ناول📚
🗣️ میجک وائس
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 1
وہ بہت لاڈوں میں پلی تھی۔۔۔دیکھنے میں بالکل نازک تھی بڑی آنکھیں لمبی آبرو مناسب نقشہ۔۔۔چاندی جییسا رنگ اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا تھا۔۔۔مگر وہ اپنے حسن سے بے خبر اپنی ذہانت پر بہت غرور کرتی تھی۔۔۔اس نے میٹرک اور انٹرمیں ٹاپ کیا تھا۔۔۔ اس کے چار بڑے بھائی تھے جو اس پر جان چھڑکتے تھے۔۔۔سب سے پہلے حدید پھر وقار پھر عالیان اس کے بعد حنان اور سب سے آخر میں وہ تھی عالیہ حبیب۔۔۔وہ اور عالیان دونوں الگ ہی نظر آتے تھے۔۔۔چاروں بھائی اس کی ایک آواز پر بھاگے چلے آتے تھے۔۔۔ان کے والد حبیبِ ریٹائرڈ فوجی تھے۔۔۔ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بڑا اسٹور چلاتے تھے اور وقار ان کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔جبکہ حدید کراچی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں منیجر کے عہدے پر فائز تھا۔۔۔عالیان ایک گورنمنٹ بوائز اسکول میں ٹیچر تھا جبکہ حنان ایم بی اے کے سیکنڈ ایئر میں تھا تو وہ بھی کراچی میں زیادہ رہتا تھا۔۔۔اس وقت عالیہ بی ایس سی میں تھی۔۔۔یہ نوابشاہ میں مقیم تھے۔۔۔۔۔۔ …….اسے یہ کام کرنے میں مزہ آنے لگا تھا۔۔۔نت نئے نمبر ٹرائی کرکے انہیں تنگ کرنا اس کا مشغلہ بن گیا تھا۔۔۔وہ ان سے بات کرتا یہ سوچے بغیر کہ اگر کسی کو اس سے سچی محبت ہو جائے اور وہ بندہ اس کے لئے ہر حد پار کر دے تو اس کا کیا بنے گا۔۔۔وہ سب کچھ بھولائے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔۔
سونیا ایک حساس طبیعت اور نازک دل کی مالک تھی۔۔۔والد کی وفات کے بعد ان کے گھر کا بوجھ کامران کے کندھوں پر پڑگیا جسے وہ بخوبی نبھا رہا تھا۔۔۔والدہ زیتون کی آئے دن دوائی کا خرچہ۔۔۔جواد جو ابھی نانتھ میں تھا اس کی پڑھائی کا خرچہ۔۔۔صوفیہ جس کی شادی کو آٹھ سال ہونے کو آئے تھے مگر اس کے سسرال والوں کا مانگ مانگ کر جھید نہیں بھر رہا تھا۔۔۔اگر کبریٰ کا ساتھ نہ ہوتا تو کامران کبھی بھی خود کو مضبوط نہیں سمجھ پاتا۔۔۔یہ کبریٰ اور سونیا ہی تھی جو کامران کو صبح قلفی کی ریڑی لگا کر دیتی تھی اور شام کو پاپڑ اور تکے۔۔۔پورا دن یہ تین بندے محنت کرتے تھے جب جا کر رات کو سکون کی نیند آتی تھی۔۔۔کبھی کبھی کبریٰ شکر کرتی تھی کہ ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہے ورنہ سو خرچے اس ننھی جان کے ہوتے۔۔۔سونیا کا ایک اچھے کھاتے پیتے گھر میں رشتہ ہو چکا تھا جواد نے دو سال کا ٹائم مانگا تھا چودہ ماہ گزر چکے تھے۔۔۔سب کو اپنی اپنی جگہ فکر تھی کیونکہ جہیز کا ایک برتن بھی نہیں خریدا گیا تھا۔۔۔کبریٰ کے کہنے پر جواد نے سونیا کو ٹچ موبائل لا کر دیا تھا۔۔۔جس میں وہ نئے طریقے کے فاسٹ فوڈ کی ریسپی نکال کر ٹرائی کرتی تھی۔۔۔ٹچ موبائل سے انہیں کافی فائدہ مل رہا تھا۔۔۔کیونکہ اب وہ جواد کو رات کے ٹائم دو سے تین چیزیں بنا کر دیتی تھی جس سے انہیں کافی منافع مل رہا تھا۔۔۔دن سست روی سے گزر رہے تھے۔۔۔کہ ایک دن ایک رونگ نمبر سے کال آئی۔۔۔جیسے سونیا نے ریسیو کر کے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔۔۔۔۔۔
بشر خان نہایت مضبوط کردار اور پرسنیلٹی کا مالک تھا۔۔۔بلاشبہ وہ ایک خوبصورت مرد تھا تھا ان کی حیدرآباد فقیر کے پڑھ پر سات ہول سیل کی بڑی دکانیں تھیں۔۔۔۔پر نہ جانے کیوں بشر کا دل ایک معمولی اداس آنکھوں والی لڑکی پر آگیا جو شاید اپنی بھابی کے ساتھ ہر ہفتے کچھ خریدنے آتی تھی کئی بار دل کرتا تھا تھا کہ جاکر خود سامان دے مگر وہ ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے والد اصول کے بہت سخت تھے جسے جہاں کی ذمہ داری دی ہے وہ وہیں بیٹھ کر نبھائے گا۔۔۔اتفاقا بشر کاؤنٹر پر بیٹھا ہوتا ہے جہاں ان کا ملازم پیسے لے اور دے کر جاتا ہے بشر کا پورا دن پیسے لینا اور دینا ہی کام ہوتا ہے اور اسے کیش بک پر نوٹ کرنا۔۔۔۔ آج کل عالیہ کے پاس بہت رونگ نمبر آنے لگے تھے وہ تنگ آ گئی تھی نمبر بلیک لسٹ میں ڈال ڈال کر کبھی کبھی تو اسے ایسا لگتا تھا کہ کہ اس کا نمبر کہیں کسی نے وائرل تو نہیں کردیا جو ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اٹھا کر کال کر لیتا تھا تبھی وقار نے نے اسے نئی سم دے دی کچھ دن چین کے ساتھ گزرے تھے کہ پھر ان نون نمبرز نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ایک ایک کر کے سارے بھائیوں نے اسے نئی سم خرید کر دی تھی مگر نجانے کون تھا جو اس کا نمبر وائرل کرکے اس سے دشمنی نکالتا تھا اب کی بار عالیان نے اس کی پریشانی کا ایسا حل نکالا تھا کہ اسے اب آئے گئے ان نون نمبر کی کوئی فکر نہیں تھی بلکہ اب تو وہ اکثر پرانے سمز بھی ایکٹیویٹ کر لیتی تھی۔۔۔۔۔
زاہدہ اور عالیہ دونوں ایک وقت میں بہترین دوست تھی دونوں کی ذہانت کا پورے کالج میں چرچا تھا۔۔۔۔۔ وہی کچھ حاسد لڑکیوں کی نظر ان کی دوستی پر پڑ گئی انہوں نے پہلے عالیہ کو اپنی باتوں کی جال میں پھنسایا مگر ناکام لوٹی تو انہوں نے زاہدہ کی طرف رخ کیا جس میں انہھیں پوری کامیابی نہیں ملی تو ناکامی بھی نہیں ملی۔۔۔۔۔۔ زاہدہ کے دل میں عالیہ کے لئے حسد آ گیا تھا کیونکہ کہ وہ عالیہ کے جتنی قابل تو تھی مگر خوبصورت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔اوپر سے اس کے دل میں عالیان کے لیے محبت تھی وہ سمجھتی تھی کہ عالیہ اس کی آنکھوں میں پڑھ لے گی۔۔۔۔۔مگر جب عالیہ کے منہ سے یہ سنا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے کوئی عام لڑکی نہیں حور پری لائے گی تو اس کا دل ٹوٹ گیا اور وہ کچھ دن کے لیے بیمار پڑ گئی جس کی وجہ سے وہ امتحانوں میں بھی کم نمبر لا پائی گے اور اسے کافی مہینے لڑکیوں کے طنزیہ جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔۔۔