ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 30 part (1)
ماشاءاللہ آپی بہت پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔۔۔درے آپی کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آپ بلا لینا قندیل نے ہنسی دباتے ہوئے کہا بہت عرصےبعد یہ خوشی کا دن ہماری زندگی میں آیا ہے اللّٰہ تعالیٰ میری درے کی جھولی خوشیوں سے بھر دے آمین انجمن بیگم نے در ثمین کو محبت سے گل لگا کر اسکا ماتھا چوم کر کہا
ایک ایک کر کے سب در ثمین کو دعائیں دے رہے تھے در ثمین کا دل کر رہا تھا سب کو چیخ چیخ کر بتائے کہ یہ دعائیں اس کے لیے نہیں ہے اور شاید اس کا مقدر بھی نہ ہوتی اگر شاہ ویر کو اس سے کچھ دن کی دل لگی نہ ہوتی وہ تو شاید بوڑھی ہو جاتی اس پتھر دل انسان کے انتظار میں وہ تو شروع سے اسے اپنے انتقام کی آگ میں جلا کر ختم کر دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ در ثمین اب بھی شاہ ویر کو لیکر غلط فہمی کا شکار تھی یا یوں کہہ لے اسے شاہ ویر کے بدلنے پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا اسے لگ رہا تھا یہ سب شاہ ویر نے اسے حاصل کرنے کے لیے کیا ہے جیسے اسے وہ تسخیر کرے گا وہ اپنے اصلی روپ میں آ جائے گا اور اسے پھر سے ایک طویل عرصے کی جدائی دے جائے گا ، شاہ ویر نے انتقام لینے کا یہ دوسرا طریقہ اپنایا ہے در ثمین اپنی سوچوں سے خود کو مضبوط کرنے لگی درے
درے آپی ہم سب جا رہے ہیں ویر بھائی آگئے ہیں قندیل کی آواز نے اسے سوچوں کہ بھنور سے نکالا قندیل نے در ثمین کو بٹھا کر اچھے سے اسکا لہنگا بیڈ پر پھیلا دیا تھا اوپر سے آرگنزہ دوپٹہ بھی سہی کر کر در ثمین کے چہرے کو ڈھک دیا تھا ، قندیل کے جاتے ہی در ثمین نے کمرے کا جائزہ لیا وہ پہلی بار اس کمرے میں استحقاق سے بیٹھی تھی شاہ ویر کی آمد کا سن کر دل کی دھڑکنیں منتشر ہورہی تھی در ثمین کے ہاتھ بھی کپکپا رہے تھی وہ اپنا دھیان بٹانے لگی پورا کمرہ مختلف قسم کے گلابوں سجا ہوا تھا اس لیے ہر طرح گلابوں کی خوشبو بسی ہوئی تھی
باہر کھلے دروازے میں سے اسے سبکی آوازیں سنائی دے رہی تھی ، اجالا ، قندیل اور صبا نیگ لے رہی تھی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر آج اتنا خوش تھا اس نے منہ مانگی رقم اپنی تینوں بہنوں کے ہاتھ میں رکھی تھی جبکہ فائز جل کر رہ گیا کہ لڑکیاں ہر جگہ پیسے لے جاتی ہے ۔۔۔۔ سب کے جانے کے بعد شاہ ویر دروازہ لاک کر کے مسکراتا ہوا در ثمین کے پاس آ کر بیٹھ گیا شاہ ویر کے دروازہ لاک کرتے ہی در ثمین کو واپس بے چینی اور گبھراہٹ محسوس ہوئی شاہ ویر کے بیٹھتے ہی در ثمین فوراً اٹھی تھی اپنا شرارہ سنبھالتے ہوئے نیٹ کے دوپٹہ چہرے پر ڈھکے ہونے کے باعث اسے کچھ صاف نظر آ نہیں رہا تھا بس اسے ابھی اسی وقت شاہ ویر سے دور جانا تھا وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ تبھی وہ جھٹکے سے شاہ ویر کے اوپر گری شاہ ویر نے فوراً اسے بازوؤں سے پکڑا تھا ، اس کا نیٹ کا دوپٹہ جو بنا کسی رکاوٹ کے لگا تھا وہ اتر کر شاہ ویر پر گر چکا تھا۔۔۔۔ آرام سے شاہ ویر نے در ثمین کا دو آتشہ روپ دیکھا جو اسکی زرا سی قربت سے سرخ پڑ چکا تھا ، چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔ در ثمین نے شاہ ویر پر سے اٹھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اپنے شرارے کو دیکھنے لگی جو آدھا تو شاہ ویر کے نیچے دبا ہوا تھا ، اندھے ہیں کیا آپ کپڑوں پر آ کر کون بیٹھتا ہے در ثمین نے شاہ ویر کو ڈانٹا۔۔۔ سو۔۔۔۔ سوری پورے بیڈ پر تم نے یہ پھیلا رکھا ہے کہاں بیٹھتا میں شاہ ویر نے فوراً اٹھتے ہوئے آرگنزہ دوپٹہ سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا قندیل نے کیا یہ ۔۔۔۔۔میں نے نہیں در ثمین نے لہنگا اٹھاتے ہوئے کہا لہنگا بھاری ہونے کی وجہ سے اس سے اپنے نازک ہاتھوں میں پکڑا بھی نہیں جارہا تھا ،درے کہاں جا رہی ہو تم شاہ ویر نے پوچھا۔۔۔۔ آپ کو اس سے کیا درثمین نے لہنگے کو گھسیٹتے ہوئے کہا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر بیٹھ گئی ، شاہ ویر کو چند ہی سیکنڈ لگے یہ سمجھنے کے لئے کہ در ثمین سب کچھ ریمو کرنے والی ہے درے تمہیں ہو کیا گیا ہے یہ تم کیا کرنے لگی ہوں ابھی میں نے تمھیں طریقے سے دیکھا بھی نہیں ہے شاہ ویر نے در ثمین کی حرکتوں پر حیران ہوتے ہوئے کہا مجھے ان سب سے الجھن ہورہی ہے مجھے یہ اتارنا ہے اور مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی اور نا آپ کی کوئی بات سننی ہے در ثمین نے ڈریسنگ کے ائینے میں خود کو دیکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو چوڑیوں سے آذاد کرنے لگی ۔۔۔۔ درے اتار لینا سب لیکن مجھے پانچ منٹ تو دیکھنے کے دیدو اس رات کا میں نے کتنا انتظار کیا ہے۔۔۔۔ شاہ ویر نے اپنے غصے پر کنٹرول کرتے ہوئے پیار سے کہا ، میں نے کہا ناں مجھے آپکی کوئی بات نہیں سننی در ثمین چوڑیاں اتارنے کے بعد اپنے عروسی دوپٹے کو پنوں سے آذاد کرنے لگی
درے تم آج کی رات ایسے اسپوئل نہیں کر سکتی شاہ ویر نے قریب آ کر در ثمین کا ہاتھ پکڑ کر خود کے روبرو کھڑا کرتے ہوئے کہا کیوں ہر چیز اسپوئل کرنے کا حق صرف آپ کو ہے در ثمین نے شاہ ویر کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا واٹ ڈو یو مین what do you mean شاہ ویر نے حیرت سے در ثمین کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔ وہ تو اب سب کچھ صحیح کرنا چاہتا تھا مگر در ثمین کو آخر ہو کیا گیا ہے وہ کیوں کر رہی ہے ایسا۔۔۔۔ کیونکہ آپ اسی لائق ہیں آپ کو کیا لگا تھا میں اپ کے لیے سیج سجا کر بیٹھوں گی آپکا انتظار کروں گی ، در ثمین طنزیائی لہجے میں بول رہی تھی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کے لئے در ثمین کا یہ رویہ ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا ،اور مجھ سے دور رہے آپ آئی سمجھ در ثمین نے شاہ ویر کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکال کر پیچھے ہٹتی ہوئی اسے نظر انداز کرتے ہوئے واپس سے دوپٹے کو پنوں سے آذاد کرنے لگی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ در ثمین کو کیسے سمجھائے شاہ ویر کم از کم آج کی رات اس پر غصہ کرنا نہیں چاہتا تھا اسلئے وہ آرام سے معاملے کو سنبھال رہا تھا ، درے میری بات سنو شاہ ویر نے ڈریسنگ ٹیبل اور در ثمین کے درمیان حائل ہوا تھا وہ جب تک اپنا دوپٹہ اتار چکی دوپٹہ پنو