Episode 4 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 4 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

لیکن در ثمین اسکے یوں دیکھنے سے بہت کنفیوز ہورہی تھی ۔۔۔۔ اسکی پشت شاہ ویر کی طرف تھی پشت کا گلا بھی گہرا تھا جو شاہ ویر کو ایک آنکھ نا بھایا۔۔۔۔۔اور یہ کپڑے کیسے پہنے ہیں ، ہال میں دوپٹہ اترنا نہیں چاہیے 🙄 دل تو تھا اسکے کپڑے ہی بدلوادے لیکن پہلے ہی کافی دیر ہوگئی تھی اوپر سے میک اپ بھی اس نے دھو دیا تھا۔۔۔۔ کہیں یہ نا ہو شاہ ویر کے بولنے سے وہ موڈ اف کرکے بیٹھ جائے ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے اپنا حکم صادر کیا ۔۔۔۔۔ اپنی پیچھے کے بڑے گلے کا خیال آتے ہی وہ جلدی سے رخ موڑ گئی اب اسکا شرم سے جھکا چہرہ شاہ ویر کے سامنے تھا۔۔۔۔۔ ڈ۔۔۔۔ ڈیزائنر کپڑے ایسے ہی ہوتے 😒۔۔۔۔ میک اپ بہت ڈارک ہوگیا تھا اس لئے دھویا۔۔۔۔ چلیں نیچے آپ کو بھی دیر ہوگئی میری وجہ سے ۔۔۔۔ میں نے اجالا کو منع کیا تھا مجھے میک اپ نہیں کروانا۔۔۔۔ لیکن وہ مانی نہیں ۔۔۔۔۔۔ در ثمین روہانسی ہوگئی ۔۔۔۔اب اس میں رونے والی کیا بات کچھ لگاؤ منہ پر پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔ اور کچھ پہنو بھی کانوں میں بھی تمھارے اکلوتے بھائی کی شادی کے اس طرح جانا جلدی کرو۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے تھوڑی نرمی دکھائی۔۔۔۔ آپ جائے میں آتی ہوں ۔۔۔۔ وہ شاہ ویر کے سامنے جھجھک رہی تھی ، پانچ منٹ ہے فوراً آو شاہ ویر نے اسکی جان چھوڑتے ہوئے کہا😁 اور کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔ شاہ ویر کے نکلنے کی دیر تھی وہ بے دم سی ہو کر بیڈ پر گر گئی ۔۔۔۔ آف اللّٰہ جی جان نکال دی آج تو اس نے خود کلامی کی ۔۔۔۔۔ کچھ پل خود کو نارمل کرنے کے بعد وہ ہلکا پھلکا تیار ہونے کے بعد وہ نیچے کی طرف دوڑی کہیں کھڑوس دوبارہ اوپر نا آجائے ۔۔۔۔۔۔۔
  نکاح کے رسم کے بعد سب احباب اور دوستوں نے دریاب کو مبارکباد دی۔۔۔۔۔ دوسری طرف سب لڑکیوں نے قندیل کو مبارکباد دی۔۔۔۔۔۔ بی جان مسلسل قندیل کے پاس تھی ،تمام احباب اور رشتےداروں کے کھانے کے بعد قندیل کو دریاب کے پاس اسٹیج پر لا کر بٹھا دیا گیا تھا۔۔۔۔۔ اس وقت بھی قندیل کے چہرے پر ریڈ کلر کی نیٹ کا آرگنزا دوپٹہ تھا لیکن نظر پڑنے پر ایسا گمان ہو رہا تھا جیسے نیٹ کے دوپٹے کے پیچھے کوئی گڑیا ہو۔۔۔۔۔ دریاب نے بھی سہرا اور شملہ اتار دیا تھا۔۔۔۔ بس گلے میں خوبصورت سا گلاب کے پھولوں کا ہار ڈالا ہوا تھا۔۔۔۔۔ دونوں کی جوڑی چاند سورج کی مشابہت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ ہر کوئی ان کی نظر اتار رہا تھا ، اجالا نے آ کر دودھ پلائی کی رسم کی۔۔۔۔ صبا نے آ کر جوتا چھپائی کی رسم کی اور دونوں نے دریاب سے نیگ مانگا پورے ایک لاکھ روپے ۔۔۔۔ انکے بولنے کی دیر تھی ۔۔۔۔۔ یہ لو ایک لاکھ کا چیک یہ تمہارے اجالہ کے لیے دریاب نے جیب میں سے چیک نکال کر صبا کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔دریاب بھائی آپ بہت اچھے ہیں صبا نے خوش ہوتے ہوئے فوراً چیک پکڑا۔۔۔۔۔۔ صبا کے چیک پکڑتے ہی لڑکیوں نے شور مچایا۔۔۔۔۔۔
رسموں کے ختم ہوتے ہی سب نے شاہ حویلی کی واپسی کی تیاری پکڑی ۔۔ دلہن گھر کی ہی تھی تو کوئی ودائی والا رونا دھونا نہیں ہوا🤭 بس سب کو پہلے پہنچنے کی جلدی تاکہ شاہ حویلی پہنچ کر دوبارہ رسموں کا حصہ بن سکے ۔  یہ قندیل کا اپنا ہی گھر تھا جس میں وہ آج بہو کی حیثیت سے پہچانے جانے والی تھی قندیل کو اپنی رخصتی کے لیے برا لگا مانا کہ وہ اس گھر میں ہی آ رہی ہے واپس ۔۔۔۔۔ لیکن تھوڑا بہت تو سب رو لیتے ہیں الٹا میری خود کی امی میری رخصتی سے پہلے ہی گھر آ گئی۔۔۔۔۔ آنے والی بہو کی امد کی تیاری کرنے کے لیے😏 چلو در ثمین مین تو دریاب کی بہن ہے لیکن صبا اور اجالا کو تو کم از کم میرے گلے لگتی بلکہ ان کو دیکھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ میری نہیں دریاب کی بہنیں ہوں جو اپنی بھابی کو رخصت کر کے لے جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی اس دریاب سے شادی کرنے کی 😐مجھے تو شادی والے دن بھی عزت نہیں ملی قندیل نے میرج ہال سے حویلی کی واپسی پر جلتے ہوئے سوچا اور دریاب کی پشت کو گھورا جو موبائل کان پر لگائے کال پر بات کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔۔۔
Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *