ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 28 part (1)
آئی لو یو قندیل دریاب نے قندیل کا جھکا چہرہ اوپر کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ، ایسا نہیں ہے کہ بس وہ ایک لمحہ ہی تھا ۔۔۔۔۔کئی بار تمھیں دیکھ کر میں نے اپنا اختیار کھویا اور پھر بڑی مشکل سے خود کو کنٹرول کیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا تم میرے پیار اور محبت کو میرا بدلہ سمجھو ۔۔۔۔۔۔۔اسلئے میں نے خود کو بہت روکا تمھارے قریب آنے سے لیکن جب تمھیں چوٹ آئی تب مجھے میری محبت سمجھ آئی اور میں نے جانا خود کو ، کہ میں تمھیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔ اور نا ہی خود سے دور جاتا ہوا دریاب کی آنکھیں ، اسکا لہجہ ، اسکا لمس اسکی باتیں ، اسکی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔۔۔۔۔۔وہ کیسے ایمان نا لاتی جو وہ چاہتی تھی وہ آج اسے کے سامنے تھا ، پیلے گھیر دار فراک میں بیوٹیشن سے نفاست سے تیار شدہ قندیل کا حسین چہرہ ساتھ ہی اسکا شرمایا سا روپ دریاب کو وہ اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ دریاب قندیل کو دیکھ کر آج پھر سے اپنا کنٹرول کھو رہا تھا لیکن وہ قندیل کی اجازت کے بغیر نئی شروعات نہیں کرنا چاہتا تھا ، اس لئے بڑی مشکل سے خود پر ضبط کیے بیٹھا تھا۔۔۔قندیل کی پلکیں ہلکی ہلکی لرز رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اب فرار مشکل ہےاب اور وہ دریاب کو خود سے دور نہیں رکھ سکتی دریاب جی میری جان ، دریاب تو جیسے قندیل کے کچھ بولنے کے انتظار میں تھا۔۔۔۔۔ آ۔۔۔۔۔ آئی۔۔۔۔۔ لو ۔۔۔۔ قندیل نے اپنے ہاتھ دریاب کے سینے سے سرکا اوپر کندھوں پر رکھ کر دریاب کے قریب ہو کر اسکے کان میں میٹھی سی سرگوشی کرنے لگی ۔۔۔۔۔ آئی ۔۔۔۔۔لو ۔۔۔۔۔یو ۔۔۔۔۔۔ٹو ۔۔۔۔۔ بولتے وقت اسکے لب دریاب کے کان سے مس ہورہے تھے قندیل کا اتنا خوبصورت اقرار سنکر دریاب نے اپنی آنکھیں بند کر کے کھولیں تھی قندیل دریاب سے دور ہونے لگی تو انکے چہرے آپس میں مس ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ احساس بھی دریاب کے لئے میٹھا سا اور قندیل کے لئے جان لیوا تھا تھینک یو قندیل میری جان دریاب کے چہرے پر انوکھی سی چمک تھی دریاب نے قندیل کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر باری باری چومے ، قندیل میری جان میں ہمیشہ ہمیشہ تمھارے ساتھ ہوں کتنے ہی ہماری زندگی میں مسئلے مسائل آ جائے تم مجھے اپنی ڈھال پاؤ گی۔۔۔۔۔انشاء اللہ ۔۔۔۔پلیز کبھی بھی مجھ سے دور نہیں جانا ۔۔۔۔۔تم بہتر جانتی ہو میں کتنا اکیلا رہا ہوں ، کتنا تڑپا ہوں ، کتنا رویا ہوں ، کتنا بے سکون رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔
