ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 30 part (2)
سلام کر کے انکے ماتھے پر پیار کیا تھا اور انکے قدموں میں بیٹھ گیا ، وعلیکم السلام بی جان کی جان کیسے ہے میرا بیٹا بی جان نے محبت پاش نظروں سے شاہ ویر کو دیکھا تھا آپ کی دعائیں ہے بی جان الحمدللہ شاہ ویر نے خوش ہوکر کر کہا شاہ ویر کو ایک نظر دیکھنے کے بعد در ثمین نے اٹھ کر انجمن بیگم سے سلام کیا اور بہت سارا پیار اور دعائیں لی ،تم خوش ہو انجمن بیگم نے پیار سے پوچھا جی تائی امی در ثمین نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر کہا در ثمین اب شبانہ بیگم سے سلام کررہی تھی ، امی جان السلام علیکم شاہ ویر انجمن بیگم کے ہاتھوں کو چوم کر انکے گلے لگا تھا وعلیکم السلام میری جان انجمن بیگم نے روہانسے لحجے میں شاہ ویر کی پیشانی کو چوم کر الگ ہوتے ہوئے کہا ، در ثمین شبانہ بیگم کے بعد دریاب ، قندیل اجالا ، صبا سے ملی تھی
۔۔۔۔ سب سے ملنے کے دریاب نے در ثمین کو اپنے پاس ہی بٹھا لیا تھا ، شاہ ویر بھی سب سے مل کر دریاب کے برابر بیٹھ چکا تھا ، ڈرائنگ روم میں سب تھے سوائے دادا جان منور صاحب اور مظفر صاحب کے علاؤہ وہ باہر لان میں اپنے خصوصی مہمانوں کے ساتھ گفتگو کررہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ بابر کا ایک قدم شاہ حویلی کے باہر اور ایک اندر تھا ، درے یہ کنگن منہ دکھائی کے ہیں اجالا نے پوچھا ، در ثمین نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔ واہ ماشاءاللہ ۔۔۔۔ باری باری سب نے در ثمین کے منہ دکھائی کے ڈائمنڈ کنندہ کنگنوں کی تعریف ۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ ویر بھائی نے سوچ کر گفٹ دیا ہماری ہیرے جیسی آپی کو صبا کا جیسا منہ ہے صبا کو تو پلاسٹک کے کنگن مل جائے تو بہت ہے کیوں صبا ، فائز نے دانت کی نمائش کرتے ہوئے کہا تو سب ہنسنے لگے تائی امییییی ۔۔۔۔۔ سبکو ہنستا دیکھ صبا نے فائز کو گھورا فائز بری بات اتنی پیاری تو ہے ہماری صبا ، صبا کا دولہا تو بہت خوش نصیب ہوگا انجمن بیگم نے صبا کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا ، ہاں اسے پاگل بونگی صبا جو ملنی فائز نے پھر سے اچھی خاصی خوبصورت صبا کا مزاق بنایا بس صبا میں عمر کے ساتھ عقل کی تھوڑی کمی تھی
۔۔۔۔۔ اب تو فائز تم مجھ سے بچ کر دکھاؤ صبا جو انجمن بیگم کی تعریف سے ہواؤں میں اڑ رہی تھی وہ فائز کی باتوں سے نیچے آ کر گری تھی اسلئے اب اسے فائز سے بدلہ لینا ضروری ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔ صبا کو لڑنے کے موڈ میں دیکھ کر فائز باہر کی طرف بھاگا تھا پیچھے ہی صبا دوڑی تھی ، صبا شادی والا گھر ہے سو کام ہے ، چوٹ لگ جائے گی بیٹا شبانہ بیگم بس بول کر رہ گئی کیونکہ جب تک فائز کو مار نا لے اب صبا نے واپس آنا نہیں تھا بی جان آج تو وہ ہوا جو سالوں پہلے کبھی نہیں ہوا دریاب نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا ، دریاب کی بات سنکر شاہ ویر اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے اسے نظر انداز کرنے لگا کیا ہوا دریاب ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی بات بی جان نے کہا ساتھ ہی شبانہ بیگم اجالا انجمن بیگم نے حیرانی سے دریاب کی طرف دیکھا جب کہ در ثمین , بابر اور قندیل اپنی ہنسی شاہ ویر سے چھپانے لگے ، بی جان آج ہمارے ویر صبح فجر میں مسجد میں پائے گئے تھے دریاب نے ہنستے ہوئے بم پھوڑا کیا سب کی زبان سے بیک وقت نکلا اور ساتھ ہی سب زور سے ہنسنے لگے ۔ جب کہ شاہ ویر کو سب زیادہ در ثمین کا ہنسنا برا لگ رہا تھا در ثمین کو ہنستے ہوئے احساس ہوا کہ وہ کسی نگاہوں کے حصار میں ہے در ثمین نے شاہ ویر کی طرف دیکھا تو وہ اسے ہی گھور رہا تھا در ثمین کی ہنسی کو بریک لگا کیونکہ ذیادہ ہنسنے کا اسے آگے جواب دینا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔ کمال کردیا درے تم نے تو اجالا فوراً بولی جبکہ در ثمین شاہ ویر کی نظریں خود پر محسوس کرکے زیادہ مسکرا نا سکی ، ماشاءاللہ یہ تو اچھی بات ہےکوئی نہیں ہنسے گا میرے پوتے پر بی جان نے شاہ ویر کو سیریس انداز میں بیٹھا دیکھ اسکا سائیڈ لیا
بے شک بلکل بی جان ، دریاب نے ہنسی کو روکتے ہوئے کہا بہت ہنس لئے سب ، ناشتہ کرتے ہیں انجمن بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا تو سب باری باری اٹھنے لگے ۔۔۔۔۔ در ثمین بھی اٹھ کر جانے لگی درے تم شاہ ویر بھائی کے ساتھ آنا ، کیا اکیلے بھاگے جارہی ہو اجالا نے در ثمین کو آہستہ سے ٹوکا تو وہ رک کر بپھرے ہوئے شیر (شاہ ویر) کا منہ دیکھنے لگی ویر چلو درے ۔۔۔۔دریاب نے ٹوکا آتے ہیں ہم تم چلو شاہ ویر نے زبردستی مسکراتے ہوئے صوفے سے اٹھکر کہا تو در ثمین کی آخری امید دریاب بھی ڈرائنگ روم سے باہر جا چکا تھا ہنسو اور بہت ہنسی آ رہی تھی شاہ ویر نے در ثمین کے پاس آکر کہا تمھاری دھمکی کی وجہ سے نماز پڑھی الٹا سب کے ساتھ بیٹھ کر میڈم جی مجھ پر ہنس رہی تھی شاہ ویر نے در ثمین کا ہاتھ پکڑ کر خود کے قریب کرتے ہوئے کہا سب ہنس رہے تھے تو مجھے بھی آگئی ہنسی اتنا برا لگ رہا ہے تو سبکو ڈانٹے بلا کرمجھے کیوں ڈانٹ رہے ہیں اکیلے در ثمین نے دور ہوتے ہوئے کہا اسکا دور جانا شاہ ویر کو بڑا لگا تھا ، تم پر ہی غصہ کرونگا کیوں کہ جو ہمارے درمیان چل رہا وہ تم جانتی ہو سب نہیں جانتے شاہ ویر نے ہلکا سا غصہ کرتے ہوئے در ثمین کو واپس اپنی طرف کھینچ کر کہا تو وہ اسکے سینے سے آ لگی تھی ۔ نا۔ شتے کے لئے بلا رہی تائی امی در ثمین نے شاہ ویر کی قربت میں در ثمین نے نگاہیں جھکائے ہکلاتے ہوئے کہا وہ سمجھ گئی تھی شاہ ویر اس وقت غصہ ہے اگر وہ خود سے دور ہوئی تو وہ اور ذیادہ سختی سے پیش آئے گا ہممم ناشتہ ویسے اب کیوں تمھاری زبان کو بریک لگا بولو اور زیادہ ، زیادہ ہنسو بھی ، شاہ ویر نے در ثمین کو ڈرانے کے لئے ایک ہاتھ سے در ثمین کی ٹھوڈی کو پکڑ اونچا کرتے ہوئی کہا شاہ ویر کے اس عمل سے در ثمین کی بڑی آنکھیں شاہ ویر کے چہرے پر اٹھی اور پھیلی تھی ، شاہ ویر کی آنکھیں کچھ اور ہی کہانی کہہ رہی تھی
اسے تھوڑی دیر پہلے کی شاہ ویر کی بات یاد آئی ( پہلے میں رخصتی کا لحاظ کررہا تھا اب وہ مجبور
پہلے کی شاہ ویر کی بات یاد آئی ( پہلے میں رخصتی کا لحاظ کررہا تھا اب وہ مجبوری بھی نہیں رہی) در ثمین نے ڈر کر اپنے لب دبا کر نفی میں سر ہلایا در ثمین کا یہ معصوم سا روپ دیکھ کر شاہ ویر کو اس کے ڈر پر ٹوٹ کر پیار آیا لیکن وہ پیار کو تو ضبط کر گیا مگر ہنسی کو نہیں کرسکا زبان کو تو تم نے ایسے چھپایا ہے جیسے میں تمھاری قینچی جیسی زبان کو کاٹنے کے لیے قینچی لئے کھڑا ہوں شاہ ویر نے اسی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا اسکے لبوں پر آئی ہنسی در ثمین سے چھپی نا رہ سکی شاہ ویر کی مسکراہٹ کو دیکھ کر در ثمین کی جان میں جان آئی در ثمین نے پھر سے نفی میں سر ہلایا تھا ، اب اسے کیا بتاتی اس کا دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا آپی آ جائیں قندیل کی آواز آتے ہی شاہ ویر نے در ثمین کو اپنی گرفت سے آزاد کیا در ثمین نے فورا اپنا دوپٹہ واپس سے سر پر درست کیا اور شاہ ویر کی ہمراہی میں باہر کی طرف قدم بڑھا دیئے