Episode 3 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 3 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 3 part (1)

واؤ۔۔۔۔۔۔ یہ کتنا خوبصورت ہے اور کتنا پیارا بھی ۔۔۔۔ ویر بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ صبا نے گلابی سے بھالو کی نرمی کو محسوس کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ بابر یہ تمہارے لیے شاہ ویر نے ایک خوبصورت قیمتی گھڑی کا باکس بابر کی طرف کرتے ہوئے کہا تھینکس بھائی بابر نے مسکرا کر کہا یہ تمہارے لیے فائز لیپ ٹاپ شاہ ویر نے فائز کو لیپ ٹاپ دیا۔۔۔۔۔ فائز نے بھی فوراً شکریہ کیا۔۔۔۔۔ یہ بی جان امی جان آپ کے لیے اور چاچی کے لیے شاہ ویر نے ڈائمنڈ کے ائیرنگز کے تین باکس شبانہ بیگم کی طرف بڑھائے ماشاءاللہ کتنے خوبصورت ہیں ساری خواتین نے ایک ساتھ تعریف کی ۔۔۔۔۔۔ جیتے رہو بیٹا ۔۔۔۔۔ بی جان نے دل سے دعا دی ۔۔۔۔۔ ہمارے لیے کیا لائے ہو صاحبزادے ۔۔۔۔۔۔ جہانگیر شاہ نے ہال میں سب کے درمیان بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ اوہ مائی ینگ مین دادا جان اپ کے لیے تو میں یہ شال لایا ہوں پسند آئی اپ کو شاہ ویر نے دادا جان کو شال اوڑھائی۔۔۔۔۔۔ واہ برخودار بہت عمدہ ڈیزائن ہے جہانگیر شاہ نے شال کے ابھرے ڈیزائن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔۔ جہانگیر شاہ شال بہت شوق سے پہنتے تھے ۔۔۔۔۔ اسلیے شاہ ویر کو دادا جان کے لیے شال سے بہترین تحفہ کوئی لگتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ تمھیں لمبی عمر اور خوشیوں والی زندگی عطا کرے۔۔۔۔۔۔ سب سے اتنا دور رہنے کبے بعد بھی تم سب کو ہماری ضرورتوں کا خیال رہتا ہے بی جان نے خوشی بھرے ماحول کو دیکھ کر شاہ ویر کو دعا دی ۔۔۔۔۔۔

 

ارے یہ درے آپی کہاں ہے۔۔۔۔۔۔ صبا نے ہال میں نظر دوڑاتے ہوئے دل میں سوچا لیکن در ثمین کہیں نظر نہیں ائی تو وہ در ثمین کو بلانے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔ اجالا یہ ائی پیڈ ثمامہ کے لیے اور یہ گولڈ کا برسلیٹ تمہارے لیے اور یہ ادریس بھائی نے جیکٹ منگوائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے اجالا کو ایک ایک کرکے تمام گفٹ پکڑائے ۔۔۔۔۔۔۔ سو سویٹ اجالا نے مسکراتے ہوئے کہا ، در ثمین شاہ ویر کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن صبا اپنے بچپنے کی وجہ سے اسے سب کے درمیان کھینچ لائی تھی وہ اور صبا ایک ساتھ صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔تب ہی لائٹ چلی گئی ۔۔۔۔۔ اوہ نو ۔۔۔۔۔۔ بابر نے فوراً موبائل کی ٹارچ آن کی ۔۔۔۔۔ میں آتا ہوں دیکھ کر بابر لائٹ چیک کرنے چلا گیا ۔۔۔۔۔ ایک منٹ میں ہی لائٹ دوبارہ آ چکی تھی ۔۔۔ دریاب بھی سب کے درمیان آ کر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔ دریاب بھائی بہت مزہ ا رہا ہے۔۔۔۔۔ شاہ ویر بھائی سب کے لیے گفٹس لائے ہیں۔ صبا نے چہکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ باہر بھی دوبارہ سب کے درمیان آ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ شاہ ویر نے ایک نظر سب کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔۔ تبھی اس کی نظر در ثمین پر رکی اس کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ یہاں بیٹھنا ہی نہیں چاہتی ہو جب کسی نا کسی سے نظر مل جاتی ہے تو مسکرا دیتی ورنہ وہ سپاٹ سا چہرہ لئے زمین کو تکتی رہتی ۔۔۔۔۔۔۔ اگر شاہ ویر کی جگہ کوئی اور مرد ہوتا تو وہ در ثمین جیسی خوبصورت پاکیزہ بیوی کا ساتھ پا کر ہر نماز میں خدا کا شکر ادا کرتا نہ تکھتا لیکن یہ تو شاہ ویر شاہ تھا۔۔۔۔۔ جسے برسوں پرانا اپنا بدلہ لینا سب سے زیادہ ضروری تھا۔۔۔۔۔ اج مجھے اس کی صورت دیکھ کر ترس کیوں آ رہا ہے شاہ ویر نے نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے سوچا۔۔۔۔

