ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 28 part (2)
دریاب نماز فجر ادا کر کے آ چکا تھا وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا قندیل نماز کے بعد قران پاک کی تلاوت میں مصروف تھی دریاب ایک ٹک اس کا چہرہ نیہارے جا رہا تھا۔۔۔۔ قندیل نے قران پاک پڑھ کر چوم کر احتیاط سے رکھ کر دریاب کی نظروں کو نظر انداز کرتی ہوئی اپنی چادر اتار کر ایک سائیڈ پر رکھتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کر ٹاول سے بالوں کو خشک کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ شاور لینے کے بعد نماز کی دیر ہورہی تھی اسلئے وہ گیلے بالوں سمیت کی نماز ادا کر چکی تھی جس کی وجہ سے اس کی پشت بھی بھیگ چکی تھی۔۔۔۔۔ وہ اس وقت بلیک پلازو کے کنٹراس کے ساتھ اورنج رنگ کی فراک جس پر بلیک ایمبراڈیڈ کا کام تھا قندیل کا سانولا سا رنگ بنا میک اپ کے اس میں دمک کر باہر آ رہا تھا ، دریاب کی گہری نظریں قندیل بدستور خود پر اچھے سے محسوس کر رہی تھی قندیل کو ویسے تو بہت نیند آرہی تھی مگر روم میں دریاب کی موجودگی کو دیکھ کر وہ جلدی جلدی بالوں میں ہاتھ چلا کر کچن میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔۔ قندیل بال سنوارنے کے بعد اب اپنے لبوں پر پنک کلر کا لپ گلوز لگا رہی تھی جسے دیکھ کر دریاب سے رہا نہ گیا وہ سمجھ گیا تھا کہ قندیل نیچے جانے کے چکر میں قندیل نے دوپٹے کے لیے نظر دوڑائی تو وہ بیڈ پر دریاب کے پاس پڑا تھا قندیل کی نظروں کے تعاقب میں دریاب نے دیکھا قندیل فوراً تیز چلتی ہوئی اپنا کالا دوپٹہ اٹھانے بیٹھ کی جانب بڑھی تھی کہ اس کا ہاتھ لگنے سے پہلے دوپٹہ دریاب لے چکا تھا۔۔۔۔۔ دوپٹہ دیں دریاب مجھے نیچے جانا ہے قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اس کے بال کھلے پشت پر بکھرے ہوئے تھے پہلے یہ بتاؤ میرا منہ لپسٹک سے لال کیوں کیا دریاب نے قندیل کا دوپٹہ ہاتھوں میں لپیٹتے ہوئے پوچھا۔۔۔
۔ رات کو آپ نے اتنا تنگ کیا تھا تو کیا میں آپ کو تھوڑا ۔۔۔۔۔۔ قندیل روانی میں بولتی ہوئی رکی اور اپنے لب بھینچ گئی جبکہ دریاب کا قہقہہ بلند ہوا تو مطلب تم مجھ سے بدلہ لے رہی ہو اور میں نے کب تنگ کیا تھا میں نے تو پیار کیا تھا اپنی سکون جاناں کو دریاب نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے آنکھ ونک کی۔۔۔۔۔ دریاں کی بات سن کر قندیل کا چہرہ مزید سرخ ہوا دریاب دوپٹہ دے دیں قندیل نے پیار سے کہا ایسے نہیں پہلے یہاں میرے پاس آؤ دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا پھر جانے دیں گے آپ قندیل نے معصومیت سے کہا ہاں۔۔۔۔۔ ہاں بالکل دریاب کے کہتے ہی قندیل دریاب کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔۔ دوپٹہ لینا ہے تو چلو مجھے ایک ہگ دو ویسے بھی پھر تم نے پورا ٹائم مجھے دیکھنا بھی نہیں ہے دریاب نے خفا ہوتے ہوئے کہا تھا تو قندیل ہلکا سا ہنستی ہوئی دریاب کے قریب ہو کر اس کے گلے لگی تھی قندیل کے دونوں دریاب کی گردن پر لپٹے ہوئے تھے دریاب نے بھی قندیل کے گرد حصار بنا کر اسے تھوڑا اور خود سے لگا لیا دریاب نے قندیل کی گردن پر لب رکھ کر اس کے بالوں میں سے آتی دلفریب خوشبو کو اپنی ناک کے ذریعے سانسوں میں اتار رہا تھا دریاب کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر کے قندیل سمٹ کر رہ گئی در۔۔۔۔۔یاب جی میری جان۔۔۔۔ میری سکون جاناں دریاب نے پیار بھرے لہجے میں کہا مجھ۔۔۔۔۔۔۔مجھے نیچے جانا ہے ۔۔۔۔۔دریاب ، قندیل دریاب کی قربت میں پگھل رہی تھی اس نے فوراً فرار چاہی ۔۔۔۔۔۔ کیا کرنا میری سکون جاناں کو نیچے جا کر سب
۔۔۔۔۔۔۔مجھے نیچے جانا ہے ۔۔۔۔۔دریاب ، قندیل دریاب کی قربت میں پگھل رہی تھی اس نے فوراً فرار چاہی ۔۔۔۔۔۔ کیا کرنا میری سکون جاناں کو نیچے جا کر سب سوئے ہیں ۔۔۔۔۔ ابھی میرے پاس رہو دریاب نے گرفت ڈھیلی کر کے قندیل کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکا کر کہا۔۔۔۔۔ قندیل کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر دریاب واپس رات والے موڈ میں آ رہا تھا قندیل سمٹ کر دریاب کے سینے میں چھپ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ حویلی میں رات دیر تک سب جاگے تھے تو اس لیے سب سوئے ہوئے تھے سوائے دادا جان اور بی جان کہ وہ دونوں بچوں کے آرام کا خیال کرتے ہوئے ملازموں سے شاہ حویلی کی صفائیاں کروا رہے تھے جبکہ بی جان ملازماؤں کو ہدایت دے کر ناشتے کی تیاریاں کروا رہی تھی مہمانوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ سکون جاناں اٹھو دس بج رہے ہیں دریاب نے قندیل کی پیشانی چوم کر کہا دریاب پلیز مجھے سونے دے میں نا آج آؤں گی نہیں روم میں اگر اپ نے مجھے سونے نہیں دیا تو قندیل نے بمشکل سے آنکھیں کھولتے ہوئے دریاب کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا قندیل کی دھمکی پر دریاب ہنسا تھا۔۔۔۔۔۔ اچھا چلو سو جاؤ میں فریش ہو کر نیچے جارہا ہوں لیکن تب تک تم اٹھی نہیں تو پھر سوچ لینا دریاب نے قندیل کے رخسار پر اپنا لمس چھوڑ کر اٹھ کر باتھ روم میں بند ہوگیا۔۔۔۔۔۔ دریاب کو جاتا دیکھ قندیل شرم سے کمبل میں منہ چھپا کر آنکھیں موند گئی ، دریاب بیٹا قندیل نیچے نہیں ائی گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے ناشتے کا وقت ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے دریاب کو ڈرائنگ روم میں دادا جان سے بات کرتے دیکھ کر کہا ، تائی امی قندیل رات دیر سے سوئی تھی صبح اٹھی بھی تھی نماز کے لیے ۔۔۔۔۔ نیچے آرہی تھی میں نے اسے منع کیا کہ سب سوئے ہوئے ہیں ابھی تو اسے بھی نیند بہت آ رہی تھی تو وہ سب کا سن کر واپس سوگئی ۔۔۔۔۔۔ دریاب ہنسا ساتھ دادا جان بھی ، آنے والی ہوگی میں اٹھا کر آیا تھا نیچے آنے سے پہلے دریاب نے بائیں ہاتھ میں پہنی گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا گیارہ بج کر پندرہ منٹ ہورہے تھے ، السلام علیکم قندیل نے ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر سلام کیا وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔ بیٹا تمھاری تائی امی تمھیں یاد کررہی تھی دادا جان نے مسکراتے ہوئے قندیل کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر کہا ، جی تائی امی ۔۔۔۔ قندیل نے مسکراتے ہوئے انجمن بیگم کے پاس آئی ، ناشتہ کرنا ہے بیٹا آجاؤ جلدی سے ناشتہ کرتے ہیں اور بھی بہت کام ہے اجالا صبا بھی کہیں نظر نہیں آرہی ۔۔۔۔۔سب کو جاکر اٹھاؤ ناشتے کے لئے ہیں مجھ سے بار بار اوپر نہیں چڑھا جائیگا ، سب ایسے ہی رہا تو بارات کو بھی دیر ہو جانی انجمن بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے اپنی بات میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ جب کہ سفید شلوار قمیض پہنے دریاب کی گہری نظریں قندیل پر تھی جو اس کا کوئٹہ میں لیا ہوا لائٹ پنک سوٹ پہ ہلکے سے میک اپ کے ساتھ اس کے دل میں اتر رہی تھی دریاب کی نظریں قندیل خود پر محسوس کرتے ہوئے مسکرا رہی تھی ساتھ ہی انجمن بیگم کی بات سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ میں اٹھا کر لاتی ہوں سبکو تائی امی آپ فکر نا کریں قندیل نے مسکراتے ہوئے کہا انجمن بہو سب ہو جائے گا تم اپنی طبیعت خراب مت کر لینا جہانگیر صاحب نے انجمن بیگم کو ٹوکا ، جی ابو جی خیال رکھو گی ۔۔۔۔۔ویسے قندیل بیٹا یہ رنگ تم پر بہت کھل رہا ہے , ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو آج انجمن بیگم کی نظریں قندیل پر گئی تو وہ تعریف کئے بنا رہ نہ سکی شکریہ تائی امی میں سب کو بلا کر لاتی ہوں قندیل شرماتے ہوئے وہاں سے نکل گئی ، ساتھ ہی انجمن بیگم بھی کچن میں شبانہ بیگم کے پاس چلی گئی ۔۔۔۔۔