دل اور پڑھائی کی ہار کا قصور وار وہ صرف اور صرف عالیہ کو سمجھتی تھی اس ہار کا بدلہ لینے کے لیے وہ ہر بار عالیہ کا نمبر وائرل کر دیتی تھی اکثر لیا جب عالیہ اس بات سے پریشان ہوتی تو اس کے دل کے کسی کونے میں سکون اترتا تھا مگر اس کا بدلہ تھا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔۔ عالیان اور بشر فیس بک فرینڈ تھے۔۔۔پچھلے کچھ سالوں میں ان کی دوستی مزید گہری ہو گئی تھی۔۔۔ بشر کی شادی ہونے والی تھی عالیان کو پتا تھا۔۔۔وہ بہت خوش تھا بشر کے لیے۔۔۔مگر شادی پندرہ دن پہلے کینسل ہوگئی۔۔۔اس بات کے بارے میں اس کا کافی دل کیا کہ بشر سے پوچھے مگر پھر وہ یہ سوچ کر رہ گیا کہ یہ ان کا فیملی میٹر ہے اگر کچھ بتانے والی بات ہوتی تو ضرور بشر اس سے شیئر کرتا۔۔۔۔۔۔
بشر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح اپنے گھر والوں کو اس لڑکی کے بارے میں بتائیے جو اس کا دل چرا کر لے گئی ہے کہ تب ہی اس کے والد اپنے مرحوم دوست کی بیٹی سے اس کا رشتہ طے کر دیتے۔۔۔پہلے تو وہ اداس ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی زندگی کا فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر کیسے کر دیا گیا۔۔۔مگر اتفاقاً ایک دن وہ اپنی امی کو ان کے گھر چھوڑنے جاتا تو وہ اداس آنکھوں والی لڑکی دروازہ کھولتی۔۔۔وہ تو اسے دیکھ لیتا مگر وہ لڑکی کی بشر کو نہیں دیکھا پاتی۔۔۔اس وقت تو وہ خاموشی سے اپنی امی کو چھوڑا آتا۔۔۔مگر جب شام کو بہانے سے پوچھتا تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہوتا یہ جان کر کہ سونیا بغیر کسی رکاوٹ کے اس کی زندگی میں آ گئی ہے۔۔۔اسے اب دو سال مکمل ہونے کا انتظار تھا کہ کب وہ سونیا کے سامنے اپنی محبت کو زبان دے۔۔۔سونیا اب بھی آتی تھی مگر رشتے کے بعد بھی ان میں خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ بھائی میں فیس بک آئی ڈی بنانا چاہتی ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو۔۔۔عالیہ نے حدید اور عالیان سے پوچھا۔۔۔بنا لو اس میں حرج کیا ہے۔۔۔ مگر خیال سے کوئی اونچ نیچ نہ ہو۔۔۔حدید نے مسکرا کر اجازت دی۔۔۔بھائی میں مر جاؤں گی۔۔۔لیکن آپ کا یقین نہیں توڑوں گی۔۔۔عالیہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔اچھا آئی ڈی میں نام کیا رکھو گی۔۔۔عالیان نے پوچھا۔۔۔ابھی سوچا نہیں ہے۔۔۔مگر آپ بے فکر رہیں میری طرف سے کیونکہ میں سب لڑکیوں سے الگ ہوں۔۔۔عالیہ نے اترا کر کہا تو دونوں بھائی ہنسنے لگے۔۔۔۔۔۔ یہ اس کی مصنوعی آواز کا جادو ہی تو تھا جو اسے مجبور کرتا تھا کہ وہ لڑکیوں کی فیلینگز کا مذاق اڑائے اور یہ بدھو لڑکیاں جو دو چار بیکار کے جملوں کو محبت سمجھتی ہیں۔۔۔دوسروں کی زندگی برباد کر کے کیا کبھی کسی کی زندگی آباد ہوئی ہے۔۔۔سب کچھ جاننے کے بعد بھی اس نے کیوں دوسروں کی زندگی کو کھیل سمجھا۔۔۔جب چاہا کھیلا اور جب دل بھرا تو ایک سے دوسروں کی لائف میں انٹری مار لی۔۔۔۔۔
