ جائیں گے بچے ، بس یہ سچ ہے صبا اس گھر کی رونق ہے منور صاحب نے تسلی دیتے ہوئے کہا چلو بھئی باتوں میں بہت ٹائم ہو گیا سونا نہیں ہے کیا ، آجائیں بی جان میں آپ کو روم میں چھوڑ کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔ مظفر صاحب نے گھڑی میں ٹائم دیکھ کر کہا اور بی جان کے پاس آگئے انکو کمرے میں لے جانے کے لیے ، شاہ ویر آ گیا دادا جان نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں آ رہا ہے وہ تقریباً آدھے گھنٹے میں پہنچ جائے گا ابھی میری بات ہوئی تھی منور صاحب نے کہا اور اپنے روم میں چلے گئے سب کے روم میں چلے جانے کے بعد شبانہ بیگم کچن میں آ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ چاچی آپ اس وقت کچن میں سوئی نہیں آپ در ثمین جو پانی کا جگ بھرنے کے لیے کچن میں آئی تھی شبانہ بیگم کو دیکھ کر حیران ہوئی۔۔۔۔۔ نیند تو بہت آئی ہے تھکن بھی ہے بس بیٹا وہ شاہ ویر کا انتظار کررہی ہوں اسے کھانا دے دوں پھر سونے چلی جاؤں گی ، شبانہ بیگم نے جمائی کو روکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ آپ جائیں چاچی میں دے دوں گی کھانا ویسے بھی مجھے ابھی نیند نہیں آرہی در ثمین نے جھوٹ کہا اور شبانہ بیگم کو پکڑ کر کچن سے باہر لے گئی ۔۔۔۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے درے میں جا رہی ہوں شبانہ بیگم نے مسکرا کر کہا اور اپنے روم میں چلی گئی در ثمین کچن میں بنی چھوٹی ڈائننگ ٹیبل کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی ، اور پتہ نہیں کب شاہ ویر کا انتظار کرتے کرتے اس کی آنکھ لگ گئی نیند تو پہلے ہی آئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

 

  ابھی کچھ دیر ہی گزری ہوگی ، شاہ ویر ہال میں داخل ہوا تھا وہ سمجھا سب سو چکے ہیں کیونکہ اسے آنے میں آدھا گھنٹہ کے بجائے ٹریفک کی وجہ سے ایک گھنٹہ لگ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ سیدھا اپنے روم میں جانے کا ارادہ کرتے ابھی سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا کہ اسکی نظر کچن کی طرف گئی کچن کی لائٹ کھلی تھی اس لیے وہ اوپر روم میں جانے کے بجائے کچن ایریا میں آ گیا یہ دیکھنے کہ اندر کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچن میں در ثمین کیچن ٹیبل پر اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ، اور ان پر اپنا منہ رکھ کر سو رہی تھی ، ایک پل کے لئے شاہ ویر اسے دیکھ کر کھو سا گیا وہ سوتی ہوئی اتنی معصوم لگ رہی تھی دوسرے ہی پل شاہ ویر نے موبائل میں ٹائم دیکھا تو بارہ بج رہے تھے درے ۔۔۔۔۔۔ در ثمین ۔۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے در ثمین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلایا تو وہ فوراً اٹھ گئی ، آپ۔۔۔۔۔۔ آپ آگئے کھانا گرم کر دوں ۔۔۔۔۔ در ثمین نے فوراً اپنا دوپٹہ درست کرکے سر پر اوڑھا ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں تم جا کر سو جاؤ میں خود گرم کر کے کھا لوں گا ، شاہ ویر کو اسے گہری نیند سے اٹھانا برا لگا تھا اسلئے اسے آرام کا بول گیا ، پاگل سمجھا ہوا ہے آپ نے اس دن میں کھانا گرم نہیں کر رہی تھی آپ نے زبردستی کہا کھانا گرم کرو اور زبردستی کروا کر کھانا کھایا بھی۔۔۔۔۔۔ اج جب میں کھانا دینے کے لیے بیٹھی ہوں تو آپ یہاں سے جانے کا کہہ رہے ہیں مجھے ، در ثمین نے رونی صورت بناتے ہوئے غصے میں کہا اچھا بھئی مجھ سے غلطی ہو گئی چلو کھانا گرم کر دو ، شاہ ویر کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر کے بیٹھتے ہی در ثمین نے کھانا فورا گرم کیا اور چائے بنا کر ڈھک کر شاویر کے سامنے رکھ دی اور خود برتن سمیٹنے لگی ، تقریباً پانچ منٹ بعد شاہ ویر نے کہا اٹھا لو برتن یہ بھی ، شاہ ویر کھانا کھا کر چائے پینے لگا۔۔۔۔ در ثمین برتن اٹھا کر سمیٹنے لگی ، آج چائے میں چینی نہیں ڈالی شاہ ویر در ثمین کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا اور چائے کا کپ سنک میں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے کسی کو شوگر ہو جائے ، در ثمین نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔۔۔ واقعی اتنا خیال ، شاہ ویر نے ہنستے ہوئے کہا ، مہربانی ہوگی اگر آپ کل سے جلدی آ کر سب کے ساتھ کھانا کھا لیں گے تو ، در ثمین نے جل کر کہا ، اگر نہیں کھاؤں گا تو ویسے بھی کیا فرق پڑتا ہے میری بیوی ہے نا مجھے کھانا دینے کے لیے دیر سے بھی۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے مسکراتے ہوئے کہا اور کچن سے نکل گیا ، جبکہ در ثمین پیچھے سے منہ بنا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔

 

رات کی نجانے کس پہر قندیل کی آنکھ کھلی کسی کے سسکنے کی آواز سے ، یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے کہیں یہاں بھوت وُوت تو نہیں قندیل پہلے تو ڈر گئی ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے ڈرتے ڈرتے پورے کمرے میں نگاہ دوڑاتے ہوئے سوچا نائٹ بلب آن تھا ، چھ۔۔۔۔۔۔ چھو ڑو۔۔۔۔۔ مجھے چھوڑو ۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔ سرگوشی کی سی آواز آئی دریاب کی طرف سے قندیل نے حیرت سے کروٹ لیے دریاب کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں دھوؤں گا ۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔ میں نہیں دھوؤں گا یہ آواز دریاب کے پاس سے ہی آ رہی تھی قندیل کو یقین ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔ قندیل نے تھوڑا سا آگے ہو کر دریاب کے قریب ہوئی ، دریاب قندیل نے ہلکا سا دریاب کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔ لگتا ہے گہری نیند میں ہے ، قندیل نے دریاب کا کندھا پکڑ کر اسے سیدھا کیا ۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔ دریاب کیا ہوا قندیل نے پریشان ہو کر دریاب کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔۔ چھوڑو دو مجھے مار دوں گا دریاب نے نیند میں کہا قندیل ابھی کچھ سمجھتی اتنے میں دریاب نے قندیل کو باہوں میں لے کر اسے خود کے نیچے کر لیا ۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔۔ قندیل نے دور ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ، ابھی دھلا واؤ گے مجھ سے ۔۔۔۔۔ اس وقت دریاب قندیل پر حاوی تھا ، دریاب کے وزن سے قندیل کو اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ، دریاب آپ سن کیوں نہیں رہے دریاب اٹھے میرے اوپر سے قندیل دریاب کو ہٹانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی قندیل نے ایک زوردار چٹکی دریاب کے بازو میں بھری۔۔۔۔۔۔۔۔ آ۔۔۔۔۔ چٹکی کے درد سے دریاب کی آنکھ کھل گئی ، دریاب پلیز ہٹیں میرے اوپر سے ورنہ دوسری بار چٹکی بھر دوں گی ۔۔۔۔۔ او سوری ، دریاب فوراً قندیل سے دور ہوا تو قندیل بھی اٹھکر دریاب سے تھوڑا دور ہو کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

سوری قندیل پتہ نہیں کیسے ، سو سوری دریاب نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا ، آپ کچھ بول رہے تھے سوتے ہوئے چھوڑ دو مجھے ایسے کچھ آپ کی اواز سے میری آنکھ کھل گئی تھی ۔۔۔۔۔ میں تو بس اپکو اٹھا رہی تھی ، آپ نے الٹا مجھ پر ہی حملہ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے منہ بناتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی اچھا ، تو وہ تم تھی جو میرے ہاتھ لگی میں سمجھا برسوں کی اسے پیٹنے کی خواہش پوری ہو گئی دریاب نے قندیل کی بات سن کر آہستہ آواز میں خود کلامی کی۔۔۔۔۔۔۔ کیا بول رہے ہو پلیز تھوڑا تیز بولیں قندیل نے جاسوسی کرتے ہوئے کہا ، سوری کچھ نہیں سو جاؤ تم دریاب نے لیٹتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ مجھے اب نیند نہیں آئے گی آپ کی وجہ سے قندیل نے جلد بازی میں کہہ دیا ، کیوں کیا کیا میں نے دریاب نے حیران ہوتے ہوئے گھڑی کو دیکھا جو رات کے دو بجا رہی تھی وہ جو ابھی کیا وہ کم تھا کیا ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے نظریں جھکائے آہستہ سے کہا ، یار قندیل وہ تو میں نیند میں تھا ۔۔۔۔۔ ہاں تو ابھی بھی تو آپ سونے ہی والے ہے ، قندیل نے دریاب کی بات کاٹی ، اچھا تو یہ تکیہ رکھ دیتا ہوں بیچ میں تم آرام سے سو جاؤ کچھ نہیں کہہ رہا ، دریاب نے سائیڈ پر رکھا ہوا تکیہ بیچ میں رکھ دیا اوکے گڈ نائٹ دریاب نے واپس اسی کروٹ پر لیٹتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ تو قندیل بھی تھکن کا سوچتے ہوئے بیڈ کے کنارے پر ہو کر لیٹ گئی ،بار بار دریاب کی حرکت یاد آ رہی تھی بدتمیز کہیں کا ۔۔۔۔۔ دریاب کا سوچتے ہوئے وہ شرماتے ہوئے کب سوئی اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔   یہ جگہ بہت اچھی ہے کیا نام ہے اس کا انجمن بیگم نے لوگوں کی چہل پہل دیکھ کر پوچھا یہ مری اسٹیشن اور اس کا دوسرا نام مال روڈ ہے دریاب نے کہا۔۔۔۔۔۔ یہاں تو خوب رونق لگی ہوئی ہے لوگوں کی قندیل نے چلتے ہوئے کہا ہاں اگے تو چلو یہاں ایک چرچ بھی ہے ، بابر نے جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ کیا چرچ واؤ مجھے بھی دیکھنا ہے صبا نے چہکتے ہوئے کہا ، تھوڑی دیر میں وہ سب واک کرتے ہوئے چرچ کے سامنے تھے جہاں عیسائی عبادت میں مشغول تھے یہاں سیاح بڑی تعداد میں مری کی سیر کے لیے آئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ امی یہ چرچ تقریبا ڈیڑھ سو سال پرانا ہے صبا کی طرح بابر نے صبا کو چھیڑا ، بابر ۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے بابر کو گھورا ۔۔۔۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *