Episode 1 part (4)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 1 part (4)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 1 part (4)

نعوذ باللہ صبا نے دل میں سوچا اور اپنی سوچ پر کانپ کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔ ہاں تو پھر ہر وقت صبا اور فائز کی ماں کیوں بنے رہتے ہو جیسے انکی مائیں ہے نہیں ۔۔۔انجمن بیگم نے بابر کی بات کا برا مناتے ہوئے کہا امی میں نے ان دونوں کو کیا کہہ دیا ہم تو ابھی ملے ہیں نا صبا ۔۔۔۔۔۔ بابر کو خود کا مذاق بننا اچھا نہیں لگ رہا تھا اس لیے صفائی کے لیے صبا کو گھورا ۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔ بس رہنے دو مجھے سب کچھ بتا دیا فائز نے انجمن بیگن میں بات ختم کرتے ہوئے کہا تھا ۔ تائی امی اپنا موڈ فریش کرے اپ کے لیے خوشخبری ہے قندیل نے پراٹھے کا لقمہ توڑ کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا کیا انجمن بیگم نے فوراً چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔ باقی سب بھی قندیل کو دیکھنے لگے۔۔۔۔۔۔ وہ اج شام کی فلائٹ سے ویر بھائی آ رہے ہیں ۔

 

ویر بھائی کا فون ایا تھا بی جان کو ۔۔۔۔۔ بی جان اور ویر بھائی نے تو سرپرائز رکھنے کو کہا تھا ۔۔۔۔ لیکن میں نے سوچا وہ چار سال بعد ارہے ہیں اس لیے خوشی کی خبر کچھ لوگوں سے نہ چھپائی جائے تو بہتر ہے۔۔۔۔۔۔ صحیح کہا ناں تائی امی قندیل نے آخر میں انجمن بیگم کو مخاطب کی۔۔۔۔۔ا تم کچھ کبھی غلط کر سکتی ہو ۔۔۔۔۔ قندیل مجھے تم پر فخر انجمن بیگم نے خوشی کے انسو چھپاتے ہوئے ہوئے کہا وہ آ رہا ہے دور ثمین نے دھڑکتے دل پر قابو پاتے ہوئے دل میں سوچا۔۔۔۔۔۔۔ بی جان ویر اگیا ہے اگر وہ راضی ہوا تو ہم رخص۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔ بی جان نے مظفر کی بات کاٹتے ہوئے کہا اگے ایک لفظ اور نہیں تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے یا نہیں وہ میری بھی پوتی ہے مظفر بیٹا میں اس کے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں ہونے دوں گی اور نہ اس کے ساتھ کوئی ناانصافی ہونے دوں گی اب تم جا سکتے ہو بی جان نے سخت الفاظوں میں مظفر صاحب کو کہا اور تسبیح پڑھنے لگی۔۔۔۔۔ اندر ہی اندر ان کی بھی یہ خواہش تھی لیکن ویر کے آگے وہ مجبور تھی۔۔۔۔۔۔ ویر بی جان کا لاڈلا تھا اس لیے ویر کی یا ویر کے حوالے سے کوئی بھی بات گھر والوں کو کرنی ہوتی تو بی جان کو ہی کہتے تھے سب کیونکہ ویر اپنی سب باتیں بھی جان سے ہی شیئر کرتا تھا اور سب سے زیادہ انہی ہی کی مانتا تھا

 

ابو جان میں فوج میں جانا چاہتا ہوں اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں ابو زندگی موت تو اللّٰہ تعالیٰ کے حوالے ہے مگر میں چاہتا مجھے موت شہادت کی ائے۔۔۔۔۔ حیدر نے اخر کار ہمت کر کے مختصر الفاظوں میں اج بول ہی دیا جو اسکے دل میں تھا اسے لگ رہا تھا شاید ابو جان کا رد عمل شدید غصے میں ہو لیکن یہ تو سب کچھ اس کے برعکس تھا ۔۔۔۔۔۔ ضرور بیٹا مجھے تمہاری سوچ پر فخر ہے جہانگیر صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنے خوبصورت کڑیل نوجوان بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ شکریہ ابو جان حیدر نے خوشی سے جہانگیر صاحب کے گلے لگتے ہوئے کہا۔ قندیل سانولے رنگ کی لیکن پرکشش نقشے کی حامل تھی وہ بہت زیادہ خوبصورت نہیں تھی اسی وجہ سے اسے یقین نہیں اتا تھا کہ دریاب جیسا حسین خوبرو خوبصورت نوجوان اس سے شادی کا خواہش مند ہوگا اسے وہ دن بہت اچھی طرح سے یاد تھا جب دریاب نے مظفر صاحب یعنی کہ قندیل کے ابو کے سامنے اپنی خواہش ظاہر کی تھی چاچو جان میں قندیل سے شادی کرنا چاہتا ہوں اگر آپ اور چاچی راضی ہے اس رشتے کے لئے تو میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھو گا۔۔۔۔ دریاب کی بات سن کر مظفر صاحب تو جیسے نہال ہوگئے انکی تو دلی مراد پوری ہوگئی انہوں نے خوشی سے دریاب کو گلے لگالیا۔۔

 

قندیل اور دریاب کے رشتے کی بات کو دادا جان بی جان اور باقی سب گھر والوں کی منظوری حاصل ہو گئی تھی رشتے کی انکاری کے لیے تو قندیل کے پاس بھی کوئی خاص وجہ نہیں تھی اس لیے اس نے بھی بڑوں کے سامنے دریاب کے رشتے کے لئے رضا مندی دیدی ۔۔۔ وہ تو حیران تھی ان دونوں کی تو کبھی بچپنے میں بھی ایک دوسرے نہیں بنی اور پھر یوں اچانک سے ایک دن دریاب کا قندیل کا رشتہ مانگنا ۔۔۔۔اور رشتہ ہوجانا اس کے لئے کسی شاک سے کم نہیں تھا لیکن پھر اجالا کے سمجھانے پر کہ ہوسکتا دریاب کو تم سے پہلی نظر کی محبت ہوئی ہو ۔۔۔۔۔ اس لئے اس نے شادی کی بات کی ۔۔۔۔۔۔ اپی میں نے کبھی انکو ایسے دیکھتے ہوئے دیکھا نہیں۔ کہ بندہ کوئی محبت یا پسند کی چیز کو دیکھتا ہو۔ وہ تو میں بولتی تو بولتے سلام خیریت کے علاؤہ کوئی بات نہیں ہوتی ۔

 

ارے پاگل ہو تم قندیل ۔۔۔۔ وہ فوجی ہے اسے اپنے جذبات چھپانے آتے ہونگے انکو یہی تو سکھایا جاتا 😏۔ دیکھنا شادی کی رات تجھے سرپرائز دینگے لکھ کے رکھ لے 🤭 اپنی بہن کی بات کیا یاد کرے گی اجالا نے اتراتے ہوئے کہا تو قندیل اجالا کی بات پر شرماگئ ۔۔۔۔۔ اس دن سے اسکی یہی سوچ رہ۔گئی جو اجالا نے اس کے ذہن میں ڈالی ۔۔۔۔۔۔ اور اج ایک سال بعد وہ مایوں کے لیے تیار ہوتے ہوئے ائینے میں اپنے اپ میں کچھ خاص تلاش کر رہی تھی تب ہی اجالا کی باتیں یاد آگئی اسکا سانولا رنگ سرخی میں نہا گیا

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *