ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 3 part (2)
یہ بچیاں ابھی تک تیار نہیں ہوئی کیا شبانہ۔۔۔۔ ٹریفک کا مسئلہ ہو جانا بارات کو میریج ہال میں پہنچنے میں بھی پھر دیر لگ جائے گی۔۔۔۔ جاؤ جا کر سب کو اوپر سے بلا کر لے کر اؤ۔۔۔۔ بی جان نے لال ساڑی میں ملبوس شبانہ بیگم کو فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جی بی جان بلاتی ہوں ابھی ۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے مسکرا کر کہا اور عجلت میں سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔ آج بارات تھیم کے مطابق سب لڑکوں نے وائٹ قمیض شلوار پہنے ہوئے تھے البتہ دولہے دریاب نے وائٹ سوٹ پر گولڈن وائٹ کنٹراس کی واسکوٹ اور وائٹ گولڈن کنٹراس کا ہی شملہ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔۔ سہرے کے ساتھ وہ کہیں کا خوبصورت حسین خوبرو شہزادہ لگ رہا تھا سرخ اور سفید چہرے پر کالی انکھیں اور پتلی کھڑی ناک گھنی مونچھیں باقی چہرہ صاف شفاف چھ فٹ دو انچ سے نکلتا قد کسرتی جسم چہرے پر بھرپور مسکراہٹ لیے وہ شاہ حویلی کے لان کے سٹچ پر براجمان تھا ۔۔۔۔ جبکہ دائیں طرف شاہ ویر بائیں طرف ادریس بیٹھے ہوئے تھے بابر موبائل ہاتھ میں لیے بھاگ دوڑ میں لگا ہوا تھا جہانگیر شاہ ۔۔۔۔۔ منور صاحب مظفر صاحب نے بھی سفید کلر کے کاٹن کے سوٹ زیب تن کیے تھے۔۔۔۔ پوری شاہ حویلی رشتے داروں اور دوستوں سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔ قندیل کو تو صبح اٹھ بجے ہی پارلر بھیج دیا گیا تھا۔۔۔۔ گھر کی عورتوں کے لئے پارلر والی گھر پر بلائی گئی تھی تاکہ گھر کے کاموں میں کوئی رکاوٹ نا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ چلیں انجمن بیگم تیاری اپ سب کی مکمل ہوگئ تو منور صاحب لوگوں کے ہجوم میں سے نکل کر انجمن بیگم کے پاس آئے انجمن نے بھی لال ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
جی میں سوچ رہی تھی بی جان اور بابا جان دریاب کے ساتھ آجائے گے آرام سے ۔۔۔۔ ابھی اجالا کا تیار ہونا باقی ہے تو شاہ ویر بچیوں کو لے آئے گا۔۔۔ باقی آپ ہم سب بارات لے کر چلتے ہیں ویسے بھی بارات کو حویلی کے باہر بھی وقت لگنا۔۔۔۔ تب تک بچیاں بھی تیار ہو جائے گی۔۔۔۔ پھر ہال میں پہنچ کر بھی سارے انتظامات ہم نے دیکھنے ۔۔۔۔ انجمن بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ ہاں میں بھی یہی کہہ رہا ہوں جو مہمان میریج ہال میں پہنچ گئے ہیں انکی کالز آ رہی ہے کہاں ہو ۔۔۔۔ کب نکلو گے بارات لے کر ۔۔۔۔۔ مظفر کی بھی کالز آرہی وہ بھی میریج ہال میں سب مہمانوں کو دیکھ رہا ۔۔۔۔ انتظامات الگ دیکھ رہا۔۔۔۔ تم بی جان کو لے آؤ ۔۔۔۔ میں باقی سب کو دیکھتا ہوں ۔۔۔۔۔منور صاحب نے گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا جو ایک بجارہی تھی دوپہر کا۔۔۔۔۔۔۔ بارات ہال کے لیے روانہ ہوچکی تھی شاہ ویر پچھلے آدھے گھنٹے سے حویلی میں اکیلا بیٹھا ان تینوں کا انتظار کر رہا تھا جو نیچے آنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔ تب ہی تپ کر شاہ ویر اوپر پہنچا جہاں وہ تینوں تیار ہو رہی تھی ،اجالا اور کتنی دیر لگنی جلدی کرو ۔۔۔۔شاہ ویر نے کمرے کا دروازہ بجایا ۔۔۔۔۔ آ۔۔۔۔ آگئے ۔۔۔ بھئی ۔۔۔۔ اجالا نے فورا دروازہ کھولا تو وہ اور صبا تو جیسے بلکل آنے کے لئے تیار کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ پارلر والی بھی انکے سامنے سے ہی نکل کر گئی ۔۔۔۔ چلو صبا ہم چلتے نیچے ۔۔۔۔ وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے نیچے کی طرف روانہ ہوئی۔۔۔ ۔۔۔ بس تم دونوں ہی تھیں اور کوئی نہیں ہے شاہ ویر حیران ہوا اسے لگا درثمین بھی ہے ۔۔۔۔ کیوں کہ ساری بارات اس نے اپنے ہاتھوں سے روانہ کی اسے درثمین کہیں نظر نہیں ائی۔۔۔۔ اہہہم۔۔۔۔۔۔ ہے ناں آپکی وائف اندر اجالا نے شاہ ویر کو بے چین ہوتے دیکھا تو ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو کیا اس کے لئے الگ سے دعوت نامہ آئے گا بلاؤ اسے بھی ۔۔
۔ شاہ ویر نے خود پر کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ وہ ہماری بات نہیں سمجھ رہی آپ ہی سمجھالے اسے میک اپ دھو رہی ہے میڈم
اجالا نے افسوس بھرے لہجے میں کہا اور صبا کے ساتھ نیچے چلی گئی اب شاہ ویر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کرے تو کیا کرے ۔۔۔۔۔ اوپر سے بار بار باہر کی کالز آرہی تھی ، بھائی کب تک نکلو گے درے ۔۔۔۔۔۔۔ درے ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے باہر سے ہی آواز دی لیکن کوئی جواب نہیں آیا ، پھر اسے اجالا کی بات یاد آئی ۔۔۔۔ وہ میری بیوی ہے کوئی غیر تھوڑی جو میں باہر سے آوازیں لگا رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔ تبھی وہ کمرے کے اندر آیا تو در ثمین کمرے میں کہیں نہیں تھی ، اسکا لال دوپٹہ بیڈ پر تھا ۔۔۔ واشروم میں سے پانی کی آواز آرہی تھی ، ابھی ایک منٹ کی گزرا ہوگا در ثمین دھلے ہوئے بنا میک اپ کے شفاف چہرے کے ساتھ واشروم سے باہر آئی ۔۔۔۔ سامنے ہی شاہ ویر کو دیکھتے اسکی جان ہوا ہوئی ۔۔۔۔ اوپر سے وہ بنا دوپٹے کے اس کے سامنے شرم سے پانی ہوگئی ۔۔۔ ایک نظر شاہ ویر کو دیکھنے کے بعد نظر زمین پر ہی رک گئی ،شاہ بنا پلکیں جھپکائیے اپنی گہری نظروں سے اسکا سر تا پا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔ لال فراک میں اسکا حسن اور نکھر گیا تھا ۔۔۔۔ شاہ ویر کے سامنے اپنی ایسی حالت دیکھ کر اس کا سفید رنگ گلابی ہوگیا تھا شرم سے ۔۔۔۔ شاہ ویر کو اپنی طرف مسلسل دیکھتا ہوا پاکر وہ فوراً دوپٹے تک پہنچی ۔۔۔۔ جلدی سے خود پر دوپٹہ پھیلانے لگی ، م۔۔۔۔ مم۔۔۔ میں آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔ آپ کیوں آئے اوپر ۔۔۔۔۔ درثمین نے اپنا رخ شاہ ویر کی طرف سے موڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اسکی تیزی دیکھ کر شاہ ویر اپنی ہنسی دبا گیا۔۔۔۔۔ وائٹ شلوار سوٹ میں شاہ ویر بھی بے حد حسین لگ رہا تھا ، میک اپ کیوں دھویا ۔۔۔۔ ایسے چلنا کیا اب ۔۔۔۔ آپ تو پچھلے ایک گھنٹے سے نیچے آ نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ اور کتنی دیر انتظار کرتا ، شاہ ویر نے اپنا دھیان در ثمین سے ہٹایا ۔۔۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہی وہ مہبوت ہوگیا تھا لیکن در ثمین اسکے یوں دیکھنے سے بہت کنفیوز ہورہی تھی ۔۔۔۔ اسکی پشت شاہ ویر کی طرف تھی پشت کا گلا بھی گہرا تھا جو شاہ ویر کو ایک آنکھ نا بھایا۔۔۔۔۔اور یہ کپڑے کیسے پہنے
لیکن در ثمین اسکے یوں دیکھنے سے بہت کنفیوز ہورہی تھی ۔۔۔۔ اسکی پشت شاہ ویر کی طرف تھی پشت کا گلا بھی گہرا تھا جو شاہ ویر کو ایک آنکھ نا بھایا۔۔۔۔۔اور یہ کپڑے کیسے پہنے ہیں ، ہال میں دوپٹہ اترنا نہیں چاہیے
دل تو تھا اسکے کپڑے ہی بدلوادے لیکن پہلے ہی کافی دیر ہوگئی تھی اوپر سے میک اپ بھی اس نے دھو دیا تھا۔۔۔۔ کہیں یہ نا ہو شاہ ویر کے بولنے سے وہ موڈ اف کرکے بیٹھ جائے ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے اپنا حکم صادر کیا ۔۔۔۔۔ اپنی پیچھے کے بڑے گلے کا خیال آتے ہی وہ جلدی سے رخ موڑ گئی اب اسکا شرم سے جھکا چہرہ شاہ ویر کے سامنے تھا۔۔۔۔۔ ڈ۔۔۔۔ ڈیزائنر کپڑے ایسے ہی ہوتے