السلام و علیکم ۔۔۔جی کون۔۔۔سونیا نے پوچھا ۔۔۔تمہارا بوائے فرینڈ بےبی۔۔۔دوسری طرف سے آواز ابھری۔۔۔رونگ نمبر۔۔۔سونیا کے پسینے چھوٹنے لگے۔۔۔کیونکہ وہ جو کوئی بھی تھا بہت ہی خوبصورت آواز کا مالک تھا سونیا نے کسل ڈسکنکٹ کردی ۔۔۔تب ہی موبائل پر دوبارہ کال بجی تو سونیا نے کانپتے ہاتھوں سے سائلنٹ موڈ ایکٹیویٹ کر دیا اور فون رکھ کر چلی گئی۔۔۔ رشتے کو ڈیڑھ سال ہوچکا تھا۔۔۔بشر بہت حسین تھا۔۔۔مگر اس کا رویہ اتنا ہی سرد تھا جس کی وجہ سے سونیا کو کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ وہ اس کے لیے خالص جذبات رکھتا ہے۔۔۔بشر کو دیکھ کر سونیا کو لگتا تھا کہ وہ اس جیسی عام سی لڑکی کو اپنی زندگی میں کبھی بھی وہ حیثیت نہیں دے پائے گا جس کی وہ حقدار ہے۔۔۔یہی وجہ تھی جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی بشر کو لے کر حسین خواب نہیں سجا پائی ۔۔۔مگر یہ انجانی آواز کس کی تھی جو اس کے سوئے ہوئے جذباتوں کو جگا گئی تھی۔۔۔وہ کام کر رہی تھی مگر اس کی نظریں بار بار موبائل پر جا کر رک رہی تھی۔۔۔کام سے فارغ ہونے کے بعد اس نے موبائل کو دیکھا تو اس میں بیس سے زائد مسڈ کالز آئی ہوئی تھی اور چند میسیجز جس میں اس کی منت کی ہوئی تھی کہ وہ اس سے بات کرے۔۔۔وہ ابھی میسج پڑھ ہی رہی تھی کہ موبائل پر پھر اسی اننون نمبر کی کال آنے لگی۔۔۔اچانک دل نے کہا کہ ایک بار اس کی آواز سن لے کہنا کچھ مت۔۔۔اور پھر اتفاقاً اس کے ہاتھ سے ٹچ ہو گیا اور کال یس ہو گئی۔۔۔او مائے گاڈ۔۔۔شکر ہے تم نے کال تو ریسیو کی۔۔۔پتہ ہے میں کتنا پریشان ہو گیا تھا۔۔۔وہ جادوئی آواز میں بولا۔۔۔تو۔۔۔سونیا اس کی اسیر ہوتی چلی گئی ۔۔۔ہیلو سویٹ گرل۔۔۔کچھ تو بولو۔۔۔ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔وہ بولے جا رہا تھا اور وہ دم سادھے اس کی آواز میں کھوتی جا رہی تھی۔۔۔اور پھر اس کا معمول بن گیا۔۔۔جب جب اس اجنبی کی کال آتی۔۔۔وہ اس کی آواز کو سن کر اپنے کانوں اور دل کو ٹھنڈا کرتی۔۔۔کئی دن ایسے ہی گزر گئے وہ ہمیشہ بولتا رہتا تھا اور وہ سنتی رہتی تھی۔۔۔کیا تھا اس کی آواز میں وہ نکھرنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔دیکھو سوئیٹ ہارٹ اگ