ان چھبیس سالوں میں قندیل میں اب بس سکون چاہتا ہوں ، دریاب نے قندیل کے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا ، قندیل لجائی سی حیرانی کے ساتھ دریاب کا دکھ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی ۔۔۔۔ دو گی میرا ساتھ قندیل دریاب نے خمار آلود لہجے میں کہا تو قندیل معصوم سا چہرہ لئے اثبات میں سر ہلا گئی ، قندیل کی معصومیت پر دریاب کو ٹوٹ کر اس پر پیار آیا ۔۔۔۔۔ دریاب ایک چھوٹی سی شرارت کرکے مسکراتا ہوا اسکی گود میں اپنا سر رکھ گیا تھا آج دریاب کو لگ رہا تھا وہ آزاد ہو گیا اپنے انتقام کے پنجرے سے اب وہ جو چاہے کر سکتا تھا۔۔۔۔ مگر اسے صرف قندیل سے محبت کرنی تھی اسے اپنا کر یہ احساس دلانا تھا کہ وہ کتنی خوش نصیب ہے دوسری طرف قندیل خوش تھی کہ وہ دریاب کے تمام درد کی دوا بنی دریاب کا ہر عمل اسے خاص ہونے کا احساس دلا رہا تھا دیر سے ہی سہی مگر آج رات ان دونوں کو مکمل کرگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔صبح قندیل کی آنکھ کھلی تو وہ دریاب کی بانہوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے فوراً اٹھتے ہوئے دریاب کو دیکھا تو دریاب کی آنکھیں بند تھی چہرے پر سکون صاف ظاہر تھا اور لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لئے وہ سویا ہوا کہیں کا شہزادہ لگ رہا تھا ، رات کا ایک ایک منظر قندیل کے دماغ میں فلم کی طرح چلنے لگا ، دریاب کی باتیں ، دریاب کا اقرار ، دریاب کا پیار ۔۔۔۔۔۔۔ سوچتے ہی وہ سرخ ہوگئی تھی ، دریاب سوتا ہوا بہت پیارا لگ رہا تھا قندیل بنا آواز کئے آرام سے اسکی گہری نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسکی بانہوں سے نکلی تھی دریاب کی گرفت اتنی مضبوط نا تھی اسلئے وہ آرام سے نکل گئی ، دریاب کا سکون بھرا چہرہ دیکھ کر قندیل کا دل بار بار اسے شرارت پر اکسا رہا تھا ، کتنی ہی دیر تک دریاب کو دیکھنے کے بعد قندیل آرام سے اٹھکر ڈریسنگ ٹیبل سے لپ اسٹک لے کر دریاب کے پاس دوبارہ بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
قندیل نے آگے ہو کر پہلے دریاب کی چمکتی کشادہ پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے اس کے بعد اس کے ایک گال پر لپ اسٹک سے دائرہ بنایا تھا اب دوسرے گال کی باری تھی قندیل دریاب پر جھک کر بنانے لگ گئی وہ جھکے جھکے ہیں ہنستی ہوئی لپ اسٹک کا ڈھکن بند کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔کہ فجر کی اذان کی آواز آنے پر دریاب کی آنکھ کھلی تھی دریاب نے مندی مندی آنکھوں سے قندیل کو خود پر جھکا پایا ، تو خود کو یقین دلانے کے لیے حیرت سے آنکھیں پوری کھول گیا کل رات ہی دریاب نے قندیل کا پیار سے نام رکھا تھا ، سکون جاناں ۔۔۔۔۔۔ سکون جاناں یہ صبح صبح کیا ہورہا ہے دریاب نے تھوڑا سا اٹھ کر قندیل کے گال پر لب رکھ کر کہا ، یہ سب اتنا اچانک ہوا قندیل نے دریاب کے جاگنے پر فوراً اس سے دور ہونا چاہا تھا ، لیکن آگے بھی کیپٹن شاہ تھا دریاب نے اسکے گرد بازو حائل کرکے یہ کوشش بھی ناکام بنادی دریاب چھوڑیں۔۔۔۔۔ قندیل نے کسمسائی تھی دریاب نے چھوڑنے کے بجائے قندیل کو اور خود کے قریب کیا اور کروٹ لی اب قندیل نیچے دریاب اوپر تھا ۔۔۔ پہلے یہ بتاؤ صبح صبح کیا کر رہی تھی ک۔۔۔۔۔ کچھ نہیں دریاب کا چہرہ دیکھ کر قندیل کو ہنسی آ رہی تھی بمشکل اس نے خود کو سنبھال کر کہا اتنی شریف نہیں ہو تم یہ لپسٹک ہاتھ میں کیوں لی ہوئی ہے کہیں تم میرا چہرہ تو خراب نہیں کر رہی تھی دنیا فوراً تہہ پر پہنچتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔یہ تو میں نے لگانے کے لیے لی تھی ، آپ اٹھے جلدی نماز کی دیر ہو رہی قندیل نے دریاب کا لپ اسٹک
