ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 26 part (2)
قندیل آپی آپ جس دن سے آئی ہیں درے آپی کے ساتھ ہی رہتی ہیں اور انہی کے ساتھ سوتی ہیں۔۔۔۔پلیز آج ہمارے ساتھ بھی سو جائیں صبا نے در ثمین کے روم میں آ کر منہ بناتے ہوئے کہا تو در ثمین ہنسنے لگی اچھا بیٹا وہ دن بھول گئی جب تم نے اور اجالا آپی نے مجھے کمرے سے باہر نکالا تھا قندیل نے اتراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں تو وہ میرا نہیں اجالا آپی کا پلین تھا کہ آپ کو دریاب بھائی کو دیکھ کر سرپرائز ملے گا صبا نے معصومیت سے کہا ہاں تو کچھ غلط تو نہیں کیا تھا تم بتاؤ کیا اچھا لگتا ہے دریاب بھائی اتنے دنوں بعد آئے تھے اور قندیل صاحبہ اپنے کمرے مطلب اپنے مائکے میں جا کے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اجالا نے صبا کی آخری بات سن کر کمرے میں داخل ہو کر کہا ہاں قندیل اس پلین میں تو میں بھی شریک تھی در ثمین نے ہنسی دباتے ہوئے کہا اچھا۔۔۔۔۔ اچھا تو پھر ابھی تو مجھے بی جان نے کہا ہے کہ میں درے آپی کے روم میں رہوں درے آپی کے ساتھ اور ویسے بھی اس روم میں تم دونوں سونا نا آرام سے قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا چلو صبا آنے دو دریاب بھائی کو پھر خود ہی جائے گی درے آپی کو اکیلا چھوڑ کر اجالا نے مسکراتے ہوئے صبا کا ہاتھ پکڑ کر کہا اجالا کی بات پر صبا اور در ثمین بھی ہنسنے لگی۔۔۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا سمجھی۔۔۔۔ آپ قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ، دیکھتے ہیں اجالا نے روم سے باہر نکلتے ہوئے کہا ویسے بھی کل دریاب بھائی آ رہے ہیں صبا نے دھماکہ کیا۔۔۔۔۔ تمہیں کس نے کہا قندیل نے حیران ہو کر کہا اب شادی میں نو دس دن بچے ہیں ۔۔۔۔۔کیا وہ اٹھ دن پہلے بھی نہیں آ سکتے اپنی بہن کے لیے صبا نے عقل مندوں والی بات کی ، اور آج کال آئی تھی دریاب کی بی جان بتا رہی تھی در ثمین نے کہا تو اب قندیل کو یقین آگیا تھا دریاب کے آنے کا ۔۔۔۔۔
میں تو پھنس گئی قندیل نے دل میں سوچا۔۔۔ صبا میڈم تم تو جا کر سو جاؤ یار یا باہر ہی کھڑی ہو کر چوکیداری کرنی ہے قندیل نے صبا کو دیکھ کر کہا تو صبا نے جانے میں ہی بہتری سمجھی۔۔۔۔۔ دریاب کے آنے کا سوچ کر ہی قندیل کو فکر لگ گئی تھی کہ اب جانے دریاب کیا کرے گا اسکے ساتھ وہ تو جب سے شاہ حویلی آئی تھی اپنے اپ کو کنواری سمجھ کر دریاب کو بھلائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب جب سے گھر آیا تھا قندیل اسے کہیں نظر نہیں آرہی تھی کمرے میں گیا تو کمرہ بھی صاف تھا۔۔۔۔۔۔ تھک ہار کر وہ بی جان کے پاس آ کر بیٹھ گیا دریاب بی جان سے باتوں میں لگ گیا ۔۔۔۔۔ بیٹا تمہاری پوسٹنگ کا کیا ہوا بی جان نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔جی بی جان پندرہ دن کی چھٹی کے بعد یہی کراچی میں ہی ڈیوٹی ہوگی دریاب نے مسکرا کر کہا بی جان آپ کے لیے چائے لا دوں تبھی قندیل جو دریاب کی موجودگی سے بے خبر تھی اپنے آپ میں مگن انداز میں بی روم میں آ کر بی جان سے کہتی ہوئی رک جاتی سامنے ہی دریاب کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی ۔۔۔۔۔۔ لال کلر کے لان پرنٹڈ سوٹ میں ہم رنگ دوپٹہ سلیقے سے لئے ، میک سے پاک چہرہ بس لپ گلوز کا استعمال ہونٹوں پر کیا گیا تھا دریاب ایک لمحے کے لیے قندیل کو دیکھتا رہ گیا بی جان کی آواز سے تسلسل ٹوٹا تھا ۔۔۔۔۔ہاں بیٹا آدھا کپ لے آنا بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا السلام علیکم قندیل نے دریاب کو دیکھ کر منہ بناتے ہوئے کہا وعلیکم السلام ایک کپ چائے مجھے بھی میرے کمرے میں لا دینا قندیل میرے سر میں درد ہو رہا ہے دریاب نے قندیل کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ساتھ ہی وہ کمرے سے نکل گیا ۔۔۔قندیل اپنے لب کچلتی ہوئی کچن میں چائے بنانے چلی گئی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد قندیل ہمت کر کے چائے دریاب کے روم میں لے کر آئی تو دریاب بیڈ پر بیٹھا ہوا اسے ہی خفگی سے گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ لیں چائے قندیل نے چائے کی ٹرے دریاب کے آگے کرتے ہوئے کہا مجھے ابھی چائے نہیں پینی دریاب نے قندیل کو بدستور گھورا ابھی بھی ، ہیں تو پھر منگوائی کیوں تھی قندیل نے چائے کی ٹرے کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا تم مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئی مجھے آئے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔قندیل کی ٹرے رکھنے کی دیر تھی دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر اپنے برابر بیٹھا کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا اب اپ امریکہ سے تو آئے نہیں تھے جو میں خاص ویلکم کرتی قندیل نے دریاب کو چھیڑنے کے لیے کہا۔۔۔۔۔۔ اچھا دریاب نے اچھا پر زور دیے کر کہا مذاق کر رہی تھی دریاب شادی کا گھر ہے نا کون ا رہا ہے کون جا رہا ہے چوکیدار تو نہیں ہوں جو مجھے پتہ ہوگا۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کو دوبارہ چھیڑنے کے لیے کہا اور ساتھ ہی ہنسنے لگی ، اچھا ابھی بتاتا ہوں میں کون ہوں اور تم میری کون ہو قندیل کے مذاق سے تپ کر دریاب نے قندیل کو اپنی طرف کھینچا تو وہ اسکے سینے سے آ لگی تھی ۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اسکی ہنسی بھی غائب ہوگئی تھی ، میں ۔۔۔۔۔۔میں مذاق کر رہی تھی دریاب آپ سے قندیل نے فوراً کہا نہیں پہلے میں تمھیں یاد دلا دو اچھے سے دریاب نے قندیل کے گال پر اپنے لب رکھتے ہوئے کہا در۔۔۔۔۔۔دریاب ۔۔۔۔۔ مذاق ۔۔۔۔۔۔چھوڑیں ۔۔۔۔۔ نیچے بہت کام ہے قندیل نے اپنی دھڑ دھڑ کرتی دل کی دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے اٹکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ سب کو پتہ ہے اب تمھارا شوہر آیا ہے اب تمھیں اوپر کام ہیں دریاب نے قندیل کے دوسرے گال پر بھی اپنا لمس چھوڑا ۔۔۔۔دریاب ۔۔۔۔۔۔دور رہے۔۔۔۔۔۔دریاب۔۔۔۔۔ کوئی آ جائے گا دروازہ کھلا ہے قندیل نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو کیا ہوا آنے دو دریاب نے اب کی بار اپنا لمس قندیل کی پیشانی پر رکھتے ہوئے آرام سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔دری۔۔۔۔۔۔۔دریاب ۔۔۔۔۔قندیل نے اگلے لمحے کا سوچ کر دریاب کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دوری بنانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی میری جان پتہ ہے کتا مس کیا میں نے تمھیں دریاب نے قندیل کی آنکھوں میں ڈر کو دیکھ کر ہنسی دبائی تھی سارے ڈر اسے آج اور ابھی ہی لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔تم نے مجھے مس کیا دریاب نے قندیل کے ہاتھ پر لب رکھتے ہوئے کہا ، قندیل ۔۔۔۔۔ اجالا کی آواز سنکر دریاب نے ہڑبڑا کر قندیل کو چھوڑ دیا تو وہ بھی فوراً اسکے پہلو سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی ، دریاب کی کچھ دیر پہلے والی سب کو آنے دو والی بات یاد آئی تو قندیل ہنسی دبا گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم یہاں اجالا کمرے میں داخل ہوتے ہوئے مسکرا کر دانت پیستے ہوئے قندیل کو دیکھ کر اشارہ کیا ہاں۔۔۔۔۔۔ ہاں چائے دینے آئی تھی دریاب کو اجالا کو دیکھ کر قندیل کو اپنی کل رات والی بات ہی یاد آگئی کہ اجالا کا اشارہ کس طرف ہے ، پر میں نے تو نہیں منگوائی چائے دریاب نے قندیل کو چھیڑنے کے لیے کہا قندیل کا چہرہ جو ابھی دریاب کی قربتوں کی وجہ سے سرخ تھا اب وہ ہلکا ہلکا غصے میں تبدیل ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ہاں میرا دماغ خراب ہو گیا جو خود بخود چائے لے آئی تھی قندیل نے دریاب کو گھورتے ہوئے چائے کی ٹرے اٹھانے لگی مذاق کر رہا تھا یہ چاہے مجھے پینی ہے مجھے دے جاؤ دریاب نے ہنسی کو روکتے ہوئے ٹرے میں سے چائے کا کپ اٹھایا ، قندیل بھی منہ بناتی ہوئی اجالا کے ساتھ کمرے سے چلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یار قندیل تم رات کو کہاں تھی ناراض ہو کیا مجھ سے رات کو روم میں بھی نہیں آئی تم ۔۔۔۔۔۔صبح دریاب نماز پڑھ کر آیا تو قندیل کی تلاش میں سیدھا کچن میں آگیا قندیل آٹا گوندھنے میں مصروف تھی اس کی پشت دریاب کی طرف تھی دوپٹہ سرک کر کندھوں پر پڑا تھا بال کھلے کمر پر تھے جن میں گیلے پن کا احساس اب بھی تھا دریاب کا دل کیا اسکو اپنے حصار میں لے کر اس پل کو یادگار بنالے مگر وہ پہلے قندیل سے رات کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات کو تو میں در ثمین آپی کے پاس سو رہی تھی جب تک رخصتی نہ ہو بی جان نے کہا ہے میں ان کے پاس رہوں اور پھر نیچے سونے کی عادت مجھے رہی نہیں قندیل نے اخری جملے پر طنز کیا۔۔۔۔۔۔۔ وہ بی جان نے جب کہا ہوگا جب تم اکیلی تھی اب تمھارا شوہر آ چکا ہے ، اور ۔۔۔۔اور اجالا یا صبا میں سے کوئی سوجائے گی درے کے پاس تم آج مجھے روم میں ملنا آئی سمجھ ، اور یہ نیچے سونے والی بات کیوں کی تم نے قندیل یار میں اپنے رویے کی تم سے معافی مانگ چکا ہوں ۔۔۔۔۔۔ اور اگر تمھیں نہیں آنا روم میں تو ٹھیک ہے نہیں آنا جب تک دل کرے لو بدلے دریاب نے خود کے غصے پر قابو کرتے ہوئے کہا اور کچن سے نکل گیا ، آئے بڑے ہر وقت غصہ کرتے رہتے جب اتنے دن رہ لئے اور رہ لے میرے بغیر ۔۔۔۔۔۔قندیل نے اتراتے ہوئے دل میں سوچا اور اپنے کام میں لگ گئی ، دونوں کے دونوں اپنی بات پر قائم تھے قندیل دریاب کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی پہلے دریاب اسکی طرف دیکھتا نہیں تھا مگر وہ اسکی طالب تھی ، اب جب اسے پتہ چل گیا کہ دریاب کے دل میں کیا ہے تو وہ اسے اپنے پیچھے گھما رہی تھی تاکہ دریاب کو بھی احساس ہو کہ پاس ہو اور نا ملے تو کیسا ہوتا محسوس ۔۔۔۔۔۔معاف تو اس نے اسے اسی دن کردیا تھا اب بس وہ چاہتی تھی دریاب کو اپنی محبت کا احساس ہو اور محبت کا ملنا اور نا ملنا کیسا ہوتا وہ بھی سمجھ آئے۔۔۔۔۔ مگر یہ خبر شبانہ بیگم سے زیادہ دن چھپی نہیں رہی کہ قندیل دریاب کے بجائے در ثمین کے روم میں سورہی ہے وہ ان دونوں کے رشتے میں کھینچاو کو باخوبی محسوس کررہی ساتھ میں اپنی بیٹی کی کم عقلی پر ماتم بھی ۔۔۔۔ دن گزر رہے تھے دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوسکی تھی دریاب بھی بابر اور شاہ ویر کے ساتھ پورا پورا دن باہر ہوتا شادی کے انتظامات سنبھالنے کے لئے اور پھر شاہ ویر کو آفس کو بھی دیکھنا ہوتا۔۔۔۔۔۔