ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 4 part (2)
شاہ حویلی پہنچنے کے بعد دریاب اور قندیل کی رسمیں ہوئی رشتے داروں کے درمیان ۔۔۔۔۔رسموں کے دوران بھی قندیل گھونگھٹ میں تھی ۔۔۔۔۔ رسموں کے بعد قندیل کی تھکان کا سوچتے ہوئے اسے دریاب کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔۔۔۔۔دریاب نے آج رات کے لئے خاص کمرے کی بہت ہی نفیس طریقے سے سیٹنگ کروائی ہوئی تھی ۔۔۔۔ بیڈ کے عین اوپر ، چاروں طرف فینسی لائٹ وائٹ اور گولڈن کلر کی لگائی گئی تھی باقی کی لائٹ لڑیوں کی صورت میں نیچے آ رہی تھی مگر بیڈ سے کافی اوپر تھی جو بس بارڈر کے طور پر چاروں طرف تھی ۔۔۔۔ یہ ڈیکوریشن دریاب نے کمرے میں پرمننٹ کروائی تھی ۔۔۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ قندیل کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔ دریاب کے کمرے میں ٹائلز پر نیلے رنگ کی بہت ہی عمدہ ڈیزائن کی نرم قالین بچھی ہوئی
تھی۔۔۔۔ کمرے کی تمام دیواریں صاف تھی نا کوئی تصویر نا پینٹگ بس بیڈ کی پچھلی دیوار پر بڑا سارا فریم آیت الکرسی کا لگا ہوا تو جو کمرے کی رونق اور سکون کا باعث لگ رہا تھا۔۔۔۔ کمرے میں جہازی سائز بیڈ ، دو عدد سائیڈ ٹیبلز ، ڈریسنگ ٹیبل اور واڈروب اور بکس ریک ، ایک ساتھ ایک دیوار میں نسب تھے ۔۔۔۔ دو سنگل صوفے اور ٹیبل تھا بس ۔۔۔۔۔۔ اسکے علاؤہ ایک بڑا اٹیچ باتھروم تھا ۔۔۔۔ شاہ حویلی کے تمام کمرے اور ان میں باتھروم کافی کشادہ بنائے گئے تھے ۔۔۔۔ لیکن دریاب کو کمرے میں ایکسٹرا فرنیچر پسند نہیں ۔۔۔۔ اسلئے پوری شاہ حویلی میں سب سے بورنگ اسکا ہی کمرا تھا جو کم فرنیچر کی وجہ سے ہال نما بڑا لگتا تھا۔۔۔۔۔ کمرے سے لے کر بیڈ کی راہداری میں گلاب کے پھول بچھائے گئے تھے۔۔۔۔۔ کمرے کے عین وسط میں ایک گلاب کے پھولوں کا بڑا سا دل بنا ہوا تھا جو بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا گلاب کے پھولوں کی مہک پورے کمرے کو مہکا رہی تھی ۔۔۔۔۔ قندیل پورے کمرے کا جائزہ لینے کے بعد بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی آج واقعی اس کی کمر بیٹھے بیٹھے اکڑ چکی تھی ۔۔۔ تبھی
کمرے کے عین وسط میں ایک گلاب کے پھولوں کا بڑا سا دل بنا ہوا تھا جو بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا گلاب کے پھولوں کی مہک پورے کمرے کو مہکا رہی تھی ۔۔۔۔۔ قندیل پورے کمرے کا جائزہ لینے کے بعد بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی آج واقعی اس کی کمر بیٹھے بیٹھے اکڑ چکی تھی ۔۔۔ تبھی دروازہ نوک ہوا اور سارے گھر والے کمرے میں اگئے قندیل اپنا چہرہ تو دکھاؤ کہیں تمہارا میک اپ تو خراب نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔چلو بیٹا جلدی کرو بارہ بجنے والے دریاب بھی آ جائے گا ۔۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے اجالا کو کہا …….. واؤ ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل تم کتنی حسین لگ رہی ہو ماشاءاللہ میریج ہال میں بھی سب بہت تعریف کر رہے تھے۔۔۔ اجالا نے گھونگھٹ اٹھاتے ہی کہا ۔۔۔۔۔ماشاءاللہ میری بیٹی تو چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہے شبانہ بیگم نے قندیل دل کا سر چوما ۔۔۔۔۔۔ آپی آپ تو کہیں کی شہزادی لگ رہی ہے سچی میں صبا نے دل کھول کے تعریف کی قندیل کی ۔۔۔۔۔ میری چھوٹی سی بھابھی قندیل آپی آپ بہت بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔۔۔ فائز نے نیا نام ایجاد کیا اور تصویریں بنانے لگا یا اللہ میری بیٹی جتنی حسین لگ رہی ہے آج تو اس کا نصیب اتنا ہی حسین کر دے۔۔۔۔ امین۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے دل سے دعا کی دریاب اور قندیل کی شروع ہونے والی نئی زندگی کے لئے ۔۔۔۔۔ یا اللہ ان دونوں کی آنے والی زندگی کو خوشگوار اور ان کے پار محبت سے یادگار بنا دے ۔۔۔۔۔۔ سب نے مل کر امین کہا ۔۔۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔۔۔ آپ سب ایک ساتھ میرے کمرے میں تشریف لے کر ائے پہلی بار دریاب نے باہر سے ہی اپنے کمرے میں سب کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ او مسٹر بہنوئی ۔۔۔۔ اب یہ کمرا میری بہن کا بھی ہے آپکے برابر ۔۔۔۔۔ فور یور انفارمیشن اجالا نے اگے ہوتے ہوئے کہا اچھا سالی صاحبہ ۔۔۔۔۔ دریاب نے بھی مذاق کیا۔۔۔۔۔ اچھا بیٹا ہم چلتے ہیں قندیل کی کچھ پکچرز لے رہے تھے تاکہ یادگار رہے بی جان اگر شادی کی ویڈیو کے خلاف نا ہوتی تو آج اجالا اور قندیل دونوں کی شادی کی ویڈیو ہم ضرور بنواتے ۔۔۔۔۔ میں بھی کیا بات کرنے لگ گئی شبانہ بیگم ہنسی ۔۔۔۔ بیٹا اپنا اور قندیل کا خیال رکھنا۔ کوئی بھی بات ہو ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے مسکراتے ہوئے دریاب کو سمجھایا ۔۔۔۔۔ چاچی اپ فکر نا کرے ۔۔۔۔۔ میں بہت خیال زیادہ خیال رکھوں گا آپ کی بیٹی کا ۔۔۔ دریاب نے شبانہ بیگم کو دلاسہ دیا تو وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے چلی گئی ۔۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو بھائی۔۔۔ فائز نے دریاب سے گلے ملتے ہوئے کہا اور چلا گیا ۔۔۔۔ اب آپ کب جائیں گی دریاب نے اجالا کو چھیڑا۔۔۔۔ اپنی بہن کو اس کا حق دلوا کر۔۔۔۔۔ اجالا نے درثمین کے پاس آ کر کہا۔۔۔۔۔ کیا مطلب میرے پاس اور پیسے نہیں ہے ۔۔۔۔۔ دریاب نے معصومیت سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ رکوائی تو آپ کو دینی پڑے گی آپی کو ۔۔۔۔۔ ہمیں نہیں پتہ ۔۔۔۔۔صبا نے فوراً کہا۔۔۔۔۔۔تو آپ دونوں میری معصوم بہن کو میرے خلاف ورغلا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔۔۔ کیا مطلب تم مجھے پیسے دینے والے نہیں تھے ۔۔۔۔ بہت اچھا مذاق تھا چلو نیگ دو مجھے، ورنہ اندر جانے نہیں دوں گی ، آج ہم تینوں یہیں قندیل کے ساتھ سوئے گے اور تم باہر اکیلے
آئی سمجھ بیٹا۔۔۔۔ در ثمین نے اگے بڑھ کر کہا ۔۔۔۔۔ مجھے میری سالیوں نے کنگال کر دیا درے ۔۔۔۔ اب تم بھی پیسے مانگ رہی ہو۔۔۔۔ دلہن کا لحاظ کرلو ، تھوڑا دلہن کو کیا دوں گا دریاب نے باتیں بنائی ۔۔۔ او بس زیادہ کنجوس مت بنو سب پتہ مجھے ۔۔۔۔ دلہن کا خیال کرو۔۔۔۔ بس بس سب کچھ بتا دوں گی کیا دینا تم نے قندی۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کرو درے دریاب نے در ثمین کی بات کاٹی اور اپنے اپنے واسکوٹ میں سے اے ٹی ایم کارڈ نکال کر در ثمین کو دیا۔۔۔۔۔ اب خوش ہیں دریاب نے در ثمین کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔ تھینک یو اب آپ جاسکتے ہیں اندر اپنی پیاری دلہن کے پاس ۔۔۔ ۔اجالا اور در ثمین نے ایک ساتھ مسکراتے ہوئے کہا اور صبا کو لے کر کمرے سے چلی گئی ۔۔۔۔۔