 

چاچو اپ کے لیے فائف موسٹ امپورٹنٹ لینگویج ٹرانسلیشن کی کتاب لایا ہوں جو اردو اور انگلش دونوں کے ساتھ ہے ۔۔۔ شاہ ویر نے مظفر صاحب کو کتاب دیتے ہوئے کہا یار یہ تو تم نے بہت بہترین کام کیا کلائنٹ اب کسی بھی قوم کے ہو ان کے ساتھ بات کرنے میں آسانی رہے گی شاباش مظفر صاحب نے خوش ہو کر کہا ۔۔۔۔۔ ابو جان آپ چاہتے تھے نا ہماری بزنس کی برانچز پاکستان کے مشہور مختلف شہروں میں بھی ہو۔۔۔ تو یہ پرمیشن لیٹر ہے ان شہروں کا اب ہم پاکستان کے کسی بھی شہر میں اپنے بزنس کی برانچ کھول سکتے ہیں شاہ ویر نے ایک فائل منور صاحب کی طرف بڑھا کر کہا یہ بہت مشکل کام تھا تم نے کیسے کیا۔۔۔۔ میں اتنے سالوں سے ٹرائی کر رہا تھا لیکن بات نہیں بنی ۔۔۔ منور صاحب نے حیران ہو کر فائل کھول کر دیکھنے لگے صبا تم جاؤ قندیل کو بھی بلا کر لے آؤ اور اس خوشی کے موقع پر کچن سے کچھ میٹھا بھی لے آؤ ۔۔۔۔۔۔۔

 

انجمن بیگم نے کہا جی تائی امی میں ابھی لے کر اتی ہوں قندیل کو بھی اور مٹھائی کو بھی صبا نے مسکراتے کچن کی طرف چلی گئی جب کہ قندیل کچن میں پہلے سے ہی موجود تھی ۔۔۔۔۔ منور صاحب جیسے جیسے فائل پڑھتے جا رہے تھے ان کے چہرے پر خوشی بڑھتی جا رہی تھی کیا ہوا منور بیٹا خود ہی مسکراتے رہو گیا یا ہمیں بھی بتاؤ گے منور صاحب کے ہونٹوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے جہانگیر صاحب نے کہا۔۔۔۔۔ جی ابو کیوں نہیں یہ آپ ہی کا دکھایا ہوا خواب یے جو اج ہم سے کچھ قدم دور ہے مجھے تم پر فخر ہے شاہ ویر منور صاحب نے کھڑے ہو کر شاہ ویر کو گلے لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تب ہی صبا مٹھائی لے کے قندیل کے ساتھ ہال میں ائی سب ہی شاہ ویر سے گلے مل کر مبارکباد دے رہے تھے۔۔۔ بھائی ہمیں اپ اور دریاب بھائی پر بہت فخر ہیں اپ دونوں جو ہیں اپنے اپنے والد کے خوابوں کو پورا کر رہے ہیں یعنی کہ ایک طرف شاہ ویر بھائی جو ایک کامیاب بزنس ٹائیکون کے نام سے جانے جاتے ہیں اور دوسرا آپ دریاب بھائی آرمی میں کیپٹن بطور اپنے فرائض باخوبی انجام دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بابر نے اپنی خوشی ظاہر کرتے ہوئے کھلے دل سے اپنے دونوں بڑے بھائیوں کی تعریف کی ۔۔۔۔۔۔ سب سب بیٹھ جائیں اج میں سب کا منہ اپنے ہاتھ سے میٹھا کراؤں گی انجمن بیگم نے صبا سے مٹھائی کی پلیٹ لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اور باری باری سب کا منہ میٹھا کرواتی گئی منہ تو میٹھا ہو گیا ۔۔۔۔

 

