
محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 31 part (1)
تو آپ عادت ڈال لے کیونکہ جب تک آپ نماز نہیں پڑھیں گے تب تک میں بھی نماز نہیں پڑھوں گی اٹھے جلدی در ثمین نے شاہ ویر کے منہ پر سے تکیہ ہٹاتے ہوئے اسے اپنے بازوؤں میں قید کرتے ہوئے کہا درے تکیہ دو لائٹس آنکھوں میں لگ رہی ہے یار ابھی سویا تھا میں میں ظہر کے ساتھ قضائے فجر پڑھتا ہوں تم پڑھ لو اور تکیہ دو مجھے شاہ ویر نے نیند خراب ہونے پر منہ بناتے ہوئے تھوڑا سا اٹھکر تیزی سے در ثمین سے تکیہ کھینچا تھا ، در ثمین اس مرحلے کے لیے تیار نا تھی وہ شاہ ویر کے تکیہ کھینچتے ہی تکیے کے ساتھ آ کر شاہ ویر پر گری تھی ان دونوں کے درمیان تکیہ تھا ، یہ تکیے کو کیا ہوگیا شاہ ویر نے خود پر تکیے سے زیادہ وزن آنے پر دل میں سوچتے ہوئے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا ، جب تک در ثمین اس پر سے اٹھ چکی تھی اسکا نماز کے اسٹائل میں بندھا دوپٹہ کھل چکا تھا وہ ، نظریں نیچے کئے دوپٹے کو دوبارہ سیٹ کررہی تھی، در ثمین کو دیکھ کر شاہ ویر سمجھ چکا تھا کہ وہ بھی تکیے کے ساتھ تھی کچھ کھایا پیا کرو اتنی تو طاقت سے میں نے تکیہ کھینچا نہیں تھا جو تم ہوا کے جھونکے کی طرح مجھ پر آ کر گری ہو ، تم سے زیادہ وزن تو تکیے میں ہے شاہ ویر نے اسکے نازک جسم پر چوٹ کی اور تکیہ کو واپس منہ پر رکھ کر سونے لگا شاہ ویر کی بات سن کر در ثمین کے گال مزید سرخ ہوئے تھے ، شاہ ۔۔۔۔۔ شاہ ۔۔۔۔۔ویر ۔۔۔۔۔ مجھے لیکچر۔۔۔۔۔ بعد میں دے دیجیے گا اٹھے دیر ہورہی ہے نماز کی آپ ابھی نہیں اٹھے تو میں میں بھی نماز نہیں پڑھوں گی ، سن رہے ہیں آپ در ثمین نے بیڈ کے دوسری طرف آ کر بیٹھتے ہوئے کہا درے یہ کیا بچپنا ہے شاہ ویر نے تکیے سے منہ نکال کر در ثمین کو دیکھتے ہوئے کہا ، میری نماز سے تمھارا کیا تعلق ۔۔۔۔۔ تم اپنی نماز ادا کرو پہلے ہی تم مجھ پر گر کر میری نیند خراب کر چکی ہو شاہ ویر نے آخری جملے پر در ثمین کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا آپ اٹھ رہے ہیں یا یہ پانی آپ پر ڈالو در ثمین نے شاہ ویر کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے پانی کا جگ اٹھایا درے یار ویڈنگ نائٹ تو خراب کر چکی ہو اب مارننگ بھی خراب کرنے پر کیوں تلی ہوئی ہو شاہ ویر در ثمین کے ہاتھ میں جگ دیکھ کر بدمزہ ہوا شاہ ویر کی بات سن کر در ثمین نے سرخ پڑتے ہوئے دل میں سوچا جیسے یہاں رومینٹک فلم چل رہی تھی جو مارننگ خراب ہوگئی بدتمیز ۔۔۔۔۔۔ اگر وہ نہ اٹھتا تو عنقریب وہ اس پر پانی کا بھرا جگ گرا بھی دیتی شاہ ویر اٹھ کر بیٹھ چکا تھا شاہ ویر نے نیند سے بھری آنکھوں سے در ثمین کو گھورا تھا اسکی نظر پھر سے در ثمین کے چہرے پر سے ہوتی ہوئی اسکی صبح سے قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبان پر ٹھہری تھی جان شاہ بس کچھ دن ہے تمھارے پاس اپنی خیر مناؤ شاہ ویر نے در ثمین کو دیکھتے ہوئے دل میں سوچا کیا دیکھ رہے ہیں جلدی جلدی کرے دیکھے ساڑھے پانچ ہوگئے ہیں در ثمین نے منہ بنا شاہ ویر کو ڈانٹا شاہ ویر شاہ حویلی کا واحد لڑکا تھا جس نے ہمیشہ فجر قضا ادا کی تھی ، مگر در ثمین نے آتے ہی اس پر حکم چلانا شروع کردیا ، شاہ ویر کو بستر چھوڑنا مشکل ہی ناممکن لگ رہا تھا مگر در ثمین کے آگے تو وہ کب کا سب کچھ ہار چکا تھا ناچار وہ اٹھ کر باتھروم میں بند ہوگیا دس منٹ بعد وہ صرف ٹاول میں شاور لے کر باہر آیا تھا در ثمین کی پشت اسکی طرف تھی وہ سپارہ پڑھنے میں مصروف تھی شاہ ویر چینج کرکے بال بناتا ہوا ٹائم دیکھ کر روم سے باہر جا چکا تھاشاہ ویر کے روم سے جانے کے بعد در ثمین نے جائے نماز بچھا کر نماز فجر ادا کی پندرہ منٹ بعد شاہ ویر روم میں داخل ہوا تھا در ثمین نماز کے بعد تسبیح میں مشغول تھی شاہ ویر در ثمین پر ایک نظر ڈالتا ہوا بیڈ پر جا کر لیٹ چکا تھا ، وہ در ثمین سے بات کرنا مگر در ثمین کی مصروفیات کو دیکھتے دیکھتے وہ نیند کی وادیوں میں دوبارہ جا چکا تھا در ثمین نے تسبیح مکمل ہونے کے بعد اپنا رخ شاہ ویر کی طرف کیا تاکہ اس سے پوچھے اس نے اس سے بنا پوچھے کنگن کیوں پہنائے مگر شاہ کو گہری نیند میں سویا دیکھ وہ بھی لیٹ چکی تھی کیونکہ کل شادی کی لیٹ تقریب کی وجہ سے سب آرام ہی کررہے تھے اس کی بھی نیند پوری نہیں ہوئی تھی اور آج ولیمے کے لئے بھی تیار ہونا تھا دریاب کیا ہوگیا آپ صبح صبح ہنس کیوں رہے ہیں قندیل نے دریاب سے پوچھا جو نماز فجر پڑھنے گیا تھا اور اب جب سے آیا ہنسے ہی جارہا ہے ۔۔۔۔۔ آج جب نماز کے لئے ہم میں فائز بابر مسجد گئے تو ہمیں سرپرائز ملا شاہ ویر کی صورت میں دریاب پھر سے ہنسنے لگا شاہ ویر کا نام سن کر قندیل کو بھی ہنسی کا دورہ پڑ گیا تمھیں پتہ آتے وقت میں نے ویر کو خوب تنگ گیا دیکھنا اب ناشتے پر جلدی سے آئے گے نہیں ، دریاب نے ہنس کر بتایا تو قندیل بھی ہنسنے لگی ماشاءاللہ آپی ہے ہی اتنی اچھی انکے لئے کوئی بھی کچھ بھی کرسکتا ہے قندیل نے در ثمین کی خوبصورتی اور معصومیت کی تعریف کی ، یہ تو ہے اپنی بات منوا کر چھوڑتی درے چلو اب تم بھی آرام کرلو میں تھوڑا واک پر جارہا ہوں دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا اپ بھی آرام کرلیتے قندیل نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا میں آ کر کرلوں گا تم سوجاؤ جب تک اور ویسے بھی میں نے آکر اپنی سکون جاناں کی نیند ہی خراب کرنیقندیل نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا میں آ کر کرلوں گا تم سوجاؤ جب تک اور ویسے بھی میں نے آکر اپنی سکون جاناں کی نیند ہی خراب
کرنی اسلئے ابھی جلدی سے سوجاؤ دریاب نے شوخ لہجے میں کہا تو قندیل نے کمبل جلدی سے منہ تک تان لیا۔۔۔ دریاب ہنستا ہوا ای نظر قندیل کو دیکھتا ہوا موبائل والیٹ اٹھا کر روم لاک کر کے جا چکا تھا آج اسکا ارادہ تھا حیدر اور راحیلہ کی قبر پر جانے کا اس نے دو گھنٹے قبرستان میں گزارنے کے بعد شاہ حویلی کا رخ کیا آج ان دونوں بہن بھائیوں کی زندگی مکمل ہوچکی تھی اسلئے وہ کچھ وقت اپنے والدین کے ساتھ گزار کر گیا تھا شاہ ویر اٹھیں نیچے نہیں جانا کیا ، ٹائم دیکھے دس بج گئے ہیں در ثمین نے فریش ہونے کے بعد مکمل تیار ہونے کے بعد شاہ ویر کو اٹھا رہی تھی شاہ ویر اٹھیں نیچے پتہ نہیں سب کیا سوچ رہے ہونگے در ثمین نے ایک دم نیچے
شاہ حویلی کے مکینوں کا سوچا تو اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا ہممم کیا سوچے گے درے ۔۔۔۔تمھیں سب کی فکر ہے سوائے میرے میں کیا سوچتا ہوں
اس بارے میں بھی کبھی سوچ لیا کرو شاہ ویر نے آنکھیں کھول کر ٹائم دیکھنے کے بعد در ثمین کی تیاری کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا شاہ وییییر اٹھ جائیں نا ، تائی امی ، بی جان ، دریاب ، اجالا سب انتظار کررہے ہونگے ہمارا در ثمین نے شاہ ویر کی بات پر سرخ ہوتے ہوئے منہ بنایا درے ہورہا ہوں ریڈی اور ویسے بھی کیا سوچنا سب نے جب کہ ایسا کچھ ہوا ہے نہیں ویڈنگ ، نائٹ ، مارننگ ، ڈے میرا تو سب بے کار گیا اوپر سے تمھارا بھائی سب کو تیار کر کے بیٹھا ہوگا وہاں مجھ پر ہنسانے کے لیے شاہ ویر نے اٹھتے ہوئے کہا ک۔۔۔۔۔کیوں کس۔ ۔ کس لئے ہنسے گے سب در ثمین نے پوچھا بیوی کو خوش کرنے کے جو میں نے نماز فجر ادا کی ہے اس کے لئے ، جب کہ بیوی کا ٹمپریچر تو اب تک وہی کا وہیں ہے شاہ ویر نے در ثمین پر ایک گہری نظر ڈالتے ہوئے کہا اور بیڈ سے اٹھ کر باتھروم میں فریش ہونے جا چکا تھا۔۔۔۔ جب کہ شاہ ویر کے باتھروم میں بند ہونے کے بعد در ثمین خوب ہنسی تھی اسے واقعی یقین نہیں ہورہا تھا رات کو جو کچھ ہوا تھا اس کے بعد بھی شاہ ویر اسکی تمام باتیں مان رہا تھا ، در ثمین نے شاہ ویر کی غیر موجودگی میں کمبل اور تکیے سمیٹ کر رکھے تھے ، وہ بیڈ پر بیٹھ کر شاہ ویر کا انتظار کرنے لگی تھی ، دس منٹ بعد شاہ ویر باتھ ٹاول میں فریش ہو کر آ چکا تھا در ثمین نے ایک نظر شاہ ویر کو دیکھنے کے بعد سرخ ہو کر سر نیچے کر کے اپنی انگوٹھیوں پر دھیان لگا لیا تھا ۔۔۔۔۔ جبکہ در ثمین کی شرمانے پر شاہ ویر کے لبوں پر ہنسی آئی تھی ، شاہ ویر نے بلو کلر کا پٹھانی سوٹ پہنے ڈریسنگ مرر میں خود کو دیکھ کر اپنے گھنے بال سیٹ کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔ شاہ ۔۔۔۔ویر یہ۔۔۔۔۔۔ کنگن ۔۔۔۔۔ آپ نے پہنائے تھے در ثمین نے جھجھکتے ہوئے پوچھا ہمم تمھارا منہ دکھائی کا گفٹ ہے
۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے خود پر باڈی اسپرے کرتے ہوئے کہا ، سیریسلی ۔۔۔۔۔ یہ منہ دکھائی کا گفٹ ہے اور ۔۔۔۔۔۔ وہ جو اپ نے میرے منہ پر مارا تھا مجھے لگا وہ تھا ، در ثمین نے طنز کرتے ہوئے کہا ، رات کا سوچ کر اس کی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھی ، درے وہ میں نے جان بوجھ کر نہیں مارا تھا ۔۔۔۔۔ تم کتنا الٹا سیدھا بول رہی تو میرا ہاتھ اٹھ گیا شاہ ویر نے در ثمین کے آنسو دیکھ کر خود کو قابو کیا ، تو کچھ ۔۔۔۔غلط کہا تھا میں نے در ثمین نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اچھا اتار دو انھیں ۔۔۔۔ اگر اتنا برا لگ رہا ہیں تمھیں انھیں پہن کر شاہ ویر نے در ثمین کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں آپ تو چاہتے ہیں کہ آپ معصوم اور میں شیطان بن جاؤ سب کی نظروں میں ۔۔۔۔ کیوں کہ آپ تو نیچے جا کر کہہ دینگے منہ دکھائی کا گفٹ در ثمین کو میں نے تو دیا تھا مگر وہ پہن کر نہیں آئی در ثمین نے منہ بناتے ہوئے کہا تو مت بنو شیطان معصومیت کی ملکہ پہنے رکھو انہیں شاہ ویر نے ہنسی دباتے ہوئے در ثمین کے پاس آ کر کہا ۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔میں یہ پوچھنا ۔۔۔۔۔چاہ رہی تھی کہ ۔۔۔۔۔ آپ نے یہ مجھے ۔۔۔۔۔ میری اجازت کے بغیر کیوں ۔۔۔۔پہنائے ۔۔۔۔ آپ مجھے یہ صبح بھی دے سکتے تھے ، یا رات کو جب میں جاگی ہوئی تھی سوتے میں ۔۔۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔ نیند میں سوتے ہوئے دینا ضروری تھا در ثمین نے شاہ ویر کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے کہا وہ اسکے سامنے کھڑی ہوئی لائٹ گرے نیٹ کی پلازو سوٹ میں سوفٹ سے میک اپ میں سر پر نیٹ دوپٹہ اوڑھے نازک سی گڑیا لگ رہی تھی ، درے یہ میرا گفٹ ہے میری مرضی کیسے بھی دو کسی بھی ٹائم دو رات کو دوں یا صبح کو دوں ۔۔۔۔اور میرے سامنے زیادہ زبان چلانے سے گریز کرو ، پہلے میں رخصتی کا خیال کررہا تھا اب وہ مجبوری بھی نہیں رہی ، آئی سمجھ شاہ ویر نے در ثمین کے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔۔ ایک پل کے لئے در ثمین کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ واقعی وہ نرمی برت رہا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسے اس سے ڈرنا نہیں چاہیے ، شاہ ویر کی بات پر در ثمین کا چہرہ سرخ پڑا تھا ، دیر۔۔۔۔۔ ہورہی ہے۔۔۔۔۔ نیچے ۔۔۔۔۔نیچے چلیں در ثمین نے اپنے لب کاٹتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ہممم چلو شاہ ویر نے در ثمین پر ایک آخری نظر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر قدم بڑھا دیئے در ثمین بھی شاہ ویر کے پیچھے دوپٹہ سنبھالتی ہوئی چل پڑی السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم بی جان در ثمین نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا تھا ساتھ ہی بی جان کے پاس چلی گئی تھی دعائیں لینے وعلیکم السلام میری جان کیسے ہو آپ دونوں بی جان نے در ثمین کو پیار کرنے کے بعد شاہ ویر کو دیکھا جو سلام کرنے کے بعد سب سے بات کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔ الحمدللہ ٹھیک بی جان ۔۔۔۔۔بی جان السلام علیکم ، شاہ ویر نے در ثمین کے ایک طرف ہونے کے بعد بی جان کو سلام کر کے انکے ماتھے پر پیار کیا تھا