دریاب اب تک کمرے سے باہر تھا۔۔۔۔۔ سب کے چلے جانے کے بعد دریاب دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔ کمرے میں آتے ہی دریاب نے دروازہ لاک کیا…. دریاب کو دروازہ لاک کرتے دیکھ قندیل کے دل نے اسپیڈ پکڑی ۔۔۔۔۔ اب صحیح معنوں میں اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کی شادی ہوگئی ہے
دریاب قندیل کی طرف ایک نظر ڈالے بغیر باتھ روم میں چلا گیا فریش ہونے ۔۔۔۔۔ دریاب کے باتھروم میں بند ہوتے ہی قندیل نے گھونگٹ اٹھا کر لمبا سانس لیا۔۔۔۔ ہائے اللّٰہ جی مجھے اس سے ڈر کیوں لگ رہا ہے۔۔۔۔ کونسا اس نے مجھے کھا جانا ۔۔۔۔۔ اگر تھوڑا بھی کچھ کہا تو میں اپنے کمرے میں چلی جاؤ گی ۔۔۔۔۔ ویسے کیا بولنا اس نے مجھے ۔۔۔۔۔ بس سب ٹھیک رہے پتہ نہیں میرے دل کو کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ ایسا لگ رہا جیسے کوئی ایگزامینیشن ہال میں بیٹھی ہوں ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا قندیل ریلیکس ہوجاو بلکل ۔۔۔ قندیل نے اپنے کمزور دل کو دلاسا دیتے ہوئے خود کلامی کی ۔۔۔۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا اور دریاب فریش ہو کر باہر آیا ۔۔۔ اس کے کپڑے چینج تھے وہ وائٹ پینٹ پر وائٹ شرٹ پہنے بہت ہی ہینڈسم نظر ارہا تھا ۔۔۔۔۔ دریاب اپنی وارڈوب کھولے کچھ لے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ دو منٹ بعد ایک نیلے رنگ کی مخملی کا چھوٹا سا کیس ہاتھ میں لئے دریاب قندیل کے سامنے آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ السلام علیکم کیسی ہو قندیل دریاب شاہ ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے مسکراتے ہوئے گھونگھٹ میں سے اس کے تاثرات جانچنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ دریاب کی آواز سن کر اور اس کو اپنے اتنے قریب بیٹھا دیکھ قندیل کے سارے الفاظ منہ میں رہ گئے اسکا دل اور ہاتھ لرزنا شروع ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔ اس لئے وہ بس شرم سے چہرہ جھکا گئی کیوں کہ بولا تو اسے سے کچھ جا نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔ اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ اور اسکی خاموشی سے جھکا چہرہ دیکھ کر دریاب کے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ کی لہر آ گئی۔۔۔۔ قندیل ریلیکس ۔۔۔۔ دریاب نے اپن
اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ اور اسکی خاموشی سے جھکا چہرہ دیکھ کر دریاب کے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ کی لہر آ گئی۔۔۔۔ قندیل ریلیکس ۔۔۔۔ دریاب نے اپنا ہاتھ قندیل کے ہاتھ پر رکھا۔۔۔۔ ڈر کیوں رہی ہو ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں
۔۔۔۔ دریاب نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کو گھونگھٹ میں سے ہی گھورا۔۔۔۔ جو دریاب نے بھی نوٹ کیا ۔۔۔۔ قندیل کی گھوری دریاب کے ہنسنے میں مزید اضافہ کر گئی ۔۔۔۔۔۔ اچھا سوری مذاق کر رہا تھا ۔۔۔۔دریاب نے اپنی ہنسی کو روکا ۔۔۔۔۔ اجازت ہے تو گھونگھٹ اٹھا لوں ۔۔۔۔ چھ سات دن سے آپ کا چہرہ نہیں دیکھا ، دریاب نے بڑے خوبصورت انداز سے اجازت طلب کی تو قندیل نے شرما کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