۔۔۔۔۔۔یہ تو میں نے لگانے کے لیے لی تھی ، آپ اٹھے جلدی نماز کی دیر ہو رہی قندیل نے دریاب کا لپ اسٹک سے دھیان ہٹانا چاہا ٹھیک ہے ہٹ رہا ہوں پہلے مجھے پیاری سی مارننگ کس دو دریاب نے فرمائش کی ۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ میں نے نہیں دینی آپ اٹھیں جلدی سے ہائے ۔۔۔۔ میں دب گئی میرا دم گھٹ رہا ہے ، درد بھی ہو رہا ہے ، سانس بھی نہیں آ ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے ڈرامہ کرتے ہوئے نان اسٹاپ بولنا شروع کیا تو دریاب نے خود ہی قندیل کے چہرے پر جھک کر شرارت کر کے اس کی بولتی بند کر دی آئی لو یو میری سکون جاناں اب یقیناً تمہیں سانس آگئی ہوگی دریاب نے ہنستے ہوئے قندیل سے دور ہوا تھا اور بیڈ سے اٹھ کر واشروم کی جانب بڑھ گیا جبکہ قندیل شرم کے باعث تکیے میں منہ دیے لیٹی رہی قندیل میری جان یہ جو تم نے میرے منہ کے ساتھ کیا ہے نا اب اس سب کے لیے سزا کے لیے تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔۔دریاب نے باتھ روم کے ائینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہی فورا باہر آ کر قندیل کو گھورا قندیل جو اپنی شرم پر قابو کر کے بیڈ سے اٹھ کر وارڈوب میں سے اپنے کپڑے نکال رہی تھی دریاب کا چہرہ دیکھ کر کھل کھلا کر ہنسنے لگی۔۔۔۔۔۔ یہ بات دریاب کو مزید تپا گئی کہ وہ کل رات کے بعد اس کی دھمکی کو اتنے ہلکے میں کیسے لے سکتی ہے ، رک جاؤ سکون جاناں نماز کی دیر نہ ہورہی ہوتی تو میں ابھی اسی وقت تمھاری خبر لیتا دریاب اپنی بات مکمل کرتا ہوا واپس باتھروم میں بند ہو گیا ۔۔۔۔۔ جب کہ قندیل دل دریاب کا لال چہرہ یاد کیے ہنسے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر کے ذہن میں رات بھر در ثمین گھومتی رہی تھی وہ ساری رات اس
نے اپنی اور در ثمین کے ساتھ کی تصویریں دیکھتے ہوئے گزاری تھی ۔۔۔۔۔ اب بس ایک رات کی بات پھر تم میرے پاس ہوگی درے ، میں تمھاری تمام شکایتیں دور کر دونگا تمھیں اتنا خوش رکھونگا کہ تم اپنے گزرے ہوئے پرانے تکلیف دہ زمانے کو بھول جاؤ گی شاہ ویر کافی دیر تک در ثمین کی تصویر سے باتیں کرتا رہا ، فجر سے کچھ دیر پہلے اس پر نیند کا غلبہ ہوا تھا وہ سوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔دوسری طرف در ثمین کی بھی یہ حالت تھی وہ کل شاہ ویر کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی وہ سنگدل انسان اسکا عشق تھا ، یہ بات وہ اچھے سے جانتی تھی کہ تھوڑی سے نرم پھوار پڑنے کی دیر ہے وہ باآسانی شاہ ویر کے سامنے پگھل جائے گی ۔۔۔۔۔۔ وہ تہجد ادا کرتے ہوئے رو رو کر اللّٰہ پاک سے اپنے لئے انصاف مانگ رہی تھی ، کہ اللّٰہ پاک اسے اتنی ہمت دے کہ وہ شاہ ویر کے سامنے کمزور نا پڑے ۔۔۔۔۔۔کافی دیر مصئلے پر اپنے رب کائنات کے سامنے آنسو بہانے کے بعد وہ بستر پر لیٹی تھی کہ تھکن کی وجہ سے نیند کی دیوی مہربان ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