Episode 24 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 24 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

 

Episode 24 part (1)

 

قندیل تیار ہو جاؤ ہاسپٹل جانا ہے دریاب نے قندیل سے کہا جو ناشتہ کرنے کے بعد دوبارہ سونے کی تیاری پکڑ رہی تھی م۔۔۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا اور نہ تیار ہونا قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا قندیل ڈاکٹر پاس نہیں جاؤ گی تو ٹھیک کیسے ہوگی ۔۔۔۔ اب جلدی سے تیار ہو جاؤ اپائمنٹ لی ہوئی ہے ڈاکٹر شمشاد ہمارا انتظار کررہے ہونگے ، دریاب نے قندیل کے پاس بیٹھ کر فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ دریاب میرا دل نہیں کررہا تیار ہونے کا اور نا کہیں جانے کا قندیل نے کمبل میں منہ گھساتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔دیکھو قندیل اگر تم خود تیار نہیں ہوئی تو مجھے وہ کرنا پڑے گا جو میں کرنا نہیں چاہتا دریاب نے مسکراتے ہوئے گہری نظروں سے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔ کیا مطلب ہے آپ کا قندیل نے کمبل سے منہ نکال کر دریاب کو گھورا ۔۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے تمھیں آج ڈاکٹر پاس لے جانا ہے وہ بھی لازمی ، ان کپڑوں میں تو نہیں لے جا سکتا۔۔۔۔۔اسلئے اگر تم خود چینج نہیں کرو گی تو میں خود تمہیں چینج کرواؤں گا اب مطلب سمجھ گئی نا تم ۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کو چھیڑتے ہوئے کہا ، آ۔۔۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے قندیل نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ کیوں نہیں کر سکتا بیوی ہو تو میری سب حق رکھتا ہوں تم پر یہ الگ بات میں نے کبھی حق جتائے اور عمل کر کے دکھائے نہیں دریاب نے قندیل کو چھیڑنے کے لیے کہا اور آخری جملہ آہستہ آواز میں کہا ، ہا۔۔۔۔۔
ہاں تو مجھے نہیں کرنے اور نا کروانے چینج ، قندیل نے دریاب کے ڈر سے کمبل کو مضبوطی سے ہاتھوں میں دبایا ، مجھے تو کروانے ، یہاں کروگی یا باتھروم میں لے کر چلو دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا ۔۔۔۔۔ دریاب زیادہ بدتمیزی اور مجھے بلیک میل نہیں کرے ، قندیل نے دریاب کی بات سن کر سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ کہا ، ارے میری جان ابھی بدتمیزی کی کہاں ہے پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ کچھ کھاؤ پیو پھر دیکھنا ۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کی گود میں سر رکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا ، دریاب نے قندیل کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے سینے پر رکھ لئے تھے دریاب کی دھڑکنیں قندیل با آسانی سن سکتی تھی قندیل کی گود میں دریاب کو سکون مل رہا تھا ۔۔۔۔۔در۔۔۔۔۔دریاب ۔۔۔۔۔قندیل نے دریاب کو سکون سے آنکھیں بند کرتا دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔ہممم کیا فیصلہ کیا ، دریاب نے بند آنکھوں سے ہی ہنسی دباتے ہوئے پوچھا ، میں ۔۔۔۔۔ میں خود کر لوگی چینج ۔۔۔۔۔قندیل نے دریاب کے ہاتھوں میں سے اپنے ہاتھ نکالنے چاہے تھے مگر آگے گرفت مضبوط تھی ، گڈ گرل ۔۔۔دریاب نے باری باری قندیل کے دونوں ہاتھوں پر بوسہ دیا تو قندیل دریاب کے لمس پر لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔چینج کرنا۔۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔۔لیٹ ۔۔۔۔۔ہوجائے گے ۔۔۔۔۔قندیل کے شرم سے الفاظ بھی ادا نہیں ہورہے تھے ، دریاب کا دل نہیں تھا اپنے سکون کو برباد کرنے مگر قندیل کو دل ڈاکٹر پر کے جانے کا خیال آتے ہی وہ اپنے سکون کو فراموش کرگیا ، ہاں کچھ ہیلپ چاہیئے تو آواز دے دینا اور باتھروم کا دروازہ اوپن ہی رکھنا ۔۔۔۔میں ڈرائنگ روم میں ہوں تب تک ، دریاب نے آنکھیں کھولتے ہوئے فوراً قندیل کی گود سے سر اٹھا کر کہا ۔۔۔۔۔اور کھڑے ہوکر اپنی ہتھیلی کو پھیلا کر قندیل کو اٹھنے کا اشارہ کیا ، دریاب کی اتنی کئیر کرنے پر قندیل کی آنکھیں نم ہورہی تھی وہ اپنا نرم ہاتھ دریاب کے مضبوط گرفت میں تھما کر بیڈ سے اٹھ گئی ، دریاب قندیل کو پیار سے دیکھتا ہوا روم سے چلا گیا۔۔۔۔۔قندیل بھی تیار ہونے کی غرض سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر وارڈروب کے پاس آ کر کپڑے نکانے لگی ۔۔۔۔۔۔

Author Image

مصنف کے بارے میں

رائٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *