ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 23 part (2)
میں بنالیتی دریاب آپ کیوں بنارہے ناشتہ ۔۔۔۔۔۔قندیل نے کچن میں چائے بنانے میں مصروف دریاب کو دیکھتے ہوئے کہا ، تم یہاں کیوں کھڑی ہو ، چلو وہاں بیٹھو بس میں چائے لا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔دریاب نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ، قندیل اب بھی رات والے شکن زدہ کپڑوں میں تھی ، بس چہرہ دھلا ہوا شفاف سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔انکھیں بخار کے باعث تھوڑی سوجی ہوئی تھی بال بھی کل کے بنے ہوئے ماتھے پر بینڈیج ، دریاب بغور قندیل کا جائزہ لے رہا تھا تب ہی چائے کے ابلنے کی آواز سے اسکا دھیان قندیل کی طرف سے ہٹا ۔۔۔قندیل یار چل کے بیٹھو ۔۔۔۔۔۔یا میں اٹھا کر چھوڑ کر آؤ ، دریاب نے قندیل کو ایک جگہ جمے ہوئے دیکھ کر کہا تو قندیل نفی میں سر ہلاتی ہوئی مسکراہٹ چھپائے ڈائننگ ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی دریاب بھی چائے لے آیا ، دریاب اپنے ہاتھ سے اسے ناشتہ کروا رہا تھا ۔۔۔۔۔بس اور نہیں کھانا پیٹ بھر گیا میرا ، قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اتنی جلدی ابھی یار تم نے کچھ کھایا بھی نہیں ، ایسے کیسے یہ بھی کھاؤ دریاب قندیل کو کھلانے لگا تو قندیل کا اچانک سے دل خراب ہوگیا ، وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر باتھروم کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔۔دریاب بھی اسکے پیچھے گیا تھا جو ابھی کھایا تھا وہ سب نکال کر قندیل آنسو سے لبریز آنکھیں اور سوں سوں کرتی ناک کے ساتھ بدحواس سی باتھروم میں کھڑی دریاب کو دیکھ رہی تھی ، کوئی بات نہیں ادھر آؤ دریاب نے پیار سے کہا تو قندیل نے جھجھکتے ہوئے بھاری ہوتے سر کے ساتھ دریاب کی طرف قدم بڑھائے تھے کہ اسے چکر آگیا ابھی وہ گرنے ہی والی تھی کہ دریاب اسے فوراً تھام گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔قندیل ۔۔۔۔۔قندیل ۔۔۔۔۔قندیل نے حواس کھونے سے پہلے دریاب کی آواز سنی تھی ۔۔۔۔۔دریاب قندیل کی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے اسے گود میں اٹھائے بیڈروم میں لے آیا تھا ۔۔۔۔۔قندیل یار اٹھو ۔۔۔۔۔کچھ کھاؤ گی نہیں تو کمزوری تو ہونی ، دریاب نے قندیل کو بیڈ پر لٹا کر اس کے چہرے پر پانی کے چھیینٹے مارے تاکہ قندیل ہوش میں آئے ۔۔۔۔۔۔ قندیل ۔۔۔۔۔میری جان ۔۔۔۔۔۔یار اٹھو ۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کو آنکھیں کھولتا دیکھ اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا ، در۔۔۔۔۔یاب ۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔ کچھ نہیں کھانا ، قندیل نے نقاہت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے نہیں کھاؤ کچھ میں جوس لاتا ہوں وہ پی لینا ۔۔۔۔۔ کل سے کچھ نہیں کھایا کچھ تو کھانا پڑیگا دریاب نے کہا تو قندیل منہ بنا کر رہ ۔۔۔۔۔۔۔چلو تم آرام کرو میں دس منٹ میں آتا ہوں ، اٹھنا نہیں یہیں لیٹی رہو جب تک میں آؤ ۔۔۔۔۔دریاب نے اپنا والیٹ پینٹ کی جیب میں رکھتے ہوئے کہا تو قندیل اثبات میں سر ہلاگئی ۔۔۔۔دریاب کے کمرے سے نکلتے ہی قندیل کمزوری سے آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔۔۔۔
در ثمین تم سے میں آج پھر پوچھ رہی ہوں تم کسی دباؤ میں تو نہیں ہو بیٹا ۔۔۔۔۔ بی جان نے سوپ پیتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ بی جان مجھ پر کون دباؤ ڈالے گا ، وہ بات تو میں نے شاہ ویر کو تنگ کرنے کے لیے کہی تھی ۔۔۔۔در ثمین نے نظر چرا کر مسکراتے ہوئے بی جان کو تسلی دی ۔۔۔۔ تو بیٹا مجھے تم خوش کیوں نہیں لگ رہی ، بی جان نے سوپ کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔بی جان میں تو بہت خوش ہوں ، وہ بس شاہ ویر سب کے سامنے مذاق بناتے اس لئے میں انکو غصہ کرکے دکھاتی تاکہ وہ سب کے سامنے ایسی باتیں مجھ سے نا کریں ۔۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوں در ثمین نے بی جان کے ماتھے پر پیار کیا ، اور انکا ہاتھ پکڑ کر تسلی دینے لگی ۔۔۔۔ بی جان کی جان پتہ ہے کتنی دعائیں ہم نے مانگی اس دن کے لیے ، شاہ ویر کو جو یہ تمھارا احساس ہورہا ہے ہمیں دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے بس ایسے ہی خوش رہو تم دونوں بی جان نے محبت سے در ثمین کا ماتھا چوم کر کہا اور سوپ پینے لگی ۔۔۔۔۔۔۔در ثمین بھی بی جان کے سامنے مسکراہ کر رہ گئی ، السلام علیکم بی جان ۔۔۔۔ شاہ ویر نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سلام کیا تھا اور بی جان کے پاس آ کر انکا ماتھا چوما ۔۔۔۔۔۔ اتفاقاً شاہ ویر نے بھی بی جان کے ماتھے پر وہیں ہونٹ رکھے تھے جہاں کچھ دیر پہلے در ثمین نے رکھے تھے ، در ثمین شرمندہ سی نظریں جھکائے اپنے لب کاٹنے لگی ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر کے قریب آنے پر ایک خوشگوار سی مہک نے در ثمین اور بی جان کو اپنے احاطے میں لے لیا تھا ، السلام علیکم شاہ ویر نے بی جان کے بعد در ثمین کی طرف دیکھکر کہا ، در ثمین نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آہستگی آواز میں وعلیکم السلام کہا ۔۔۔۔۔۔۔ کیسی ہے بی جان آپ شاہ ویر نے بی جان کے کمرے میں وال سائیڈ صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام۔۔۔۔۔ الحمدللہ بی جان کی جان میں ٹھیک ہوں بی جان نے مسکرا کر کہا ، درے ایک کپ چائے بنا کر لا دو گی سب ہی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہے ، شاہ ویر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جی لاتی ہوں ، در ثمین نے بی جان کے سامنے زبردستی شاہ ویر کو مسکرا کر دیکھ کر کہا ، سوپ کے خالی برتن ٹرے میں رکھ کر بی جان کے روم سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔
در ثمین کو خود کو دیکھ کر مسکرانا شاہ ویر نے بڑی مشکل سے ہنسی ضبط کی تھی ، مجھے ایسا کیوں لگ رہا شاہ ویر تم نے پہلے درے سے کچھ کہا تھا یا ڈرایا اسے ورنہ وہ تو منع کر کے گئی تھی رخصتی کے لیے ، بی جان نے شاہ ویر کا چہرہ پڑھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ بی جان آپ کے سوال کا جواب ہاں بھی ہے اور نا بھی شاہ ویر نے بی جان کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔مطلب بی جان نے حیرت سے شاہ ویر کو دیکھا ، بی جان ۔۔۔۔ شاہ ویر نے بی جان کا ہاتھ پکڑا ، میں آپکی پوتی سے محبت کرنے لگا ہو ، اور میں نہیں چاہتا اسکی آنکھوں میں اب کوئی آنسو آئے ۔۔۔۔۔۔کتنا روتی ہے آپکی پوتی ۔۔۔۔بی جان ہنسی تھی شاہ ویر کی رونے والی بات پر ، ہر وقت اسکی آنکھوں کی ٹینکی بھری رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔بہت پیار سے آپکی پوتی کو پرپوز کیا ۔۔۔۔تو محترمہ نخرے دکھارہی ۔۔۔۔۔یہ جو میں جلدی جلدی آیا ہوں نا آپکی پوتی کی وجہ سے ، بات نہیں کرنی مجھ نا میری کوئی بات سننی ۔۔۔۔۔۔ مانتا ہوں سب میری غلطی تھی اب میں تیار ہوں سود سمیت سب لٹانے کو شاہ ویر نے بی جان کو دیکھتے ہوئے آرام آرام سے بات کررہا تھا ، جب میں نے آپ کو شادی کا کہا تو آپکی پوتی نے انکار کردیا ۔۔۔۔۔اب کیا کرتا میں بی جان ۔۔۔۔درے تو سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ جو ہوگیا ہے اب وہ دوبارہ نا ہو ۔۔۔۔۔اسلئے میں نے آپکی پیاری ہوتی کو کہا مجھے رخصتی کی ضرورت نہیں ہے ، اگر تم ایسے ہی ضد پر آڑی رہی تو ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے کہا ، بہت بدمعاش ہو گئے ہو تم شاہ ویر ۔۔۔۔۔بی جان نے ہنستے ہوئے شاہ ویر کے کام کھینچے ، سچ میں بی جان میں نے بہت پیار سے سمجھایا ، نہیں مانی کیا کرتا میں ۔۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی یہ میں نے اسکو ڈرانے کے لئے کہا تھا مجھے پتہ وہ شاہ حویلی کی عزت ہے ۔۔۔۔۔۔ اور میں شاہ ویر شاہ آپکی پوتی کی ہاں کا تو میں ساری زندگی انتظار کرسکتا ہوں ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی آپ سب کا بہت سارا شکریہ جو آپ سب نے ملکر میری شادی ابھی کی رکھدی ورنہ در ثمین نے تو مجھے پانچ سال کی سزا سنانے والی تھی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے بی جان کا ہاتھ چوم کر کہا ، بس اب ہم بھی یہ چاہتے ہیں تم دونوں خوش رہو بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا ، انشاء اللہ بی جان اب سب ٹھیک ہو جائیگا ۔۔۔۔۔ویسے بی جان آپکی پوتی کو تنگ کر کے مزا بہت آتا ہے ، ابھی آپ نے دیکھا کیسے ہنس رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ مجھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے گن پوائنٹ پر ہنسی ہو ، شاہ ویر نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کو ہنستا دیکھ بی جان بھی ہنستی چلی گئی قندیل۔۔۔۔۔ دریاب کچھ کھانے پینے کی چیزیں قندیل کے لیے لے کر کوارٹر آیا تو قندیل کو آواز دی شاید وہ گہری نیند میں تھی ، دریاب نے قندیل کو آرام ہی کرنے دیا خود بیڈروم سے باہر آگیا پہلے ناشتا کیا ۔۔۔۔۔ ایکسٹرا کام سمیٹتا کچن وغیرہ کا ، پھر قندیل کو اٹھانے کی غرض سے بیڈروم میں آگیا ۔۔۔۔۔۔قندیل ۔۔۔۔۔اٹھو یار کچھ ناشتا کرو دریاب نے محبت بھرے لہجے میں قندیل کے پاس بیٹھ کر سر پر ہاتھ رکھ کر بخار کو چیک کیا ، ہاں ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے مندی مندی آنکھوں سے دریاب کو دیکھا اور واپس سوگئی۔۔۔۔ قندیل دریاب نے قندیل کی واپس سونے والی حرکت پر اسکی پتلی چھوٹی سی ناک کو دبایا ، آ ۔۔۔۔ آ آ ۔۔۔۔۔مجھے کچھ نہیں کھانا ۔۔۔۔۔دریاب قندیل نے دریاب کا ہاتھ اپنی ناک سے ہٹا کر کہا ، کھانا نہیں کھانا وہ بعد کی پہلے تم اٹھو دریاب نے واپس قندیل کو اٹھانے کے لئے واپس اسکی ناک دبائی۔۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔آ۔۔۔۔دریاب نہیں کرے لگ رہی ہے ناک میں قندیل نے رونی صورت بناتے ہوئے دریاب کو گھورا ۔۔۔۔۔۔ بارہ بج رہے ہیں آپ ڈیوٹی پر نہیں گئے ابھی تک قندیل نے لیٹے لیٹے ہی سامنے لگی وال کلاک میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ نہیں میں نے لیو دی ہے دریاب نے قندیل کا ہاتھ اپنے ہاتھو
نہیں میں نے لیو دی ہے دریاب نے قندیل کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ چھٹی ۔۔۔۔۔ کیوں لی قندیل نے دریاب کے ہاتھوں میں سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا میری بیوی جی بیمار ہے اور میں ڈیوٹی پر جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ امپاسبل ۔۔۔ دریاب نے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