دیکھو سوئیٹ ہارٹ اگر آج تم نے بات نہیں کی تو میں کبھی تم سے بات نہیں کروں گا۔۔۔سمجھیں۔۔۔اس نے غصے میں دھمکی دی تو مجبورا سونیا کو بولنا پڑا۔۔۔جی۔۔۔سونیا بس اتنا ہی کے پائی تھی۔۔۔, مگر اس کی حالت ایسی تھی کہ جیسے ابھی کوئی چھوئے تو دم نکل جائے۔۔۔۔۔او مائے گاڈ امیزنگ بہت ہی پیاری آواز ہے۔۔۔۔۔۔ تمہاری اگر آج تم نہ بات کرتی تو شاید میں تم سے کبھی بات نہ کرتا۔۔۔۔۔اللہ نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔ سونیا کے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔۔۔۔۔ او مائے گاڈ۔۔۔۔۔ اتنا چاہنے لگی ہو مجھے۔۔۔۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں سونیا شرمائی۔۔۔۔۔۔ اچھا اپنا گڈ نیم بتاؤ اس نے پوچھا۔۔۔۔ س۔۔۔۔ سونیا ملک۔۔۔۔۔ سونیا نے کہا۔۔۔۔ ہم بہت پیارا نام ہے۔۔۔۔۔۔کہاں رہتی ہو۔۔۔۔۔ اس نے پھر سوال کیا۔۔۔۔۔۔ حیدرآباد۔۔۔۔ آپ کا نام کیا ہے۔۔۔ سونیا نے ہمت کی۔۔۔۔۔۔ عالی نام ہے میرا۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔۔۔ اچھا عالی جی میں آپ سے پھر بعد میں بات کرتی ہوں اوکے۔۔۔۔۔۔سونیا کے دل سے بوجھ اترا۔۔۔۔۔اوکے سوئیٹ ہارٹ عالی نے کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔۔اسے لڑکیوں سے اتنی بے وقوفی کی ہرگز امید نہیں تھی۔۔۔مگر وہ جیسے جیسے لڑکیوں سے بات کرتا جارہا تھا اسے حیرت ہونے لگی تھی لڑکیوں پر کہ وہ کیسے کسی انجان کو اپنا سب کچھ دے بیٹھتی ہے کبھی کبھی تو اسے خود پر غرور ہوتا تھا کہ شکر ہے کہ وہ سب سے الگ ہے۔۔۔۔۔۔۔
سونیا اور عالی آپس میں بات کرنے لگے تھے کہ دن پر لگا کر اڑنے لگے۔۔۔سونیا عالی۔۔۔وہ خود ہی نام کو لے کر خوش ہو رہی تھی کہ موبائل پر بپ ہوئی۔۔۔عالی کا میسیج تھا۔۔۔کیا کر رہی ہو سونیا۔۔۔فارغ ہو تو مجھ سے بات کرو۔۔۔آئی ایم ویٹنگ فار یور کال۔۔۔میسج پڑھ کر سونیا کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔کہیئے جناب عالی۔۔۔سونیا نے کال یس ہوتے ہی کہا۔۔۔کیا سننا چاہتی ہوں۔۔۔سونیا سویٹ ہارٹ۔۔۔عالی مسکرایا۔۔۔آپ بتائیں۔۔۔آپ بے چین تھے بات کرنے کے لیے۔۔۔سونیا نے ہنسی دبائی۔۔۔اچھا۔۔۔کتنے میمبرز ہیں تمہاری فیملی میں۔۔۔عالی نے پوچھا۔۔۔میری ایک بہن اور دو بھائی ہیں۔۔۔اور آپ کی فیملی میں۔۔۔ سونیا نے پوچھا۔۔۔ہم چار بھائی ہیں اور ہماری ایک پیاری سی بہن ہے۔۔۔اچھا کیا کرتے ہیں آپ۔۔۔سونیا نے پوچھا۔۔۔میں ابھی پڑھ رہا ہوں۔۔۔ویسے تم دکھتے کیسی ہو۔۔۔عالی نے پوچھا۔۔۔معلوم نہیں۔۔۔میں نے خود پر کبھی غور نہیں کیا۔۔۔مگر سب کا کہنا ہے کہ میں بہت ایکٹریکٹیو ہوں۔۔۔سونیا نے سادگی سے کہا۔۔۔او مائے گاڈ۔۔۔یعنی میں بہت لکی ہوں۔۔۔مجھے کیا معلوم ویسے،، آپ کیسے دکھتے ہیں۔۔۔سونیا نے پوچھا۔۔۔میری فیس بک آئی ڈی ہے۔۔۔تم فیس بک یوز کرتی ہو، یا اور گھر میں کوئی
عالی سرچ کرو گی تو مجھے آرام سے دیکھ سکوں گی عالی نے بتایا تو وہ خوش ہوگئی تھی کیا واقعی وہ عالی کو اتنی آسانی سے دیکھ پائے گی۔۔۔۔۔ بھائی آگئے ہیں پھر بات کروں گی سونیا نے کہا۔ اور کال کاٹ دی۔۔۔