اب یہ بتائیے شاہ ویر بھائی آپ درے آپی کے لیے کیا گفٹ لے کر ائے ہیں۔۔۔۔۔ کہیں اکیلے میں تو دینے کا ارادہ نہیں ہے اجالا نے چھیڑا ۔۔۔۔۔ وہ دراصل مجھے پتہ نہیں ہے کہ در ثمین کو کیا چاہیے اس لیے میں نے پھر سے یہ ڈائری خرید لی ۔۔۔۔ شاہ ویر نے ڈائری اجالا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اپ یہ مجھے کیوں دے رہے ہو جس کا گفٹ ہے اسے دے اپنے ہاتھوں سے🫣😁۔۔۔۔۔۔۔ جی بھائی ۔۔۔ بھابھی کو دے نا۔۔۔۔۔۔ اجالا کی بات سن کر بابر نے بھی اکتفا کیا ۔۔۔۔ یہ تمہارے لیے در ثمین شاہ ویر نے سب کی بات سنتے ہوئے دو قدم بڑھا کر در ثمین کو ڈائری دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ تھینکس ۔۔ در ثمین نے ایک نظر شاہ ویر پر ڈالی۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر واپس بیٹھ کر گفٹ والا لگیج بند کرنے لگا ۔۔۔۔۔ بھائی اپ کچھ بھول رہے ہیں۔۔۔۔ دریاب بھائی اور قندیل کا گفٹ کہاں ہے بابر نے شاہ ویر کو یاد دلائی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے ایک لفافہ قندیل کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔۔۔ کیا ہے بھئی اس میں ہمیں تو دکھاؤ فائز نے بھی چینی سے پہلو بدلا ۔۔۔۔ قندیل نے گھونگٹ میں سے ہی لفافہ کھول کر دیکھا تو سارے کے سارے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے قندیل نے جلدی جلدی لفافہ بند کر کے واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہے قندیل اس میں۔۔۔۔ اجالا نے قندیل کی خاموشی کو دیکھتے ہو کہا۔۔۔۔۔۔ اب تم دیکھ لو دریاب۔۔۔۔ شاہ ویر نے ہنسی دباتے ہوئے دریاب کی طرف لفافہ بڑھا دیا۔۔۔۔ ایسا کیا ہے اس میں جو محترمہ کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔۔ دریاب نے لفافے کو دیکھ کر قندیل کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ اچھا تو وہ تو کچھ نہیں بتا رہی تھی۔۔۔۔ لیکن تمہیں سب کو بتانا پڑے گا اس میں ہے کیا ہے گفٹ۔۔۔۔ شاہ ویر نے سب حویلی کے افرادوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ جو سب منتظر تھے۔ آخر لفافے میں ہے کیا ۔۔۔۔ ایسی بات ہے تو میں ابھی بتاتا ہوں اس میں میرے اور قندیل کے لئے ہنی مووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے خود کو بریک لگائی اور شاہ ویر کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگا ۔۔۔۔۔ بولو بولو نا چپ کیوں ہو گئے بتاؤ سب کو شاہ ویر نے چھیڑا ۔۔۔۔۔۔

 

مجھے پتہ ہے دریاب بھائی آپ کی انگلش پڑھنے میں کمزور ہیں لاؤ میں پڑھ دیتا ہوں فائز نے اپنی جگہ سے اٹھ کر دریاب سے لفافہ لیا۔۔۔۔۔۔ قندیل کو پتہ تھا اب یہاں کیا ہونے والا ہے اس لیے وہ وہاں سے کھسک لی۔۔۔۔۔ ارے یہ تو ہنی مون کے ٹکٹ ہے قندیل آپی اور دریاب بھائی کے وہ بھی سوئٹزرلینڈ کے فائز نے سب کی حیرانی دور کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ سب کے سب دریاب کی طرف دیکھ رہے تھے قندیل تو پہلے ہی وہاں سے چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔ شاویر بھائی آپ نے سب سے اچھا گفٹ تو دریاب بھائی اور آپی کو دے دیا ۔۔۔۔ مجھے بھی جانا ہے ۔۔۔ پلیز میری بھی ٹکٹ کنفرم کروا دے میں بھی گھوم کے اؤں گا فائز نے شاہ ویر کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ بھائی میرا بھی ٹکٹ لگوائے میری دوست نے بتایا تھا سوئزرلینڈ بہت خوبصورت جگہ ہے ۔۔۔۔ صبا نے آنکھیں بند کر کے سوئزرلینڈ کو ایسے یاد کیا جیسے وہ سوئز لینڈ پہنچ گئی ہو ۔۔۔۔۔ فائز اور صبا کی باتوں پر سب زور زور سے ہنسنے لگے صبا کا کھلا ہوا منہ دیکھ کر تو سب کو اور بھی ہنسی آ گئی ۔۔۔۔۔ ہاں ضرور کیوں نہیں کب کروائے تم دونوں کی شادی شاہ ویر نے ہنسی کو روکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ شادی وہ بھی ہم دونوں۔۔۔۔ نہیں ۔۔ نہیں یہ صبا ہے نا مجھے مار مار کر میرا حلوہ بنا دے گی پھر ہنی مون پر میرا حلوہ ہی جائے گا۔۔۔۔ فائز نے صبا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ ہیں یہ دیکھیں تایا ابو، کیا کہہ رہا ہے مجھے تنگ کر رہا ہے اس لیے مجھے اس پر غصہ اتا ہے ہاں نہیں تو باگڑ بلا ۔۔۔۔۔۔ صبا نے منور صاحب کے پاس جا کر شکایت لگائی ۔۔۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *