ناول
محبت میں جلتے دل
رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 30 part (2)
شاہ ویر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ در ثمین کو کیسے سمجھائے شاہ ویر کم از کم آج کی رات اس پر غصہ کرنا نہیں چاہتا تھا اسلئے وہ آرام سے معاملے کو سنبھال رہا تھا ، درے میری بات سنو شاہ ویر نے ڈریسنگ ٹیبل اور در ثمین کے درمیان حائل ہوا تھا وہ جب تک اپنا دوپٹہ اتار چکی دوپٹہ پنوں سے آذاد ہوتے ہی پیچھے کی طرف پھسل کر گر چکا تھا در ثمین اسے اٹھاتی کہ شاہ ویر اسکے پاس آگیا ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر ہٹے سامنے سے یہ کیا بدتمیزی ہے در ثمین شاہ ویر کے اچانک ایسے سامنے آجانے سے وہ شرم سے دوہری ہوگئی تھی کیونکہ اسکے لہنگے کا دوپٹہ پیچھے گر گیا تھا آرگنزہ دوپٹہ وہ پہلے ہی بیڈ پر چھوڑ آئی تھی اسکی آنکھیں شرم سے جھکی ہوئی تھیدرے میری بات سنو میں نے کتنا سوچا تھا آج کی رات کے بارے میں ، کہ میں تمھیں سرپرائز دوں گا یہ کروں گا وہ کروں گا مگر تم یہ کس چیز کا بدلہ لے رہی ہو مجھ سے در ثمین بتانا پسند کرے گی ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے در ثمین کو دیکھتے ہوئے کہا ، یہ کیا رٹ لگا رکھی ہے آپ نے آج کی رات آج کی رات در ثمین نے آج کی رات پر زور دیا تھا کتنے ، کتنے مطلب پرست انسان ہیں آپ شاہ ویرآپ نے سوچا بدلہ لینا ہے بدلے لینے کے لیے شادی کرنی پڑے گی تو آپ نے مجھ سے شادی کر لی یہ سوچے بغیر کے آگے ایک انسان ہے اس کے بھی احساسات ہیں جذبات خواہشات ہیں نہیں آپ کیوں سوچیں گے یہ سب اپ کو تو بس اپنی بات منوانی ہے ہر بار دریاب کی شادی دیکھ کر نہ جانے کہاں سے شادی کا شوق ہو گیا تو اپنے مطلب کو پورا کرنے کے لیے رخصتی کا واویلا کر دیا آپ نے ، ہر بار کی طرح آپ نے پھر مہر لگا دی کہ آپ مطلبی تھے اور ہیں اور آگے بھی رہیں گے ، در ثمین کو شاہ ویر کی بات سن کر غصہ آگیا تو وہ اپنی شرم جھجک بھلائے اپنی بات کہہ گئی اس کی گہری پلکوں کی باڑ سے تین چار انسو ایک ساتھ نکل کر گر گئے تھے ، شاہ ویر لب بھینچتے ہوئے اسکی بات کو سن رہا تھا ، مگر اب میں آپ کے کسی مطلب کو پورا نہیں کر سکتی ہے چاہے تو آپ مجھے ابھی چھوڑ سکتے ہیں مہربانی ہوگی در ثمین نے شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے کہا باقی باتیں تو شاہ ویر نے سن لی تھی مگر یہ در ثمین کا اخری جملہ چھوڑنے والا شاہ ویر کو غصہ دلا گیا تھا، جس کی وجہ سے شاہ ویر کا ہاتھ در ثمین پر اٹھ چکا تھا اس نے در ثمین کی نازکی کا خیال کرتے ہوئے آہستہ ہی مارا تھا مگر در ثمین کو اپنے گال پر جلن محسوس ہوئی تھی اسکے آنسو تکلیف سے تواتر نکل رہے تھے جبکہ شاہ کی آنکھیں پل بھر میں غصے سے سرخ ہوئی تھی ۔۔۔ کیا سمجھا ہوا تم نے مجھے میں محبت سے پیش آ رہا ہوں تو تم مجھے ایک گھٹیا انسان سمجھو گی اور ایک بات یاد رکھنا میں کوئی مرا نہیں جارہا تمھیں پانے کے لیے پچھلے سات سال سے تم ہی اسی صورت کے ساتھ میرے نکاح میں تھی میں نے تب تم پر کوئی حق نہیں جتایا ، صرف اس دل میں پنپتے جزبے کی خاطر میں نے یہ سب کیا اور تم نے اسی کو غلط رنگ دیدیا در ثمین اب تم خود میرے پاس آؤ گی اپنی محبت کے لئے شاہ ویر غصے میں در ثمین کو اسکی اوقات یاد دلا گیا۔۔۔۔۔ شاہ ویر کمرے سے باہر جانا چاہتا تھا مگر شاہ حویلی کے مکینوں کا خیال کرتے ہوئے وہ اپنا غصہ کم کرنے کے لئے روم کے ساتھ بنی بالکنی میں آ کر کھڑا ہوگیا شاہ ویر آپ نے مجھ پر آج کی رات ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔ اب تو میں کبھی نہیں آؤ گی آپ کے پاس در ثمین نے جلدی جلدی اپنی جیولری اتار کر رکھی اور وارڈروب سے نائٹ سوٹ لے کر باتھروم چلی گئی ، شاور لینے کے بعد وہ تھکی سی بیڈ پر دراز ہوگئی تھی شاہ ویر کے بارے میں سوچتے سوچتے آنسو بہاتے ہوئے وہ نیند میں جا چکی تھیشاہ ویر در ثمین کو دیکھنے کے لیے واپس روم میں آیا تو وہ بیڈ کے کونے پر سمٹی سوئی ہوئی تھی شاہ ویر آہستہ سے چلتا ہوا اسکے پاس پہنچا تھا شاہ ویر نے بیڈ کے سائیڈر میں سے ایک بکس نکالا تھا جس میں درثمین کے لیے منہ دکھائی کے کنگن تھے جن میں ڈائمنڈ لگے ہوئے تھے شاہ ویر نے در ثمین کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کے دونوں نازک ہاتھوں میں باری باری وہ کنگن پہنائے تھے ، آئی ایم سوری درے میں یہ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر تم بھی تو دیکھو ایسی بات کی شاہ ویر کر سکتا ہے مگر اپنی بیوی کو چھوڑ نہیں سکتا شاہ ویر نے در ثمین کے آنسو صاف کرنے کے بعد اس کے سرخ ہوتے گال پر نرمی سے ہاتھ پھیرا تھا ، در ثمین سوتے ہوئے بہت معصوم لگ رہی تھی شاہ ویر نے آگے جھک کر در ثمین کے ماتھے پر لب رکھے پھر اسکے گال پر اپنا لمس چھوڑا در ثمین نیند میں بھی اپنے گال پر شاہ ویر کا لمس کے ساتھ جلن محسوس کرکے کسمسائی تھی ۔۔۔۔۔۔ جان شاہ اتنا آؤٹ پٹانگ بولتی ہو غصے میں کہ چپ ہی نہیں ہوتی شاہ ویر کی نظریں در ثمین کے ہونٹوں پر رکی تھی ، ایک لمحے کے لئے شاہ ویر کا دل نے خواہش کی تھی مگر وہ تھوڑی دیر پہلے کی گئی اپنی بات یاد کرکے رک گیافجر کی اذان پر در ثمین کی آنکھ کھلی تھی اس نے فورا اٹھ کر کمرے کا جائزہ لیا ۔۔۔۔۔۔ اچانک سے تمام رات کی باتیں اسکے ذہن میں گھومنے لگی ، فوراً اسکی نظر دائیں طرف گہری نیند میں سوئے ہوئے شاہ ویر پر گئی ، شاہ ویر کب آ کر سویا تھا اسے پتہ نہیں چلا مگر اسکو اپنے ساتھ ایک کمرے میں دیکھ کر اسکی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ کچھ بھی تھا وہ اسکی محبت تھا اور ایک وقت پہلے شاہ ویر کے ساتھ ایسے رہنے کے در ثمین کے پاس بس خیال اور خواب ہی ہوتے تھے ، لیکن اب حالات کچھ اور تھے مگر در ثمین اس بات سے انجان تھی کہ اس کے دل میں دبی محبت کو بس چنگاری لگنے کی دیر ہے جو اسے شاہ ویر کے ساتھ رہتے ہوئے آہستہ آہستہ لگ ہی جانی تھی ۔۔۔۔ در ثمین نے فوراً تکیے کے پاس سے اپنا دوپٹہ اٹھایا تو اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر کنگن ٹائپ سا کچھ محسوس ہوئے جبکہ اسے اچھے سے یاد تھا وہ سب کچھ اتار کر سوئی تھی در ثمین نے اپنے سائیڈ کا لیمپ آن کیا اور ہاتھوں میں پہنے ان ڈائمنڈ کنگن کو دیکھنے لگی جو بہت نازک اور خوبصورت تھے در ثمین کے ہونٹوں نے ہنسی کو چھو لیا تھا ۔۔۔۔۔ یہ کیا ۔۔۔۔۔شاہ ویر نے پہنائے ۔۔۔۔۔ در ثمین نے سوچا یااللہ کیا میں اتنی بے خبر سوتی ہوں رات کو ، اور ۔۔۔۔۔ اور کچھ تو نہیں کیا ہوگا شاہ ویر نے در ثمین نے دھڑکتے دل کے ساتھ سوچا اور ایک نظر سوئے ہوئے شاہ ویر کو غور سے دیکھا جو سفید پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک ہاتھ میں تکیہ دبائے ، چہرے سکون کی لہر لئے گہری نیند میںجیسے کل میں نے انکی رات خراب کی یہ سکون سے سو کیسے سکتے ہیں ضرور میرے ساتھ کچھ کیا ہے در ثمین کے دل میں عجیب خیالات آ رہے تھے در ثمین بیڈ سے اٹھکر باتھروم میں آگئی تھی وضو کے لئے ۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے ایسا کچھ نا ہوا ہو ، لیکن میری اجازت کے بغیر شاہ ویر نے مجھے ہاتھ لگایا کیسے انکو تو میں چھوڑوں گی نہیں در ثمین نے آئینے میں اپنا شفاف سا عکس دیکھتے ہوئے سوچا ، یہ کنگن اتر کیوں نہیں رہے در ثمین نے وضو سے پہلے کنگن اتارنے کی سوچی مگر وہ اسکے ہاتھ میں مکمل فٹ ہونے کے باعث اس سے اتر نہیں رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ وہ وضو کرنے کے بعد شاہ ویر کے پاس آگئی ، شاہ ویر شاہ ویر در ثمین نے آواز دی مگر شاہ ویر ٹس سے مس نا ہوا ، شاہ ویر اٹھو در ثمین نے شاہ ویر کے بازو پر ہلکا ہاتھ رکھ اسے ہلایا ہممم ۔۔۔۔ کیا ۔۔ کیا ہوا شاہ ویر نے زبردستی آنکھیں کھولتے ہوئے کہا فجر کی اذان ہو گئی ہے اٹھیں نماز پڑھیں در ثمین نے کہا درے پلیز مجھے سونے دو اور ویسے بھی مجھے فجر کی نماز پڑھنے کی عادت نہیں ہے شاہ ویر نے تکیہ منہ پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