۔۔۔۔ میک اپ بہت ڈارک ہوگیا تھا اس لئے دھویا۔۔۔۔ چلیں نیچے آپ کو بھی دیر ہوگئی میری وجہ سے ۔۔۔۔ میں نے اجالا کو منع کیا تھا مجھے میک اپ نہیں کروانا۔۔۔۔ لیکن وہ مانی نہیں ۔۔۔۔۔۔ در ثمین روہانسی ہوگئی ۔۔۔۔اب اس میں رونے والی کیا بات کچھ لگاؤ منہ پر پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔ اور کچھ پہنو بھی کانوں میں بھی تمھارے اکلوتے بھائی کی شادی کے اس طرح جانا جلدی کرو۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے تھوڑی نرمی دکھائی۔۔۔۔ آپ جائے میں آتی ہوں ۔۔۔۔ وہ شاہ ویر کے سامنے جھجھک رہی تھی ، پانچ منٹ ہے فوراً آو شاہ ویر نے اسکی جان چھوڑتے ہوئے کہا
اور کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔ شاہ ویر کے نکلنے کی دیر تھی وہ بے دم سی ہو کر بیڈ پر گر گئی ۔۔۔۔ آف اللّٰہ جی جان نکال دی آج تو اس نے خود کلامی کی ۔۔۔۔۔ کچھ پل خود کو نارمل کرنے کے بعد وہ ہلکا پھلکا تیار ہونے کے بعد وہ نیچے کی طرف دوڑی کہیں کھڑوس دوبارہ اوپر نا آجائے ۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کے رسم کے بعد سب احباب اور دوستوں نے دریاب کو مبارکباد دی۔۔۔۔۔ دوسری طرف سب لڑکیوں نے قندیل کو مبارکباد دی۔۔۔۔۔۔ بی جان مسلسل قندیل کے پاس تھی ،تمام احباب اور رشتےداروں کے کھانے کے بعد قندیل کو دریاب کے پاس اسٹیج پر لا کر بٹھا دیا گیا تھا۔۔۔۔۔ اس وقت بھی قندیل کے چہرے پر ریڈ کلر کی نیٹ کا آرگنزا دوپٹہ تھا لیکن نظر پڑنے پر ایسا گمان ہو رہا تھا جیسے نیٹ کے دوپٹے کے پیچھے کوئی گڑیا ہو۔۔۔۔۔ دریاب نے بھی سہرا اور شملہ اتار دیا تھا۔۔۔۔ بس گلے میں خوبصورت سا گلاب کے پھولوں کا ہار ڈالا ہوا تھا۔۔۔۔۔ دونوں کی جوڑی چاند سورج کی مشابہت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ ہر کوئی ان کی نظر اتار رہا تھا ، اجالا نے آ کر دودھ پلائی کی رسم کی۔۔۔۔ صبا نے آ کر جوتا چھپائی کی رسم کی اور دونوں نے دریاب سے نیگ مانگا پورے ایک لاکھ روپے ۔۔۔۔ انکے بولنے کی دیر تھی ۔۔۔۔۔ یہ لو ایک لاکھ کا چیک یہ تمہارے اجالہ کے لیے دریاب نے جیب میں سے چیک نکال کر صبا کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔دریاب بھائی آپ بہت اچھے ہیں صبا نے خوش ہوتے ہوئے فوراً چیک پکڑا۔۔۔۔۔۔ صبا کے چیک پکڑتے ہی لڑکیوں نے شور مچایا۔۔۔۔۔۔
رسموں کے ختم ہوتے ہی سب نے شاہ حویلی کی واپسی کی تیاری پکڑی ۔۔ دلہن گھر کی ہی تھی تو کوئی ودائی والا رونا دھونا نہیں ہوا
بس سب کو پہلے پہنچنے کی جلدی تاکہ شاہ حویلی پہنچ کر دوبارہ رسموں کا حصہ بن سکے ۔ یہ قندیل کا اپنا ہی گھر تھا جس میں وہ آج بہو کی حیثیت سے پہچانے جانے والی تھی قندیل کو اپنی رخصتی کے لیے برا لگا مانا کہ وہ اس گھر میں ہی آ رہی ہے واپس ۔۔۔۔۔ لیکن تھوڑا بہت تو سب رو لیتے ہیں الٹا میری خود کی امی میری رخصتی سے پہلے ہی گھر آ گئی۔۔۔۔۔ آنے والی بہو کی امد کی تیاری کرنے کے لیے
چلو در ثمین مین تو دریاب کی بہن ہے لیکن صبا اور اجالا کو تو کم از کم میرے گلے لگتی بلکہ ان کو دیکھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ میری نہیں دریاب کی بہنیں ہوں جو اپنی بھابی کو رخصت کر کے لے جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی اس دریاب سے شادی کرنے کی
مجھے تو شادی والے دن بھی عزت نہیں ملی قندیل نے میرج ہال سے حویلی کی واپسی پر جلتے ہوئے سوچا اور دریاب کی پشت کو گھورا جو موبائل کان پر لگائے کال پر بات کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔۔۔