۔ قندیل صبا در ثمین اور اجالا کو اٹھا کر نیچے کی طرف جا ہی رہی تھی کہ سامنے سے آتے ہوئے دریاب سے ٹکرا گئی ۔۔۔۔۔ کہاں جانے کی جلدی ہے دریاب نے قندیل کو حصار میں لیتے ہوئے کہا ، در ۔۔۔۔دریاب چھوڑیں ۔۔۔۔۔کوئی آجائے گا ، نیچے جارہی تھی امی اور تائی امی کے پاس قندیل نے مزاحمت کی ، اچھا ایک منٹ کے لئے روم میں چلو دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔نہیں جانا ۔۔۔۔ در۔۔۔۔دریاب قندیل نے گھبراتے ہوئے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے کہا ۔۔۔قندیل کی گبھراہٹ پر دریاب کو ہنسی آگئی سکون جاناں ڈر کیوں رہی ہو کچھ نہیں کررہا ایک منٹ کے لیے چلو تو دریاب نے ہنستے ہوئے کہا دریاب تائی امی ڈانٹے گی ، پکا آپ ۔۔۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔۔ ہاں بس ایک منٹ چلیں اب یا اٹھا کر لے کر چلو دریاب نے قندیل کی بات کاٹ کر کہا ، چل رہی ہوں دریاب قندیل منمناتے ہوئے دریاب کے ساتھ روم میں آگئی ، یہ بتاؤ پہلے یہ ڈریس آج اور ابھی تم نے مجھے جلانے کے لئے پہنا ناں ۔۔۔۔۔۔دریاب نے روم کا دروازہ لاک کرتے ہوئے کہا ن۔۔۔۔۔نہیں تو ۔۔۔۔ آپ کو ایسا کیوں لگ۔۔۔۔۔ رہا ہے قندیل نے دریاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اگر ایسا ارادہ نہیں تھا تو پہلے صرف میرے لیے پہنتی مجھے دکھانا تھا پہن کر ، نا کہ سب کو پہن کر دکھا کر اور آخری میں مجھے
دریاب نے منہ بناتے ہوئے کہا اور قندیل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا قندیل کٹی ڈالی کی طرح دریاب کے سینے سے آ لگی ۔۔۔۔۔دریاب ۔۔۔ میں نے تو دوسرا ہی سوٹ پہنا تھا ۔۔۔۔صبح یاد کرے آپکی وجہ سے ہوا سب اس میں بھی میری غلطی قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا تو دریاب نے بمشکل ہنسی روکی ۔۔۔۔۔ہاں تمھاری ہی غلطی ہے کس نے کہا سکون جاناں کو اتنا پیارا لگنے کو ۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کی طرف جھکتے ہوئے شرارت کی دریاب دور رہے ، ہوگیا آپکا ایک منٹ مجھے جانے دے سب نیچے چلے گئے ہونگے قندیل منمنائی تھی ہاں چلی جانا مجھے اچھے سے اپنی سکون جاناں کو دیکھنے تو دو دریاب نے قندیل کا گہری نظروں سے سر تا پاؤں جائزہ لیا تو قندیل شرم سے دریاب کے سینے میں خود کو چھپانے لگی ، ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔سکون جاناں پہلے تو تم اتنا شرماتی نہیں تھی اب کیا ہوگیا دریاب نے قندیل کے گرد بازو حائل کرکے اسکے سر پر لب رکھتے ہوئے کہا پہلے آپ بھی تو ایسے نہیں دیکھتے تھے قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا تو در
۔۔۔۔۔۔سکون جاناں پہلے تو تم اتنا شرماتی نہیں تھی اب کیا ہوگیا دریاب نے قندیل کے گرد بازو حائل کرکے اسکے سر پر لب رکھتے ہوئے کہا پہلے آپ بھی تو ایسے نہیں دیکھتے تھے قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا تو دریاب ہنسا تھا ۔۔۔۔۔کیسے دیکھا مطلب دریاب نے قندیل سے پوچھا تو وہ گھور کر دریاب کا منہ دیکھنے لگی معصوم نہیں بنے اپکو سب پتہ ہے اب مجھے جانے۔۔۔۔۔ قندیل اپنا جملہ مکمل کرتی کہ دریاب نے جھک کر شرارت کر کے قندیل کی بولتی بند کردی ، بہت زیادہ لپ اسٹک لگی ہوئی تھی دریاب نے قندیل کا غصے والا منہ دیکھ کر ہنسی کو روکتے ہوئے کہا اور دروازہ کو ان لاک کیا ۔۔۔۔۔۔میں جارہا ہوں سکون جاناں تم ایک بار شیشہ دیکھ کر آنا نیچے دریاب نے جاتے جاتے قندیل کو چھیڑا ، دریاب کے جانے کے بعد قندیل نے اپنا منہ شیشے میں دیکھا تو شرم سے سرخ ہوگئی۔۔۔۔۔قندیل نے جلدی جلدی ہاتھ چلا کر وائپس سے لپ اسٹک کو ٹھیک کیا تاکہ نیچے انجمن بیگم کے پاس پہنچ سکے ، نیچے جانے سے پہلے وہ دوبارہ صبا اور اجالا کو بلانا نا بھولی تھی ۔۔۔۔۔۔